• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَ‌هَا ﴿٤﴾
اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی۔ (١)
٤۔۱ یہ جواب شرط ہے۔ حدیث میں ہے، نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور پوچھا، جانتے ہو، زمین کی خبریں کیا ہیں؟ صحابہ رضی الله عنہم نے عرض کیا، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اس کی خبریں یہ ہیں کہ جس بندے یا بندی نے زمین کی پشت پر جو کچھ کیا ہو گا، اس کی گواہی دے گی۔ کہے گی فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں عمل، فلاں فلاں دن میں کیا تھا۔ (ترمذی، أبواب صفة القيامة وتفسير سورة إذا زلزلت- مسند أحمد ۲/ ۳۷۴)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بِأَنَّ رَ‌بَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا ﴿٥﴾
اس لیے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہو گا۔ (۱)
۵۔۱ یعنی زمین کو یہ قوت گویائی اللہ عطا فرمائے گا، اس لیے اس میں تعجب والی بات نہیں ہے، جس طرح انسانی اعضا میں اللہ تعالیٰ یہ قوت پیدا فرما دے گا، زمین کو بھی اللہ تعالیٰ متکلم بنا دے گا اور وہ اللہ کے حکم سے بولے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ‌ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَ‌وْا أَعْمَالَهُمْ ﴿٦﴾
اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں گے (١) تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں (۲)
٦۔۱ يَصْدُرُ، يَرْجِعُ (لوٹیں گے) یہ ورود کی ضد ہے۔ یعنی قبروں سے نکل کر موقف حساب کی طرف، یا حساب کے بعد جنت اور دوزخ کی طرف لوٹیں گے۔ أَشْتَاتًا، متفرق، یعنی ٹولیاں ٹولیاں۔ بعض بے خوف ہوں گے، بعض خوف زدہ، بعض کے رنگ سفید ہوں گے جیسے جنتوں کے ہوں گے اور بعض کے رنگ سیاہ، جو ان کے جہنمی ہونے کی علامت ہو گی۔ بعض کا رخ دائیں جانب ہو گا تو بعض کا بائیں جانب۔ یا یہ مختلف گروہ ادیان و مذاہب اور اعمال و افعال کی بنیاد پر ہوں گے۔
٦۔١ یہ متعلق ہے يَصْدُرُ کے یا اس کا تعلق أَوْحَى لَهَا سے ہے۔ یعنی زمین اپنی خبریں اس لیے بیان کرے گی تاکہ انسانوں کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ خَيْرً‌ا يَرَ‌هُ ﴿٧﴾
پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔ (۱)
۷۔۱ پس وہ اس سے خوش ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ شَرًّ‌ا يَرَ‌هُ ﴿٨﴾
اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔ (۱)
۸۔۱ وہ اس پر سخت پشیمان اور مضطرب ہو گا۔ ذَرَّةٍ بعض کے نزدیک چیونٹی سے بھی چھوٹی چیز ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں، انسان زمین پر ہاتھ مارتا ہے، اس سے اس کے ہاتھ پرجو مٹی لگ جاتی ہے، وہ ذرہ ہے۔ بعض کے نزدیک سوراخ سے آنے والی سورج کی شعاعوں میں گرد و غبار کے جو ذرات سے نظر آتے ہیں، وہ ذرہ ہے۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے معنی کو اولیٰ کہا ہے۔ امام مقاتل کہتے ہیں کہ یہ سورت ان دو آمیوں کے بیان میں نازل ہوئی ہے۔ جن میں سے ایک شخص، سائل کو تھوڑا سا صدقہ دینے میں تامل کرتا اور دوسرا شخص چھوٹا گناہ کرنے میں کوئی خوف محسوس نہ کرتا تھا۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة العادیات

(سورہ عادیات مکی ہے اور اس میں گیارہ آیتیں ہیں۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا ﴿١﴾
ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم! (١)
١۔١ عَادِيَاتٌ، عَادِيَةٌ کی جمع ہے۔ یہ عَدُوٌّ سے ہے جیسے غَزْوٌ ہے۔ غَازِيَاتٌ کی طرح اس کے واو کو بھی یا سے بدل دیا گیا ہے۔ تیز رو گھوڑے۔ ضَبْحٌ کے معنی بعض کے نزدیک ہانپنا اور بعض کے نزدیک ہنہنانا ہے۔ مراد وہ گھوڑے ہیں جو ہانپتے یا ہنہناتے ہوئے جہاد میں تیزی سے دشمن کی طرف دوڑتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالْمُورِ‌يَاتِ قَدْحًا ﴿٢﴾
پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑنے والوں کی قسم! (١)
٢۔١ مُورِيَاتٌ، إِيرَاءُ سے ہے۔ آگ نکالنے والے۔ قَدْحٌ کے معنی ہیں۔ صَكٌّ چلنے میں گھٹنوں یا ایڑیوں کا ٹکرانا، یا ٹاپ مارنا۔ اسی سے قَدْحٌ بِالزِّنَادِ ہے۔ چقماق سے آگ نکالنا۔ یعنی ان گھوڑوں کی قسم جن کی ٹاپوں کی رگڑ سے پتھروں سے آگ نکلتی ہے، جیسے چقماق سے نکلتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالْمُغِيرَ‌اتِ صُبْحًا ﴿٣﴾
پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم! (١)
٣۔١ مُغِيرَاتٌ، أَغَارَ يُغِيرُ سے ہے، شب خون مارنے یا دھاوا بولنے والے۔ صُبْحًا صبح کے وقت، عرب میں عام طور پر حملہ اسی وقت کیا جاتا تھا، شب خون تو وہ مارتے ہیں جو فوجی گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں، لیکن اس کی نسبت گھوڑوں کی طرف اس لیے کی ہے کہ دھاوا بولنے میں فوجیوں کے یہ بہت زیادہ کام آتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَثَرْ‌نَ بِهِ نَقْعًا ﴿٤﴾
پس اس وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ (١)
٤-۱ أَثَارَ، اڑانا۔ نَقْعٌ، گرد وغبار۔ یعنی یہ گھوڑے جس وقت تیزی سے دوڑتے یا دھاوا بولتے ہیں تو اس جگہ پر گرد وغبار چھا جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا ﴿٥﴾
پھر اسی کے ساتھ فوجوں کے درمیان گھس جاتے ہیں۔ (۱)
۵۔۱ فَوَسَطْنَ، درمیان میں گھس جاتے ہیں۔ اس وقت، یا حالت گرد و غبار میں۔ جَمْعًا دشمن کے لشکر۔ مطلب ہے کہ اس وقت، یا جب کہ فضا گرد و غبار سے اٹی ہوئی ہے، یہ گھوڑے دشمن کے لشکروں میں گھس جاتے ہیں اور گھمسان کی جنگ کرتے ہیں۔
 
Top