الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ ﴿٢٧﴾
یہ تو تمام جہان والوں کے لیے نصیحت نامہ ہے۔
لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ ﴿٢٨﴾
(بالخصوص) اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی راہ پر چلنا چاہے۔
وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ﴿٢٩﴾
اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے...
وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ ﴿٢٤﴾
اور یہ غیب کی باتوں کو بتلانے میں بخیل بھی نہیں۔ (١)
٢٤-۱ یہ نبی ﷺ کی بابت وضاحت کی جا رہی ہے کہ آپ کو جن باتوں کی اطلاع دی جاتی ہے، جو احکام و فرائض آپ کو بتلائے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بات آپ اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ فریضۂ رسالت کی ذمہ داریوں کا...
وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ ﴿٢٣﴾
اس نے اس (فرشتے) کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے۔ (١)
٢٣۔١ یہ پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دو مرتبہ ان کی اصلی حالت میں دیکھا ہے، جن میں سے ایک کا یہاں ذکر ہے۔ یہ ابتدائے نبوت کا واقعہ ہے، اس وقت...
ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ ﴿٢٠﴾
جو قوت والا ہے، (١) عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے۔
٢٠-۱ یعنی جو کام اس کے سپرد کیا جائے، اسے پوری قوت سے کرتا ہے۔
مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ ﴿٢١﴾
جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے، امین (١) ہے۔
٢١-۱ یعنی فرشتوں کے درمیان اس کی اطاعت کی جاتی...
وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ ﴿١٧﴾
اور رات کی جب جانے لگے۔ (١)
١٧-۱ عَسْعَسَ، اضداد میں سے ہے، یعنی آنے اور جانے دونوں معنوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے، تاہم یہاں جانے کے معنی میں ہے۔
وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ ﴿١٨﴾
اور صبح کی جب چمکنے لگے۔
١٨-۱ یعنی جب اس کا ظہور و طلوع ہو جائے، یا وہ پھٹ اور...
فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ﴿١٥﴾
میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے۔
الْجَوَارِ الْكُنَّسِ ﴿١٦﴾
پھر چلنے پھرنے والے چھپنے والے ستاروں کی۔ (١)
١٦۔١ اس سے مراد ستارے خُنَّسٌ، خَنَسَ سے ہے جس کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہیں۔ یہ ستارے دن کے وقت اپنے منظر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔ اور یہ زخل،...
وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ ﴿١٢﴾
اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی۔
وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ ﴿١٣﴾
اور جب جنت نزدیک کر دی جائے گی۔
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ ﴿١٤﴾
تو اس دن ہر شخص جان لے گا جو کچھ لے کر آیا ہو گا۔ (١)
١٤۔١ یہ جواب ہے یعنی مذکورہ امور ظہور پذیر ہوں گے، جن میں سے پہلے چھ کا...
ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ ﴿٢٣﴾
پھر ان کے شرک کا انجام اس کے سوا اور کچھ بھی نہ ہوگا کہ وہ یوں کہیں گے کہ قسم اللہ کی اپنے پروردگار کی ہم مشرک نہ تھے (١)۔
١ فتنہ کے ایک معنی حجت اور ایک معنی معذرت کے کئے گئے ہیں، بالآخر یہ حجت یا...
وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ﴿٨﴾
جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا۔
بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ ﴿٩﴾
کہ کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی؟ (١)
٩-۱ اس طرح دراصل قاتل کو سرزنش کی جائے گی کیونکہ اصل مجرم تو وہی ہو گا نہ کہ موءدۃ جس سے بظاہر سوال ہو گا۔
وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ﴿١٠﴾
اور جب...
وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ﴿٦﴾
اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے۔ (١)
٦-۱ یعنی ان میں اللہ کے حکم سے آگ بھڑک اٹھے گی۔
وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ ﴿٧﴾
اور جب جانیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی۔ (١)
٧۔١ اس کے کئی مفہوم بیان کیے گئے ہیں۔ زیادہ قرین قیاس یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کو اس کے ہم مذہب...
وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ﴿٤﴾
اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔ (١)
٤۔١ عِشَارٌ، عُشَراءُ کی جمع ہے، حمل والیاں یعنی گابھن اونٹیناں، جب ان کا حمل دس مہینوں کا ہو جاتا ہے تو عربوں میں یہ بہت نفیس اور قیمتی سمجھیں جاتی تھیں۔ جب قیامت برپا ہو گی تو ایسا ہولناک منظر ہو گا کہ اگر...
وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ ﴿٣﴾
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ (١)
٣۔١ یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ہواؤں میں چلا دیا جائے گا اور دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑیں گے۔
وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ ﴿٢﴾
اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گے۔ (١)
٢۔١ دوسرا ترجمہ ہے کہ جھڑ کر گر جائیں گے یعنی آسمان پر ان کا وجود ہی نہیں رہے گا۔
سورة التکویر
(سورہ تکویر مکی ہے اور اس میں انتیس آیتیں ہیں۔ اس سورت میں بطور خاص قیامت کی منظر کشی کی گءی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے "جس کو یہ بات پسند ہے کہ وہ قیامت کو اس طرح دیکھے، جیسے آنکھ سے دیکھنا ہوتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، إِذَا...
أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ ﴿٤٢﴾
وہ یہی کافر بد کردار لوگ ہوں گے۔ (١)
٤٢۔١ یعنی اللہ کا، رسولوں کا اور قیامت کا انکار کرنے والے بھی تھے اور بد کردار اور بد اطوار بھی۔ (اللَّهُمَّ! لا تَجْعَلْنَا مِنْهُمْ)
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ ﴿٤٠﴾
اور بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے۔
تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ ﴿٤١﴾
جن پر سیاہی چڑھی ہوئی ہو گی۔ (١)
٤١۔١ یعنی ذلت اور معائینہ عذاب سے ان کے چہرے غبار آلود، کدورت زدہ اور سیاہ ہوں گے، جیسے محزون اور نہایت غمگین آدمی کا چہرہ ہوتا ہے۔
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ﴿٣٨﴾
اس دن بہت سے چہرے روشن ہوں گے۔
ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ ﴿٣٩﴾
(جو) ہنستے ہوئے اور ہشاش بشاش ہوں گے۔ (١)
٣٩۔١ یہ اہل ایمان کے چہرے ہوں گے، جنہیں ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں ملیں گے، جس سے انہیں اپنی اخروی سعادت و کامیابی کا یقین ہو جائے گا، جس سے...
يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ ﴿٣٤﴾
اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے۔
وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ ﴿٣٥﴾
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔
وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ ﴿٣٦﴾
اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے.
لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ ﴿٣٧﴾
ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر...