• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ﴿٨﴾
جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا۔

بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ ﴿٩﴾
کہ کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی؟ (١)
٩-۱ اس طرح دراصل قاتل کو سرزنش کی جائے گی کیونکہ اصل مجرم تو وہی ہو گا نہ کہ موءدۃ جس سے بظاہر سوال ہو گا۔

وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَ‌تْ ﴿١٠﴾
اور جب نامہ اعمال کھول دئیے جائیں گے۔ (١)
١٠۔١ موت کے وقت یہ صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں، پھر قیامت والے دن حساب کے لیے کھول دیئے جائیں گے، جنہیں ہر شخص دیکھ لے گا بلکہ ہاتھوں میں پکڑا دیئے جائیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ ﴿١١﴾
اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی۔ (١)
١١۔١ یعنی وہ اس طرح ادھیڑ دیئے جائیں گے جس طرح چھت ادھیڑ دی جاتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَ‌تْ ﴿١٢﴾
اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی۔

وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ ﴿١٣﴾
اور جب جنت نزدیک کر دی جائے گی۔

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَ‌تْ ﴿١٤﴾
تو اس دن ہر شخص جان لے گا جو کچھ لے کر آیا ہو گا۔ (١)
١٤۔١ یہ جواب ہے یعنی مذکورہ امور ظہور پذیر ہوں گے، جن میں سے پہلے چھ کا تعلق دنیا سے ہے اور دوسرے چھ امور کا آخرت سے۔ اس وقت ہر ایک کے سامنے اس کی حقیقت آ جائے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ﴿١٥﴾
میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے۔

الْجَوَارِ‌ الْكُنَّسِ ﴿١٦﴾
پھر چلنے پھرنے والے چھپنے والے ستاروں کی۔ (١)
١٦۔١ اس سے مراد ستارے خُنَّسٌ، خَنَسَ سے ہے جس کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہیں۔ یہ ستارے دن کے وقت اپنے منظر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔ اور یہ زخل، مشتری، مریخ، زہرہ، عطارد ہیں، یہ خاص طور پر سورج کے رخ پر ہوتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ سارے ہی ستارے مراد ہیں، کیوں کہ سب ہی اپنے غائب ہونے کی جگہ پر غائب ہو جاتے ہیں یا دن کو چھپے رہتے ہیں الْجَوَارِ چلنے والے، الْكُنَّسِ چھپ جانے والے، جیسے ہرن اپنے مکان اور مسکن میں چھپ جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ ﴿١٧﴾
اور رات کی جب جانے لگے۔ (١)
١٧-۱ عَسْعَسَ، اضداد میں سے ہے، یعنی آنے اور جانے دونوں معنوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے، تاہم یہاں جانے کے معنی میں ہے۔

وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ ﴿١٨﴾
اور صبح کی جب چمکنے لگے۔
١٨-۱ یعنی جب اس کا ظہور و طلوع ہو جائے، یا وہ پھٹ اور نکل آئے۔

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَ‌سُولٍ كَرِ‌يمٍ ﴿١٩﴾
یقیناً یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے۔ (١)
١٩۔١ اس لیے کہ وہ اسے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہے۔ مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْ‌شِ مَكِينٍ ﴿٢٠﴾
جو قوت والا ہے، (١) عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے۔
٢٠-۱ یعنی جو کام اس کے سپرد کیا جائے، اسے پوری قوت سے کرتا ہے۔

مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ ﴿٢١﴾
جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے، امین (١) ہے۔
٢١-۱ یعنی فرشتوں کے درمیان اس کی اطاعت کی جاتی ہے۔ وہ فرشتوں کا مرجع اور مطاع ہے نیز وحی کے سلسلے میں امین ہے۔

وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ ﴿٢٢﴾
اور تمہارا ساتھی دیوانہ نہیں۔ (١)
٢٢۔١ یہ خطاب اہل مکہ سے ہے اور صاحب سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یعنی تم جو گمان رکھتے ہو کہ تمہارا ہم نسب اور ہم وطن ساتھی، (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) دیوانہ ہے۔ نعوذ باللہ۔ ایسا نہیں ہے، ذرا قرآن پڑھ کر تو دیکھو کہ کیا کوئی دیوانہ ایسے معارف و حقائق بیان کر سکتا ہے اور گزشتہ قوموں کے صحیح صحیح حالات بتلا سکتا ہے جو اس قرآن میں بیان کیے گئے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ رَ‌آهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ ﴿٢٣﴾
اس نے اس (فرشتے) کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے۔ (١)
٢٣۔١ یہ پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دو مرتبہ ان کی اصلی حالت میں دیکھا ہے، جن میں سے ایک کا یہاں ذکر ہے۔ یہ ابتدائے نبوت کا واقعہ ہے، اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام کے چھ سو پر تھے، جنہوں نے آسمان کے کناروں کو بھر دیا تھا، دوسری مرتبہ معراج کے موقعے پر دیکھا جیسا کہ سورہ نجم میں تفصیل گزر چکی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ ﴿٢٤﴾
اور یہ غیب کی باتوں کو بتلانے میں بخیل بھی نہیں۔ (١)
٢٤-۱ یہ نبی ﷺ کی بابت وضاحت کی جا رہی ہے کہ آپ کو جن باتوں کی اطلاع دی جاتی ہے، جو احکام و فرائض آپ کو بتلائے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بات آپ اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ فریضۂ رسالت کی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ہر بات اور ہر حکم لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں۔

وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّ‌جِيمٍ ﴿٢٥﴾
اور یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں۔ (١)
٢٥-۱ جس طرح نجومیوں کے پاس شیطان آتے ہیں اور آسمانوں کی بعض چوری چھپی باتیں ادھوری شکل میں انہیں بتلا دیتے ہیں۔ قرآن ایسا نہیں ہے۔

فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ ﴿٢٦﴾
پھر تم کہاں جا رہے ہو۔ (١)
٢٦۔١ یعنی کیوں اس سے اعراض کرتے ہو؟ اور اس کی اطاعت نہیں کرتے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ‌ لِّلْعَالَمِينَ ﴿٢٧﴾
یہ تو تمام جہان والوں کے لیے نصیحت نامہ ہے۔

لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ ﴿٢٨﴾
(بالخصوص) اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی راہ پر چلنا چاہے۔

وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَ‌بُّ الْعَالَمِينَ ﴿٢٩﴾
اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔ (١)
٢٩۔١ یعنی تمہاری چاہت، اللہ کی توفیق پر منحصر ہے، جب تک تمہاری چاہت کے ساتھ اللہ کی مشیت اور اس کی توفیق بھی شامل نہیں ہو گی اس وقت تک تم سیدھا راستہ اختیار نہیں کر سکتے۔ یہ وہی مضمون ہے جو ﴿إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ (القصص: ۵۶) وغیرہ آیات میں بیان ہوا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الإنفطار

(سورہ انفطار مکی ہے اور اس میں انیس آیتیں ہیں۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَ‌تْ ﴿١﴾
جب آسمان پھٹ جائے گا۔ (١)
١۔١ یعنی اللہ کے حکم اور اس کی ہیبت سے پھٹ جائے گا اور فرشتے نیچے اتر آئیں گے۔
 
Top