الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا ﴿٢٥﴾
کہ ہم نے خوب پانی برسایا۔
ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا ﴿٢٦﴾
پھر پھاڑا زمین کو اچھی طرح۔
فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا ﴿٢٧﴾
پھر اس میں سے اناج اگائے۔
وَعِنَبًا وَقَضْبًا ﴿٢٨﴾
اور انگور اور ترکاری۔
وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا ﴿٢٩﴾
اور زیتون اور کھجور۔...
فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ ﴿٢٤﴾
انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کو دیکھے۔ (١)
٢٤۔١ کہ اسے اللہ نے کس طرح پیدا کیا، جو اس کی زندگی کا سبب ہے اور کس طرح اس کے لیے اسباب معاش مہیا کیے تاکہ وہ ان کے ذریعے سعادت آخروی حاصل کر سکے۔
ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ ﴿٢١﴾
پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا۔ (١)
٢١-۱ یعنی موت کے بعد، اسے قبر میں دفنانے کا حکم دیا، تاکہ اس کا احترام برقرار رہے ورنہ درندے اور پرندے اس کی لاش کو نوچ نوچ کر کھاتے جس سے اس کی بے حرمتی ہوتی۔
ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنشَرَهُ ﴿٢٢﴾
پھر جب چاہے گا اسے...
ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ ﴿٢٠﴾
پر اس کے لیے راستہ آسان کیا۔ (١)
٢٠۔١ یعنی خیر اور شر کے راستے اس کے لیے واضح کر دیئے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ ﴿١٧﴾
اللہ کی مار انسان پر کیسا ناشکرا ہے۔
١٧-۱ اس سے وہ انسان مراد ہے جو بغیر کسی سند اور دلیل کے قیامت کی تکذیب کرتا ہے، قُتِلَ بمعنی لُعِنَ اور مَا أَكْفَرَهُ ! فعل تعجب ہے، کس قدر ناشکرا ہے۔ آگے اس انسان کفور کو غور و فکر کی دعوت دی جا رہی ہے کہ شاید وہ اپنے...
كِرَامٍ بَرَرَةٍ ﴿١٦﴾
جو بزرگ اور پاکباز ہیں۔ (١)
١٦۔١ یعنی خلق کے اعتبار سے وہ کریم یعنی شریف اور بزرگ ہیں اور افعال کے اعتبار سے وہ نیکو کار اور پاکباز ہیں۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حامل قرآن (حافظ اور عالم) کو بھی اخلاق و کردار اور افعال و اطوار میں كِرَامٍ بَرَرَةٍ کا مصداق ہونا...
مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ ﴿١٤﴾
جو بلند و بالا اور پاک صاف ہیں۔ (١)
١٤-۱ مَرْفُوعَةٍ اللہ کے ہاں رفیع القدر ہیں، یا شبہات اور تناقض سے بلند ہیں۔ مُطَهَّرَةٍ، وہ بالکل پاک ہیں کیوں کہ انہیں پاک لوگوں (فرشتوں) کے سوا کوئی چھوتا ہی نہیں ہے۔ یا کمی بیشی سے پاک ہے۔
بِأَيْدِي سَفَرَةٍ ﴿١٥﴾
ایسے...
فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ﴿١٣﴾
(یہ تو) پر عظمت صحیفوں میں (ہے)۔ (١)
١٣۔١ یعنی لوح محفوظ میں، کیوں کہ وہیں سے یہ قرآن اترتا ہے۔ کہ مطلب ہے کہ یہ صحیفے اللہ کے ہاں بڑے محترم ہیں کیونکہ وہ علم و حکم سے پر ہیں۔
فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ ﴿١٢﴾
جو چاہے اس سے نصیحت لے۔ (١)
١٢۔١ یعنی جو اس میں رغبت کرے، وہ اس سے نصیحت حاصل کرے، اسے یاد کرے اور اس کے موجبات پر عمل کرے۔ اور جو اس سے اعراض کرے اور بے رخی برتے، جیسے اشراف قریش نے کیا، تو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ ﴿١١﴾
یہ ٹھیک نہیں (١) قرآن تو نصیحت (کی چیز) ہے۔
١١۔١ یعنی غریب سے یہ اعراض اور اصحاب حیثیت کی طرف خصوصی توجہ، یہ ٹھیک نہیں۔ مطلب ہے کہ، آئندہ اس کا اعادہ نہ ہو۔
فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ ﴿١٠﴾
تو اس سے بے رخی برتتا ہے۔ (١)
١٠۔١ یعنی ایسے لوگوں کی قدر افزائی کی ضرورت ہے نہ کہ ان سے بے رخی برتنے کی۔ ان آیات سے یہ معلوم ہوئی کہ دعوت و تبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہیے بلکہ اصحاحب حیثیت اور بے حیثیت، امیر اور غریب، آقا و غلام، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے...
وَهُوَ يَخْشَىٰ ﴿٩﴾
اور وہ ڈر (بھی) رہا ہے۔ (١)
٩۔١ یعنی اللہ کا خوف بھی اس کے دل میں ہے، جس کی وجہ سے یہ امید ہے کہ تیری باتیں اس کے لیے مفید ہوں گی اور وہ ان کو اپنائے گا اور ان پر عمل کرے گا۔
فَأَنتَ لَهُ تَصَدَّىٰ ﴿٦﴾
اس کی طرف تو تو پوری توجہ کرتا ہے۔ (١)
٦-۱ اس میں آپ ﷺ کو مزید توجہ دلائی گئی ہے کہ مخلصین کو چھوڑ کر معرضین کی طرف توجہ مبذول رکھنا صحیح بات نہیں ہے۔
وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ ﴿٧﴾
حالانکہ اس کے نہ سنورنے سے تجھ پر کوئی الزام نہیں۔ (١)
٧-۱ کیوں کہ تیرا کام تو...
أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكْرَىٰ ﴿٤﴾
یا نصیحت سنتا اور اسے نصیحت فائدہ پہنچاتی۔
أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَىٰ ﴿٥﴾
جو بے پروائی کرتا ہے۔ (١)
٥۔١ ایمان سے اور اس علم سے جو تیرے پاس اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یا دوسرا ترجمہ جو صاحب ثروت و غنا ہے۔
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ ﴿٣﴾
تجھے کیا خبر شاید وہ سنور جاتا۔ (١)
٣۔١ یعنی وہ نابینا تجھ سے دینی رہنمائی حاصل کر کے عمل صالح کرتا جس سے اس کا اخلاق و کردار سنور جاتا، اس کے باطن کی اصلاح ہو جاتی اور تیری نصیحت سننے سے اس کو فائدہ ہوتا۔
سورة عبس
(سورة عبس مکی ہے اور اس میں بیالیس آیتیں اور ایک رکوع ہے۔ اس کی شان نزول میں تمام مفسیر کا اتفاق ہے کہ یہ حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم کے بارے نازل ہوئی۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اشراف قریش بیٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ابن ام مکثوم جو نابینا تھے، تشریف لے آئے...
کهانے پینے کی مختلف ڈشیز کا تعداد کے لحاظ سے متعین مجموعہ بوفے کہلاتا ھے.
جس میں گول گپے سے لے کر چکن میٹ فش وغیره هو سکتا ھے اور ایک آدمی جتنا دل چاھے مقرره نرخ میں کها سکتا ھے
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا ﴿٤٦﴾
جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہو گا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں۔ (١)
٤٦۔١ عَشِيَّةً، ظہر سے لے کر غروب شمس تک اور ضحیٰ، طلوع شمس سے نصف النہار تک کے لیے بولا جاتا ہے۔ یعنی جب...
إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا ﴿٤٤﴾
اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے۔
إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَاهَا ﴿٤٥﴾
آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاہ کرنے والے ہیں۔ (١)
٤٥۔١ یعنی آپ کا کام صرف انذار (ڈرانا) ہے، نہ کہ غیب کی خبریں دینا، جن میں قیامت کا علم بھی ہے جو اللہ نے کسی کو بھی نہیں...
فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا ﴿٤٣﴾
آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟ (١)
٤٣۔١ یعنی آپ کو اس کی بابت یقینی علم نہیں ہے، اس لیے آپ کا اس کو بیان کرنے سے کیا تعلق؟ اس کا یقینی علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔