• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَ‌ةٌ ﴿١١﴾
یہ ٹھیک نہیں (١) قرآن تو نصیحت (کی چیز) ہے۔
١١۔١ یعنی غریب سے یہ اعراض اور اصحاب حیثیت کی طرف خصوصی توجہ، یہ ٹھیک نہیں۔ مطلب ہے کہ، آئندہ اس کا اعادہ نہ ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَن شَاءَ ذَكَرَ‌هُ ﴿١٢﴾
جو چاہے اس سے نصیحت لے۔ (١)
١٢۔١ یعنی جو اس میں رغبت کرے، وہ اس سے نصیحت حاصل کرے، اسے یاد کرے اور اس کے موجبات پر عمل کرے۔ اور جو اس سے اعراض کرے اور بے رخی برتے، جیسے اشراف قریش نے کیا، تو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فِي صُحُفٍ مُّكَرَّ‌مَةٍ ﴿١٣﴾
(یہ تو) پر عظمت صحیفوں میں (ہے)۔ (١)
١٣۔١ یعنی لوح محفوظ میں، کیوں کہ وہیں سے یہ قرآن اترتا ہے۔ کہ مطلب ہے کہ یہ صحیفے اللہ کے ہاں بڑے محترم ہیں کیونکہ وہ علم و حکم سے پر ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَّرْ‌فُوعَةٍ مُّطَهَّرَ‌ةٍ ﴿١٤﴾
جو بلند و بالا اور پاک صاف ہیں۔ (١)
١٤-۱ مَرْفُوعَةٍ اللہ کے ہاں رفیع القدر ہیں، یا شبہات اور تناقض سے بلند ہیں۔ مُطَهَّرَةٍ، وہ بالکل پاک ہیں کیوں کہ انہیں پاک لوگوں (فرشتوں) کے سوا کوئی چھوتا ہی نہیں ہے۔ یا کمی بیشی سے پاک ہے۔

بِأَيْدِي سَفَرَ‌ةٍ ﴿١٥﴾
ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے۔ (١)
١٥۔١ سَفَرَةٍ، سَافِرٌ کی جمع ہے، یہ سفارت سے ہے۔ مراد یہاں وہ فرشتے ہیں جو اللہ کی وحی اس کے رسولوں تک پہنچاتے ہیں۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے درمیان سفارت کا کام کرتے ہیں۔ یہ قرآن ایسے سفیروں کے ہاتھوں میں ہے جو اسے لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كِرَ‌امٍ بَرَ‌رَ‌ةٍ ﴿١٦﴾
جو بزرگ اور پاکباز ہیں۔ (١)
١٦۔١ یعنی خلق کے اعتبار سے وہ کریم یعنی شریف اور بزرگ ہیں اور افعال کے اعتبار سے وہ نیکو کار اور پاکباز ہیں۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حامل قرآن (حافظ اور عالم) کو بھی اخلاق و کردار اور افعال و اطوار میں كِرَامٍ بَرَرَةٍ کا مصداق ہونا چاہئے۔ (ابن کثیر) حدیث میں بھی سَفَرَةٍ کا لفظ فرشتوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا "جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا ماہر ہے، وہ السَّفَرَةُ الكِرَامُ الْبَرَرَةُ (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا اور جو قرآن پڑھتا ہے، لیکن مشقت کے ساتھ۔ (یعنی ماہرین کی طرح سہولت اور روانی سے نہیں پڑھتا) اس کے لیے دوگنا اجر ہے۔ (صحيح بخاری، تفسير سورة عبس مسلم، كتاب الصلاة، باب فضل الماهر بالقرآن....)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَ‌هُ ﴿١٧﴾
اللہ کی مار انسان پر کیسا ناشکرا ہے۔
١٧-۱ اس سے وہ انسان مراد ہے جو بغیر کسی سند اور دلیل کے قیامت کی تکذیب کرتا ہے، قُتِلَ بمعنی لُعِنَ اور مَا أَكْفَرَهُ ! فعل تعجب ہے، کس قدر ناشکرا ہے۔ آگے اس انسان کفور کو غور و فکر کی دعوت دی جا رہی ہے کہ شاید وہ اپنے کفر سے باز آجائے۔

مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ﴿١٨﴾
اسے اللہ نے کس چیز سے پیدا کیا۔

مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَ‌هُ ﴿١٩﴾
(اسے) ایک نطفہ سے، (١) پھر اندازہ پر رکھا اس کو۔ (١)
١٩۔١ یعنی جس کی پیدائش ایسے حقیر قطرۂ آب سے ہوئی ہے، کیا اسے تکبر زیب دیتا ہے؟
١٩۔۲ اس کا مطلب ہے کہ اس کے مصالح نفس اسے مہیا کیے، اسکو دو ہاتھ دو پیر اوردو آنکھیں اور دیگر آلات و خواص عطا کیے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَ‌هُ ﴿٢٠﴾
پر اس کے لیے راستہ آسان کیا۔ (١)
٢٠۔١ یعنی خیر اور شر کے راستے اس کے لیے واضح کر دیئے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَ‌هُ ﴿٢١﴾
پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا۔ (١)
٢١-۱ یعنی موت کے بعد، اسے قبر میں دفنانے کا حکم دیا، تاکہ اس کا احترام برقرار رہے ورنہ درندے اور پرندے اس کی لاش کو نوچ نوچ کر کھاتے جس سے اس کی بے حرمتی ہوتی۔

ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنشَرَ‌هُ ﴿٢٢﴾
پھر جب چاہے گا اسے زندہ کر دے گا۔

كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَ‌هُ ﴿٢٣﴾
ہرگز نہیں، (١) اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی۔
٢٣۔١ یعنی معاملہ اس طرح نہیں ہے، جس طرح یہ کافر کہتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلْيَنظُرِ‌ الْإِنسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ ﴿٢٤﴾
انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کو دیکھے۔ (١)
٢٤۔١ کہ اسے اللہ نے کس طرح پیدا کیا، جو اس کی زندگی کا سبب ہے اور کس طرح اس کے لیے اسباب معاش مہیا کیے تاکہ وہ ان کے ذریعے سعادت آخروی حاصل کر سکے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا ﴿٢٥﴾
کہ ہم نے خوب پانی برسایا۔

ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْ‌ضَ شَقًّا ﴿٢٦﴾
پھر پھاڑا زمین کو اچھی طرح۔

فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا ﴿٢٧﴾
پھر اس میں سے اناج اگائے۔

وَعِنَبًا وَقَضْبًا ﴿٢٨﴾
اور انگور اور ترکاری۔

وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا ﴿٢٩﴾
اور زیتون اور کھجور۔

وَحَدَائِقَ غُلْبًا ﴿٣٠﴾
اور گنجان باغات۔

وَفَاكِهَةً وَأَبًّا ﴿٣١﴾
اور میوہ اور (گھاس) چارہ (بھی اگایا)۔ (١)
٣١-۱ أباً، وہ گھاس چارہ جو خودرو ہو اور جسے جانور کھاتے ہیں۔

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ ﴿٣٢﴾
تمہارے استعمال و فائدہ کے لیے اور تمہارے چوپایوں کے لیے۔

فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ ﴿٣٣﴾
پس جب کہ کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آ جائے گی۔ (١)
٣٣۔١ قیامت کو صَاخَّةٌ (بہرا کر دینے والی) اس لیے کہا کہ وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہو گی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔
 
Top