الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
قَالَ نُوحٌ رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِي وَاتَّبَعُوا مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارًا ﴿٢١﴾
نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی (١) اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال و اولاد نے ان کو (یقیناً) نقصان ہی میں بڑھایا ہے۔ (١)
٢١۔١ یعنی...
لِّتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا ﴿٢٠﴾
تاکہ تم اس کی کشادہ راہوں میں چلو پھرو۔ (۱)
۲۰۔۱ سُبُلٌ، سَبِیلٌ کی جمع ہے اور فِجَاجٌ، فَجٌّ (کشادہ راستہ) کی جمع ہے۔ یعنی اس زمین پر اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے کشادہ راستے بنا دیے ہیں تاکہ انسان آسانی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک شہر سے دوسرے شہر یا...
وَاللَّـهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا ﴿١٩﴾
اور تمہارے لیے زمین کو اللہ تعالیٰ نے فرش بنا دیا ہے۔ (۱)
۱۹۔۱ یعنی اسے فرش کی طرح بچھا دیا ہے، تم اس پر اسی طرح چلتے پھرتے ہو، جیسے اپنے گھر میں بچھے ہوئے فرش پر چلتے اور اٹھتے بیٹھتے ہو۔
ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا ﴿١٨﴾
پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور (ایک خاص طریقہ) سے پھر نکالے گا۔ (١)
١٨۔١ یعنی مر کر، پھر اسی مٹی میں دفن ہونا ہے اور پھر قیامت والے دن اسی زمین سے تمہیں زندہ کرکے نکالا جائے گا۔
وَاللَّـهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ﴿١٧﴾
اور تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے (١) (اور پیدا کیا ہے)
١٧۔١ یعنی تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو، جنہیں مٹی سے بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ یا اگر تمام انسانوں کو مخاطب سمجھا جائے، تو مطلب ہو گا کہ تم جس نطفے سے...
وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا ﴿١٦﴾
اور ان میں چاند کو خوب جگمگاتا بنایا ہے (١) اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے۔ (٢)
١٦۔١ جو روئے زمین کو منور کرنے والا اور اس کے ماتھے کا جھومر ہے۔
١٦۔٢ تاکہ اس کی روشنی میں انسان معاش کے لیے، جو انسانوں کی انتہائی ناگزیر ضرورت...
أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّـهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ﴿١٥﴾
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے ہیں۔ (۱)
۱۵۔۱ جو اس کی قدرت اور کمال صناعت پر دلالت کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبادت کے لائق صرف وہی ایک اللہ ہے۔
وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ﴿١٤﴾
حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے (١) پیدا کیا ہے۔
١٤۔١ پہلے نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور پھر خلق تام، جیسا کہ سورہ انبیاء: ۵، المؤمنون: ۱۴ اور المؤمن: ۶۷ وغیرھا میں تفصیل گزری۔
مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّـهِ وَقَارًا ﴿١٣﴾
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ (۱)
۱۳۔۱ وقار، توقیر سے ہے بمعنی عظمت اور رجا، خوف کے معنی میں ہے، یعنی جس طرح اس کی عظمت کا حق ہے، تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں؟ اور اس کو ایک کیوں نہیں مانتے اور اس کی اطاعت کیوں نہیں کرتے۔
وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا ﴿١٢﴾
اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا۔ (۱)
۱۲۔۱ یعنی ایمان و طاعت سے تمہیں اخروی نعمتیں ہی نہیں ملیں گی بلکہ دنیاوی مال و دولت اور...
يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ﴿١١﴾
وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا۔ (١)
١١۔١ بعض علماء اسی آیت کی وجہ سے نماز استسقاء میں سورہ نوح علیہ السلام کے پڑھنے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ایک مرتبہ نماز استسقاء کے لیے منبر پر چڑھے تو صرف آیات...
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ﴿١٠﴾
اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ (١) (اور معافی مانگو) وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہے۔ (٢)
١٠۔١ یعنی ایمان اور اطاعت کا راستہ اپنا لو، اور اپنے رب سے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگ لو۔
١٠۔٢ وہ توبہ کرنے والوں کے لیے بڑا رحیم...
ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ﴿٨﴾
پھر میں نے انہیں بآواز بلند بلایا۔
ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا ﴿٩﴾
اور بیشک میں نے ان سے علانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی۔ (١)
٩۔١ یعنی مختلف انداز اور طریقوں سے انہیں دعوت دی۔ بعض کہتے ہیں، کہ اجتماعات اور مجلسوں میں...
وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا ﴿٧﴾
میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا (١) انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں (٢) اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا (٣) اور...
فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَارًا ﴿٦﴾
مگر میرے بلانے سے یہ لوگ اور زیادہ بھاگنے لگے۔ (١)
٦۔١ یعنی میری پکار سے یہ ایمان سے اور زیادہ دور ہو گئے ہیں۔ جب کوئی قوم گمراہی کے آخری کنارے پر پہنچ جائے تو پھر اس کا یہی حال ہوتا ہے، اسے جتنا اللہ کی طرف بلاؤ، وہ اتنا ہی دور بھاگتی ہے۔
قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا ﴿٥﴾
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میرے پروردگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے۔ (١)
٥۔١ یعنی تیرے حکم کی تعمیل میں، بغیر کسی کوتاہی کے رات دن میں نے تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچایا ہے۔
يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ اللَّـهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٤﴾
تو وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایک مقررہ وقت مقرہ تک چھوڑ دے گا۔ (۱) یقیناً اللہ کا وعدہ جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا (٢) کاش کہ...
أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ ﴿٣﴾
کہ تم اللہ کی عبادت کرو (١) اور اسی سے ڈرو (٢) اور میرا کہنا مانو۔ (٣)
٢۔١ اور شرک چھوڑ دو، صرف اسی ایک کی عبادت کرو۔
٢۔٢ اللہ کی نافرمانیوں سے اجتناب کرو، جن سے تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پا سکتے ہو۔
٢۔٣ یعنی میں تمہیں جن باتوں کا حکم دوں،...
قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿٢﴾
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میری قوم! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ (۱)
۲۔۱ اللہ کے عذاب سے، اگر تم ایمان نہ لائے۔ اسی لیے عذاب سے نجات کا نسخہ تمہیں بتلانے آیا ہوں۔ جو آگے بیان ہو رہا ہے۔
سورة نوح
(سورہ نوح مکی ہے اور اس میں اٹھائیس آیتیں اور دو رکوع ہیں)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١﴾...