• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرً‌ا وَإِمَّا كَفُورً‌ا ﴿٣﴾ ہم نے اسے راہ دکھائی اب خواہ وہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا۔ (۱) ۳۔۱ یعنی مذکورہ قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ ہم نے خود بھی انبیاء علیہ السلام، اپنی کتابوں اور داعیان حق کے ذریعے سے صحیح راستے کو بیان اور واضح کر دیا ہے۔ اب یہ اس...
  2. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرً‌ا ﴿٢﴾ بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لیے (١) پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا۔ (٢) ٢۔١ ملے جلے کا مطلب، مرد اور عورت دونوں کے پانی کا ملنا پھر ان کا مختلف اطوار سے گزرنا ہے۔ پیدا...
  3. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    سورة الإنسان (سورہ دہر مدنی ہے اور اس میں اکتیس آیتیں اور دو رکوع ہیں۔ اس کے مدنی اور مکی ہونے میں اختلاف ہے۔ جمہور اسے مدنی کہتے ہیں کہ آخری دس آیات مکی ہیں، باقی سب مدنی۔ (فتح القدیر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں الم تنزیل السجدہ اور سورہ دہر پڑھا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم کتاب...
  4. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ‌ وَالْأُنثَىٰ ﴿٣٩﴾ پھر اس سے جوڑے یعنی نر و مادہ بنائے۔ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ‌ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ﴿٤٠﴾ کیا (اللہ تعالیٰ) اس (امر) پر قادر نہیں کہ مردے کو زندہ کر دے۔ (١) ٤٠۔١ یعنی جو اللہ انسان کو اس طرح مختلف اطوار سے گزار کر پیدا...
  5. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ﴿٣٧﴾ کیا وہ ایک گاڑھے پانی کا قطرہ نہ تھا جو ٹپکایا گیا تھا؟ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ ﴿٣٨﴾ پھر وہ لہو کا لوتھڑا ہو گیا پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست بنا دیا۔ (١) ٣٨۔١ فَسَوَّیٰ، یعنی اسے ٹھیک ٹھاک کیا اور اس کی تکمیل کی اور اس میں...
  6. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَ‌كَ سُدًى ﴿٣٦﴾ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کے اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا۔ (١) ٣٦۔١ یعنی اس کو کسی چیز کا حکم دیا جائے گا، نہ کسی چیز سے منع کیا جائے گا، نہ اس کا محاسبہ ہو گا نہ معاقبہ۔ یا اس کی قبر میں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا جائے گا، وہاں سے اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا...
  7. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴿٣٤﴾ افسوس ہے تجھ پر حسرت ہے تجھ پر۔ ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴿٣٥﴾ وائے ہے اور خرابی ہے تیرے لیے۔ (١) ٣٥۔١ یہ کلمہ وعید ہے کہ اس کی اصل ہے، اولاک اللہ ما تکرھہ اللہ تجھے ایسی چیز سے دو چار کرے جسے تو ناپسند کرے۔
  8. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰ أَهْلِهِ يَتَمَطَّىٰ ﴿٣٣﴾ پھر اپنے گھر والوں کے پاس اتراتا ہوا گیا۔ (١) ٣٣۔١ یَتَمَطَّیٰ، اتراتا اور اکڑاتا ہوا۔
  9. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ﴿٣٢﴾ بلکہ جھٹلایا اور روگردانی کی۔ (١) ٣٢۔١ یعنی رسول کو جھٹلایا اور ایمان و اطاعت سے روگردانی کی۔
  10. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِلَىٰ رَ‌بِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ ﴿٣٠﴾ آج تیرے پروردگار کی طرف چلنا ہے۔ فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ ﴿٣١﴾ اس نے نہ تو تصدیق کی نہ نماز ادا کی۔ (١) ٣١۔١ یعنی اس انسان نے رسول اور قرآن کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی یعنی اللہ کی عبادت نہیں کی۔
  11. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ﴿٢٩﴾ اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی۔ (١) ٢٩۔١ اس سے یا تو موت کے وقت پنڈلی کا پنڈلی کے ساتھ مل جانا مراد ہے یا پے در پے تکلیفیں۔ جمہور مفسرین نے دوسرے معنی کئے ہیں۔ (فتح القدیر)
  12. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَ‌اقُ ﴿٢٨﴾ اور جان لیا اس نے کہ یہ وقت جدائی ہے۔ (١) ٢٨۔١ یعنی وہ شخص یقین کر لے گا جس کی روح ہنسلی تک پہنچ گئی ہے کہ اب، مال، اولاد اور دنیا کی ہر چیز سے جدائی کا مرحلہ آگیا ہے۔
  13. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَقِيلَ مَنْ ۜ رَ‌اقٍ ﴿٢٧﴾ اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک (١) کرنے والا ہے؟ ٢٧۔١ یعنی حاضرین میں سے کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کے ذریعہ سے تمہیں موت کے پنجے سے چھڑا لے۔ بعض نے اس کا ترجمہ یہ بھی کیا ہے کہ اس کی روح کون لے کر چڑھے؟ ملائکہ رحمت یا ملائکہ عذاب؟ اس صورت میں یہ قول فرشتوں کا ہے۔
  14. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَ‌اقِيَ ﴿٢٦﴾ نہیں نہیں (١) جب روح ہنسلی تک (٢) پہنچے گی۔ ٢٦۔١ یعنی یہ ممکن نہیں کہ کافر قیامت پر ایمان لے آئیں۔ ٢٦۔٢ تراقی، ترقوہ کی جمع ہے۔ یہ گردن کے قریب، سینے اور کندھے کے درمیان ایک ہڈی ہے۔ یعنی جب موت کا آہنی پنجہ تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔
  15. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَ‌ةٌ ﴿٢٥﴾ سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیا جائے گا۔ (۱) ۲۵۔۱ اور وہ یہی کہ جہنم میں ان کو پھینک دیا جائے گا۔
  16. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ ﴿٢٢﴾ اور کتنے چہرے اس دن (بد رونق اور) اداس ہوں گے۔ (١) ٢٤۔١ یہ کافروں کے چہرے ہوں گے۔ بَاسِرَةٌ متغیر، زرد، غم و حزن سے سیاہ اور بے رونق۔
  17. محمد نعیم یونس

    اصول تفسیر-ابن تیمیہ رحمہ اللہ

    اخی محمد آصف مغل کا شکریہ اللہ تعالی ان کی دین سے محبت قبول کرے. آمین
  18. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ﴿٢٢﴾ اس روز بہت سے چہرے تر و تازہ اور بارونق ہوں گے۔ إِلَىٰ رَ‌بِّهَا نَاظِرَ‌ةٌ ﴿٢٣﴾ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ (١) ٢٣۔١ یہ اہل ایمان کے چہرے ہوں گے جو اپنے حسن انجام کی وجہ سے مطمئن، مسرور اور منور ہوں گے۔ مزید دیدار الٰہی سے بھی حظ اندوز ہوں گے۔ جیسا کہ صحیح...
  19. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ ﴿٢٠﴾ نہیں نہیں تم جلدی ملنے والی (دنیا) کی محبت رکھتے ہو۔ وَتَذَرُ‌ونَ الْآخِرَ‌ةَ ﴿٢١﴾ اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو۔ (١) ٢١۔١ یعنی یوم قیامت کی تکذیب، ما انزل اللہ کی مخالفت اور حق سے اعراض، اس لیے ہے کہ تم نے دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور آخرت...
  20. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ﴿١٩﴾ پھر اس کا واضح کر دینا ہمارے ذمہ ہے۔ ۱۹۔۱ یعنی اس کے مشکل مقامات کی تشریح اور حلال و حرام کی توضیح، یہ بھی ہمارے ذمے ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے مجملات کی جو تفصیل، مبہمات کی توضیح اور اس کے عمومات کی جو تخصیص بیان فرمائی ہے،...
Top