• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا ﴿٢٦﴾ اور رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کر اور بہت رات تک اس کی تسبیح کیا کر۔ (۱) ٢٦۔۱ رات کو سجدہ کر، سے مراد بعض نے مغرب و عشاء کی نمازیں مراد لی ہیں۔ اور تسبیح کا مطلب، جو باتیں اللہ کے لائق نہیں ہیں، ان سے اسکی پاکیزگی بیان کر، بعض کے...
  2. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَاذْكُرِ‌ اسْمَ رَ‌بِّكَ بُكْرَ‌ةً وَأَصِيلًا ﴿٢٥﴾ اور اپنے رب کے نام کا صبح و شام ذکر کیا کر۔ (۱) ۲۵۔۱ صبح و شام سے ہے، تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کر۔ یا صبح سے مراد فجر کی نماز اور شام سے عصر کی نماز ہے۔
  3. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَاصْبِرْ‌ لِحُكْمِ رَ‌بِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ آثِمًا أَوْ كَفُورً‌ا ﴿٢٤﴾ پس تو اپنے رب کے حکم پر قائم رہ (١) اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کا کہنا نہ مان۔ (٢) ٢٤۔١ یعنی اس کے فیصلے کا انتظار کر۔ وہ تیری مدد میں کچھ تاخیر کر رہا ہے تو اس میں اس کی حکمت ہے۔ اس لیے صبر اور حوصلے کی ضرورت...
  4. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّ هَـٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورً‌ا ﴿٢٢﴾ (کہا جائے گا) کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا بدلہ اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی۔ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْ‌آنَ تَنزِيلًا ﴿٢٣﴾ بیشک ہم نے تجھ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے۔ (١) ٢٣۔١ یعنی ایک ہی مرتبہ نازل کرنے کی بجائے...
  5. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَإِذَا رَ‌أَيْتَ ثَمَّ رَ‌أَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرً‌ا ﴿٢٠﴾ تو وہاں جہاں کہیں بھی نظر ڈالے گا سراسر نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی دیکھے گا۔ عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ‌ وَإِسْتَبْرَ‌قٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ‌ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَ‌بُّهُمْ شَرَ‌ابًا طَهُورً‌ا ﴿٢١﴾ ان کے جسموں...
  6. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَ‌أَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنثُورً‌ا ﴿١٩﴾ اور ان کے ارد گرد گھومتے پھرتے ہوں گے وہ کم سن بچے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں (١) جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ (٢) ١٩۔١ شراب کی اوصاف بیان کرنے کے بعد، ساقیوں کا وصف بیان...
  7. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلْسَبِيلًا ﴿١٨﴾ جنت کی ایک نہر جس کا نام سلسلبیل ہے۔ (١) ١٨۔١ یعنی اس شراب زنجبیل کی بھی ایک نہر ہو گی جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔
  8. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلًا ﴿١٧﴾ اور انہیں وہاں وہ جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش زنجبیل کی ہو گی۔ (١) ١٧۔١ زَنْجَبِیْل (سونٹھ، خشک ادرک) کو کہتے ہیں۔ یہ گرم ہوتی ہے۔ اس کی آمیزش سے ایک خوشگوار تلخی پیدا ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں عربوں کی یہ مرغوب چیز ہے۔ چنانچہ ان کے...
  9. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    قَوَارِ‌يرَ‌ مِن فِضَّةٍ قَدَّرُ‌وهَا تَقْدِيرً‌ا ﴿١٦﴾ شیشے بھی چاندی کے (١) جن کو (ساقی نے) اندازے سے ناپ رکھا ہو گا۔ (٢) ١٦۔١ یعنی یہ برتن اور آب خورے چاندی اور شیشے سے بنے ہوں گے۔ نہایت نفیس اور نازک۔ گویا ایسی ہے کہ جس کی کوءی نظیر دنیا میں نہیں ہے۔ ١٦۔٢ یعنی ان میں شراب ایسے اندازے سے ڈالی...
  10. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَيُطَافُ عَلَيْهِم بِآنِيَةٍ مِّن فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِ‌يرَ‌ا ﴿١٥﴾ اور ان پر چاندی کے برتنوں اور ان جاموں کا دور کرایا جائے گا (١) جو شیشے کے ہوں گے۔ ١٥۔١ یعنی خادم انہیں لے کر جنتیوں کے درمیان پھریں گے۔
  11. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَالُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا ﴿١٤﴾ ان جنتوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے (١) اور ان کے (میوے اور) گچھے نیچے لٹکے ہوئے ہوں گے۔ (٢) ١٤۔١ گو وہاں سورج کی حرارت نہیں ہو گی، اس کے باوجود درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ ان کی شاخیں ان کے...
  12. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    مُّتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَ‌ائِكِ ۖ لَا يَرَ‌وْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِ‌يرً‌ا ﴿١٣﴾ یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔ نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ جاڑے کی سختی۔ (۱) ۱۳۔۱ زَمْهَرِير، سخت جاڑے کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہاں ہمیشہ ایک ہی موسم رہے گا اور وہ ہے موسم...
  13. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَجَزَاهُم بِمَا صَبَرُ‌وا جَنَّةً وَحَرِ‌يرً‌ا ﴿١٢﴾ اور انہیں ان کے صبر (١) کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے۔ ۱۲۔۱ صبر کا مطلب ہے دین کی راہ میں جو تکلفیں آئیں انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا، اللہ کی اطاعت میں نفس کی خواہشات اور لذات کو قربان کرنا اور معصیتوں سے اجتناب کرنا۔
  14. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَوَقَاهُمُ اللَّـهُ شَرَّ‌ ذَٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَ‌ةً وَسُرُ‌ورً‌ا ﴿١١﴾ پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا (١) اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی۔ (۲) ١١۔١ جیسا کہ وہ اس کے شر سے ڈرتے تھے اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کی اطاعت کرتے تھے۔ ۱۱۔۲ تازگی چہروں پر ہو گی اور خوشی...
  15. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّـهِ لَا نُرِ‌يدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورً‌ا ﴿٩﴾ ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکرگزاری۔ إِنَّا نَخَافُ مِن رَّ‌بِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِ‌يرً‌ا ﴿١٠﴾ بیشک ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے...
  16. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرً‌ا ﴿٨﴾ اور اللہ تعالیٰ کی محبت (١) میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین، یتیم اور قیدیوں کو۔ ٧۔٨ یا طعام کی محبت کے باوجود، وہ اللہ کی رضا کے لیے ضرورت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں، قیدی اگر غیر مسلم ہو، تب بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کی...
  17. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    يُوفُونَ بِالنَّذْرِ‌ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّ‌هُ مُسْتَطِيرً‌ا ﴿٧﴾ جو نذر پوری کرتے ہیں (١) اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے۔ (٢) ٧۔١ یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں، نذر بھی مانتے ہیں تو صرف اللہ کے لیے، اور پھر اسے پورا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم...
  18. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    عَيْنًا يَشْرَ‌بُ بِهَا عِبَادُ اللَّـهِ يُفَجِّرُ‌ونَهَا تَفْجِيرً‌ا ﴿٦﴾ جو ایک چشمہ ہے۔ (١) جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اس کی نہریں نکال لے جائیں گے (٢) (جدھر چاہیں)۔ ٦۔١ یعنی یہ کافور ملی شراب، دو چار صراحیوں یا مٹکوں میں نہیں ہو گی، بلکہ چشمہ ہو گا، یعنی یہ ختم ہونے والی نہیں ہو گی۔ ٦۔٢ یعنی...
  19. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّ الْأَبْرَ‌ارَ‌ يَشْرَ‌بُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورً‌ا ﴿٥﴾ بیشک نیک لوگ وہ جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہے۔ (۱) ۵۔۱ اشقیا کے مقابلے میں یہ سعدا کا ذکر ہے، کأس اس جام کو کہتے ہیں جو بھرا ہوا ہو اور چھلک رہا ہو۔ کافور ٹھنڈی اور ایک مخصوص خوشبو کی حامل ہوتی ہے۔ اس کی آمیزش سے...
  20. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِ‌ينَ سَلَاسِلَ وَأَغْلَالًا وَسَعِيرً‌ا ﴿٤﴾ یقیناً ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور شعلوں والی آگ تیار کر رکھی ہے۔ (۱) ٤۔۱ یہ اللہ کی دی ہوئی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔
Top