الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ ﴿٢١﴾
پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہو گا۔
فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ ﴿٢٢﴾
بلند و بالا جنت میں۔ (۱)
۲۲۔۱ جنت میں مختلف درجات ہوں گے، ہر درجے کے درمیان بہت فاصلہ ہو گا، جیسے مجاہدین کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین فی...
إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ ﴿٢٠﴾
مجھے تو کامل یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنا ہے۔ (۱)
۲۰۔۱ یعنی آخرت کے حساب و کتاب پر میرا کامل یقین تھا۔
فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ ﴿١٩﴾
سو جسے اس کا نامۂ اعمال اسکے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا (١) تو وہ کہنے لگے گا لو میرا نامۂ اعمال پڑھو۔ (۲)
١٩۔١ جو اس کی سعادت، نجات اور کامیابی کی دلیل ہو گا۔
١٩۔١ یعنی وہ مارے خوشی کے ہر ایک کو کہے گا...
يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنكُمْ خَافِيَةٌ ﴿١٨﴾
اس دن تم سب سامنے پیش کیے (۱) جاؤ گے، تمہارا کوئی بھید پوشیدہ نہ رہے گا۔
۱۸۔۱ یہ پیشی اس لیے نہیں ہو گی کہ جن کو اللہ نہیں جانتا ان کو جان لے، گا وہ تو سب کو ہی جانتا ہے، یہ پیشی خود انسانوں پر حجت قائم کرنے کے لیے ہو گی۔ ورنہ اللہ سے...
وَالْمَلَكُ عَلَىٰ أَرْجَائِهَا ۚ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ ﴿١٧﴾
اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے، (۲) اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ (١)
١٧۔١ یعنی آسمان تو ٹکرے ٹکرے ہو جائیں گا پھر آسمانی مخلوق فرشتے کہاں ہوں گے؟...
فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ﴿١٥﴾
اس دن ہو پڑنے والی (قیامت) ہو پڑے گی۔
وَانشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ ﴿١٦﴾
اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن بالکل بودا ہو جائے گا۔ (١)
١٦۔١ یعنی اس میں کوئی قوت اور استحکام نہیں رہے گا جو چیز پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے، اس میں استحکام کس...
وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً ﴿١٤﴾
اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے (۱) اور ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیئے جائیں گے۔
۱٤۔۱ یعنی اپنی جگہوں سے اٹھا لیے جائیں گے اور قدرت الہی سے اپنی قرار گاہوں سے ان کو اکھیڑ لیا جائے گا۔
فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ ﴿١٣﴾
پس جبکہ صور میں ایک پھونک پھونکی جائے گی۔ (۱)
۱۳۔۱ مکذبین کا انجام بیان کرنے کے بعد اب بتلایا جا رہا ہے کہ یہ الحاقہ کس طرح واقع ہو گی اسرافیل کی ایک ہی پھونک سے یہ برپا ہو جائے گی۔
لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ ﴿١٢﴾
تاکہ اسے تمہارے لیے نصیحت اور یادگار بنا دیں، (۱) اور (تاکہ) یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ (۲)
۱۲۔۱ یعنی یہ فعل کہ کافروں کو پانی میں غرق کر دیا اور مومنوں کو کشتی میں سوار کرا کے بچا لیا، تمہارے لیے اس کو عبرت و نصیحت بنا...
إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ ﴿١١﴾
جب پانی میں طغیانی آگئی (١) تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ (٢)
١١۔١ یعنی پانی ارتفاع اور بلندی میں تجاوز کر گیا یعنی پانی خوب چڑھ گیا۔
١١۔٢ کُم سے مخاطب عہد رسالت کے لوگ ہیں، مطلب ہے کہ تم جن آبا کی پشتوں سے ہو، ہم نے...
فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةً ﴿١٠﴾
اور اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی (بالآخر) اللہ نے انہیں (بھی) زبردست گرفت میں لیا۔ (۱)
۱۰۔۱ رَابِيَة، رَبَا یَربُو سے ہے جس کے معنی زائد کے ہیں۔ یعنی ان کی ایسی گرفت کی جو دوسری قوموں کی گرفت سے زائد یعنی سب میں سخت تر تھی۔...
فَهَلْ تَرَىٰ لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ ﴿٨﴾
کیا ان میں سے کوئی بھی تجھے باقی نظر آرہا ہے؟
وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَن قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ ﴿٩﴾
فرعون اور اس کے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں الٹ دی گئی، (۱) انہوں نے بھی خطائیں کیں۔
۹۔۱ اس سے قوم لوط مراد ہے۔
سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ ﴿٧﴾
جسے ان پر سات رات اور آٹھ دن تک (اللہ نے) مسلط رکھا (١) پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔ (٢)
٧۔١ حَسمٌ...
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ ﴿٦﴾
اور عاد بے حد تیز و تند ہوا سے غارت کر دیئے گئے۔ (١)
٦۔١ صَرْصَرٍ پالے والی ہوا۔ عَاتِيَةٍ سرکش کسی کے قابو میں نہ آنے والی۔ یعنی نہایت تند و تیز، پالے والی اور بے قابو ہوا کے ذریعے سے حضرت ہود عليہ السلام کی قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔
فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ ﴿٥﴾
(جس کے نتیجے میں) ثمود تو بے حد خوفناک (اور اونچی) آواز سے ہلاک کر دیئے گئے۔ (١)
٥۔١ طاغیۃ ایسی آواز جو حد سے تجاوز کر جا نے والی ہو، یعنی نہایت خوف ناک اور اونچی آواز سے قوم ثمود کو ہلاک کیا گیا، جیسا کہ پہلے متعدد جگہ گزرا۔
كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌ بِالْقَارِعَةِ ﴿٤﴾
اس کھڑکا دینے والی کو ثمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا۔ (١)
٤۔١ اس میں قیامت کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لیے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔
وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحَاقَّةُ ﴿٣﴾
اور تجھے کیا معلوم کہ وہ ثابت شدہ کیا ہے؟ (١)
٣۔١ یعنی کس ذریعے سے تجھے اس کی پوری حقیقت سے آگاہی حاصل ہو؟ مطلب اس کے علم کی نفی ہے۔ گویا کہ تجھے اس کا علم نہیں، کیوں کہ تو نے ابھی اسے دیکھا ہے اور نہ اس کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا ہے، گویا مخلوقات کے دائرہ...
سلف صالحین کااحتیاط
اسی لئے سلف صالحین اسی تفسیر سے قطعی گریز کرتے تھے ، جس کاعلم نہیں ہوتا تھا۔ شعبہ کی روایت ہے کہ ابوبکر صدیق نے فرمایا '' کون زمین مجھے اٹھائے گی اور کون آسمان مجھ پر سایہ کرے گا اگر کتاب اللہ میں ایسی بات کہوں ، جس کامجھے علم نہیں[1]''۔امام ابو عبید ابراہیم تمیمی سے...
قرآن حکیم سے استشہاد
یہ اصول قرآن مجید میں بھی ملتا ہے،دیکھیے بدکاری کاالزام لگانے والوں کو خدا نے جھوٹا قرار دیاہے۔
فرمایا :
فَاِذْ لَمْ یاْتُوْا بِالشُّہَدَاۗءِ فَاُولٰۗىِٕكَ عِنْدَ اللہِ ہُمُ الْكٰذِبُوْنَ (النور۔۲:۱۳)
' ' اگر (زنا کے الزام کے لئے )چار گواہ لاسکین توالزام لگانے والے جھوٹے...