الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ ﴿١٨﴾
ہم جب اسے پڑھ (١) لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں۔ (٢)
١٨۔١ یعنی فرشتے (جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعے سے جب ہم اس کی قرأت آپ پر پوری کر لیں۔
١٨۔٢ یعنی اس کے شرائع و احکام لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور ان کی اتباع بھی کریں۔
إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ﴿١٧﴾
اسکا جمع کرنا اور (آپ کی زبان سے) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔ (١)
١٧۔١ یعنی آپ کے سینے میں اس کا جمع کر دینا اور آپ کی زبان پر اس کی قرأت کو جاری کر دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ تاکہ اس کا کوئی حصہ آپ کی یاد داشت سے نہ نکلے اور آپ کے ذہن سے محو نہ ہو۔
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ﴿١٦﴾
(اے نبی) آپ قرآن کو جلدی (یاد کرنے) کے لیے اپنی زبان کو حرکت (١) نہ دیں۔
١٦۔١ حضرت جبرائیل عليہ السلام جب وحی لے کر آتے نبی ﷺ بھی ان کے ساتھ عجلت سے پڑھتے جاتے کہ کہیں کوئی لفظ بھول نہ جائے۔ اللہ نے آپ کو فرشتے کے ساتھ ساتھ اس طرح پڑھنے سے منع...
وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ ﴿١٥﴾
اگرچہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ (١)
١٥۔١ یعنی لڑے جھگڑے، ایک سے ایک تاویل کرے، لیکن ایسا کرنا نہ اسکے لیے مفید ہے اور نہ وہ اپنے ضمیر کو مطمئن کر سکتا ہے۔
بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ ﴿١٤﴾
بلکہ انسان خود اپنے اوپر حجت ہے۔ (١)
١٤۔١ یعنی اسکے اپنے ہاتھ، پاؤں، زبان اور دیگر اعضاء گواہی دیں گے، یا یہ مطلب ہے کہ انسان اپنے عیوب خود جانتا ہے۔
يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ﴿١٣﴾
آج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاہ کیا جائے گا۔ (١)
١٣۔١ یعنی اس کو اس کے تمام اعمال سے آگاہ کیا جائے گا، قدیم ہو یا جدید، اول ہو یا آخر، چھوٹا ہو یا بڑا۔ ﴿وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا﴾ (الکھف: ۴۹)
إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ ﴿١٢﴾
آج تو تیرے پروردگار کی طرف ہی قرار گاہ ہے۔ (١)
١٢۔١ جہاں وہ بندوں کے درمیان فیصلے فرمائے گا۔ یہ ممکن نہیں ہو گا کہ کوئی اللہ کی اس عدالت سے چھپ جائے۔
كَلَّا لَا وَزَرَ ﴿١١﴾
نہیں نہیں کوئی پناہ گاہ نہیں۔ (١)
١١۔١ وَزَرَ پہاڑ یا قلعے کو کہتے ہیں جہاں انسان پناہ حاصل کرلے۔ وہاں ایسی کوئی پناہ گاہ نہیں ہو گی۔
يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ ﴿١٠﴾
اس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ (١)
١٠۔١ یعنی جب یہ واقعات ظہور پذیر ہوں گے تو پھر اللہ سے یا جہنم کے عذاب سے راہ فرار ڈھونڈے گا، لیکن اس وقت راہ فرار کہاں ہو گی؟
وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ﴿٩﴾
اور سورج اور چاند جمع کر دیئے جائیں گے۔ (١)
٩۔١ یعنی بے نوری میں۔ مطلب ہے کہ چاند کی طرح سورج کی روشنی بھی ختم ہو جائے گی۔
وَخَسَفَ الْقَمَرُ ﴿٨﴾
اور چاند بے نور ہو جائے گا۔ (١)
٨۔١ جب چاند کو گرہن لگ جاتا ہے تو اس وقت بھی وہ بے نور ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ خسف قمر، جو علامات قیامت میں سے ہے، جب ہو گا تو اس کے بعد اس میں روشنی نہیں آئے گی۔
يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ﴿٦﴾
پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا۔ (١)
٦۔١ یہ سوال اس لیے نہیں کرتا کہ گناہوں سے تائب ہو جائے، بلکہ قیامت کو ناممکن الوقوع سمجھتے ہوئے پوچھتا ہے اسی لیے فسق و فجور سے باز نہیں آتا۔ تاہم اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کے آنے کا وقت بیان فرما رہا ہے۔
بَلْ يُرِيدُ الْإِنسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ ﴿٥﴾
بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے۔ (١)
٥۔١ یعنی اس امید پر نافرمانی اور حق کا انکار کرتا ہے کہ کون سی قیامت آنی ہے۔
بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ ﴿٤﴾
ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کر دیں۔ (١)
٤۔١ بَنَان،ہاتھوں اور پیروں کے ان اطراف (کناروں) کو کہتے ہیں جو جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ...
أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ ﴿٣﴾
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں۔ (١)
٣۔١ یہ جواب قسم ہے۔ انسان سے مراد یہاں کافر اور ملحد انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالیٰ یقینا انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا۔ یہاں ہڈیوں کا...
وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ ﴿٢﴾
اور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے والا ہو۔ (١)
٢۔١ یعنی بھلائی پر بھی کرتا ہے کہ زیادہ کیوں نہیں کی۔ اور برائی پر بھی، کہ اس سے باز کیوں نہیں آتا؟ دنیا میں بھی جن کے ضمیر بیدار ہوتے ہیں، ان کے نفس انہیں ملامت کرتے ہیں، تاہم آخرت میں تو سب کے...
سورة القیامة
(سورۃ قیامت مکی ہے اور اس میں چالیس آیتیں اور دو رکوع ہیں)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ ﴿١﴾
میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔ (١)
١۔١ لا اقسم میں لا زائد ہے جو عربی...
مَن شَاءَ ذَكَرَهُ ﴿٥٥﴾
اب جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔
وَمَا يَذْكُرُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ ۚ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَىٰ وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ ﴿٥٦﴾
اور وہ اس وقت نصیحت حاصل کریں گے جب اللہ تعالیٰ چاہے، (١) وہ اسی لائق ہے کہ اس سے ڈریں اور اس لائق بھی کہ وہ بخشے۔ (٢)
٥٦۔١ یعنی اس...
كَلَّا إِنَّهُ تَذْكِرَةٌ ﴿٥٤﴾
سچی بات تو یہ ہے کہ یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے۔ (١)
٥٤۔١ لیکن اس کے لیے جو اس قرآن کے مواعظ اور نصائح سے عبرت حاصل کرنا چاہے۔