• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ‌ ﴿٥٤﴾ یقیناً ہمارا ڈر رکھنے والے جنتوں اور نہروں میں ہوں گے۔ (١) ٥٤۔١ یعنی مختلف اورمتنوع باغات میں ہوں گے۔ نَهَرٌ بطور جنس کے ہے جو جنت کی تمام نہروں کو شامل ہے۔
  2. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَكُلُّ صَغِيرٍ‌ وَكَبِيرٍ‌ مُّسْتَطَرٌ‌ ﴿٥٣﴾ (اسی طرح) ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔ (١) ٥٣۔١ یعنی مخلوق کے تمام اعمال، اقوال و افعال لکھے ہوئے ہیں، چھوٹے ہوں یا بڑے، حقیر ہوں یا جلیل، اشقیا کے ذکر کے بعد اب سعداء کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
  3. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ‌ ﴿٥٢﴾ جو کچھ انہوں نے (اعمال) کیے ہیں سب نامہ اعمال میں لکھے ہوئے ہیں۔ (١) ٥٢۔١ یا دوسرے معنی ہیں، لوح محفوظ میں درج ہیں۔
  4. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ‌ ﴿٤٩﴾ بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقررہ) اندازے پر پیدا کیا ہے۔ (١) ٤٩۔١ ائمہ سنت نے اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات سے استدلال کرتے ہوئے تقدیر الٰہی کا اثبات کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے ہی سب کا علم تھا اور اس نے سب کی...
  5. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّ الْمُجْرِ‌مِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ‌ ﴿٤٧﴾ بیشک گناہ گار گمراہی میں اور عذاب میں ہیں۔ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ‌ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ‌ ﴿٤٨﴾ جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا) دوزخ کی آگ لگنے کے مزے چکھو۔ (۳) ٤٨۔١ سَقَرٌ بھی جہنم...
  6. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ‌ ﴿٤٦﴾ بلکہ قیامت کی گھڑی ان کے وعدے کے وقت ہے اور قیامت بڑی سخت اور کڑوی چیز ہے۔ (١) ٤٦۔١ أَدْهَى دَهَاءٌ سے ہے، سخت رسوا کرنے والا أَمَرُّ مَرَارَةٌ سے ہے، نہایت کڑوا۔ یعنی دنیا میں جو یہ قتل کیے گئے، قیدی بنائے گئے وغیرہ، یہ ان کی...
  7. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ‌ ﴿٤٥﴾ عنقریب یہ جماعت شکست دی جائے گی اور پیٹھ دے کر بھاگے گی۔ (١) ٤٥۔١ اللہ نے ان کے زعم باطل کی تردید فرمائی، جماعت سے مراد کفار مکہ ہیں۔ چنانچہ بدر میں انہیں شکست ہوئی اور یہ پیٹھ دے کر بھاگے، رؤسائے شرک اور اساطین کفر ہلاک کردیئے گئے۔ جنگ بدر کے...
  8. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ‌ ﴿٤٤﴾ یا یہ کہتے ہیں کہ ہم غلبہ پانے والی جماعت ہیں۔ (١) ٤٤۔١ تعداد کی کثرت اور وسائل قوت کی وجہ سے، کسی اور کا ہم پر غالب آنے کا امکان نہیں۔ یا مطلب ہے کہ ہمارا معاملہ مجتمع ہے، ہم دشمن سے انتقام لینے پر قادر ہیں۔
  9. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    أَكُفَّارُ‌كُمْ خَيْرٌ‌ مِّنْ أُولَـٰئِكُمْ أَمْ لَكُم بَرَ‌اءَةٌ فِي الزُّبُرِ‌ ﴿٤٣﴾ (اے قریشیو!) کیا تمہارے کافر ان کافروں سے کچھ بہتر ہیں؟ (١) یا تمہارے لیے اگلی کتابوں میں چھٹکارا لکھا ہوا ہے؟ (٢) ٤٣۔١ یہ استفہام انکار یعنی نفی کے لیے ہے۔ یعنی اے اہل عرب! تمہارے کافر، گزشتہ کافروں سے، بہتر...
  10. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَلَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْ‌عَوْنَ النُّذُرُ‌ ﴿٤١﴾ اور فرعونیوں کے پاس بھی ڈرانے والے آئے۔ ٤١۔١ نُذُرٌ، نَذِيرٌ (ڈرانے والا) کی جمع ہے یا بمعنی إِنْذَارٍ مصدر ہے (فتح القدیر) كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَاهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُّقْتَدِرٍ‌ ﴿٤٢﴾ انہوں نے ہماری تمام نشانیاں جھٹلائیں (١) پس...
  11. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ‌ ﴿٣٩﴾ پس میرے عذاب اور میرے ڈراوے کا مزہ چکھو۔ وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ ﴿٤٠﴾ اور یقیناً ہم نے قرآن کو پند و وعظ کے لیے آسان کر دیا ہے۔ (١) پس کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا۔ ٤٠۔١ تیسیر قرآن کا اس سورت میں بار بار ذکر کرنے سے...
  12. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَ‌ةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ‌ ﴿٣٨﴾ اور یقینی بات ہے کہ انہیں صبح سویرے ہی ایک جگہ پکڑنے والے مقررہ عذاب نے غارت کر دیا۔ (١) ٣٨۔١ یعنی صبح ان کے پاس عذاب مستقر آ گیا۔ مستقر کے معنی، ان پر نازل ہونے والا، جو انہیں ہلاک کیے بغیر نہ چھوڑے۔
  13. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَلَقَدْ رَ‌اوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ‌ ﴿٣٧﴾ اور ان (لوط علیہ السلام) کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا (۱) پس ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کر دیں، (۲) (اور کہہ دیا) میرا عذاب اور میرا ڈرانا چکھو۔ ٣٧۔١ یا بہلایا یا مانگا لوط عليہ السلام سے ان کے...
  14. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَلَقَدْ أَنذَرَ‌هُم بَطْشَتَنَا فَتَمَارَ‌وْا بِالنُّذُرِ‌ ﴿٣٦﴾ یقیناً (لوط علیہ السلام) نے انہیں ہماری پکڑ سے ڈرایا (١) تھا لیکن انہوں نے ڈرانے والے کے بارے میں (شک و شبہ اور) جھگڑا کیا۔ (٢) ٣٦۔١ یعنی عذاب آنے سے پہلے سخت گرفت سے ڈرایا تھا۔ ٣٦۔٢ لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی بلکہ شک کیا اور...
  15. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    نِّعْمَةً مِّنْ عِندِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي مَن شَكَرَ‌ ﴿٣٥﴾ اپنے احسان سے (١) ہر ہر شکر گزار کو ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ ٣٥۔١ یعنی ان کو عذاب سے بچانا، یہ ہماری رحمت اور احسان تھا جو ان پر ہوا۔
  16. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ ﴿٣٢﴾ اور ہم نے نصیحت کے لیے قرآن کو آسان کر دیا ہے پس کیا ہے کوئی جو نصیحت قبول کرے۔ كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ بِالنُّذُرِ‌ ﴿٣٣﴾ قوم لوط نے بھی ڈرانے والوں کی تکذیب کی۔ إِنَّا أَرْ‌سَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ ۖ...
  17. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ‌ ﴿٣٠﴾ پس کیوں کر ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔ إِنَّا أَرْ‌سَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَاحِدَةً فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ‌ ﴿٣١﴾ ہم نے ان پر ایک چیخ بھیجی پس ایسے ہو گئے جیسے باڑ بنانے والے کی روندی ہوئی گھاس۔ (١) ٣١۔١ حَظِيرَةٌ، مَحْظُورَةٌ بمعنی...
  18. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ‌ ﴿٢٩﴾ انہوں نے اپنے ساتھی کو آواز دی (١) جس نے (اونٹنی پر) وار کیا (٢) اور (اس کی) کوچیں کاٹ دیں۔ ٢٩۔١ یعنی جس کو انہوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کے لیے آمادہ کیا تھا، جس کا نام قدار بن سالف بتلایا جاتاہے، اس کو پکارا کہ وہ اپنا کام کرے۔ ٢٩۔٢ یا تلوار یا...
  19. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ ۖ كُلُّ شِرْ‌بٍ مُّحْتَضَرٌ‌ ﴿٢٨﴾ ہاں انہیں خبر کر دے کہ پانی ان میں تقسیم شدہ ہے، (١) ہر ایک اپنی باری پر حاضر ہو گا۔ (٢) ٢٨۔١ یعنی ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لیے اور ایک دن قوم کے پانی کے لیے۔ ٢٨۔٢ مطلب ہے ہر ایک کا حصہ اس کے ساتھ ہی خاص ہے...
  20. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّا مُرْ‌سِلُو النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْ‌تَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ‌ ﴿٢٧﴾ بیشک ہم ان کی آزمائش کے لیے اونٹنی بھیجیں گے۔ (١) پس (اے صالح) تو ان کا منتظر رہ اور صبر کر۔ (٢) ٢٧۔١ کہ یہ ایمان لاتے ہیں یا نہیں؟ یہ وہی اونٹنی ہے جو اللہ نے خود ان کے کہنے پر پتھر کی ایک چٹان سے ظاہر فرمائی تھی۔...
Top