الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٠﴾
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (١)
٣٠۔١ اور اتنی بڑی ہستی کا ہر وقت بندوں کے امور و معاملات کی تدبیر میں لگے رہنا، کتنی بڑی نعمت ہے۔
سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ ﴿٣١﴾
(جنوں اور انسانوں کے گروہو!) عنقریب ہم تمہاری طرف پوری...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢٥﴾
پس (اے انسانو! اور جنو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (١)
٢٥۔١ ان کے ذریعے سے بھی نقل و حمل کی جو آسانیاں ہیں، محتاج وضاحت نہیں، اس لیے یہ بھی اللہ کی عظیم نعمت ہے۔
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ﴿٢٦﴾
زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں۔...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢٣﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (١)
٢٣۔١ یہ جواہر اور موتی زیب و زینت اور حسن و جمال کا مظہر ہیں اور اہل شوق و اہل ثروت انہیں اپنے ذوق جمال کی تسکین اور حسن و رعنائی میں اضافے ہی کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان کا نعمت ہونا بھی واضح ہے۔...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢١﴾
پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ﴿٢٢﴾
ان دونوں میں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں۔ (١)
٢٢۔١ مَرْجَانٌ سے چھوٹے موتی یا پھر مونگے مراد ہیں۔ کہتے ہیں کہ آسمان سے بارش ہوتی ہے تو...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٨﴾
تو (اے جنو اور انسانو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ﴿١٩﴾
اس نے دو دریا جاری کر دیئے جو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔
بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ ﴿٢٠﴾
ان دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے بڑھ نہیں...
رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ﴿١٧﴾
وہ رب ہے دونوں مشرقوں کا اور دونوں مغربوں کا۔ (١)
١٧۔١ ایک گرمی کا مشرق اور ایک سردی کا مشرق، اسی طرح مغرب ہے۔ اس لیے دونوں کو تثنیہ ذکر کیا ہے، موسموں کے اعتبار سے مشرق و مغرب کا مختلف ہونا اس میں بھی انس و جن کی بہت سی مصلحتیں ہیں، اس لیے...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٦﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (١)
١٦۔١ یعنی تمہاری یہ پیدائش بھی اور پھر تم سے مزید نسلوں کی تخلیق و افزائش، یہ اللہ کی نعمتوں میں سے ہے۔ کیا تم اس نعمت کا انکار کرو گے؟
وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ ﴿١٥﴾
اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔ (١)
١٥۔١ اس سے مراد سب سے پہلا جن ہے جو ابوالجن ہے، یا جن بطور جنس کے ہے۔ جیسا کہ ترجمہ جنس کے اعتبار سے ہی کیا گیا ہے۔ مَارِجٍ آگ سے بلند ہونے والے شعلے کو کہتے ہیں۔
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ﴿١٤﴾
اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی۔ (١)
١٤۔١ صَلْصَالٍ خشک مٹی، جس میں آواز ہو۔ فَخَّارٌ آگ میں پکی ہوئی مٹی، جسے ٹھیکری کہتےہیں۔ اس انسان سے مراد حضرت آدم عليہ السلام ہیں، جن کا پہلے مٹی سے پتلا بنایا گیا اور پھر اس...
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٣﴾
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (١)
١٣۔١ یہ انسانوں اور جنوں دونوں سے خطاب ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعتمیں گنوا کر ان سے پوچھ رہا ہے۔ یہ تکرار اس شخص کی طرح ہے جو کسی پرمسلسل احسان کرے لیکن وہ اس کے احسان کا منکر ہو،...
وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ ﴿٩﴾
انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول میں کم نہ دو۔
وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ ﴿١٠﴾
اور اسی نے مخلوق کے لیے زمین بچھا دی۔
فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ ﴿١١﴾
جس میں میوے ہیں اور خوشے والے کھجور کے...
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ﴿٧﴾
اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی۔ (١)
٧۔١ یعنی زمین میں انصاف رکھا، جس کا اس نے لوگوں کو حکم دیا، جیسے فرمایا: ﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ...
وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ ﴿٦﴾
اور ستارے اور درخت دونوں سجدہ کرتے ہیں۔ (١)
٦۔١ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ﴾ (الحج: ۱۸)
الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ﴿٥﴾
آفتاب اور مہتاب (مقررہ) حساب سے ہیں۔ (١)
٥۔١ یعنی اللہ کے ٹھہرائے ہوئے حساب سے اپنی اپنی منزلوں پر رواں دواں رہتے ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔
عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾
اور اسے بولنا سکھایا۔ (١)
٤۔١ اس بیان سے مراد ہر شخص کی اپنی مادری بولی ہے جو بغیر سیکھے ازخود ہر شخص بول لیتا اور اس میں اپنے مافی الضمیر کا اظہار کر لیتا ہے، حتیٰ کہ وہ چھوٹا بچہ بھی بولتا ہے، جس کو کسی بات کا علم اور شعور نہیں ہوتا۔ یہ اس تعلیم الٰہی کا نتیجہ ہے جس کا...
خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾
اسی نے انسان کو پیدا کیا۔ (١)
٣۔١ یعنی یہ بندر وغیرہ جانوروں سے ترقی کرتے کرتے انسان نہیں بن گئے ہیں۔ جیسا کہ ڈارون کا فلسفہ ارتقا ہے۔ بلکہ انسان کو اسی شکل و صورت میں اللہ نے پیدا فرمایا ہے۔ جو جانوروں سے الگ ایک مستقل مخلوق ہے۔ انسان کا لفظ بطور جنس کے ہے۔
سورة الرحمن
(سورة الرحمن مدنی ہے اور اس میں اٹھہتر آیتیں اور تین رکوع ہیں)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
الرَّحْمَـٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾
رحمٰن نے۔ قرآن سکھایا۔ (١)
٢۔١ کہتے ہیں کہ یہ اہل مکہ کے جواب میں...
فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ ﴿٥٥﴾
راستی اور عزت کی بیٹھک میں (١) قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ (٢)
٥٥۔١ مَقْعَدِ صِدقٍ، عزت کی بیٹھک یا مجلس حق، جس میں گناہ کی بات ہو گی نہ لغویات کا ارتکاب۔ مراد جنت ہے۔
٥٥۔٢ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ، قدرت والا بادشاہ یعنی وہ ہر طرح کی قدرت سے بہرہ ور ہے...