• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ‌ ﴿٣٩﴾
پس میرے عذاب اور میرے ڈراوے کا مزہ چکھو۔

وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ ﴿٤٠﴾
اور یقیناً ہم نے قرآن کو پند و وعظ کے لیے آسان کر دیا ہے۔ (١) پس کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا۔
٤٠۔١ تیسیر قرآن کا اس سورت میں بار بار ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ قرآن اور اس کے فہم و حفظ کو آسان کر دینا، اللہ کا احسان عظیم ہے، اس کے شکر سے انسان کو کبھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْ‌عَوْنَ النُّذُرُ‌ ﴿٤١﴾
اور فرعونیوں کے پاس بھی ڈرانے والے آئے۔
٤١۔١ نُذُرٌ، نَذِيرٌ (ڈرانے والا) کی جمع ہے یا بمعنی إِنْذَارٍ مصدر ہے (فتح القدیر)

كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَاهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُّقْتَدِرٍ‌ ﴿٤٢﴾
انہوں نے ہماری تمام نشانیاں جھٹلائیں (١) پس ہم نے بڑے غالب قوی پکڑنے والے کی طرح پکڑ لیا۔ (٢)
٤٢۔١ وہ نشانیاں، جن کے ذریعے سے حضرت موسیٰ عليہ السلام نے فرعون اور فرعونیوں کو ڈرایا۔ یہ نو نشانیاں تھیں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
٤٢۔٢ یعنی ان کو ہلاک کر دیا، کیونکہ وہ عذاب، ایسے غالب کی گرفت تھی جو انتقام لینے پر قادر ہے، اس کی گرفت کے بعد کوئی بچ نہیں سکتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَكُفَّارُ‌كُمْ خَيْرٌ‌ مِّنْ أُولَـٰئِكُمْ أَمْ لَكُم بَرَ‌اءَةٌ فِي الزُّبُرِ‌ ﴿٤٣﴾
(اے قریشیو!) کیا تمہارے کافر ان کافروں سے کچھ بہتر ہیں؟ (١) یا تمہارے لیے اگلی کتابوں میں چھٹکارا لکھا ہوا ہے؟ (٢)
٤٣۔١ یہ استفہام انکار یعنی نفی کے لیے ہے۔ یعنی اے اہل عرب! تمہارے کافر، گزشتہ کافروں سے، بہتر نہیں ہیں، جب وہ اپنے کفر کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے، تو تم جب کہ تم ان سے بدتر ہو، عذاب سے سلامتی کی امید کیوں رکھتے ہو؟
٤٣۔٢ زُبُرٌ سے مراد گزشتہ انبیا پرنازل شدہ کتابیں ہیں۔ یعنی کیا تمہاری بابت کتب منزلہ میں صراحت کر دی گئی ہے کہ یہ قریش یا عرب، جو مرضی کرتے رہیں، ان پر غالب نہیں آئے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ‌ ﴿٤٤﴾
یا یہ کہتے ہیں کہ ہم غلبہ پانے والی جماعت ہیں۔ (١)
٤٤۔١ تعداد کی کثرت اور وسائل قوت کی وجہ سے، کسی اور کا ہم پر غالب آنے کا امکان نہیں۔ یا مطلب ہے کہ ہمارا معاملہ مجتمع ہے، ہم دشمن سے انتقام لینے پر قادر ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ‌ ﴿٤٥﴾
عنقریب یہ جماعت شکست دی جائے گی اور پیٹھ دے کر بھاگے گی۔ (١)
٤٥۔١ اللہ نے ان کے زعم باطل کی تردید فرمائی، جماعت سے مراد کفار مکہ ہیں۔ چنانچہ بدر میں انہیں شکست ہوئی اور یہ پیٹھ دے کر بھاگے، رؤسائے شرک اور اساطین کفر ہلاک کردیئے گئے۔ جنگ بدر کے موقعے پرجب نبی نہایت الحاح و زاری سے اپنے خیمے میں مصروف دعا تھے تو حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے فرمایا [حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللهِ! أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ]۔ بس کیجئے! اللہ کے رسول! آپ نے رب کے سامنے بہت الحاح و زاری کر لی۔ چنانچہ آپ ﷺ خیمے سے باہر تشریف لائے تو آپ کی زبان مبارک پر یہی آیت تھی۔ (البخاری، تفسير سورة اقتربت الساعة)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ‌ ﴿٤٦﴾
بلکہ قیامت کی گھڑی ان کے وعدے کے وقت ہے اور قیامت بڑی سخت اور کڑوی چیز ہے۔ (١)
٤٦۔١ أَدْهَى دَهَاءٌ سے ہے، سخت رسوا کرنے والا أَمَرُّ مَرَارَةٌ سے ہے، نہایت کڑوا۔ یعنی دنیا میں جو یہ قتل کیے گئے، قیدی بنائے گئے وغیرہ، یہ ان کی آخری سزا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الْمُجْرِ‌مِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ‌ ﴿٤٧﴾
بیشک گناہ گار گمراہی میں اور عذاب میں ہیں۔

يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ‌ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ‌ ﴿٤٨﴾
جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا) دوزخ کی آگ لگنے کے مزے چکھو۔ (۳)
٤٨۔١ سَقَرٌ بھی جہنم کا نام ہے یعنی اس کی حرارت اور شدت عذاب کا مزہ چکھو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ‌ ﴿٤٩﴾
بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقررہ) اندازے پر پیدا کیا ہے۔ (١)
٤٩۔١ ائمہ سنت نے اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات سے استدلال کرتے ہوئے تقدیر الٰہی کا اثبات کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے ہی سب کا علم تھا اور اس نے سب کی تقدیر لکھ دی ہے اور فرقہ قدریہ کی تردید کی ہے جس کا ظہور عہد صحابہ کے آخرمیں ہوا۔ (ابن کثیر)

وَمَا أَمْرُ‌نَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ‌ ﴿٥٠﴾
اور ہمارا حکم صرف ایک دفعہ (کا ایک کلمہ) ہی ہوتا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا۔

وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا أَشْيَاعَكُمْ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ ﴿٥١﴾
اور ہم نے تم جیسے بہتیروں کو ہلاک کر دیا ہے, (١) پس کوئی ہے نصیحت لینے والا۔
٥١۔١ یعنی گزشتہ امتوں کے کافروں کو، جو کفر میں تمہارے ہی جیسے تھے۔ (أَشْيَاعَكُمْ أَيْ : أَشْبَاهَكُمْ وَنُظَراءَكُمْ) (فتح القدير)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ‌ ﴿٥٢﴾
جو کچھ انہوں نے (اعمال) کیے ہیں سب نامہ اعمال میں لکھے ہوئے ہیں۔ (١)
٥٢۔١ یا دوسرے معنی ہیں، لوح محفوظ میں درج ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكُلُّ صَغِيرٍ‌ وَكَبِيرٍ‌ مُّسْتَطَرٌ‌ ﴿٥٣﴾
(اسی طرح) ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔ (١)
٥٣۔١ یعنی مخلوق کے تمام اعمال، اقوال و افعال لکھے ہوئے ہیں، چھوٹے ہوں یا بڑے، حقیر ہوں یا جلیل، اشقیا کے ذکر کے بعد اب سعداء کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
 
Top