الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُّنكَرُونَ ﴿٢٥﴾
وہ جب ان کے ہاں آئے تو سلام کیا، ابراہیم نے جواب سلام دیا (اور کہا یہ تو) اجنبی لوگ ہیں۔ (١)
٢٥۔١ یہ اپنے جی میں کہا، ان سے خطاب کرکے نہیں کہا۔
هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَ ﴿٢٤﴾
کیا تجھے ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟ (١)
٢٤۔١ هَلْ استفہام کے لیے ہے جس میں نبی ﷺ کو یہ تنبیہ ہے کہ اس قصے کا تجھے علم نہیں، بلکہ ہم تجھے وحی کے ذریعے سے مطلع کر رہے ہیں۔
فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ ﴿٢٣﴾
آسمانوں و زمین کے پروردگار کی قسم! کہ یہ (١) بالکل برحق ہے ایسا ہی جیسے کہ تم باتیں کرتے ہو۔
٢٣۔١ إِنَّهُ میں ضمیر کا مرجع (یہ) وہ امور و آیات ہیں جو مذکور ہوئیں۔
وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ ﴿٢٠﴾
اور یقین والوں کے لیے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں۔
وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ﴿٢١﴾
اور خود تمہاری ذات میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔
وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ ﴿٢٢﴾
اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعدہ کیا جاتا...
وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ﴿١٩﴾
اور ان کے مال میں مانگنے والوں اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا۔ (١)
١٩۔١ محروم سے مراد، وہ ضرورت مند ہے جو سوال سے اجتناب کرتا ہے۔ چنانچہ مستحق ہونے کے باوجود لوگ اسے نہیں دیتے۔ یا وہ شخص ہے جس کا سب کچھ، آفت ارضی وسماوی میں، تباہ ہو جائے۔
وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ﴿١٨﴾
اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے۔ (۱)
۱۸۔۱ وقت سحر، قبولیت دعا کے بہترین اوقات میں سے ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ (جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ندا دیتا ہے کہ کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ میں اس کی...
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿١٥﴾
بیشک تقوٰی والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے۔
آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ ﴿١٦﴾
ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اسے لے رہے ہوں گے وہ تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے۔
كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ...
ذُوقُوا فِتْنَتَكُمْ هَـٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ﴿١٤﴾
اپنی فتنہ پردازی کا مزہ چکھو، (١) یہی ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے۔
١٤۔١ فِتْنَةٌ، بمعنی عذاب یا آگ میں جلنا۔
قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ ﴿١٠﴾
بے سند باتیں کرنے والے غارت کر دیئے گئے۔
الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ سَاهُونَ ﴿١١﴾
جو غفلت میں ہیں اور بھولے ہوئے ہیں۔
يَسْأَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ ﴿١٢﴾
پوچھتے ہیں کہ یوم جزا کب ہو گا؟
يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ ﴿١٣﴾
ہاں یہ وہ دن ہے کہ یہ آگ...
يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ ﴿٩﴾
اس سے وہی باز رکھا جاتا ہے (١) جو پھیر دیا گیا ہو۔
٩۔١ یعنی نبی ﷺ پر ایمان لانے سے، یا حق سے یعنی بعث و توحید سے یا مطلب ہے مذکورہ اختلاف سے وہ شخص پھیر دیا گیا جسے اللہ نے اپنی توفیق سے پھیر دیا، پہلے مفہوم میں ذم ہے۔ دوسرے میں مدح۔
إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ﴿٨﴾
یقیناً تم مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو۔ (١)
٨۔١ یعنی اے اہل مکہ! تمہارا کسی بات میں آپس میں اتفاق نہیں ہے۔ ہمارے پیغمبر کو تم میں سے کوئی جادوگر، کوئی شاعر، کوئی کاہن اور کوئی کذاب کہتا ہے۔ اسی طرح کوئی قیامت کی بالکل نفی کرتا ہے، کوئی شک کا اظہار، علاوہ ازیں...
إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٌ ﴿٥﴾
یقین مانو کہ تم سے جو وعدے کیے جاتے ہیں (سب) سچے ہیں۔
وَإِنَّ الدِّينَ لَوَاقِعٌ ﴿٦﴾
اور بیشک انصاف ہونے والا ہے۔
وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ ﴿٧﴾
قسم ہے راہوں والے آسمان کی۔ (١)
٧۔١ دوسرا ترجمہ، حسن و جمال اور زینت و رونق والا کیا گیا ہے، چاند، سورج ، کواکب و...
فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا ﴿٤﴾
پھر کام کو تقسیم کرنے والیاں۔ (١)
٤۔١ مُقَسِّمَاتٌ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کاموں کو تقسیم کر لیتے ہیں۔ کوئی رحمت کا فرشتہ ہے تو کوئی عذاب کا، کوئی پانی کا ہے تو کوئی سختی (قحط سالی وغیرہ) کا، کوئی ہواؤں کا فرشتہ ہے تو کوئی موت اور حوادث کا۔ بعض نے ان سب سے صرف...
فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا ﴿٢﴾
پھر اٹھانے والیاں بوجھ کو۔ (١)
٢۔١ وَقْرٌ ہر وہ بوجھ جسے کوئی جاندار لے کر چلے، حاملات سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو اٹھائے ہوئے ہیں، یا پھر وہ بادل ہیں جو پانی کا بوجھ اٹھائے ہوتے ہیں جیسے چوپائے، حمل کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
سورة الذاریات
(سورة الذاریات مکی ہے اور اس میں ساٹھ آیتیں اور تین رکوع ہیں)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا ﴿١﴾
قسم ہے بکھیرنے والیوں کی اڑا کر۔ (١)
١۔١ اس سے مراد ہوائیں ہیں جو مٹی کو اڑا...
نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ ۖ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ ﴿٤٥﴾
یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہم بخوبی جانتے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں، (١) تو آپ قرآن کے ذریعے انہیں سمجھاتے رہیں جو میرے وعید (ڈراوے کے وعدوں) سے ڈرتے ہیں۔ (٢)
٤٥۔١ یعنی...
يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا ۚ ذَٰلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيرٌ ﴿٤٤﴾
جس دن زمین پھٹ جائے گی اور یہ دوڑتے ہوئے (١) (نکل پڑیں گے) یہ جمع کر لینا ہم پر بہت ہی آسان ہے۔
٤٤۔١ یعنی اس آواز دینے والے کی طرف دوڑیں گے۔ جس نےآواز دی ہو گی۔ مُسْرِعِينَ إِلَى الْمُنَادِي الَّذِي...
إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي وَنُمِيتُ وَإِلَيْنَا الْمَصِيرُ ﴿٤٣﴾
ہم ہی جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں (١) اور ہماری ہی طرف لوٹ پھر کر آنا ہے۔ (۲)
٤٣۔١ یعنی دنیا میں موت سے ہمکنار کرنا اور آخرت میں زندہ کر دینا، یہ ہمارا ہی کام ہے، اس میں کوئی ہمارا شریک نہیں ہے۔
٤۳۔۲ وہاں ہم ہر شخص کو اس کے عملوں کے...