الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ ﴿٨١﴾
وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا۔
ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ ﴿٨٢﴾
پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا۔
وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ ﴿٨٣﴾
اور اس (نوح علیہ السلام) کی تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم (علیہ السلام) (بھی) تھے۔ (١)
٨٣۔١...
سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ ﴿٧٩﴾
نوح (علیہ السلام) پر تمام جہانوں میں سلام ہو۔
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿٨٠﴾
ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلے دیتے ہیں۔ (١)
٨٠۔١ یعنی جس طرح نوح عليہ السلام کی دعا قبول کرکے، ان کی ذریت کو باقی رکھ اور پچھلوں میں ان کا ذکر خیر باقی...
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ﴿٧٨﴾
اور ہم نے اس کا (ذکر خیر) پچھلوں میں باقی رکھا۔ (١)
٧٨۔١ یعنی قیامت تک آنے والے اہل ایمان میں ہم نے نوح عليہ السلام کا ذکر خیر باقی چھوڑ دیا ہے اور وہ سب نوح عليہ السلام پر سلام بھیجتے ہیں اور بھیجتے رہیں گے۔
وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ ﴿٧٧﴾
اور اس کی اولاد کو ہم نے باقی رہنے والی بنا دی۔ (١)
٧٧۔١ اکثر مفسرین کے قول کے مطابق حضرت نوح عليہ السلام کے تین بیٹے تھے۔ حام، سام، یافث۔ انہی سے بعد کی نسل انسانی چلی۔ اسی لیے حضرت نوح عليہ السلام کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے یعنی آدم عليہ السلام...
وَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ ﴿٧٦﴾
ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو (١) اس زبردست مصیبت سے بچا لیا۔
٧٦۔١ أَهْلٌ سے مراد، حضرت نوح عليہ السلام پر ایمان لانے والے ہیں، جن میں ان کے گھر کے افراد بھی ہیں جو مومن تھے۔ بعض مفسرین نے ان کی کل تعداد ۸ بتلائی ہے۔ اس میں آپ کی بیوی...
وَلَقَدْ نَادَانَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِيبُونَ ﴿٧٥﴾
اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں۔ (١)
٧٥۔١ یعنی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے باوجود جب قوم کی اکثریت نے ان کی تکذیب ہی کی اور انہوں نے محسوس کر لیا کہ ایمان لانے کی کوئی امید نہیں ہے تو اپنے...
فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنذَرِينَ ﴿٧٣﴾
اب تو دیکھ لے کہ جنہیں دھمکایا گیا تھا ان کا انجام کیسا کچھ ہوا۔
إِلَّا عِبَادَ اللَّـهِ الْمُخْلَصِينَ ﴿٧٤﴾
سوائے اللہ کے برگزیدہ بندوں کے۔ (١)
٧٤۔١ یعنی عبرت ناک انجام سے صرف وہ محفوظ رہے جن کو اللہ نے ایمان و توحید کی توفیق سے نواز کر بچا...
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيهِم مُّنذِرِينَ ﴿٧٢﴾
جن میں ہم نے ڈرانے والے (رسول) بھیجے تھے۔ (١)
٧٢۔١ یعنی ان سے پہلے لوگوں میں۔ انہوں نے حق کا پیغام پہنچایا اور عدم قبول کی صورت میں انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا، لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا نتیجتاً انہیں تباہ کر دیا گیا، جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے...
وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الْأَوَّلِينَ ﴿٧١﴾
ان سے پہلے بھی بہت سے اگلے بہک چکے ہیں۔ (١)
٧١۔١ یعنی یہی گمراہ نہیں ہوئے۔ ان سے پہلے لوگ بھی اکثر گمراہی ہی کے راستے پر چلنے والے تھے۔
إِنَّهُمْ أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ ضَالِّينَ ﴿٦٩﴾
یقین مانو! کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو بہکا ہوا پایا۔
فَهُمْ عَلَىٰ آثَارِهِمْ يُهْرَعُونَ ﴿٧٠﴾
اور یہ انہی کے نشان قدم پر دوڑتے رہے۔ (١)
٧٠۔١ یہ جہنم کی مذکورہ سزاوں کی علت ہے کہ اپنے باپ دادوں کو گمراہی پر پانے کے باوجود یہ انہی کے نقش قدم پر...
ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ ﴿٦٨﴾
پھر ان سب کا لوٹنا جہنم کی (آگ کے ڈھیر کی) طرف ہو گا۔ (١)
٦٨۔١ یعنی زقوم کے کھانے اور گرم پانی کے پینے کے بعد انہیں دوبارہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيمٍ ﴿٦٧﴾
پھر اس پر گرم جلتے جلتے پانی کی ملونی ہو گی۔ (١)
٦٧۔١ یعنی کھانے کے بعد انہیں پانی کی طلب ہو گی تو کھولتا ہوا گرم پانی انہیں دیا جائے گا، جس کے پینے سے ان کی انتڑیاں کٹ جائیں گی۔ (سورۂ محمد: ۱۵)
فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ﴿٦٦﴾
(جہنمی) اسی درخت میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔ (١)
٦٦۔١ یہ انہیں نہایت کراہت سے کھانا پڑے گا جس سے ظاہر بات ہے پیٹ بوجھل ہی ہوں گے۔
طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ﴿٦٥﴾
جسکے خوشے شیطانوں کے سروں جیسے ہوتے ہیں۔ (١)
٦٥۔١ اسے شناعت و قباحت میں شیطانوں کے سروں سے تشبیہ دی، جس طرح اچھی چیز کے بارے میں کہتے ہیں گویا کہ وہ فرشتہ ہے۔
إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ ﴿٦٤﴾
بے شک وہ درخت جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے۔ (١)
٦٤۔١ یعنی اس کی جڑ جہنم کی گہرائی میں ہو گی البتہ اس کی شاخیں ہر طرف پھیلی ہوئی ہوں گی۔
إِنَّا جَعَلْنَاهَا فِتْنَةً لِّلظَّالِمِينَ ﴿٦٣﴾
جسے ہم نے ظالموں کے لیے سخت آزمائش بنا رکھا ہے۔ (١)
٦٣۔١ آزمائش، اس لیے کہ اس کا پھل کھانا بجائے خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ بعض نے اسے اس اعتبار سے آزمائش کہا کہ اس کے وجود کا انہوں نے انکار کیا کہ جہنم میں جب ہر طرف آگ ہی آگ ہو گی تو وہاں درخت...
أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ ﴿٦٢﴾
کیا یہ مہمانی اچھی ہے یا سینڈھ (زقوم) کا درخت؟ (١)
٦٢۔١ زَقُّومٌ، تَزَقُّمٌ سے مشتق ہے، جس کے معنی بدبودار اور کریہ چیز کے نگلنے کے ہیں۔ اس درخت کا پھل بھی کھانا اہل جہنم کے لیے سخت ناگوار ہو گا۔ کیوں کہ یہ سخت بدبو دار، کڑوا اور نہایت...
لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ ﴿٦١﴾
ایسی (کامیابی) کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ (١)
٦١۔١ یعنی اس جیسی نعمت اور اس جیسے فضل عظیم ہی کے لیے محنت کرنے والوں کو محنت کرنی چاہئے، اس لیے کہ یہی سب سے نفع بخش تجارت ہے۔ نہ کہ دنیا کے لیے جو عارضی ہے۔ اور خسارے کا سودا ہے۔
إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿٦٠﴾
پھر تو (ظاہر بات ہے کہ) یہ بڑی کامیابی ہے۔ (١)
٦٠۔١ اس لیے کہ جہنم سے بچ جانے اور جنت کی نعمتوں کا مستحق قرار پا جانے سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہو گی؟
إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ ﴿٥٩﴾
بجز پہلی ایک موت کے، (١) اور ہم نہ عذاب کیے جانے والے ہیں۔
٥٩۔١ جو دنیا میں آچکی۔ اب ہمارے لیے موت ہے نہ عذاب۔