• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّهُمْ أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ ضَالِّينَ ﴿٦٩﴾
یقین مانو! کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو بہکا ہوا پایا۔

فَهُمْ عَلَىٰ آثَارِ‌هِمْ يُهْرَ‌عُونَ ﴿٧٠﴾
اور یہ انہی کے نشان قدم پر دوڑتے رہے۔ (١)
٧٠۔١ یہ جہنم کی مذکورہ سزاوں کی علت ہے کہ اپنے باپ دادوں کو گمراہی پر پانے کے باوجود یہ انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے اور دلیل و حجت کے مقابلے میں تقلید کو اپنائے رکھا، إِهْرَاعٌ إِسْرَاعٌ کے معنی میں ہے یعنی دوڑنا اور نہایت شوق سے اور لپک کر پکڑنا اور اختیار کرنا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ‌ الْأَوَّلِينَ ﴿٧١﴾
ان سے پہلے بھی بہت سے اگلے بہک چکے ہیں۔ (١)
٧١۔١ یعنی یہی گمراہ نہیں ہوئے۔ ان سے پہلے لوگ بھی اکثر گمراہی ہی کے راستے پر چلنے والے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ أَرْ‌سَلْنَا فِيهِم مُّنذِرِ‌ينَ ﴿٧٢﴾
جن میں ہم نے ڈرانے والے (رسول) بھیجے تھے۔ (١)
٧٢۔١ یعنی ان سے پہلے لوگوں میں۔ انہوں نے حق کا پیغام پہنچایا اور عدم قبول کی صورت میں انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا، لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا نتیجتاً انہیں تباہ کر دیا گیا، جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے عبرت ناک انجام کی طرف اشارہ فرمایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَانظُرْ‌ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنذَرِ‌ينَ ﴿٧٣﴾
اب تو دیکھ لے کہ جنہیں دھمکایا گیا تھا ان کا انجام کیسا کچھ ہوا۔

إِلَّا عِبَادَ اللَّـهِ الْمُخْلَصِينَ ﴿٧٤﴾
سوائے اللہ کے برگزیدہ بندوں کے۔ (١)
٧٤۔١ یعنی عبرت ناک انجام سے صرف وہ محفوظ رہے جن کو اللہ نے ایمان و توحید کی توفیق سے نواز کر بچا لیا۔ مُخْلِصِينَ، وہ لوگ جو عذاب سے بچے رہے، مُنْذَرِينَ (تباہ ہونے والی قوموں) کے اجمالی ذکر کے بعد اب چند مُنْذِرِينَ (پیغمبروں) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ نَادَانَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِيبُونَ ﴿٧٥﴾
اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں۔ (١)
٧٥۔١ یعنی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے باوجود جب قوم کی اکثریت نے ان کی تکذیب ہی کی اور انہوں نے محسوس کر لیا کہ ایمان لانے کی کوئی امید نہیں ہے تو اپنے رب کو پکارا ﴿فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ﴾ (سورة القمر: ۱۰) ”یا اللہ میں مغلوب ہوں، میری مدد فرما“۔ چنانچہ ہم نے نوح عليہ السلام کی دعا قبول کی اور ان کی قوم کو طوفان بھیج کر ہلاک کر دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْ‌بِ الْعَظِيمِ ﴿٧٦﴾
ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو (١) اس زبردست مصیبت سے بچا لیا۔
٧٦۔١ أَهْلٌ سے مراد، حضرت نوح عليہ السلام پر ایمان لانے والے ہیں، جن میں ان کے گھر کے افراد بھی ہیں جو مومن تھے۔ بعض مفسرین نے ان کی کل تعداد ۸ بتلائی ہے۔ اس میں آپ کی بیوی اور ایک لڑکا شامل نہیں، جو مومن نہیں تھے، وہ بھی طوفان میں غرق ہو گئے۔ کرب عظیم (زبردست مصیبت) سے مراد وہی سیلاب عظیم ہے جس میں یہ قوم غرق ہوئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجَعَلْنَا ذُرِّ‌يَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ ﴿٧٧﴾
اور اس کی اولاد کو ہم نے باقی رہنے والی بنا دی۔ (١)
٧٧۔١ اکثر مفسرین کے قول کے مطابق حضرت نوح عليہ السلام کے تین بیٹے تھے۔ حام، سام، یافث۔ انہی سے بعد کی نسل انسانی چلی۔ اسی لیے حضرت نوح عليہ السلام کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے یعنی آدم عليہ السلام کی طرح، آدم عليہ السلام کے بعد یہ دوسرے ابوالبشر ہیں۔ سام کی نسل سے عرب، فارس، روم اور یہود و نصاریٰ ہیں۔ حام کی نسل سے سوڈان (مشرق سے مغرب تک) یعنی سندھ، ہند، نوب، زنج، حبشہ قبط اور بربر وغیرہم ہیں اور یافث کی نسل سے صقالبہ، ترک، خزر اور یاجوج ماجوج وغیرہم ہیں۔ (فتح القدیر) وَاللهُ أَعْلَمُ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَتَرَ‌كْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِ‌ينَ ﴿٧٨﴾
اور ہم نے اس کا (ذکر خیر) پچھلوں میں باقی رکھا۔ (١)
٧٨۔١ یعنی قیامت تک آنے والے اہل ایمان میں ہم نے نوح عليہ السلام کا ذکر خیر باقی چھوڑ دیا ہے اور وہ سب نوح عليہ السلام پر سلام بھیجتے ہیں اور بھیجتے رہیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ ﴿٧٩﴾
نوح (علیہ السلام) پر تمام جہانوں میں سلام ہو۔

إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿٨٠﴾
ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلے دیتے ہیں۔ (١)
٨٠۔١ یعنی جس طرح نوح عليہ السلام کی دعا قبول کرکے، ان کی ذریت کو باقی رکھ اور پچھلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھ کے ہم نے نوح عليہ السلام کو عزت و تکریم بخشی۔ اسی طرح جو بھی اپنے اقوال و افعال میں محسن اور اس باب میں راسخ اور معروف ہو گا، اس کے ساتھ بھی ہم ایسا معاملہ کریں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ ﴿٨١﴾
وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا۔

ثُمَّ أَغْرَ‌قْنَا الْآخَرِ‌ينَ ﴿٨٢﴾
پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا۔

وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِ لَإِبْرَ‌اهِيمَ ﴿٨٣﴾
اور اس (نوح علیہ السلام) کی تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم (علیہ السلام) (بھی) تھے۔ (١)
٨٣۔١ شِيعَةٌ کے معنی گروہ اور پیروکار کے ہیں۔ یعنی ابراہیم عليہ السلام بھی اہل دین و اہل توحید کے اسی گروہ سے ہیں جن کو نوح عليہ السلام ہی کی طرح انابت الی اللہ کی توفیق خاص نصیب ہوئی۔
 
Top