الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴿٧٤﴾
وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کر لے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔ (۱)
٧٤۔١ اس آیت کے دو معنی بیان کیے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہود کے بڑے بڑے علماء جب اپنے شاگردوں کو یہ سکھاتے کہ دن چڑھتے ایمان لاؤ اور دن اترتے...
وَقَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمِنُوا بِالَّذِي أُنزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا آخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿٧٢﴾
اور اہل کتاب کی ایک اور جماعت نے کہا کہ جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیا ہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ،...
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٧١﴾
اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق و باطل کو کیوں خلط ملط کر رہے ہو اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟ (١)
٧١۔١ اس میں یہودیوں کے دو بڑے جرائم کی نشاندہی کر کے انہیں ان سے باز رہنے کی تلقین کی جا...
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ ﴿٧٠﴾
اے اہل کتاب تم (باوجود قائل ہونے کے پھر بھی) دانستہ اللہ کی آیات کا کیوں کفر کر رہے ہو؟
٧٠۔١ قائل ہونے کا مطلب ہے کہ تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و حقانیت کا علم ہے۔
وَدَّت طَّائِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ﴿٦٩﴾
اہل کتاب کی ایک جماعت چاہتی ہے کہ تمہیں گمراہ کر دیں، دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں اور سمجھتے نہیں۔ (١)
٦٩۔١ یہ یہودیوں کے اس حسد و بغض کی وضاحت ہے جو اہل ایمان...
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا ۗ وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٦٨﴾
جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان لائے، (١) مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے۔
٦٨۔١ اسی لیے قرآن کریم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم...
مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿٦٧﴾
ابراہیم تو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ تو یک طرفہ (خالص) مسلمان تھے، (١) وہ مشرک بھی نہ تھے۔
٦٧۔١ حَنِيفًا مُسْلِمًا (یک طرفہ خالص مسلمان) یعنی شرک سے بیزار...
هَا أَنتُمْ هَـٰؤُلَاءِ حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ ۚ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٦٦﴾
سنو! تم لوگ اس میں جھگڑ چکے جس کا تمہیں علم تھا پھر اب اس بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں؟ (١) اور اللہ تعالیٰ جانتا...
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنجِيلُ إِلَّا مِن بَعْدِهِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴿٦٥﴾
اے اہل کتاب! تم ابراہیم کی بابت کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات و انجیل تو ان کے بعد نازل کی گئیں، کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے؟
٦٥۔١ حضرت ابراہیم عليه...
إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ ۚ وَمَا مِنْ إِلَـٰهٍ إِلَّا اللَّـهُ ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿٦٢﴾
یقیناً صرف یہی سچا ایمان ہے اور کوئی معبود برحق نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے اور بے شک غالب اور حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ...
فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ ﴿٥٦﴾
پھر کافروں کو تو میں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہو گا۔
وَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ...
رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ﴿٥٣﴾
اے ہمارے پالنے والے معبود! ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان لائے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی، پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔
وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّـهُ ۖ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ﴿٥٤﴾...
فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّـهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّـهِ آمَنَّا بِاللَّـهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ﴿٥٢﴾
مگر جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا کفر محسوس کر لیا (١) تو کہنے لگے اللہ تعالیٰ کی راہ میں میری مدد...
إِنَّ اللَّـهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۗ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ﴿٥١﴾
یقین مانو! میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے، تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔
٥١۔١ یعنی اللہ کی عبادت کرنے میں اور اس کے سامنے ذلت و عاجزی کے اظہار میں میں اور تم دونوں برابر ہیں۔ اس لیے سیدھا راستہ صرف...
وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ ۚ وَجِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُونِ ﴿٥٠﴾
اور میں توراۃ کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے اور میں اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کروں جو...
یہ اُس کافر اور منافق کی پہچان ہے جو اپنے آپ میں متکبر بنا پھرتا ہو۔ مومن آدمی کے لیے یہ بات نہایت ناپسندیدہ ہے کہ اسے اس ضمن میں کوئی حرج واقع ہو۔ جناب عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آدمی کے لیے یہی ایک گناہ کافی ہے کہ وہ اپنے اُس مسلمان بھائی سے کہے: تم اپنے آپ کا خیال کرو تم جیسا...
اللہ کے نزدیک ایک اور غصے والی بات
تم اپنا خیال کرو بس
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ((إِنَّ أَبْغَضَ الْکَلَامِ إِلَی اللّٰہِ أَنْ یَقُوْلَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: اِتَّقِ اللّٰہِ، فَیَقُوْلُ: عَلَیْکَ نَفْسَکَ))1
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ عزوجل کے نزدیک...
(۴)... اللہ کے علاوہ کسی اور کا خوف دل میں رکھنا، غیر اللہ پر توکل، غیر اللہ کے لیے عمل کرنا، غیر کے لیے عاجزی و انکساری، انابت، رزق مانگنا، غیر اللہ کی حمد کرکے اللہ کی حمد سے لاپروا ہوجانا، جو چیز رب تعالیٰ نے تقسیم نہیں کی اس پر ناراضی کا اظہار کرنا، اللہ کی نعمتوں کی نسبت کسی دوسرے کی طرف...