الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
کے ساتھ جبرئیل اور دوسرے کے ساتھ میکائیل ؑ ہیں اور اسرافیل بھی ایک عظیم فرشتہ ہیں جو جنگ میں آیا کرتے ہیں۔ (مسند احمد ۱/۱۴۷، بزارح ۱۴۶۷ مستدرک حاکم ۳/۱۳۴، انہوں نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور ذہبی نے موافقت کی ہے، مسند ابو یعلی ۱/۲۸۴ ح ۳۴۰)
میدان سے ابلیس کا فرار:
جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ ابلیس لعین،...
اسی طرح مشہور خاتون عفراء کے صاحبزادے عوف بن حارث نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! پروردگار اپنے بندے کی کس بات سے (خوش ہو کر) مسکراتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس بات سے کہ بندہ خالی جسم (بغیر حفاظتی ہتھیار پہنے) اپنا ہاتھ دشمن کے اندر ڈبو دے'' یہ سن کر عوف نے اپنے بدن سے زِرہ اتار پھینکی اور...
جوابی حملہ:
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے جوابی حملے کا حکم اور جنگ کی ترغیب دیتے ہو ئے فرمایا: ''شدوا'' چڑھ دوڑو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ان سے جو آدمی بھی ڈٹ کر، ثواب سمجھ کر، آگے بڑھ کر اور پیچھے نہ ہٹ کر لڑے گا اور مارا جائے گا اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا۔''
آپ ﷺ نے...
عام ہجوم:
اس مبارزت کا انجام مشرکین کے لیے ایک برا آغاز تھا وہ ایک ہی جست میں اپنے تین بہترین شہ سواروں اور کمانڈروں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، اس لیے انہوں نے غیظ و غضب سے بے قابو ہو کر ایک آدمی کی طرح یکبارگی حملہ کر دیا۔
دوسری طرف مسلمان اپنے رب سے نصرت اور مدد کی دعا کرنے اور اس کے حضور اخلاص و...
پیٹھ کے بل گر پڑا۔ اس کے پاؤں سے خون کا فوارہ نکل رہا تھا جس کا رخ اس کے ساتھیوں کی طرف تھا لیکن اس کے باوجود وہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر حوض کی طرف بڑھا اور اس میں داخل ہوا ہی چاہتا تھا تاکہ اپنی قسم پوری کر لے اتنے میں حضرت حمزہؓ نے دوسری ضرب لگائی اور وہ حوض کے اندر ہی ڈھیر ہو گیا۔
مبارزت:
یہ اس...
دونوں لشکر آمنے سامنے:
بہرحال جب مشرکین کا لشکر نمودار ہوا اور دونوں فوجیں ایک دوسرے کو دکھائی دینے لگیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اے اللہ! یہ قریش ہیں جو اپنے پورے غرور و تکبر کے ساتھ تیری مخالف کرتے ہوئے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاتے ہوئے آ گئے ہیں۔ اے اللہ! تیری مدد ... جس کا...
کہتا: ''لا والذی نجانی من یوم بدر۔'' ''قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے بدر کے دن سے نجات دی۔''
بہرحال جب قریش مطمئن ہو چکے تو انہوں نے مدنی لشکر کی قوت کا اندازہ لگانے کے لیے عمیر بن وہب جمحی کو روانہ کیا۔ عمیر نے گھوڑے پر سوار ہو کر لشکر کا چکر لگایا، پھر واپس جا کر بولا: ''کچھ کم یا کچھ زیادہ تین...
مرکز قیادت:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چشمے پر پڑاؤ ڈال چکے تو حضرت سعد بن معاذؓ نے یہ تجویز پیش کی کہ کیوں نہ مسلمان آپ ﷺ کے لیے ایک مرکزِ قیادت تعمیر کر دیں تاکہ خدانخواستہ فتح کے بجائے شکست سے دوچار ہونا پڑ جائے یا کسی اور ہنگامی حالت سے سابقہ پیش آ جائے تو اس کے لیے آپ پہلے ہی سے مستعد رہیں،...
بارانِ رحمت کا نزول:
اللہ عزوجل نے اسی رات ایک بارش نازل فرمائی جو مشرکین پر موسلا دھار برسی۔ اور ان کی پیش قدمی میں رکاوٹ بن گئی لیکن مسلمانوں پر پھوار بن کر بر سی۔ اور انہیں پاک کر دیا، شیطان کی گندگی (بزدلی) دور کر دی اور زمین کو ہموار کر دیا۔ اس کی وجہ سے ریت میں سختی آ گئی اور قدم ٹکنے کے...
اسلامی لشکر کا بقیہ سفر:
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ذفران سے آگے بڑھے اور چند پہاڑی موڑ سے گزر کر جنہیں اصافر کہا جاتا ہے دیت نامی ایک آبادی میں اترے۔ اور حنان نامی پہاڑ نما تودے کو دائیں ہاتھ چھوڑ دیا۔ اور اس کے بعد بدر کے قریب نزول فرمایا۔
جاسوسی کا اقدام:
یہاں پہنچ کر رسول اللہ ﷺ نے اپنے رفیق غار...
مجلس شوریٰ کا اجتماع:
حالات کی اس اچانک اور پُر خطر تبدیلی کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ نے ایک اعلیٰ فوجی مجلس شوریٰ منعقد کی۔ جس میں درپیش صورتِ حال کا تذکرہ فرمایا اور کمانڈروں اور عام فوجیوں سے تبادلہ خیالات کیا۔ اس موقع پر ایک گروہ خون ریز ٹکراؤ کا نام سن کر کانپ اٹھا اور اس کا دل لرزنے اور...
مکی لشکر کا ارادہ واپسی اور باہمی پھُوٹ:
یہ پیغام سن کر مکی لشکر نے چاہا کہ واپس چلا جائے لیکن قریش کا طاغوت اکبر ابو جہل کھڑا ہو گیا اور نہایت کبر و غرور سے بولا: ''اللہ کی قسم! ہم واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ بدر جا کر وہاں تین روز قیام کریں گے اور اس دوران اونٹ ذبح کریں گے۔ لوگوں کو کھانا...
مکی لشکر کی تعداد:
ابتدا میں مکی لشکر کی تعداد تیرہ سو تھی جن کے پاس ایک سو گھوڑے اور چھ سو زرہیں تھیں۔ اونٹ کثرت سے تھے جن کی ٹھیک ٹھیک تعداد معلوم نہ ہو سکی۔ لشکر کا سپہ سالار ابو جہل بن ہشام تھا۔ قریش کے نو معزز آدمی اس کی رسد کے ذمے دار تھے۔ایک دن نو اور ایک دن دس اونٹ ذبح کیے جاتے تھے۔...
بدر کی جانب اسلامی لشکر کی روانگی:
رسول اللہ ﷺ اس نا مکمل لشکر کو لے کر روانہ ہوئے تو مدینے کے دہانے سے نکل کر مکہ جانے والی شاہراہ عام پر چلتے ہوئے بئر روحاء تک تشریف لے گئے۔ پھر وہاں سے آگے بڑھے تو مکے کا راستہ بائیں جانب چھوڑ دیا اور داہنے جانب کترا کر چلتے ہوئے نازیہ پہنچے (منزل مقصود بدر...
غزوۂ بدر کبریٰ
اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ
غزوے کا سبب:
غزوۂ عشیرہ کے ذکر میں ہم بتا چکے ہیں کہ قریش کا ایک قافلہ مکے سے شام جاتے ہوئے نبی ﷺ کی گرفت سے بچ نکلا تھا۔ یہی قافلہ جب شام سے پلٹ کر مکہ واپس آنے ولا تھا تو نبی ﷺ نے طلحہ بن عبید اللہؓ اور سعید بن زیدؓ کو اس کے حالات کا پتا لگانے کے...
ہو گیا کہ مدینے کی قیادت انتہائی بیدار مغز ہے اور ان کی ایک ایک تجارتی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہے۔ مسلمان چاہیں تو تین سو میل کا راستہ طے کر کے ان کے علاقے کے اندر انہیں مار کاٹ سکتے ہیں ، قید کر سکتے ہیں، مال لُوٹ سکتے ہیں اور ان سب کے بعد صحیح سالم واپس بھی جا سکتے ہیں۔ مشرکین کی سمجھ میں آ...
رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس حرکت پر باز پرس کی اور فرمایا کہ میں نے تمہیں حرام مہینے میں جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، اور سامان قافلہ اور قیدیوں کے سلسلے میں کسی بھی طرح کے تصرف سے ہاتھ روک لیا۔
ادھر اس حادثے سے مشرکین کو اس پروپیگنڈے کا موقع مل گیا کہ مسلمانوں نے اللہ کے حرام کیے مہینے کو حلال کر...
اس مہم پر ابن اسحاق کے بقول رسول اللہ ﷺ جمادی الاولیٰ کے اواخر میں روانہ ہوئے - اور جمادی الآخرہ میں واپس آئے۔ غالبا یہی وجہ ہے کہ اس غزوے کے مہینے کی تعیین میں اہل سیر کا اختلاف ہے۔
اس غزوہ میں رسول اللہ ﷺ نے بنو مدلج اور ان کے حلیف بنو ضمرہ سے عدمِ جنگ کا معاہدہ کیا۔
ایام سفر میں مدینہ کی...
کو تر کرے (یعنی ہمیشہ کے لیے ہے) اور جب نبی ﷺ اپنی مدد کے لیے انہیں آواز دیں گے تو انہیں آنا ہو گا۔''
(المواہب اللدنیہ ۱/۷۵ شرح زرقانی)
یہ پہلی فوجی مہم تھی جس میں رسول اللہ ﷺ بذاتِ خود تشریف لے گئے تھے۔ اور پندرہ دن مدینے سے باہر گزار کر واپس آئے۔ اس مہم کے پرچم کا رنگ سفید تھا اور حضرت حمزہؓ...
۲۔ سریہ رابغ: (شوال ۱ھ اپریل ۶۲۳ء)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبیدہؓ بن حارث بن عبد المطلب کو مہاجرین کے ساٹھ سواروں کا رسالہ دے کر روانہ فرمایا۔ رابغ کی وادی میں ابو سفیان سے سامنا ہوا۔ اس کے ساتھ دو سو آدمی تھے، فریقین نے ایک دوسرے پر تیر چلائے لیکن اس سے آگے کوئی جنگ نہ ہوئی۔
اس سریے میں مکی لشکر کے...