- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
غزوۂ بدر کبریٰ
اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ
غزوے کا سبب:
غزوۂ عشیرہ کے ذکر میں ہم بتا چکے ہیں کہ قریش کا ایک قافلہ مکے سے شام جاتے ہوئے نبی ﷺ کی گرفت سے بچ نکلا تھا۔ یہی قافلہ جب شام سے پلٹ کر مکہ واپس آنے ولا تھا تو نبی ﷺ نے طلحہ بن عبید اللہؓ اور سعید بن زیدؓ کو اس کے حالات کا پتا لگانے کے لیے شمال کی جانب روانہ فرمایا۔ یہ دونوں صحابی مقامِ حوراء تک تشریف لے گئے اور وہیں ٹھہرے رہے۔ جب ابو سفیان قافلہ لے کر وہاں سے گزرا تو یہ نہایت تیز رفتاری سے مدینہ پلٹے اور رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع دی۔
اس قافلے میں اہل مکہ کی بڑی دولت تھی، یعنی ایک ہزار اونٹ تھے جن پر کم ازکم پچاس ہزار دینار (دو سو ساڑھے باسٹھ کلو سونے) مالیت کا ساز و سامان بار کیا ہوا تھا درآں حالیکہ اس کی حفاظت کے لیے صرف چالیس آدمی تھے۔
اہل مدینہ کے لیے یہ بڑا زرّین موقع تھا جبکہ اہل مکہ کے لیے اس مالِ فراواں سے محرومی بڑی زبردست فوجی، سیاسی اور اقتصادی مار کی حیثیت رکھتی تھی اس لیے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے اندر اعلان فرمایا کہ یہ قریش کا قافلہ مال و دولت لیے چلا آ رہا ہے اس کے لیے نکل پڑو۔ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بطور غنیمت تمہارے حوالے کر دے۔
لیکن آپ ﷺ نے کسی پر روانگی ضروری نہیں قرار دی بلکہ اسے محض لوگوں کی رغبت پر چھوڑ دیا کیونکہ اس اعلان کے وقت یہ توقع نہیں تھی کہ قافلے کے بجائے لشکر قریش کے ساتھ میدانِ بدر میں ایک نہایت پُر زور ٹکر ہو جائے گی اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مدینے ہی میں رہ گئے۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ سفر آپ کی گزشتہ عام فوجی مہمات سے مختلف نہ ہو گا۔ اور اسی لیے اس غزوے میں شریک نہ ہونے والوں سے کوئی باز پرس نہیں کی گئی۔
اسلامی لشکر کی تعداد اور کمان کی تقسیم:
رسول اللہ ﷺ روانگی کے لیے تیار ہوئے تو آپ کے ہمراہ کچھ اُوپر تین سو افراد تھے۔ (یعنی ۳۱۳ یا ۳۱۴ یا ۳۱۷) جن میں سے ۸۲ یا ۸۳ یا ۸۶ مہاجر تھے اور بقیہ انصار۔ پھر انصار میں سے ۶۱ اَوس سے تھے اور ۱۷۰ قبیلہ خزرج سے۔ اس لشکر نے غزوے کا نہ کوئی خاص اہتمام کیا تھا نہ مکمل تیاری۔ چنانچہ پورے لشکر میں صرف دو گھوڑے تھے (ایک حضرت زُبیرؓ بن عوام کا اور دوسرا حضرت مقدادؓ بن اسود کندی کا) اور ستر اونٹ، جن میں سے ہر اونٹ پر دو یا تین آدمی باری باری سوار ہوتے تھے۔ ایک اونٹ رسول اللہ ﷺ، حضرت علیؓ اور حضرت مرثد بن ابی مرثد غنویؓ کے حصے میں آیا تھا جن پر تینوں حضرات باری باری سوار ہوتے تھے۔
مدینہ کا انتظام اور نماز کی امامت پہلے پہل حضرت ابنِ اُمِّ مکتومؓ کو سونپی گئی، لیکن جب نبی ﷺ مقام رَوْحاء تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﷺ نے حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذرؓ کو مدینہ کا منتظم بنا کر واپس بھیج دیا، لشکر کی تنظیم اس طرح کی گئی کہ ایک جیش مہاجرین کا بنایا گیا اور ایک انصار کا۔ مہاجرین کا علَم حضرت علی بن ابی طالب کو دیا گیا اور انصار کا علَم حضرت سعدؓ بن معاذ کو۔ اور جنرل کمان کا پرچم جس کا رنگ سفید تھا حضرت مصعب بن عمیر عبدریؓ کو دیا گیا۔ میمنہ کے افسر حضرت زُبیر بن عوامؓ مقرر کیے گئے اور مَیْسَرہ کے افسر حضرت مقداد بن اسودؓ -- اور جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں، پورے لشکر میں صرف یہی دونوں بزرگ شہسوار تھے -- ساقہ کی کمان حضرت قیسؓ بن ابی صَعْصَعہ کے حوالے کی گئی اور سپہ سالارِ اعلیٰ کی حیثیت سے جنرل کمان رسول اللہ ﷺ نے خود سنبھا لی۔