الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
کے ساتھ طے شدہ مقام پر جا پہنچے۔ ہم اس طرح چپکے چپکے دبک کر نکلتے تھے جیسے چڑیا گھونسلے سے سکڑ کر نکلتی ہے۔ یہاں تک کہ ہم سب عقبہ میں جمع ہو گئے۔ ہماری کل تعداد پچھتّر تھی۔ تہتر مرد اور دو عورتیں ایک ام عمارہ نسیبہ بنت کعب تھیں۔ جو قبیلہ بنو مازن بن نجار سے تعلق رکھتی تھیں اور دوسری ام منیع...
دوسری بیعت عقبہ
نبوت کے تیرہویں سال موسم حج - جون ۶۲۲ء - میں یثرب کے ستر سے زیادہ مسلمان فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ تشریف لائے۔ یہ اپنی قوم کے مشرک حاجیوں میں شامل ہو کر آئے تھے اور ابھی یثرب ہی میں تھے، یا مکے کے راستے ہی میں تھے کہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہم کب تک رسول اللہ ﷺ کو...
اسید ؓ نے اپنا حربہ اٹھایا اور ان دونوں کے پاس پہنچے۔ حضرت اسعد ؓ نے انہیں آتا دیکھ کر حضرت مصعب ؓ سے کہا: یہ اپنی قوم کا سردار تمہارے پا س آ رہا ہے۔ اس کے بارے میں اللہ سے سچائی اختیار کرنا۔ حضرت مصعب ؓ نے کہا: اگر یہ بیٹھا تو اس سے بات کروں گا۔ اُسَیْد پہنچے تو ان کے پاس کھڑے ہو کر سخت سست...
عَقَبَہ کی اس بیعت کی تفصیل صحیح بخاری میں حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آؤ! مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو گے، چوری نہ کرو گے، زنا نہ کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے۔ اپنے ہاتھ پاؤں کے درمیان سے گھڑ کر کوئی...
پہلی بیعت عقبہ
ہم بتا چکے ہیں کہ نبوت کے گیارہویں سال موسمِ حج میں یثرب کے چھ آدمیوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور رسول اللہ ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ اپنی قوم میں جا کر آپ ﷺ کی رسالت کی تبلیغ کریں گے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے سال موسمِ حج آیا (یعنی ذی الحجہ ۱۲ نبوی، مطابق جولائی ۶۲۱ء تو بارہ آدمی...
اور موسی علیہ السلام سے فرمایا:
لِنُرِيَكَ مِنْ آيَاتِنَا الْكُبْرَى ﴿٢٣﴾ (۲۰: ۲۳)
''تاکہ ہم تمہیں اپنی کچھ بڑی نشانیاں دکھلائیں۔''
پھر ان نشانیوں کے دکھلانے کا جو مقصد تھا۔ اسے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ...
دیکھا کہ ان کے سینوں میں بڑے بڑے ٹیڑھے کانٹے چبھا کر انہیں آسمان و زمین کے درمیان لٹکا دیا گیا ہے۔
آپ ﷺ نے آتے جاتے ہوئے اہلِ مکہ کا ایک قافلہ بھی دیکھا اور انہیں ان کا ایک اونٹ بھی بتایا جو بھڑک کر بھاگ گیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کا پانی بھی پیا جو ایک ڈھکے ہوئے برتن میں رکھا تھا۔ اس وقت قافلہ سو رہا...
اس کے بارے میں صراحت ہے کہ یہ رب تبارک و تعالیٰ سے قربت و تدلّی تھی اور سورہ نجم میں اس کو سرے سے چھیڑا ہی نہیں گیا ہے۔ بلکہ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں دوسری بار سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، اور یہ حضرت جبریل ؑ تھے۔ انہیں محمد ﷺ نے ان کی اپنی شکل میں دو مرتبہ دیکھا تھا ایک مرتبہ زمین...
کھلوایا۔ آپ ﷺ کے لیے دروازہ کھولا گیا۔ آپ ﷺ نے وہا ں انسانوں کے باپ حضرت آدم علیہ السلام کو دیکھا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے آپ ﷺ کو مرحبا کہا۔ سلام کا جواب دیا اور آپ ﷺ کی نبوت کا اقرار کیا۔ اللہ نے آپ ﷺ کو ان کے دائیں جانب سعادت مندوں کی روحیں اور بائیں جانب بد بختوں کی روحیں دکھلائیں۔
پھر...
اِسراء اور معراج
نبی ﷺ کی دعوت و تبلیغ ابھی کامیابی اور ظلم و ستم کے اس درمیانی مرحلے سے گزر رہی تھی اور افق کی دور دراز پہنائیوں میں دھندلے تاروں کی جھلک دکھائی پڑنا شروع ہو چکی تھی کہ اِسراء اور معراج کا واقعہ پیش آیا۔ یہ معراج کب واقع ہوئی؟ اس بارے میں اہلِ سیر کے اقوال مختلف ہیں جو یہ ہیں:
*...
وہ مرحلہ تھا جس میں اس قسم کی باتیں یاد بھی ہو جاتی ہیں اور بچپن کا کھیل بھی جاری رہتا ہے۔ یعنی ۵، ۶، برس کی عمر، لہٰذا واقعہ شق قمر کے لیے ۱۰ یا ۱۱ نبوت زیادہ قرین قیاس ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے اس بیان سے کہ اس وقت ہم منیٰ میں تھے۔ یہ مترشح ہوتا ہے کہ یہ حج کا زمانہ تھا یعنی قمری سال اپنے...
سروکار نہ تھا، اس لیے انہوں نے سوچا کہ نشانی طلب کرنا آپ کو خاموش اور بے بس کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس سے عام لوگوں کو مطمئن بھی کیا جا سکتا ہے کہ آپ ﷺ پیغمبر نہیں بلکہ سخن ساز ہیں۔ اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ چلو اگر یہ نامزد نشانی نہیں دکھلاتے تو کسی تعیین کے بغیر کوئی بھی نشانی طلب کی جائے۔...
چاند دو ٹکڑے
اسلامی دعوت مشرکین کے ساتھ اسی کشمکش کے مرحلے سے گزر رہی تھی کہ اس کائنات کا نہایت عظیم الشان اور عجیب و غریب معجزہ رونما ہوا۔ نبی ﷺ کے ساتھ مشرکین کے مجادلات کے جو بعض نمونے گزر چکے ہیں ان میں یہ بات بھی موجود ہے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لانے کے لیے خرق...
جانے والا ہے اور اب جلد ہی وہ نمودار ہو گا۔ ہم اس کی پیروی کرکے اس کی معیت میں تمہیں عادِ ارَم کی طرح قتل کر ڈالیں گے۔ (زاد المعاد ۲/۵۰، ابن ہشام ۱/۴۲۹، ۵۴۱)
رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس پہنچ کر دریافت کیا کہ آپ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم قبیلۂ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یعنی یہود...
نہیں سنے۔ یہ تو سمندر کی اتھاہ گہرائی کو پہنچے ہوئے ہیں۔ لائیے! اپنا ہاتھ بڑھایئے! آپ (ﷺ) سے اسلام پر بیعت کروں اور اس کے بعد انہوں نے بیعت کر لی۔ (صحیح مسلم، مشکاۃ المصابیح باب علامات النبوۃ ۲/۵۲۵)
یثرب کی چھ سعادت مند روحیں:
گیارہویں سن نبوت کے موسم حج (جولائی ۶۲۰ء) میں اسلامی دعوت کو چند...
اور قرآن کی تلاوت فرمائی۔ اللہ گواہ ہے میں نے اس سے عمدہ قول اور اس سے زیادہ انصاف کی بات کبھی نہ سنی تھی۔ چنانچہ میںنے وہیں اسلام قبول کر لیا اور حق کی شہادت دی۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے عرض کیا کہ میری قوم میں میری بات مانی جاتی ہے میں ان کے پاس پلٹ کرجاؤں گا اور انہیں اسلام کی دعوت دوں گا۔ لہٰذا آپ...
ان کے اسلام لانے کا واقعہ صحیح بخاری میں تفصیل سے مروی ہے۔ سیّدنا ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ ابو ذرؓ نے فرمایا: میں قبیلہ غفار کا ایک آدمی تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ مکے میں ایک آدمی نمودار ہوا ہے جو اپنے آپ کو نبی کہتا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا: تم اس آدمی کے پاس جاؤ، اس سے بات کرو اور میرے پاس اس...
کلا م یقینا اچھا ہے، لیکن میرے پاس جو کچھ ہے وہ اس سے بھی اچھا ہے۔ وہ قرآن ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا ہے۔ وہ ہدایت اور نور ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا اور اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور بولے: یہ تو بہت ہی اچھا کلام ہے۔ اس کے بعد وہ مدینہ پلٹ...
پر پیش کیا لیکن ان کے جیسا برا جواب اہلِ عرب میں سے کسی نے بھی نہ دیا۔
عامر بن صعصعہ :... انہیں بھی آپ ﷺ نے اللہ کی طرف دعوت دی، اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا۔ جواب میں ان کے ایک آدمی بحیرہ بن فراس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں قریش کے اس جوان کو لے لوں تو اس کے ذریعے پورے عرب کو کھا جاؤں گا۔...
قبائل اور افراد کو اسلام کی دعوت
ذی قعدہ ۱۰ نبوت (اواخر جون یا اوائل جولائی ۶۱۹ء) میں رسول اللہ ﷺ طائف سے مکہ تشریف لائے، اور یہاں افراد اور قبائل کو پھر سے اسلام کی دعوت دینی شروع کی۔ چونکہ موسم حج قریب تھا اس لیے فریضۂ حج کی ادائیگی، اپنے منافع اور اللہ کی یاد کے لیے دور و نزدیک ہر جگہ سے...