1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آج کے حکمران اور اطاعت امیر

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از عاقل محمدی, ‏فروری 20، 2017۔

  1. ‏فروری 24، 2017 #11
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    السلام علیکم
    پھر نماز کے امام بھی بن سکتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز بھی جائز ہوگی؟
     
  2. ‏فروری 24، 2017 #12
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جی بالکل! نماز کے امام بھی بن سکتے ہیں، نماز کی امامت کے شروط پورا کرتے ہوئے امامت کا حق بھی ادا کرسکتے ہوں تو!
    اور نماز کے لئے کسی کو مستقل امام بنانے اوروقتی و حادثاتی طور پر کسی کے امام ہونے کے فرق کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے!
     
  3. ‏فروری 24، 2017 #13
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    داؤد بھائی شکریہ آپ کا۔

    @مظاہر امیر توجہ کریں۔
     
  4. ‏فروری 24، 2017 #14
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    @مظاہر امیر بھائی کا کوئی مراسلہ اس تھریڈ میں تو نظر نہیں آیا! مجھے نہیں معلوم کس لئے انہیں متوجہ کیا گیا ہے!
     
  5. ‏فروری 24، 2017 #15
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم
    ان سے ایک ذاتی گفتگو میں شرکیہ افعال میں مبتلا شخص کے پیچھے نماز سے متعلق گفتگو ہوئی تھی اسلئے انہیں متوجہ کیا ہے۔
     
  6. ‏فروری 24، 2017 #16
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

  7. ‏فروری 24، 2017 #17
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    محترم انتہائی معذرت آپ کے مطابق ہی شرکیہ افعال کرنے سے آدمی ایمان سے خارج نہیں ہوتا ۔مسلمان ہی رہتا ہے۔ اگر اس کے پیچھے نماز جائز نہیں تو امیر اگر ایسے کام کرے گا تو اس کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں ہوگی۔ میں نے اس بات کو ہی جواز رکھ کر آپ سے سوال کیا تھا۔
     
  8. ‏فروری 24، 2017 #18
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    @nasim بھائی جان! آپ کتاب کا نام دیکھیں! آپ کو فعل کا مرتکب اور عقیدہ کے حامل کا فرق معلوم ہونا چاہئے!
    دوم کہ امیر کی اطاعت کے لئے اس کا مسلمان ہونا شرط ہے
    جب کہ نماز کی امامت اور اس کا حقدار ہونے کے لئے صرف مسلمان ہونا ہی شرط نہیں!
    اور امیر و حاکم کی نماز کی امامت کے لئے میں نے امامت کے شرائط کو پورا کرنے کا لکھا تھا!
    لہٰذا آپ پہلے بات کو سمجھیں!
     
    Last edited: ‏فروری 25، 2017
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 24، 2017 #19
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    محترم
    آپ نے جس کتاب کا لنک دیا تھا اسی کا مطالعہ کررہا تھا ۔ اس میں جو وجوہات بیان کی گئی ہیں ۔ان میں حنفیوں کے غلط عقائد اور شرکیہ اعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب حنفیوں کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو ان میں اہل حدیث کے متعلق اسی طرح کے عقائد کا اظہار کیا جاتا ہے۔ بریلوی بھی اہلحدیث کے پیچھے نماز کو جائز نہیں سمجھتے ۔

    جب بے نمازی کافر ہوجاتا ہے ـ( بحوالہ فورم میں عامر یونس صاحب کی تھریڈ ) تو اس کے ساتھ کے تمام کسی بھی قسم کے تعلقات یا تجارت سے پہلے یہ پتہ کرنا ہوگا کہ یہ بے نماز ی تو نہیں پھر اس کے ساتھ کفار والے فتوی کے مطابق تعلق رکھنا ہوگا۔ (معذرت کے ساتھ یہ تھریڈ کا موضوع نہیں ہے)
    جب بے نظیر بھٹو صاحبہ ملک کی حکمران تھیں جب بھی کسی نے ان کے خلاف خروج کو فتوی نہیں دیا۔(ان کا رافضی ہونا سب کو پتہ تھا) اس سے پہلے ان کے والد کی حکمرانی میں بھی یہی معاملہ تھا۔
    اب یہ بتائیں کہ انکی اطاعت بھی شرعا جائز تھی یا ہم بحیثیت قوم ایمان کے اس درجے پر ہیں جس میں برائی کو صرف دل میں ہی برا سمجھیں۔

     
  10. ‏فروری 24، 2017 #20
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جی اور اصل کتاب کی طرف رجوع کر لیجئے گا، آپ کو ثبوت بھی مل جائے گا۔
    یہاں آپ کو دعوی ملے گا، اور ثبوت نہیں، یا پھر جس عقیدہ کو یہ درست فرمارہے ہونگے وہ قرآن و سنت کے خلاف ہوگا!
    یہ بات درست ہے کہ بریلوی اہلحدیث کے پیچھے نماز کو جائز قرار نہیں دیتے، لیکن ان کا یہ فتوی شرعی لحاظ سے درست نہیں! اورمعلوم ہونا چاہئے کہ بریلویوں کا فتوی یہ بھی ہے حج بھی فی الوقت موقوف ہے!
    یہ کس نے کہا کہ تجارت و معاملات کے لئے یہ پتہ کرنا ہوگا!
    یہ تو آپ نے عجیب بات کہی کہ بے نظیر بھٹو کا رافضی ہونا سب کو پتہ تھا۔ بے نظیر بھٹو نے تو کبھی کبھی ایسا نہیں کہا!
    ان کے والد کے بارے میں بھی یہ معاملہ کہنا درست نہیں!
    ان کی تکفیر معین کس نے کی ہے؟ ایک جماعت سپاہ صحابہ کی تقاریر میں پائی جاتی ہو تو الگ بات ہے!
    یہ ممکن ہے! اصلاح کی کوشش کیجئے اور دعا کیجئے!
     
    Last edited: ‏فروری 24، 2017
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں