ساجد تاج
فعال رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 7,174
- ری ایکشن اسکور
- 4,518
- پوائنٹ
- 604
آخر کیوں
غم دنیا میں الجھا ہے کبھی سوچا آخر کیوں
ہوا بے حال ایسا تو کبھی سوچا آخر کیوں
ہوا بے حال ایسا تو کبھی سوچا آخر کیوں
کہاں ہے وہ مسلماں جس کو تم کہتے تھے مومن ہے
نظر آتا نہیں مومن کبھی سوچا آخر کیوں
نظر آتا نہیں مومن کبھی سوچا آخر کیوں
کوئی مرتا ہے مر جائے، کوئی جلتا ہے جل جائے
رحم آتا نہیں اس پر کبھی سوچا آخر کیوں
رحم آتا نہیں اس پر کبھی سوچا آخر کیوں
زمانے سے شکایت ہے کہ وہ ظالم ہے ہم مظلوم
زمانہ ہوگیاایسا کبھی سوچا آخر کیوں
زمانہ ہوگیاایسا کبھی سوچا آخر کیوں
وہ آذانیں جنہیں سن کر پہنچ جاتے تھے مسجد میں
نہیں ایسا رہا جذبہ کبھی سوچا آخر کیوں
نہیں ایسا رہا جذبہ کبھی سوچا آخر کیوں
ملی ہم کو یہ آزادی بزرگوں کی دعاؤں سے
سنبھالا کیوں نہیں اس کو کبھی سوچا آخر کیوں
سنبھالا کیوں نہیں اس کو کبھی سوچا آخر کیوں
شہادت رنگ لائی تھی بنے اک ملک کے خادم
یہ خادم بن گئے ڈاکو کبھی سوچاہے آخر کیوں
یہ خادم بن گئے ڈاکو کبھی سوچاہے آخر کیوں
میں کیوں سوچوں میں کیوں چاہوں، بنوں کیوں ملک کا خادم
بدل دو سوچ ایسی تم کبھی سوچا ہے آخر کیوں
بدل دو سوچ ایسی تم کبھی سوچا ہے آخر کیوں
سوالوں کی جو یہ گتھی، پریشاں کر گئی ہم کو
سوال ایسے کیئے خود سے کبھی سوچا ہے آخر کیوں٫
سوال ایسے کیئے خود سے کبھی سوچا ہے آخر کیوں٫