• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اخوانیت،مدخلیت،سلفیت، خارجیت اور بر صغیر کے اہل حدیث کا فرق۔ ان تمام مناہج میں مسلک اعتدال، مسلک اہل حدیث ہے از امام محدث جبیر بن محمد حسین الحصاروی

شمولیت
ستمبر 15، 2026
پیغامات
5
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
2
اخوانیت،مدخلیت،سلفیت،
خارجیت اور بر صغیر کے اہل حدیث کا فرق
اس مختصر پیغام میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ ان تمام مناہج میں مسلک اعتدال، مسلک کتاب و سنت،مسلک اہل حدیث ہے
اس میں مسلک اہل حدیث کو علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید، شاہ اسماعیل شہید اور حافظ سعید صاحب کی عملی جد و جہد کے زاویے میں پیش کیا گیا ہے

️ الامام محدث جبیر بن محمد حسین الحصاروی
----------------------------
## ۱۔ نظریاتی تحریکوں کا تعارف اور ان کے بنیادی نظریات## الف) اخوانیت (مصر کی مسلم برادرہڈ فکر)

* تعارف و ہدف: یہ ایک سیاسی و انقلابی تحریک ہے جس کا بنیادی ہدف جمہوری یا عوامی جدوجہد کے ذریعے مسلم ممالک میں اقتدار حاصل کر کے خلافت کا احیاء ہے۔
* نظریات: اسلام کو ایک کلی نظامِ سیاست ماننا، حکومت وقت کو بدلنے کے لیے سیاسی و عوامی دباؤ استعمال کرنا، اور سیاسی مقاصد کے لیے عقیدے کے فروعی اختلافات کو پسِ پشت ڈالنا۔

## ب) مدخلیت (سلفیہ جامیہ فکر)

* تعارف و ہدف: یہ ایک سخت گیر اطاعت پسند گروہ ہے جو مسلم حکمرانوں کی مطلق وفاداری کا قائل ہے اور حکومت پر معمولی تنقید کرنے والے مسلمانوں کو بھی "خارجی" قرار دے کر ان کا بائیکاٹ کرتا ہے۔
* نظریات: مسلم حاکم کی عام پبلک میں تنقید کو حرام سمجھنا، جمہوریت اور الیکشن کو بدعت قرار دینا، اور اپنے مخالفین پر "حزبی اور بدعتی" کے فتوے لگانا۔

## ج) سلفیت (عمومی عرب منہج)

* تعارف و ہدف: یہ ایک فکری و عقائد کی تحریک ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں ائمہ کی تقلید کے بجائے براہِ راست سلف صالحین (صحابه و تابعین) کے فہم کے مطابق کتاب و سنت کی پیروی پر زور دیتی ہے۔
* نظریات: توحیدِ خالص کا اثبات، شرک و بدعات کا علمی رد، اور فقہی جمود کے خاتمے کے لیے براہِ راست نصوص (قرآن و حدیث) سے استدلال کرنا۔

## د) برصغیر (پاک و ہند) کے اہل حدیث

* تعارف و ہدف: یہ ایک پُرامن علمی اور اصلاحی تحریک ہے جو شرک، بدعت اور تقلیدِ جامد کا خاتمہ کر کے اشاعتِ سنت کرتی ہے، اور ملک کے اندر مسلح بغاوت کے بغیر آئینی و پُرامن طریقے سے کلمہ حق بلند کرتی ہے۔
* نظریات: عقیدے کی درستی کو اولیت دینا، ائمہ کا احترام کرتے ہوئے اندھی تقلید کا رد کرنا، پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا، اور ملکی بقا کے لیے ریاستی اداروں کا احترام کرنا۔

------------------------------
## ۲۔ مسلکِ اہل حدیث کا حقیقی اعتدال اور دیگر مناہج کا تفصیلی رد
برصغیر کا مسلکِ اہل حدیث دنیا بھر کی دیگر تمام تحریکوں کے مقابلے میں ایک "حقیقی اعتدال" پیش کرتا ہے، کیونکہ یہ دیگر گروہوں کے مثبت پہلوؤں کو شریعت کے مطابق اپناتا ہے اور ان کی شدت پسندی کا علمی رد کرتا ہے:
## ۱۔ مدخلیت کی مثبت چیز (اصلاحِ عقیدہ) کو اپنایا، مگر فتوے بازی کا رد کیا

* مدخلیوں کا نظریہ: شرک اور بدعت کا خاتمہ کرنا ضروری ہے، لیکن جو اس منہج پر نہ ہو اسے دائرہ اسلام یا سنت سے خارج کر دیا جائے۔
* اہل حدیث کی برتری اور رد: برصغیر کے اہل حدیث (خصوصاً حافظ محمد سعید صاحب اور ان کی جماعت) نے توحیدِ خالص کی دعوت دی، مزارات کی رسومات اور عقائد کی خرابیوں پر علمی کام کیا اور سلفی عقیدے کی عملی مثال بنے۔ لیکن مدخلیوں کے برعکس، انہوں نے امت کو تقسیم نہیں کیا۔ انہوں نے دوسرے مسلمانوں پر کفر یا خارجیت کے فتوے نہیں لگائے، نہ ہی مسلمانوں کا معاشرتی بائیکاٹ کیا، بلکہ پُرامن دعوت اور علمی مناظروں کا راستہ اپنایا۔

## ۲۔ اخوانیت کی مثبت چیز (امت کا درد) کو اپنایا، مگر سیاسی غلو اور خانہ جنگی کا رد کیا

* اخوانیوں کا نظریہ: مسلمانوں کی بیرونی امداد کی جائے، لیکن ملک کے اندر حکومت حاصل کرنے کے لیے مسلم ریاست اور حکمرانوں کے خلاف عوامی فتنہ اور تحریکیں کھڑی کی جائیں۔
* اہل حدیث کی برتری اور رد: اہل حدیث نے دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے تڑپ رکھنے کے اخوانی جذبے کو تو اپنایا، لیکن ان کے سیاسی غلو کا رد کیا۔ اہل حدیث نے اقتدار کی ہوس میں اپنے ہی ملک کے حکمرانوں پر کفر کے فتوے نہیں لگائے۔ اخوانی فکر نے کئی عرب ممالک کو خانہ جنگی میں دھکیل دیا، جبکہ اہل حدیث نے ملک کے اندر پُرامن رہنے کا درس دیا۔

## ۳۔ تکفیریوں اور خوارج کے "داخلی فتنہ و فساد" کا شرعی رد

* خارجی نظریہ: مسلم ممالک کی افواج اور حکمران چونکہ مکمل شریعت نافذ نہیں کرتے، اس لیے ان کے خلاف خودکش دھماکے اور مسلح کارروائیاں (جہاد) جائز ہیں۔
* اہل حدیث کی برتری اور رد: اہل حدیث کا متفقہ اصول ہے کہ مسلمانوں سے لڑنا کوئی جہاد نہیں ہے، بلکہ یہ بدترین فتنہ ہے۔ جہاد کا اصل مقصد کافر دشمن کے خلاف مظلوم مسلمانوں کا دفاع کرنا ہے۔ حافظ سعید صاحب اور جماعت الدعوۃ نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ مانا، افواجِ پاکستان کا دفاع کیا، اور ملک کے اندر ہتھیار اٹھانے کو حرام قرار دیا۔ تکفیری لوگ تحریکِ بالاکوٹ کا غلط حوالہ دیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شاہ اسماعیل شہیدؒ نے کسی مسلم حکومت کے خلاف نہیں، بلکہ سکھوں کی ظالم کافر حکومت کے خلاف دفاعی جہاد کیا تھا جس نے مسلمانوں کی مذہبی آزادی (اذان اور نماز) پر پابندی لگا رکھی تھی۔

------------------------------
## ۳۔ اہل حدیث منہج کے دو عظیم ستون: حق گوئی اور دفاعی جہاد
برصغیر کے اہل حدیث کا منہج دو اہم ترین عملی مثالوں سے واضح ہوتا ہے، جو مدخلیت کی بزدلی اور خارجیت کی بربادی کے درمیان ایک کامل توازن ہے:
## الف) مسلم ممالک میں "امر بالمعروف" اور حق گوئی (علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کا منہج)
مدخلی کہتے ہیں کہ حاکم پر تنقید کرنا خارجیت ہے۔ اہل حدیث اس کا رد کرتے ہیں کہ ظالم حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل ترین جہاد ہے۔

* عملی مثال: شیرِ سنت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ نے ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کی غلط پالیسیوں اور آمریت پر ڈنکے کی چوٹ پر سخت ترین تنقید کی، لیکن انہوں نے کبھی ملک کے خلاف بندوق نہیں اٹھائی، نہ ہی زیرِ زمین متشدد تحریک چلائی۔ انہوں نے آئینی، جمہوری اور پُرامن طریقے سے حکمرانوں کی غلطیوں کو للکارا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکمران کی اصلاح کے لیے پُرامن سیاسی تنقید کرنا عین شریعت ہے، بغاوت نہیں۔

## ب) مسلم حکمرانوں کی اصلاح اور کفار کے خلاف جہاد (حافظ محمد سعید صاحب کا منہج)
برصغیر کے اہل حدیث نے عملی طور پر دکھایا کہ مسلمان حکمران اور عام مسلمان چونکہ کلمہ گو ہیں، اس لیے وہ آپس میں رحم دلی، محبت اور پُرامن اصلاح کے حقدار ہیں، جبکہ ظالم کافر دشمن تلوار اور جہاد کا مستحق ہے۔

* حکمرانوں کی اصلاح کا انداز: حافظ سعید صاحب اور ان کی جماعت نے مسلم حکمرانوں کے خلاف کبھی اشتعال انگیز زبان استعمال نہیں کی اور نہ ہی ان پر تنقید کی۔ بلکہ انہوں نے ہمیشہ احسن انداز میں گزارشات، یادداشتیں اور خطوط لکھ کر حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائیں اور ملک کے اندر پُرامن طریقے سے امر بالمعروف والنہی عن المنکر کا کام جاری رکھا۔
* کفار کے خلاف تلوار: اس پُرامن داخلی دعوت کے برعکس، جہاں کافروں نے مسلمانوں پر ظلم کیا اور انہیں اکیلا چھوڑ دیا، وہاں اہل حدیث نے تلوار اٹھائی۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی نصرت کے لیے بھرپور عملی جہاد کیا، اور ثابت کیا کہ اسلام کے لیے کافروں سے لڑا جاتا ہے، مسلمانوں سے نہیں۔

------------------------------
##دو ٹوک خلاصہ
برصغیر (پاک و ہند) کا مسلکِ اہل حدیث ہی وہ حقیقی، معتدل اور نبوی منہج ہے جو امتِ مسلمہ کو اندرونی خلفشار سے بچاتا ہے اور بیرونی دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بناتا ہے۔ یہ عقیدے میں مدخلیوں کی طرح مخلص مگر فتوے بازی سے پاک ہے، امت کے درد میں اخوانیوں کی طرح تڑپتا مگر اندرونی بغاوت سے دور ہے، اور جہاد کے معاملے میں خوارج کے برعکس اپنے مسلم بھائیوں کا محافظ اور کافر دشمنوں کے لیے ننگی تلوار ہے۔
️ جبیر بن محمد حسین الحصاروی
21 ستمبر 2026 بروز 8:59 pm
 
Top