• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ (مجلس التحقیق الاسلامی)

شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,348
پوائنٹ
995
بسم الله الرحمن الرحمن​
اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ

اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ ایک تعلیمی، تحقیقی اور رفاہی ادارہ ہے جس کی بنیاد 1989ء میں کچھ دردمند خواتین وحضرات کی طرف سے رکھی گئی۔ٹرسٹ کی سرگرمیوں سے پہلے اغراض ومقاصد اور پس منظر پر ایک نظر کرلیتے ہیں۔
اغراض و مقاصد :
زندگی اللہ کی نعمت ہے او راس نعمت کا حق ادا کرنے کے لیے لازمی ہے کہ اسے خالق کی رضا کے مطابق گزارا جائے۔ اللہ کے حق بھی ادا کئے جائیں اور اللہ کے بندوں کے بھی۔ اللہ کے حقوق تو ایک شخص اپنی انفرادی زندگی میں ادا کرتا ہے لیکن اللہ کے بندوں کے حق ادا کرنے کے لیے بعض اوقات انفرادی کوششیں کافی نہیں ہوتیں بلکہ اجتماعی کوششوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ہمارا ماٹو خدمت اور تعلیم ہے جو بیماری، ناداری اور جہالت کے خلاف جہاد کے طریق کار سے جاری ہے لہٰذا اللہ کے فضل سے اراکین ٹرسٹ کا یہ عزم بالجزم ہے کہ وہ :
• اگر علم کی دولت سے مالا مال ہیں تو بنی نوع انسان کو جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتا ہوا چھوڑنے کی بجائے انہیں علم کی روشنی مہیا کریں گے۔
• اگر کھانے پینے اور لباس کی آسائش رکھتے ہیں تو بھوکوں، ناداروں کو کھلانے اور پہنانے کی حتی المقدور کوششیں کریں گے۔
• اگر دولت مند ہیں تو مسکین، قلاش، بوڑھے ، اپاہج اور مقروض کو اس کی سفید پوشی کا بھرم رکھنے میں مدد دیں گے۔
• اگر صحت کی بحالی کے طریقوں سے واقف ہیں، تو بیماروں کی خبرگیری کریں گے۔
مختصراً ٹرسٹ کے یہی اغراض و مقاصد ہیں جن پرکاربند رہنے میں ہی ان شاء اللہ شرف انسانی کی حفاظت اور دنیا و آخرت میں فوز و فلاح کی ضمانت ہے۔

کرو مہربانی تم اہل زمین پر .......... خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر​

یوں تو عرصہ سے ان مقاصد کے لیے متعدد ادارے مختلف شعبہ ہائے حیات میں سرگرم عمل تھے لیکن ٹرسٹ کی موجودہ تنظیم 1989ء میں عمل میں آئی جب متعدد مشاورتی اجلاسوں میں جاری شدہ سرگرمیون کو ایک نام سے منظم کرکے ملک و ملت کے بہی خواہ معروف دانشوروں نے اسے ’’اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کانام دیا۔ الحمدللہ اس سفر کے 22 سال مکمل ہونے کے بعد ٹرسٹ نے اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے کافی ادارے منظم کر لئے ہیں او ردرد دل رکھنے والے خواتین و حضرات کی ایک بڑی تعداد باہمی تعاون کے ساتھ ان کو مزید وقعت دے رہی ہے۔ ٹرسٹ کے حالیہ باقاعدہ ممبران کی تعداد 1240 کے لگ بھگ ہے۔جس میں صرف خواتین اراکین (جو ہر ماہ باقاعدہ 100 روپیہ ممبر شپ فیس ادا کرتی ہیں) کی تعداد 400 سے متجاوز ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہر وقت ٹرسٹ کو ان مقاصد کے لیے خلوص دل سے کام کرنے والوں کی مزید ضرورت رہتی ہے۔ جس کے لیے صلائے عام ہے۔
پس منظر:
یوں تو عرصہ سے مذکورہ بالا مقاصد کےلیے متنوع اداروں کی صورت میں مختلف شعبہ ہائے حیات سے متعلق خواتین و حضرات مصروف عمل تھے لیکن ٹرسٹ کی موجودہ تنظیم 1989ء میں متعدد مشاورتی اجلاسوں کی بعد معرض وجود میں آئی جن میں حافظ عبدالرحمن مدنی﷾ (معروف دینی سکالر) کی دعوت پر جسٹس خلیل الرحمن (فیڈرل شریعت کورٹ) ڈاکٹر راشد رندھاوا (ہارٹ سپیشلسٹ) محمد اسماعیل قریشی (صدر ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس) ملک محمد نواز ایڈووکیٹ( مشہور سماجی کارکن) جیسے حضرات کے علاوہ خواتین میں سے محترمہ زبیدہ مظہرالہی (مشہور مبلغہ اور سماجی کارکن) محترمہ غزالہ اسماعیل (سابق پرنسپل گورنمنٹ ماڈل کالج برائے طالبات،ماڈل ٹاؤن لاہور) اور ڈاکٹر میمونہ مرزا شریک ہوئیں۔اس طرح متعدد رفاہی، سماجی اور تبلیغی اداروں پر مشتمل ’’اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ تشکیل پایا جس کی سر گرمیوں کو پانچ بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے
  • شعبہ تعلیم
  • شعبہ تحقیق
  • شعبہ رفاہ عامہ
  • شعبہ پرنٹ میڈیا
  • شعبہ الیکٹرانک میڈیا
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,348
پوائنٹ
995
1۔شعبہ تعلیم

  • جامعہ لاہورالاسلامیہ
  • اسلامک انسٹیٹیوٹ
2۔شعبہ تحقیق (مجلس التحقیق الاسلامی)

  • مجلس التحقیق الاسلامی
  • محدث لائبریری
  • ترجمہ و تحقیق
3۔شعبہ رفاہی خدمات

  • اسلامک ہیومن رائٹس فورم
  • شعبہ یتامی
  • انڈسٹریل ہوم
  • سیلاب فنڈ
  • مجاہدین فنڈ
  • شعبہ طب وصحت
  • جہیز فنڈ
  • رمضان المبارک میں خصوصی امداد
  • قرض حسنہ فنڈ
4۔شعبہ پرنٹ میڈیا

  • ماہنامہ محدث لاہور
  • ماہنامہ رشد لاہور
5۔شعبہ الیکٹرانک میڈیا

  • محدث آن لائن لائبریری
  • محدث فورم
  • محدث فتویٰ
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,348
پوائنٹ
995
شعبہ تعلیم
1۔جامعہ لاہورالاسلامیہ

لاہور میں دینی اور عصری تعلیم کے امتزاج سے دور حاضر کے معروف معیار کے مطابق اعلیٰ تعلیم اور تربیتی ادارہ ہے جس میں پاکستان کے مروج دینی اور دنیاوی نصاب ہائے تعلیم کا امتزاج کرکے ایک مثالی نصاب و نظام تشکیل دیا گیاہے جو عالم اسلام اور عرب کی مشہور یونیورسٹیوں سے ہم آہنگ ہے اسی وجہ سے جامعہ ہذا کا مدینہ منورہ یونیورسٹی، اُم القریٰ یونیورسٹی، مکہ مکرمہ اور امام محمد بن سعود یونیورسٹی ریاض کے ساتھ معادلہ ہے۔ جامعہ کے طلبہ کو ہر سال سکالر شپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے ان یونیورسٹیوں میں داخلہ دیا جاتا ہے۔
جامعہ میں فی الحال درج ذیل شعبہ جات ہیں:
1۔کلیۃ الشریعہ (Faculty of Shariat)
عصری قانون سے اسلامی شریعت کی طرف پیش رفت کے سلسلے کی اہم کڑی ہے جس میں صبح کی شفٹ میں دینی اور عربی علوم کی تعلیم مدینہ یونیورسٹی کے معیار کے مطابق دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ شام کی شفٹ میں بی۔ اے تک عصری علوم پڑھائے جاتے ہیں۔ اس شعبہ میں شریعت اور عربی زبان کے علوم کےساتھ ساتھ فقہ اسلامی کے باہمی تقابلی جائزہ کے علاوہ علم قانون (Jurisprudence) کا تجزیاتی مطالعہ بھی کرایا جاتا ہے جس سے طلبہ میں دور حاضر کے جدید مسائل کے لیے ذوق اجتہاد اجاگر کرانا مقصود ہے۔
2۔کلیۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ (Faculty of Quran and Islamic Studies)
دور حاضر کی مثالی درس گاہ ہے جس میں وفاق المدارس کے نصاب میں کچھ ترامیم کرکے مدینہ یونیورسٹی کے تجوید و قراءات کے نصاب کا اضافہ کیا گیاہے۔ تاکہ اس کلیہ کا فارغ مستند عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر فن تجوید و قراءات (سبعہ و عشرہ) بھی ہو۔جس سے قاری غیر عالم کا تصور ختم ہوگا۔ کلیہ ہٰذا کے خصوصی نصاب قرآنی علوم کے ساتھ فاضل عربی و عصری علوم (میٹرک تا بی۔ اے) کی تیاری کا بھی انتظام ہے۔
3۔کلیۃ العلوم الاجتماعیہ (Faculty of Social and management Sciences)
قدیم و جدید علوم کو ہم آہنگ کرنےکے لیے جامعہ ہٰذا کا ایک انقلابی منصوبہ ہے۔ جس سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ جہاں علوم اسلامیہ کے ماہر ہوں گے وہاں تعلیم و تحقیق جدید کی ضوفشانیوں سےبھی منور ہوں گے۔کلیہ ہٰذا میں طلبہ کو سوشل سائنسیز کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر او رانتطامی علوم کی اعلیٰ تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں عربی کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان و ادب کا بھی انتظام ہے جس کے لیے کلیہ ہٰذا کے لیے ماڈرن لینگوئج اور جدید ترین کمپیوٹر لیب بھی موجود ہے۔
4۔المعہد العالیٰ للشریعہ والقضاء (Institute of Higher studies in Shariah & judicuiary)
قانون دان حضرات کی شرعی تعلیم اور عدلیہ کے ماہرین کی تیاری کا تربیتی ادارہ ہے۔ جس میں ایل ایل بی یا ایم اے عربی و اسلامیات کے سند یافتہ حضرات کو اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہے۔ اسی انسٹی ٹیوٹ کے تحت سعودی یونیورسٹیوں کے تعاون سے گاہے بگاہے قانون دان حضرات کے لیے مختصر دورانئے کے ریفریشر کورسز بھی کرائے جاتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ میں جامعہ ہٰذا کے کلیات سے فارغ ہونے والے حضرات کے لیے پوسٹ گریجویشن سطح کی تعلیم و تحقیق کا شعبہ بھی ہے جس میں اعلیٰ دینی تعلیم اور عربی زبان کی مہارت کے علاوہ کمپیوٹر ٹریننگ کاانتطام بھی ہے ۔ اسی شعبہ سے سند کے حاملین کو سعودی عرب کی اعلیٰ وزارت علیم نے ریاض، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی کے فضلاء کے مساوی تسلیم کرکے مذکورہ جامعات میں ایم فل؍پی ایچ ڈی کا اہل قرار دیا ہے۔
5۔لاہور انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنسیز
دور جدید میں کمپیوٹر کی ہر شعبہ میں ضرورت اور افادیت مسلّمہ ہے ۔ ادارہ ہٰذا کے کمپیوٹر سے متعلقہ تعلیمی اور تحقیقی مقاصد تب ہی بہتر طور پر پایہ تکمیل کو پہنچ سکتے ہیں جبکہ ادارہ کے زیر اہتمام کمپیوٹر کی اعلیٰ تعلیم کا مستقل ادارہ بھی موجود ہو جو جہاں مختلف تعلیمی کورسز کرنے والے طلبہ و طالبات کو کمپیوٹر کی اعلیٰ تعلیم مہیا کرے وہاں آئندہ کے لیے یہ ادارہ اپنے تربیت یافتہ طلبہ کی خدمات سے ’’اسلامک کمپیوٹنگ ریسرچ‘‘ کا پیشہ خیمہ ثابت ہو جس میں کمپیوٹر پر اسلامی کتب کی (Feeding)کی ٹریننگ مہیا کرکے اسلامی مصادر شریعت اور دیگر اہم کتب کو (Electronic Format) میں پاکستان کی ضروریات کے مطابق پیش کیا جاسکے۔
6۔مدرسہ رحمانیہ (بیت العقیق)
یہ تعلیمی ادارہ جامعہ ہٰذا کی بنیاد ہے جو اس وقت تمام کلیات سے ملحق ثانوی درجہ کی تعلیم کے لیے مخصوص ہے۔
7۔اسلامک سنٹرز برائے تحفیظ القرآن
1982 سے قائم اس ادارہ کے تحت حفظ قرآن کے500 طلبہ وطالبات پر مشتمل 15 کلاسیں تین مختلف مقامات پر کام کررہی ہیں۔مختصر مدت میں قرآن حفظ کروانے کے ساتھ تجوید وقراءت کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔طلبہ وطالبات کی ہفتہ وار رپورٹ والدین کو بھجوائی جاتی ہے اور باقاعدگی سے ٹیسٹ بھی ہوتے ہیں۔
8۔اسلامک سکولز:
پسماندہ علاقوں میں بچوں کی تعلیم کےلیے دوہائی سکول 1994ء میں قائم کیئے گئے ان سکولوں میں عصری اور دینی تعلیم کے امتزاج پر مبنی تعلیم دی جاتی ہے۔یہ سکول گرین ٹاؤن، لاہور اور موضع دھینگاں،شیخوپورہ میں کام کررہے ہیں۔
9۔درجہ تخصص
اس میں اعلی دینی تعلیم اور عربی زبان کی مہارت کے علاوہ کمپیوٹر ٹریننگ کا مفت انتظام شامل ہے جسے سعودی وزارت تعلیم نے ریاض ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی کے فضلائے کے مساوی تسلیم کرکے مذکورہ جامعات میں مزید اعلی تعلیم کا اہل قرار دیا ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,348
پوائنٹ
995
شعبہ تعلیم
2۔اسلامک انسٹیٹیوٹ

تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کو جدید اور سائنٹفک انداز میں اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرانے اور قرآن مجید سکھانےکےلیے اسلامک انسٹیٹیوٹ مختلف اوقات میں طویل اورمختصر کورسز کرتا ہے۔یاد رہے اسلامک انسٹیٹیوٹ کی سرگرمیوں کا محور ومرکز تعلیم یافتہ طبقہ ہے۔شام کے اوقات میں انسٹیٹیوٹ میں طلبہ و مرد حضرات کی کلاسیں بھی ہوتی ہیں۔خواتین وحضرات کےلیے خصوصی دورۂ تفسیر کورسز کے ساتھ بچوں اور بچیوں کےلیے بھی ادارہ اسلامک انسٹیٹیوٹ مختلف اوقات میں کورسز کرواتا رہتا ہے۔
کورسز کی مختصر ڈیٹیل درج میں بیان ہے
1۔ایک سالہ، دوسالہ، تین سالہ، تعلیم دین کورس
ان کورسز میں اسلام کو مؤثر انداز میں سکھانے کے لیے تفسیرقرآن، حدیث وسیرت، تجوید وگرائمر کےعلاوہ عقیدہ وفقہ کے مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ہفتہ وار اور ماہانہ ٹیسٹ ہوتے ہیں اور سمسٹر سسٹم رائج ہے۔ہرکورس کے اختتام پردعوت وتبلیغ کی عملی تربیت دی جاتی ہے اور کامیاب تکمیل پرانعامات اور سرٹیفکیٹ عطا کیے جاتے ہیں۔داخلہ لینے والے کورس میں جتنا وقت دیتے ہیں اسی مناسبت سے کورس کا دورانیہ کم یا زیادہ ہوجاتا ہے۔
2۔ایڈوانس کورس
یہ ہائر سٹڈیز کورس ہے جس میں ایم اے اسلامیات/عربی کی سند یافتہ طالبات داخلہ لےسکتی ہیں طریقہ تدریس میں لیکچرز، اسائنمنٹ، Presention، آڈیو، ویڈیو اور دیگر جدید طریقہ ہائے تدریس سےمدد لی جاتی ہے۔
3۔سہ ماہی ’فہم دین کورس‘ اور 15 روزہ ورکشاپس
گرمیوں کی تعطیلات میں سکول وکالج کے طلباء و طالبات اور 5 تا 12 سال کی عمر کے بچوں کےلیے سہ ماہی ’فہم دین کورس‘ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔اسی طرح اہم موضوعات پر ہفتہ، دوہفتہ کی ورکشاپس بھی کروائی جاتی ہیں۔
4۔دورۂ تفسیر
ایک و دوسالہ تعلیم دین کورس کی طالبات کو رمضان میں اپنے علاقوں میں مکمل دورۂ تفسیر قرآن کرانے کےلیے بھر پور ٹریننگ دی جاتی ہے رمضان المبارک میں یہ دورۂ جات لاہور بھر میں 25 مقامات پر ہوتے ہیں۔
5۔ہفت روزہ ’رمضان المبارک کورس‘
دین کی مختصر اور جامع تعلیمات کو آسان انداز پر سکھانے کےلیے رمضان المبارک کے دوران کالجوں اور سکولوں میں 7 روزہ کورسز کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔باقاعدہ داخلہ، خصوصی نصاب اور امتحان ہوتے ہیں اور کورس کے اختتام پر انعامات اور سرٹیفکیٹ عطا کیئے جاتے ہیں۔40سکول وکالجز میں کرائے جانے والے اس کورس میں 3 ہزار سے زائد طالبات حصہ لیتی ہیں۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,348
پوائنٹ
995
شعبہ تحقیق (مجلس التحقیق الاسلامی)
1۔مجلس التحقیق الاسلامی

خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد اسلام کا نظم ِسیاسی قائم نہ رہ سکا۔ فکر اسلامی، جسے صدیوں سے فکری گروہوں کے انحرافات کا سامنا تھا، عالم اسلام میں عموما اور پاک وہند میں خصوصا استعمارو اشتشراق سے واسطہ پڑا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے فکری مزاج کے مطابق جہاں مذہبی اور تحریکی مسالک میں شدت پسندی نے جنم لیا وہاں اسلامیان ِبرصغیر اشتشراقی ذہنیت کے اثر سے بچ نہ سکے۔ قیام پاکستان کے بعد، اگرچہ استعماری طاقتوں سے آزادی حاصل کرکے ایک الگ اسلامی خطہ ارضی حاصل تو کر لیا گیا تھا، لیکن پاک و ہند کے مسلمانوں کی عمومی حالت زار یہ تھی کہ فکر اسلامی پر غیر مذاہب کے حملے عروج پر تھے۔ خود اُمت ِمسلمہ کے اندرونی فکری خلفشار کی یہ کیفیت تھی کہ قدیم علوم ِاسلامیہ کو فرسودہ گردانا گیا اور مذہبی روایات کے حاملین کو دقیانوس قرار دیاگیا۔ ایک طرف مسلمانوں کے فقہی مسالک تعصب کی حد تک اپنی اپنی فقہ کے حصاروں میں بند تھے، کتاب و سنت کی خالص دعوت ان کے لئے اجنبی بن چکی تھی اور روایت پرستی وفکری جمود کے باعث نقدوتحقیق کے تمام دروازے بند کیے جارہے تھے، تو دوسری طرف طبقۂ متجددین قدیم فقہی ذخیرے کو فرسودہ قرار دے کر تحریک ِالحاد کا علمبردار بنا ہوا تھا، جن میں کچھ لوگ تو تحریک استشراق کے افکار سے متاثر ہونے کی بنا پر فرامین رسولﷺ کو فرسودہ ریکارڈ قرار دے کر حدیث رسول ﷺ کا کلیۃ انکار کرچکے تھے اور ایک گروہ قرآن کی بالادستی، تحقیق جدید اور عقل عام نام پر شریعت کی تشکیل جدید اورتعبیر نو کے نعرہ پر حدیث ِرسول ﷺ میں استخفاف کی راہ پر چل نکلا۔ یوں اسلامی خطوںمیں روایت پرستی، شدت پسندی اور مسلمات سے انحراف کی ایک لہر دوڑ چکی تھی۔
ان حالات میں ضرورت اس بات کی تھی کہ اسلام کا غیر مذاہب کے حملوں سے دفاع کیا جائے، اسلامی معاشروں میں تعصب کے بالمقابل افہام و تفہیم کی فضا قائم کی جائے، علومِ جدیدہ کی واقفیت کا احساس پیدا کیا جائے، فکر ِسلف اور فقہائے محدثین کے نہج پر تحقیقی خطوط واضح کئے جائیں اور راہ اعتدال کے نقوش کو پھر سے اجاگر کیا جائے تاکہ سبیل المومنین سے ہٹی ہوئی اُمت میں پیدا ہونے والے بگاڑ کی اصلاح ہوسکے۔
اس ضرورت کے پیش نظر 1968ء میں حافظ عبدالرحمن مدنی حفظہ اللہ کی زیر سرپرستی مجلس التحقیق الاسلامی کا قیام عمل میں آیا۔
مجلس التحقیق الاسلامی (ISLAMIC RESEARCH COUNCIL) یہ علمائے شریعت و قانون اور ماہرین تعلیم کی مشاورتی کونسل ہے جو جامعہ لاہور الاسلامیہ کے عظیم منصوبے کی تکمیل کے علاوہ تحقیق و تصنیف اور ترجمہ و اشاعت کا کام انجام دیتی ہے۔ اس وقت تک متعدد اہم علمی اور بنیادی کتابوں کے ترجمہ کا کام مکمل ہوچکا ہے۔وللہ الحمد
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,348
پوائنٹ
995
شعبہ تحقیق (مجلس التحقیق الاسلامی)
2۔محدث لائبریری

’’کتابیں قوموں کے مزاج کی عکاسی ہوتی ہیں او رزندگی کی علامت بھی، ایک وقت تھا کہ عالم اسلام لائبریریوں کی وجہ سے شناخت کیا جاتا تھا اور ایک وقت یہ کہ اہل علم کے اُٹھ جانے پر لائبریریاں روپے کے بھاؤ بکتی ہیں مگر ناقدروں کے اس دور میں کہ جب بڑے بڑے ادارے لائبریریوں کو اہمیت دینے سے انکاری ہیں بعض شخصیات ایسی بھی ہیں جن کے نجی ذخیرہ ہائے کتب اداروں پر بھاری ہیں۔ زیر نظر سلسلہ انہی علم پرور افراد کے تعارف اور ان کی لائبریریوں کو منظر عام پر لانے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔‘‘
بھارتی شہر روپڑ اپنے دور میں یقیناً دینی علوم کا گہوارہ رہا ہوگا کہ آج پاکستان میں کئی بڑے علمی خاندان اس شہر سے نسبت رکھتے ہیں۔ انہی میں سے مولانا عبداللہ روپڑیؒ اور ان کے برادر عزیز مولانا حافظ محمدحسین روپڑیؒ کا نام بھی تعارف کا محتاج نہیں۔ حافظ محمد حسین روپڑیؒ کا انتقال 50 کی دہائی میں ہوا۔ ان کی ذاتی لائبریری میں اس وقت کتاب و سنت سے متعلق کوئی ساڑھے تین ہزار نایاب کتب تھی، جو ان کے ہونہار فرزند مولانا عبدالرحمٰن مدنی﷾ کے حصے میں آئیں۔ عبدالرحمٰن مدنی﷾ خود بھی علمی شخصیت تھے۔ انہوں نے ان کتب سے خوب خوب استفادہ کیا اور یہ ذخیرہ بڑھتا چلا گیا جو آج ہمیں محدث لائبریری کی شکل میں دکھائی دے رہا ہے۔
محدث لائبریری خالصتاً نجی لائبریریوں کی ذیل میں آتی ہے کیونکہ اس میں شامل کتب محمد حسین روپڑیؒ ان کے صاحبزادے مولانا عبدالرحمٰن مدنی﷾ کی ذاتی خرید ہیں اور ذاتی حیثیت میں ہی انہوں نے اس ذخیرہ کتب کو سنبھالا ہے جس کے آج کل نگراں مولانا عبدالرحمٰن مدنی﷾ کے فرزند ڈاکٹر حافظ انس نضر مدنی﷾ ہیں اور توقع کی جاسکتی ہے کہ ان کے زیر نگرانی یہ کتب خانہ آنے والے دنوں میں قرآن و سنت کے علوم کی سب سے بڑی لائبریری کی شکل میں سامنے آئے گا۔ان شاءاللہ
99۔ جے ماڈل ٹاؤن لاہور میں قائم کتب خانہ کئی حوالون سے ممتاز ہے اورمسلم عصر کتب خانوں پر گہری نظر رکھتا ہے جس سے اس کتب خانے کے ذمہ داران کے ذوق کا بھی اندازہ ہوگیا ہے۔
کتب خانے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں موجود کتب میں 80 فیصد سے زائد عربی زبان میں ہیں اور تمام تر کتب کا تعلق قرآن و سنت سے متعلق ولیم سے ہے، یہاں 35 ہزار سے زائد کتابوں کے نسخے موجود ہیں جن میں بعض 17 یا 20 جلدوں میں بھی ہیں مگربہرحال ایک ہی کتاب گنی جاتی ہے۔ کتب خانہ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ملکی اختلافات سے بالاتر ہوکر قرآن و سنت کی تعلیم کو لائبریری کی حیثیت دیتے ہوئے ان سے متعلق ہر طرح کے علوم کی بنیادی کتب دستیاب ہیں۔ تفاسیر کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور سب کی سب عربی میں ہیں ان کے علاوہ اصول تفسیر، حدیث، اصول حدیث، علم الرجال اور چاروں فقہاء کی تصنیفات اور ان کی تشریحات یہاں موجود ہیں، کہا جاسکتا ہے کہ اگر ایک شخص کتاب و سنت پر کوئی تحقیق کرنا چاہتا ہے تو اس ایک کتب خانہ میں تمام ممالک اور تمام فقہاء کی بنیادی کتب دستیاب ہوسکتی ہیں۔
مزید یہ کہ کتب خانہ کے ذمہ داران میں سے مولانا عبدالرحمٰن مدنی﷾ چونہ عالم عرب میں تسلسل سے آمدورفت رکھتے ہیں اس لیے ہر مغرب ملک میں ہونے والی تحقیق یہاں دستیاب ہے حتیٰ کہ افریقہ کے ساتھ عرب پٹی کے دور دوراز ممالک جہاں امام مالک کے مقلدین اکثریت میں ہیں اور وہاں خالصتاً تنقید مالکی کے حوالہ سے تحقیقی مواد دستیاب ہے۔ وہاں کی کتب بھی اس لائبریری میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ محدث لائبریری اس حوالے سے بھی نادر کہی جاسکتی ہے کہ یہاں دستیاب اکثر کتب اس وقت پاکستان میں دستیاب نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ، ایم فل اور ایم اے عربی و اسلامیات کے طلباء تحقیق کی خاطر اس لائبریری کا رُخ کرتے ہیں اور لائبریری کے ذمہ داران کمال فراغ دلی سے سب کو کوش آمدید کہتے دکھائی دیتے ہیں۔ چونکہ لاہور کا علاقہ ماڈل ٹاؤن ایک انوکھی خصوصیت رکھتا ہے کہ اہل تشیع کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ المنتطر، جاوید غامدی کا المورد، ڈاکٹر اسرار کی قرآنی اکیڈمی اور طاہر القادری کا منہاج القرآن سب سے ہی موجود ہیں لہٰذا ان تمام دینی اداروں کے طلباء کی تحقیقی پیاس اس گھاٹ پر آکر سیر ہوتی ہے۔ جہاں انہیں تمام بنیادی دینی کتب دستیاب ہونے کے ساتھ مطالعہ کےلیے ایک بہترین ماحول بھی دستیاب ہے۔
محدث لائبریری کا اپنا ایک جریدہ ’محدث‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے جس میں اس لائبریری میں ہونے والا تحقیق کام بلا امتیاز مسلک شائع ہوتا ہے او ریہ جریدہ علمی حلقوں میں بھی ایک مقام رکھتا ہے۔اس وقت یہ لائبریری اس حوالے سے منفرد مقام رکھتی ہے کہ دنیا بھر میں کتاب و سنت کے حوالہ سے خالص تحقیقی کام کرنے والے اداروں سے اس کا رابطہ ہے اور وہاں شائع ہونے والی کوئی بھی تحقیق فوری طور پر یہاں دستیاب ہوتی ہے۔محدث لائبریری کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اسے سعودی عرب کے دینی تحقیقی مراکز سے قرب حاصل ہے جس طرح کہ سعودی حکومت کے ایک ادارہ نے فیصلہ کیا کہ اسلامی موضوعات پر ہونے والے تحقیقی کام کو اکٹھا کیا جائے تواسے اس میں 30ہزار مقالہ جات دستیاب ہوئے۔ سعودی حکومت نے پہلے مرحلہ میں ان عالمی سطح کے معیاری تین ہزار مقالہ جات کا اشاریہ مرتب کیا اور اس کی ایک فہرست شائع کی۔ وہ اس لائبریری میں دستیاب ہے اس کے بعد یہ طے پایاکہ ان 30 ہزار مقالہ جات میں سے ایک ہزار مقالہ جات چن کر کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا۔ اب تک ان میں سے ڈیڑھ سو کے قریب مقالہ جات شائع ہوچکے ہیں جو سب کے سب یہاں موجود ہیں اور ایسا بندوبست کیا گیا ہے کہ جیسے ہی کوئی مقالہ وہاں شائع ہوتا ہے وہ یہاں دستیاب ہوجاتا ہے۔
محدث لائبریری کے امتیازات میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ لائبریری صرف ایک کتب خانہ نہیں ہے کہ جہاں لوگ آکر اپنی مرضی کی کتب سے استفادہ کریں اور چلے جائیں بلکہ یہ لائبریری اس حوالے سے بھی انفرادی پہلو رکھتی ہے کہ لائبریری میں 15 سے زائد ریسرچ اسکالرز کو باقاعدہ تنخواہ پر رکھا گیا ہے جو مستقلاً تین تحقیقی پروجیکٹس پر کام کررہے ہیں اور لائبریری کا بیشتر تحقیقی کام پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ لائبریری کے تین بڑے ریسرچ پروجیکٹ اس وقت چل رہے ہیں۔
1۔اسلامک جج منٹس انسائیکلو پیڈیا اس انسائیکلو پیڈیا کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جس طرح دنیا بھر کی عدالتوں میں جج حضرات کے فیصلے کتب میں محفوظ کرلیے جاتے ہیں اور انہیں باقاعدہ نظیر کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح سے محمد رسول اللہ ﷺ سے لے کر بعد تک کے قاض حضرات کےفیصلوں کو ایک جگہ جمع کرکے شائع کیا جائے۔ اس پروجیکٹ کا آغاز 2000ء میں ہوا تھا۔ اس وقت سابق صدر رفیق تارڑ، جسٹس (ر) خلیل الرحمٰن اور دیگر ریٹائرڈ جج حضرات کی معاونت سے یہ کام شروع ہوا اور اب تک اس میں خلافت راشدہ ؓکے دور تک کے فیصلوں کو یکجا کرلیا گیا ہے کیونکہ اپنی نوعیت کا ایسا منفرد کام ہے جو 14 سو برس میں نہیں ہوا او رمزید یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے احادیث کی صورت میں ہیں اور بعض اوقات ایک ایک فیصلہ پر 20 یا 25تک روایات ہیں۔ لہٰذا کوشش کی گئی ہے کہ ان تمام روایات کو اکٹھا کردیا جائے تاکہ اصل فیصلہ پوری طرح سے عیاں ہوکر سامنے آجائے یہ کام انتہائی نازک تھا لہٰذا اس میں احتیاط کے تمام تر پہلوؤں کو ملحوظ رکھا گیا اور مزید کسی کمی و بیشی کو جانچنے اور اس انسائیکلو پیڈیا کو ایک مستند حیثیت دینے کی خاطر لائبریری نے سعودی عرب سے معاونت مانگی اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں پر مشتمل انسائیکلو پیڈیا کا حصہ کنگ سعود یونیورسٹی الریاض نے منگوا لیا ہے اور وہاں محققین کی ایک ٹیم ا س کا جائزہ لے رہی ہے اب تک کی اطلاعات کے مطابق سعودی حکومت اور یونیورسٹی اپنی تصدیق و سند کے ساتھ یہ نسخہ جات جلد واپس بھیجنے والی ہیں جس کے بعد لائبریری اسے شائع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اسلامی تاریخ کا یہ نادر شاہکار منظر عام پر آسکے۔ اس کے بعد خلافت راشدہ کے فیصلے بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جس کے بعد اب تک کے مشہور قاضی حضرات کے فیصلوں کی تلاش اور اشاعت کا کام کیا جائے گا۔
2۔دوسرا پروجیکٹ قرآن مجید کے حوالے سے ہے کہ جس طرح فقہ کے چار امام ہیں اس طرح قرآت کے بھی 20 آئمہ ہیں اور ان کا لہجہ ایک دوسرے سے الگ ہے۔ اس وقت قرآن مجید کے چار لہجے جن کو روایات کہا جاتا ہے، کتابی شکل میں موجود ہیں۔ دیگر 16 روایات پرنٹ شکل میں ہیں۔ یہ لائبریری اس پر بھی کام کررہی ہے۔یاد رہے محدث لائبریری علم قراءت پر تین شماروں میں انسائیکلوپیڈیا بھی تیار کرچکی ہے۔
3۔محدث لائبریری کا ایک بڑا امتیاز اور تیسرا ریسرچ پروجیکٹ اس کا شعبہ رسائل و جرائد ہے کہ جس میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد رسائل و جرائد موجود ہیں جن میں 1826 ء اور اس سے بھی قبل شائع ہونے والے رسائل بھی شامل ہیں۔ 800 ٹائٹل یہاں موجود ہیں او ربہت بڑی تعداد میں ایسے رسائل بھی ہیں جن کی مکمل جلدیں محفوظ ہیں۔
لائبریری کا پروجیکٹ ہے کہ دینی رسائل و جرائد کا انسائیکلو پیڈیا شائع کیا جائے اور ان کا مکمل اشاریہ ترتیب دیا جائے کیونکہ ان دینی رسائل میں نامور علماء ، محققین کا کام محفوظ ہے مگر نظروں سے اوجھل ہے لہٰذا ریسرچر کی ایک ٹیم اس پروجیکٹ پر کام کررہی ہے۔ اس وقت قریباً ان تمام رسائل کا مکمل اشاریہ بھی موجود ہے جو ریسرچ کرنے والوں کے لئے معاون ہے۔ لائبریری عنقریب اس اشاریہ کو شائع کرنے جارہی ہے۔ مزید یہ کہ ان تمام رسائل و جرائد کو سی ڈی پر منتقل کرنے کا کام جاری ہے اور کئی ایک رسائل کی پوری فائل کمپیوٹرپر محفوظ کی جاچکی ہے۔محدث لائبریری کیونکہ جدید ترین لائبریری سائنس کے اصولوں کےمطابق مرتب ہے لہٰذا دیگر دینی یونیورسٹیوں کو مفت خدمات فراہم کررہی ہے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر کا استعمال پوری تندہی سے کیا جارہا ہے اور غالبا ً دینی لائبریریوں میں ڈیجیٹل کتابوں کا اتنا بڑا ذخیرہ کسی او رجگہ دستیاب نہیں۔ اس وقت کم و بیش 20 ہزار کتب مکمل طور پر ڈیجیٹل حالت میں موجود ہیں جن میں بعض ایسی بھی ہیں جو اس وقت تک شائع ہی نہیں ہوئیں، یا ہوئیں تو پرنٹ حالت میں موجود نہیں ہیں۔
محدث لائبریری اس وقت دیگر دینی لائبریریوں سے اشتراک کے پروگرام پر بھی عمل پیرا ہے اور اس وقت تک 8 بڑی لائبریریوں سے اشتراک کے معاہدے کرچکی ہے۔ جس کےمطابق یہ سب لائبریریاں ایک ڈیٹا بیس پر دستیاب ہوں گی اور ان لائبریریوں میں کتب کا تبادلہ کیا جاسکے گا۔ لائبریری کے آئندہ پروجیکٹس میں سرفہرست یہ ہے کہ جس طرح سائنس میں تحقیق کرنے سے پہلے امریکہ کا ادارہ یہ بتا دیتا ہے کہ اس موضوع پر پہلے سے تحقیق ہے یا نہیں، سو ہے تو کیا ہے، اس طرح اسلام پر ہونے والی تحقیق کو بھی ایک نظم میں لایا جائے گا کہ ریسرچ کرنے والے حضرات کو صفر سے شروع نہ کرنا پڑے اور وہ جان سکیں کہ ا س سے قبل کس موضوع پر کیا تحقیق ہوچکی ہے اور اس سے آگے کام شروع کریں۔ اس لائبریری کے تمام اخراجات مولانا عبدالرحمٰن مدنی﷾ کا ادارہ’’ اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ ‘‘ پورے کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ مدنی برادران جیب سے ادا کرتے ہیں۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,348
پوائنٹ
995
شعبہ تحقیق (مجلس التحقیق الاسلامی)
3۔ترجمہ و تحقیق

1۔انسائکلوپیڈیا آف اسلامک جج منٹس:
ریسرچ کا ایک عظیم منصوبہ ہے جس میں نبی اکرمﷺ کےدور مبارک سے دور حاضر تک اسلامی عدالتوں کے فیصلوں کو یکجا کرکے ایک انسائیکلوپیڈیا کی شکل میں مرتب کیا جارہا ہے۔کونسل کے اس منصوبے سے سعودی عرب، سوڈان، مصر اور مراکش کی وزارت ہائے عدل وانصاف علمی تعاون کررہی ہیں۔
2۔عربی کتب کے تراجم، جدید موضوعات پر تحقیق، علمی رسائل کی اشاریہ بندی
یہ تمام شعبہ جات بھی یہاں قائم ہیں جن میں متعدد افراد خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔تفصیلات کےلیے کونسل کی کارکردگی رپورٹ مین برانچ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔نیز روزانہ ظہر تا مغرب فون پر یا ملاقات کے ذریعے لوگوں کو شرعی رہنمائی بھی مہیا کی جاتی ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,348
پوائنٹ
995
شعبہ رفاہ عام
1۔اسلامک ہیومن رائٹس فورم

اسلام انسانیت کی معراج ہے اور انسان کو وہ سب حقوق آج سے صدیوں قبل عطا کرچکا ہے جس کو آج مغرب دریافت کرنے کے نعرے لگارہا ہے۔حالانکہ مغرب انسانی حقوق کے کسی معیاری نظام سے تہی دامن ہونے کے علاوہ افراط و تفریط کا شکار ہے جبکہ اسلام دین فطرت ہونے کے ناطے حقوق وفرائض کا ایک متوازن تصور اور نظام پیش کرتا ہے۔
اسی نظام عدل اور حقیقی انسانی عظمت کو اجاگر کرنے کےلیے ٹرسٹ نے ملک کے نامور دانشوروں، علماء اور قانون دانوں کے مشورے اورتائید سے اسلامی حقوق انسانی فورم کے نام سے ادارہ تشکیل دے کر اس کا پہلا سربراہ جسٹس (ر) عبدالقدید چودھری کو بنایا جنہوں نے سپریم کورٹ کے فل بنچ کے اہم رکن کی حیثیت سے 1993ء میں انسانی حقوق کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں متعین کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔
انسانی زندگی کے متنوع پہلوؤں پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حقوق وفرائض کامتوازن نظام پیش کرنے کےعلاوہ اس موضوع پر مغرب کے بلند بانگ نعروں اورفریب پر مبنی طبقاتی تصادم کےتصور کو بے نقاب کرکے اسلام کاصحیح تصور پیش کرتارہے گا۔ان شاءاللہ
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,348
پوائنٹ
995
شعبہ رفاہ عامہ
2۔شعبہ یتامی

علم دماغ کی روشنی ہے مگر اس سے قبل انسان کی بنیادی حاجات پوری ہونی چاہییں۔اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ کےتحت جاری شعبہ یتامی کی کارگزاری کی ابتدا دکھی انسانیت کی خدمت سے ہوتی ہے اور ٹرسٹ کے فنڈز کا بڑا حصہ یتیموں، معذوروں، بیماروں اور بیوگان کی عارضی یا مستقل مدد پر خرچ ہوتا ہے۔
یہ شعبہ اس وقت عملا 100 سے زائد یتیموں اور بیوگان کو باقاعدہ وظائف دے رہا ہے۔علاوہ ازیں بے روزگار افراد کی بحالی اور مختصر کاروبار کرنے کےلیے ’’قرض حسنہ فنڈ‘‘ بھی موجود ہے۔اگر کوئی زیادہ محتاج ہو تو قرض معاف بھی کردیا جاتا ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,348
پوائنٹ
995
شعبہ رفاہ عامہ
3۔انڈسٹریل ہوم

کسی گرے ہوئے کو اٹھانا بہت بڑا ثواب کا کام ہے، لیکن آج کل مانگنا بھی پیشہ بن گیا ہے۔لہذا ٹرسٹ کی پالیسی یہ ہے کہ مدد ضرور کی جائے لیکن بیکاری کو فروغ نہ ملے لہذا بیکاری کو روکنے کےلیے فنی تربیت کی ضرورت ہے، اسی غرض سے ٹرسٹ کےمستقل مراکز میں انڈسٹریل ہوم قائم کیئے جاتے ہیں۔جن میں اصلاحی پروگراموں کے ساتھ ساتھ سینے پرونے اور دیگر گھریلو صنعتوں کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔حوصلہ افزائی کےلیے گاہے بگاہے انڈسٹریل ہوم کی مصنوعات کی نمائش بھی سٹالز کی صورت میں لگائی جاتی ہیں۔
 
Top