• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دخول جنت کی بنیادی شرط !

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
1۔ اللہ تعالی نے ہمیں کہاں پر "غیر مقلد" یا اگر آپ کو برا لگے "اہل حدیث" بننے پر مجبور کیا ہے؟؟؟
اللہ تعالیٰ نے کسی بھی انسان کو کسی امام کی تقلید کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی قیامت والے دن اس بارے میں کوئی سوال ہوگا۔ سوال صرف رسولوں سے متعلق ہوگا کہ:

مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ
(القصص:٦٠)


تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟

یہی منہج اہل حدیث ہے۔

لیکن اس کا یہ معنیٰ نہیں کہ علماء اورائمہ کرام کا کوئی مقام نہیں۔ بلکہ علماء ہی وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے قرآن وحدیث ہم تک پہنچایا اور ہمیں سمجھایا ہے لہٰذا ہم انکے مشکور اور انکے لیے دُعاگو ہیں البتہ اگر اُنکی کوئی بات کسی قرآنی آیت یا حدیث نبوی کے خلاف ہو تو پھر ہم انکی یہ بات ماننے کے مکلف نہیں کیونکہ ہمارا پہلا رشتہ اللہ اور اسکے رسول سے ہے اور باقی رشتے اسی ذریعے سے ہیں، اسی کی خاطر ہیں۔ ہماری غیر مشروط وفاداری صف اللہ اور اسکے رسولﷺ سے ہے اور بس!یہی ہمارا منہج ہے اوریہی تمام صحابہ] تابعین اورائمہ اربعہ کا منہج تھا۔

تقلید ﷲ تعالیٰ کی حاکمیت کو چیلنج ہے۔
دین اسلام ﷲ تعالیٰ کا نازل کردہ دین ہے جس کے ذریعے ﷲ تعالیٰ اپنی شرعی حاکمیت کو قائم کرنا چاہتا ہے لہٰذا جو لوگ کسی اور کی بات کو دین کا درجہ دیتے اور بلا تحقیق اسکی بات کو مان لیتے ہیں وہ دراصل ﷲ تعالیٰ کی حاکمیت کو چیلنج کررہے ہیں ﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

وَلَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہ اَحَداً (الکہف :٢٦)

ﷲ تعالیٰ اپنی حاکمیت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔

جبکہ دوسری جگہ عیسائیوں کے متعلق ارشاد فرمایا:

اِتَّخُذُوْا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَہُمْ اَرْبَاباً مِّنْ دُوْنِ ﷲِ ( التوبہ :٣١)

(انہوں نے اپنے علماء اور بزرگوں کو ﷲ کے علاوہ اپنا رب بنالیا)
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو اس آیت کی قرأت کرتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے اس آیت کی قرأت کے بعد ارشاد فرمایا:

أما نہم لم یکونوا یعبدونہم، ولکنہم کانوا ذااحلّوا لہم شیئاً استحلوہ، وذا حرموا علیہم شیئاً ٔ حرّموہ ]
أخرج الترمذی (٣٠٩٥) وحسنہ الالبانی فی صحیح الترمذی، وعبدﷲ بن عبدالقادر الاتلیدی فی تحقیق الترمذی، وعبدالرزاق الہدی فی تحقیق تفسیر ابن کثیر
(آگاہ ہوجاؤ! بے شک وہ لوگ انکی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب وہ انکے لیے کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دیتے تو یہ (مقلدین) اُنکی بات کو (بلاتحقیق) مان لیا کرتے تھے)
ہماری اصل دلیل اس منہج کے حوالے سے صرف کتاب وسنت ہی ہے جسکا تذکرہ بطور مثال ہم کر چکے ہیں اور اس سلسلے میں ہمیں کسی اور کا قول ذکر کرنا لازم نہیں بلکہ قلم تذبذب کا شکار ہے کہ کیا ﷲ اور اسکے رسول ﷺ کی بات کو ماننے کیلئے ہمیں اماموں سے پوچھنے کی ضرورت ہے؟
لیکن کیونکہ جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ علماء کے اقوال قرآن وسنت کو سمجھنے کیلئے معاون ہوتے ہیں لہٰذا قرآن و سنت سے ثابت شدہ اس منہج کے حوالے سے ہم ائمہ اربعہ۔ کے اقوال پیش کرتے ہیں تاکہ مقلدین پر یہ بات واضح ہوجائے کہ وہ تقلید کے ذریعے ائمہ کی نہیں بلکہ دراصل شیطان کی پیروی کر رہے ہیں اور ہم ان ائمہ کا احترام اور ان سے محبت بھی اسی لیے کرتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو ﷲ اور اسکے رسولﷺ کی طرف بلایا ہے۔ بالفرض اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا کہ میری اطاعت تم پر واجب ہے اگرچہ قرآن و سنت کے خلاف کیوں نہ ہو۔ تو اس کا احترام تو درکنار اسکی مذمت ہم پر واجب ہوجاتی اور اُسے امام اور عالم کہنا تو دور کی بات اسے مسلمان کہنا بھی جائز نہ ہوتا

جیسا کہ امام شوکانی اپنی کتاب ''القول المفید'' میں فرماتے ہیں:
ولو فرضنا والعیاذ باﷲ ان عالما من علماء السلام یجعل قولہ کقول ﷲا و قول رسولہ ۖ لکان کافراً مرتدا فضلا عن ن یجعل قولہ قدم من قول ﷲ ورسولہ۔

(القول المفید فی دلة الاجتہاد والتقلید ص ٢٥)
(اور نعوذ باﷲ اگر ہم فرض کرلیں کہ علمائے اسلام میں سے کوئی اپنے قول کو ﷲ اور اسکے رسول ﷺ کے قول جیسا قرار دیتا ہے تو اپنے اس عقیدے کی وجہ سے وہ کافر اور مرتد ہوجائے گا چہ جائیکہ اسکا قول ﷲ اور اسکے رسول کے قول پر مقدم مانا جائے)

اسی طرح امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
من یری ن قول ھٰذا المعین ہو الصواب الذی ینبغی اتباعہ دون قول المام الذی خالفہ۔ من فعل ھٰذا کان جاھلاً ضالا، بل قد یکون کافراً۔فنہ متی اعتقد انہ یجب علی الناس اتباع واحد بعینہ من ھؤلاء الأ ئمة دون المام الآخر فنہ یجب ن یستتاب فن تاب ولا قتل۔

(مختصر الفتاوی المصریہ ، ص: ٤٢)
(جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ فلان معین امام کا قول ہی درست ہے اور باقی تمام ائمہ کو چھوڑ کر ایک ہی کی بات کی پیروی کرنی چاھیئے تو جو بھی یہ عقیدہ رکھے وہ جاہل اور گمراہ ہے بلکہ بعض اوقات تو کافر بھی ہو جاتا ہے(یعنی اگر متشدد ومتعصب ہے) اس لیے جب کوئی یہ عقیدہ بنالے کہ لوگوں پر تمام ائمہ میں سے ایک ہی امام کی پیروی کرنا واجب ہے تو ضروری ہے کہ اس شخص سے توبہ کروائی جائے، توبہ کرلے تو ٹھیک ورنہ قتل کردیا جائے)
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ جہاں سے حق مل جائے اُسے قبول کرلینا چاہیے جس امام کا قول دلیل کی بنیاد پر ہو اُس کی بات مان لی جائے اور اگر کوئی ایسا نہیں کرتا بلکہ ایک ہی کو پکڑ لیتا ہے کہ صحیح کہے تب بھی، غلط کہے تب بھی اُسی کی بات ماننی ہے ابن تیمیہرحمہ اللہ کے نزدیک وہ جاہل، گمرا ہ اور واجب القتل ہے۔ اسی بات کو آپکے ذہن کے قریب کرنے کیلئے میں ایک مثال دونگا کہ مثلاً قرآن مجید ﷲ کا دین ہے لہٰذا ﷲ تعالیٰ نے اسکی حفاظت کا بندوبست کیا ہے اسی طرح حدیث ہے یہ بھی سند کے ساتھ ہم تک پہنچی ہے اب اگر کوئی قرآن مجید میں ایک حرف کا اضافہ کردے یا ایک حرف کی کمی کردے تو آپ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟

یا قرآن مجید کی ایک آیت کو ماننے سے انکار کردے؟
یقینا آپ ایسے شخص کو بے دین، ملحد اور مرتد جیسے القاب دیں گے لیکن کیوں؟ اس لیے کہ قرآن ﷲ کا دین ہے اور وہ دین میں اضافہ یا کمی کر رہا ہے اور ﷲ تعالیٰ کا قانون اس حوالے سے بہت سخت ہے۔ ﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر محمد رسول ﷲ ﷺ کے بارے میں بھی فرمایا ہے کہ:

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ

(الحآقہ :٤٤،٤٥،٤٦)

(اگر آپ ﷺ بھی بالفرض اپنی سے کچھ باتیں بناکر ہماری طرف منسوب کردیں تو ہم آپکو اہنے ہاتھ سے پکڑ لیں گے اور پھر آپکی شہ ر گ کاٹ ڈالیں گے)
اگرچہ آپ ﷺ نے ایسا کرنا نہیں تھا لیکن آپ کی امت کو سبق دیا گیا کہ محتاط رہیں اب بھی اگر کوئی اپنے امام کے قول کو دین سمجھتا ہے تو کیا وہ دین میں اضافہ نہیں کر رہا جبکہ دین پہلے ہی مکمل ہے۔؟
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2015
پیغامات
81
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
58
یہ محض آپ تقلیدی خوف ہے ، کہ کوئی آپ کو ’’ اللہ و رسول کے دشمن ‘‘ کہنا چاہتا ہے
معاف کیجیئے! یہ "تقلیدی" نہیں بلکہ "تنقیدی" خوف ہے اور اس خوف بلکہ دہشت کو پھیلانے والے "دہشت گرد" آپ ہی کے اندر پناہ گزین ہیں۔ آپ کا طرز تخاطب اس کی صاف چغلی کھاتا ہے باقی آپ کی متمسک جو آیات و احادیث ہیں ان کا مصداق کفار و مشرکین ہیں تو آپ کا مقلدین پر ان کو فٹ کرنا اس کی سلطانی گواہ ہے کہ آپ باقی اہل اسلام سے بیزار ہیں۔
۔۔۔۔۔
ہماری دعوت ہے کہ تقلید کے اندھے خول سے نکل کر قرآن و سنت کی پیروی اپنانی چاہئے
اندھی تقلید کا شکار تو آپ خود ہی ہیں! جو باتیں آپ کے اندر گردش میں ہیں بس وہی آپ کا مذہب ہیں اور اسی کو لیکر ہر ایک بھانت کی بھانت کی بولیاں بول کر اسے اچھالتا رہتا ہے اور کسی کو تحقیق کی توفیق نہیں ہوتی۔ پھر کوئی بات کسی نے تحقیق سے غلط ثابت کردی تو اگر کوئی جواب سوجھا تو خیر ورنہ یہ "ملا دوپیازی" نسخہ تو ہر وقت بڑا کار آمد اور تیر بہدف ہوتا ہے "ہم کسی کے مقلد نہیں"! اسی لئے تو آپ کا مذہب تحسبهم جميعا و قلوبهم شتى کی بہترین تصویر ہے۔ آپ کے اس چھوٹے سے فرقے میں کتنے ذیلی فرقے ہیں جن کا سوائے آپس میں افتراق رکھنے اور امت میں اسے پھیلانےکے اور کسی چیز پر اتفاق نہیں!! حالانکہ ہر ایک "اہل حدیث" ہونے کا مدعی ہے اور قرآن و حدیث پر سب کا نام کی حد تک اتفاق ہے تو پھر یہ اتنا سخت اختلاف کیوں؟؟ کیا یہ بعینہ شیعوں کے اندرونی انتشار کے مثل نہیں جو ہے تو برائے نام ایک فرقہ مگر دراصل مجموعہ ہے ہزاروں مختلف الخیال چھوٹے فرقوں کا۔
نواب صاحب کے بقول تو سلف میں ہر ایک مقلد تھا! فلا تجد احدا من الائمة الا و هو مقلد من هو اعلم منه في بعض الاحكام۔ [الجنة، ص 68]
------
مسلک و فرقہ کی دعوت ہمارا راستہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش! آپ کا اس پر عمل بھی ہوتا۔
۔۔۔۔۔
اور سواد اعظم سے مراد اگر بدعات میں لتھڑا ہوا ہجوم ہے،تو ہر صاحب ایمان جانتا ہے :کہ اس بڑے ہجوم کی بدعات کی تردید عین اسلام ہے
لفظ "بڑے ہجوم" کے اقرار سے کم از کم یہ تو ثابت ہی ہو اکہ آپ اقلیت میں ہیں اور ہم اکثریت میں ہیں۔ دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ میرا گمان "تقلیدی خوف" نہیں بلکہ حقیقت تھالیکن واضح رہے کہ ہمیں آپ کے بدعتی کہنے سے ہم بدعتی تو بنیں گے، البتہ آپ کا شمار بدعتی فرقوں میں ہوگا جو جمہور کی طرف اسی نسبت میں خود غرقاب ہوگئے۔ "بدعات میں لتھڑا ہوا"!!! غلو کی بدترین مثال ہے۔
اور بدعات کے دفاع میں احادیث نبویہ کا مذاق اڑانے والوں کیلئے ہم ان شاء اللہ ۔یہ فرمان نبوی پیش کرتے رہیں گے :
کتنا بڑا دعوی کتنا ہلکے پھلکے انداز میں! میراگمان ہےکہ آپ ایک غیر سنجیدہ انسان ہیں۔ اس انتساب پر مواخذے کا خوف نہیں؟؟
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2015
پیغامات
81
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
58
اور سواد اعظم سے مراد اگر بدعات میں لتھڑا ہوا ہجوم ہے،تو ہر صاحب ایمان جانتا ہے :کہ اس بڑے ہجوم کی بدعات کی تردید عین اسلام ہے
لفظ "بڑے ہجوم" کے اقرار سے کم از کم یہ تو ثابت ہی ہو اکہ آپ اقلیت میں ہیں اور ہم اکثریت میں ہیں۔ دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ میرا گمان "تقلیدی خوف" نہیں بلکہ حقیقت تھالیکن واضح رہے کہ ہمیں آپ کے بدعتی کہنے سے ہم بدعتی تو نہیں بنیں گے، البتہ آپ کا شمار بدعتی فرقوں میں ہوگا جو جمہور کی طرف اسی نسبت میں خود غرقاب ہوگئے۔ "بدعات میں لتھڑا ہوا"!!! غلو کی بدترین مثال ہے۔
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2015
پیغامات
81
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
58

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,484
پوائنٹ
791
معاف کیجیئے! یہ "تقلیدی" نہیں بلکہ "تنقیدی" خوف ہے
اگر تعصب کی بیماری نہ ہو تو ’’ تنقید ‘‘ و تردید ‘‘ سے خوف نہیں ہوتا ۔بلکہ کئی دفعہ اصلاح کا نسخہ مل جاتا ہے ،، بس فریق مقابل کی بات کو سننے سمجھنے کا حوصلہ چاہئے ۔
دیکھئے قرآن کریم نے کیا پتے کی بات بتائی ہے :
(( ۔۔۔فَبَشِّرْ عِبَادِ (17) الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۔۔)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آپ کی متمسک جو آیات و احادیث ہیں ان کا مصداق کفار و مشرکین ہیں
انا للہ و انا الیہ راجعون ؛
میں تو سمجھا تھا کہ کچھ پڑھے ، لکھے بندے سے بات چل رہی ہے ۔۔۔
لیکن یہاں تو معاملہ برعکس دکھائی دے رہا ہے ۔
میرے بھائی۔۔۔کیا ان آیات کو سمجھنے سمجھانے پر پابندی ہے ۔۔۔کفر و شرک کی تردید ہر جگہ ضروری اور مطلوب ہے ۔
کیا سابقہ کفار کے آنجہانی ہونے پر اب ان آیات کی تفہیم ،تبلیغ منسوخ ہو چکی ہے ؟؟؟؟؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لفظ "بڑے ہجوم" کے اقرار سے کم از کم یہ تو ثابت ہی ہو اکہ آپ اقلیت میں ہیں اور ہم اکثریت میں ہیں۔ دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ میرا گمان "تقلیدی خوف" نہیں بلکہ حقیقت تھالیکن واضح رہے کہ ہمیں آپ کے بدعتی کہنے سے ہم بدعتی تو بنیں گے، البتہ آپ کا شمار بدعتی فرقوں میں ہوگا جو جمہور کی طرف اسی نسبت میں خود غرقاب ہوگئے۔
اللہ جانتا ہے :مجھے علم نہیں کہ آپ کا تعلق کس فرقہ سے ہے ۔۔تاہم ۔۔ نسبت سے گمان تھا آپ بدعت میں لتھڑے گروہ میں سے نہیں ؛
صرف فروعی مسائل میں تقلید کے مشتاق ہیں ؛
لیکن یہاں بھی آپ نے میرا گمان غلط ثابت کردیا ۔آپ کی حالیہ سطور سے گمان ہو رہا ہے کہ آپ قبوری فرقہ سے متعلق ہیں ۔
اور اگر واقعی میرا گمان صحیح ہے ۔۔۔تو پھر تو آپ کا کہنا سمجھ آتا ہے کہ :۔
آپ کی متمسک جو آیات و احادیث ہیں ان کا مصداق کفار و مشرکین ہیں
اگر واقعی قبوری تصوف زدہ ہیں ،تو آپ کی موجودہ گرمی بھی سمجھی جا سکتی ہے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لفظ "بڑے ہجوم" کے اقرار سے کم از کم یہ تو ثابت ہی ہو اکہ آپ اقلیت میں ہیں اور ہم اکثریت میں ہیں۔
موجودہ عہد میں عددی قلت و کثرت کو حق و باطل کا معیار ٹھہرانا ہی اصل مرض ہے ،
اور اسے معیار قرار دینا علم و دلیل کی نفی بھی ؛
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2015
پیغامات
81
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
58
اللہ تعالیٰ نے کسی بھی انسان کو کسی امام کی تقلید کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی قیامت والے دن اس بارے میں کوئی سوال ہوگا۔ سوال صرف رسولوں سے متعلق ہوگا کہ:

مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ
(القصص:٦٠)


تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟

یہی منہج اہل حدیث ہے۔

لیکن اس کا یہ معنیٰ نہیں کہ علماء اورائمہ کرام کا کوئی مقام نہیں۔ بلکہ علماء ہی وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے قرآن وحدیث ہم تک پہنچایا اور ہمیں سمجھایا ہے لہٰذا ہم انکے مشکور اور انکے لیے دُعاگو ہیں البتہ اگر اُنکی کوئی بات کسی قرآنی آیت یا حدیث نبوی کے خلاف ہو تو پھر ہم انکی یہ بات ماننے کے مکلف نہیں کیونکہ ہمارا پہلا رشتہ اللہ اور اسکے رسول سے ہے اور باقی رشتے اسی ذریعے سے ہیں، اسی کی خاطر ہیں۔ ہماری غیر مشروط وفاداری صف اللہ اور اسکے رسولﷺ سے ہے اور بس!یہی ہمارا منہج ہے اوریہی تمام صحابہ] تابعین اورائمہ اربعہ کا منہج تھا۔

تقلید ﷲ تعالیٰ کی حاکمیت کو چیلنج ہے۔
دین اسلام ﷲ تعالیٰ کا نازل کردہ دین ہے جس کے ذریعے ﷲ تعالیٰ اپنی شرعی حاکمیت کو قائم کرنا چاہتا ہے لہٰذا جو لوگ کسی اور کی بات کو دین کا درجہ دیتے اور بلا تحقیق اسکی بات کو مان لیتے ہیں وہ دراصل ﷲ تعالیٰ کی حاکمیت کو چیلنج کررہے ہیں ﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
وَلَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہ اَحَداً (الکہف :٢٦)

ﷲ تعالیٰ اپنی حاکمیت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔


جبکہ دوسری جگہ عیسائیوں کے متعلق ارشاد فرمایا:

اِتَّخُذُوْا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَہُمْ اَرْبَاباً مِّنْ دُوْنِ ﷲِ ( التوبہ :٣١)


(انہوں نے اپنے علماء اور بزرگوں کو ﷲ کے علاوہ اپنا رب بنالیا)

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو اس آیت کی قرأت کرتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے اس آیت کی قرأت کے بعد ارشاد فرمایا:
أما نہم لم یکونوا یعبدونہم، ولکنہم کانوا ذااحلّوا لہم شیئاً استحلوہ، وذا حرموا علیہم شیئاً ٔ حرّموہ ]
أخرج الترمذی (٣٠٩٥) وحسنہ الالبانی فی صحیح الترمذی، وعبدﷲ بن عبدالقادر الاتلیدی فی تحقیق الترمذی، وعبدالرزاق الہدی فی تحقیق تفسیر ابن کثیر
(آگاہ ہوجاؤ! بے شک وہ لوگ انکی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب وہ انکے لیے کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دیتے تو یہ (مقلدین) اُنکی بات کو (بلاتحقیق) مان لیا کرتے تھے)
ہماری اصل دلیل اس منہج کے حوالے سے صرف کتاب وسنت ہی ہے جسکا تذکرہ بطور مثال ہم کر چکے ہیں اور اس سلسلے میں ہمیں کسی اور کا قول ذکر کرنا لازم نہیں بلکہ قلم تذبذب کا شکار ہے کہ کیا ﷲ اور اسکے رسول ﷺ کی بات کو ماننے کیلئے ہمیں اماموں سے پوچھنے کی ضرورت ہے؟
لیکن کیونکہ جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ علماء کے اقوال قرآن وسنت کو سمجھنے کیلئے معاون ہوتے ہیں لہٰذا قرآن و سنت سے ثابت شدہ اس منہج کے حوالے سے ہم ائمہ اربعہ۔ کے اقوال پیش کرتے ہیں تاکہ مقلدین پر یہ بات واضح ہوجائے کہ وہ تقلید کے ذریعے ائمہ کی نہیں بلکہ دراصل شیطان کی پیروی کر رہے ہیں اور ہم ان ائمہ کا احترام اور ان سے محبت بھی اسی لیے کرتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو ﷲ اور اسکے رسولﷺ کی طرف بلایا ہے۔ بالفرض اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا کہ میری اطاعت تم پر واجب ہے اگرچہ قرآن و سنت کے خلاف کیوں نہ ہو۔ تو اس کا احترام تو درکنار اسکی مذمت ہم پر واجب ہوجاتی اور اُسے امام اور عالم کہنا تو دور کی بات اسے مسلمان کہنا بھی جائز نہ ہوتا

جیسا کہ امام شوکانی اپنی کتاب ''القول المفید'' میں فرماتے ہیں:
ولو فرضنا والعیاذ باﷲ ان عالما من علماء السلام یجعل قولہ کقول ﷲا و قول رسولہ ۖ لکان کافراً مرتدا فضلا عن ن یجعل قولہ قدم من قول ﷲ ورسولہ۔
(القول المفید فی دلة الاجتہاد والتقلید ص ٢٥)
(اور نعوذ باﷲ اگر ہم فرض کرلیں کہ علمائے اسلام میں سے کوئی اپنے قول کو ﷲ اور اسکے رسول ﷺ کے قول جیسا قرار دیتا ہے تو اپنے اس عقیدے کی وجہ سے وہ کافر اور مرتد ہوجائے گا چہ جائیکہ اسکا قول ﷲ اور اسکے رسول کے قول پر مقدم مانا جائے)
اسی طرح امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
من یری ن قول ھٰذا المعین ہو الصواب الذی ینبغی اتباعہ دون قول المام الذی خالفہ۔ من فعل ھٰذا کان جاھلاً ضالا، بل قد یکون کافراً۔فنہ متی اعتقد انہ یجب علی الناس اتباع واحد بعینہ من ھؤلاء الأ ئمة دون المام الآخر فنہ یجب ن یستتاب فن تاب ولا قتل۔
(مختصر الفتاوی المصریہ ، ص: ٤٢)
(جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ فلان معین امام کا قول ہی درست ہے اور باقی تمام ائمہ کو چھوڑ کر ایک ہی کی بات کی پیروی کرنی چاھیئے تو جو بھی یہ عقیدہ رکھے وہ جاہل اور گمراہ ہے بلکہ بعض اوقات تو کافر بھی ہو جاتا ہے(یعنی اگر متشدد ومتعصب ہے) اس لیے جب کوئی یہ عقیدہ بنالے کہ لوگوں پر تمام ائمہ میں سے ایک ہی امام کی پیروی کرنا واجب ہے تو ضروری ہے کہ اس شخص سے توبہ کروائی جائے، توبہ کرلے تو ٹھیک ورنہ قتل کردیا جائے)
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ جہاں سے حق مل جائے اُسے قبول کرلینا چاہیے جس امام کا قول دلیل کی بنیاد پر ہو اُس کی بات مان لی جائے اور اگر کوئی ایسا نہیں کرتا بلکہ ایک ہی کو پکڑ لیتا ہے کہ صحیح کہے تب بھی، غلط کہے تب بھی اُسی کی بات ماننی ہے ابن تیمیہرحمہ اللہ کے نزدیک وہ جاہل، گمرا ہ اور واجب القتل ہے۔ اسی بات کو آپکے ذہن کے قریب کرنے کیلئے میں ایک مثال دونگا کہ مثلاً قرآن مجید ﷲ کا دین ہے لہٰذا ﷲ تعالیٰ نے اسکی حفاظت کا بندوبست کیا ہے اسی طرح حدیث ہے یہ بھی سند کے ساتھ ہم تک پہنچی ہے اب اگر کوئی قرآن مجید میں ایک حرف کا اضافہ کردے یا ایک حرف کی کمی کردے تو آپ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟
یا قرآن مجید کی ایک آیت کو ماننے سے انکار کردے؟
یقینا آپ ایسے شخص کو بے دین، ملحد اور مرتد جیسے القاب دیں گے لیکن کیوں؟ اس لیے کہ قرآن ﷲ کا دین ہے اور وہ دین میں اضافہ یا کمی کر رہا ہے اور ﷲ تعالیٰ کا قانون اس حوالے سے بہت سخت ہے۔ ﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر محمد رسول ﷲ ﷺ کے بارے میں بھی فرمایا ہے کہ:
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ

(الحآقہ :٤٤،٤٥،٤٦)
(اگر آپ ﷺ بھی بالفرض اپنی سے کچھ باتیں بناکر ہماری طرف منسوب کردیں تو ہم آپکو اہنے ہاتھ سے پکڑ لیں گے اور پھر آپکی شہ ر گ کاٹ ڈالیں گے)
اگرچہ آپ ﷺ نے ایسا کرنا نہیں تھا لیکن آپ کی امت کو سبق دیا گیا کہ محتاط رہیں اب بھی اگر کوئی اپنے امام کے قول کو دین سمجھتا ہے تو کیا وہ دین میں اضافہ نہیں کر رہا جبکہ دین پہلے ہی مکمل ہے۔؟
ایسی تقلید کا جوکوئی بھی قائل ہو تو شاید اہل اسلام میں سے کوئی بھی اس کو مسلمان ماننے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ اللہ کا شکر ہے کہ نہ ائمہ اپنے قول کو اللہ اور سول کے مقابلے میں مچھر کے پر کے برابر حیثیت دینے کیلئے تیار تھے اور نہ کوئی مقلد کسی امام کے قول کو یہ حیثیت دینے کیلئے تیار ہے۔ یہ تو محض آپ کی زبردستی اور ہٹ دھرمی ہے کہ ایک ان حضرات پر یہ الزامات تھوپتے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں۔ آپ کسی مقلد کی کتاب سے باحوالہ ثابت کریں کہ وہ امام کو پیغمبر یا اس سے بڑھ کر واجب الاطاعت سمجھتے ہیں تو پھر ہوجائے گی بات۔ میں نے آپ سے تین سوالات کئے تھے، اس کا جواب ابھی تک ندارد اور یہاں آپ ناظرین کو موضوع سے غیر متعلق باتوں میں الجھا رہے ہیں۔
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2015
پیغامات
81
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
58
ایسی تقلید کا جوکوئی بھی قائل ہو تو شاید اہل اسلام میں سے کوئی بھی اس کو مسلمان ماننے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ اللہ کا شکر ہے کہ نہ ائمہ اپنے قول کو اللہ اور سول کے مقابلے میں مچھر کے پر کے برابر حیثیت دینے کیلئے تیار تھے اور نہ کوئی مقلد کسی امام کے قول کو یہ حیثیت دینے کیلئے تیار ہے۔ یہ تو محض آپ کی زبردستی اور ہٹ دھرمی ہے کہ آپ ان حضرات پر یہ الزامات تھوپنے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں۔ آپ کسی مقلد کی کتاب سے باحوالہ ثابت کریں کہ وہ امام کو پیغمبر یا اس سے بڑھ کر واجب الاطاعت سمجھتے ہیں تو پھر ہوجائے گی بات۔ میں نے آپ سے تین سوالات کئے تھے، اس کا جواب ابھی تک ندارد اور یہاں آپ ناظرین کو موضوع سے غیر متعلق باتوں میں الجھا رہے ہیں۔
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2015
پیغامات
81
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
58
انا للہ و انا الیہ راجعون ؛
میں تو سمجھا تھا کہ کچھ پڑھے ، لکھے بندے سے بات چل رہی ہے ۔۔۔
لیکن یہاں تو معاملہ برعکس دکھائی دے رہا ہے ۔
میرے بھائی۔۔۔کیا ان آیات کو سمجھنے سمجھانے پر پابندی ہے ۔۔۔کفر و شرک کی تردید ہر جگہ ضروری اور مطلوب ہے ۔
کیا سابقہ کفار کے آنجہانی ہونے پر اب ان آیات کی تفہیم ،تبلیغ منسوخ ہو چکی ہے ؟؟؟؟؟؟
جی ہاں! شاید آپ جتنا پڑھا لکھا تو نہ ہوں کیونکہ آپ کا علم تو مجتہدین کے علم کو چھو رہا ہے۔ جناب سمجھنے سمجھانے اور تبلیغ پر تو کوئی پابندی نہیں، کس کافر نے آپ کو اس منع کیا ہے لیکن غلط جگہ پر چسپاں کرنے کی پابندی تو بہرحال موجودہے۔ جہاں مشرک پائیں اپنا شوق پورا کریں اور آیت کا حکم لگانے سے دریغ نہ کریں لیکن کسی مسلمان پر اس کے اطلاق سے گریز کریں کیونکہ قرآن و حدیث ہمیں یہی سکھاتے ہیں۔ اور پھر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تو معلوم ہی ہے یہ مسلمان کے قتل کے برابر ہے اور اس کو حلال جاننا کتنا خطرناک ہے۔
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2015
پیغامات
81
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
58
اگر تعصب کی بیماری نہ ہو تو ’’ تنقید ‘‘ و تردید ‘‘ سے خوف نہیں ہوتا ۔بلکہ کئی دفعہ اصلاح کا نسخہ مل جاتا ہے ،، بس فریق مقابل کی بات کو سننے سمجھنے کا حوصلہ چاہئے ۔
دیکھئے قرآن کریم نے کیا پتے کی بات بتائی ہے :
(( ۔۔۔فَبَشِّرْ عِبَادِ (17) الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۔۔)
آپ کی یہی خامی ہے کہ بات کو سمجھتے نہیں اور تبصرے بڑے بڑے کرتے ہیں۔ اب تنقید کو دیکھیں اور تردید کو دیکھیں، کیا نسبت ہے دونوں کی! میں نے تنقید کو تقلید کے مقابلے میں استعمال کیا تھا کہ میں پوری نقد و نظر کے بعد کہہ رہا ہوں کہ آپ لوگ مسلمانوں کو ایسی باتوں سے پریشان اورخوف زدہ بلکہ دہشت زدہ کر رہے ہیں جن کے موجب سے ان کا دامن بری ہے اور آپ زبردستی ان کو کفر و شرک کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اب دوبارہ کھلی آنکھوں سے ملاحظہ فرما‏ئیں۔ اگر کوئی بات سمجھ نہ آئیں تو قائل سے اس کا مطلب پوچھ لیا کریں مگر خود سے اس کا مطلب نہ گھڑا کریں۔
 
Top