ابن حزم رحمہ اللہ کا ایک عرصہ جدائی کے بعد اپنی لونڈی کو اچانک دیکھنا ...
”ہمارے گھر سے ایک جنازہ اٹھا۔ میں نے اسے دیکھا کہ وہ رونے والیوں کے عین درمیان کھڑی ہے، نوحہ کرتے ہوئے اس کی آواز بلند ہو گئی۔ ہائے!! اس آواز نے میرے دفن شدہ وجدان کو بھڑکا دیا، بے جان لاشے کو حرکت دی، مجھے وہ عہدِ رفتہ، وہ عشقِ وارفتہ، وہ بھولا بسرا ماضی، نیم مردہ یادیں، بوسیدہ ہو چُکی کہانیاں، فنا کے گھاٹ اترے لمحات ایک ایک کر کے یاد آئے؛ وہ دن جو گزر گئے تھے، اور وہ نقش جو مٹ چک تھے۔ اس نے میرے غموں کو آواز لگائی، میرے نغموں میں سُر پھونک دیا؛ حالانکہ اس روز میں میت کے سوگ میں تھا، سو مصیبتیں اور تھیں۔ میں کچھ بھی بھولنے والا نہیں تھا، مگر جب زخموں کے تار چِھڑے، آتشِ قلب نے جوش مارا، غم بے کراں ہوا، پریشانی دو بہا ہوئی، تو میں نے اپنے مَن میں پوشیدہ پکار پر لبیک کہا۔ ایک قطعہ کہا جس میں تھا : مرثیے صاحبِ شرف میتوں کے کہے جاتے ہیں، حالانکہ بعض زندے ان بہتے آنسوؤں کے زیادہ حق دار ہیں ...“
(طوق الحمامة : 111)