• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ اعلم یا اللہ و رسولہ اعلم؟؟؟

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
میں تو ان احادیث صحیحہ سے یہ سمجھ پایا ہوں ۔ (غلط جملہ حذف ... انتظامیہ)
انتظامیہ کی خدمت میں بصد خلوص

قال النبي صلى الله عليه وسلم بمنى ‏"‏ أتدرون أى يوم هذا ‏"‏‏.‏ قالوا الله ورسوله أعلم‏.‏ فقال ‏"‏ فإن هذا يوم حرام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أفتدرون أى بلد هذا ‏"‏‏.‏ قالوا الله ورسوله أعلم‏.‏ قال ‏"‏ بلد حرام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أفتدرون أى شهر هذا ‏"‏‏.‏ قالوا الله ورسوله أعلم‏.‏ قال ‏"‏ شهر حرام
ترجمہ از داؤد راز
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فرمایا کہ تم کو معلوم ہے! آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا دن ہے اور یہ بھی تم کو معلوم ہے کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر ہے اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ کون سا مہینہ ہے، لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا مہینہ ہے
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 1742
ایسی بات کی تائید درج ذیل صحیح بخاری کی احادیث سے بھی ہوتی ہے

صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 7447
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 6043
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 5550
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 1741
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 5967
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 6500
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 7373
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 3983
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 6259
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 1186
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 425
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 5401
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 3578
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 5381
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 4147
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 2856
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 7266

یہ صرف صحیح بخاری کے چند حوالے ہیں اس بات کی تائید میں کہ "اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں "
اور اگر دیگر کتب حدیث کے تمام حوالے اگر لکھنا چاہوں تو صرف حوالہ لکھنے میں ایک ضمیم کتاب تیار ہوجائے
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ اعلم کہنا درست ہے اور اللہ و رسولہ اعلم کہنا رسول اللہ ﷺ کی حیات میں تو درست تھا کیونکہ وحی سے رہنمائی کر دی جاتی تھی۔ لہٰذا بہرام صاحب کی پیش کردہ بالا احادیث سے مقصود حاصل نہیں ہوتا۔ کفایت اللہ بھائی اور دیگر اہل علم حضرات سے گزارش ہے کہ اس موضوع پر اظہار خیال فرمائیں۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,534
پوائنٹ
641
اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ اعلم کہنا درست ہے اور اللہ و رسولہ اعلم کہنا رسول اللہ ﷺ کی حیات میں تو درست تھا کیونکہ وحی سے رہنمائی کر دی جاتی تھی۔ لہٰذا بہرام صاحب کی پیش کردہ بالا احادیث سے مقصود حاصل نہیں ہوتا۔ کفایت اللہ بھائی اور دیگر اہل علم حضرات سے گزارش ہے کہ اس موضوع پر اظہار خیال فرمائیں۔
مکمل وضاحت آپ کی اس عبارت میں موجود ہے۔ بہت سی باتیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کے ساتھ خاص تھیں جیسا کہ صحابہ کا اپنی توبہ و استغفار کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی جناب میں وسیلہ بنانا وغیرہ۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
دین کے احکامات رسول اللہ کی حیات میں کچھ تھے اور اس کے بعد بدل گئے !!!!!!
کیا اب ان بدلے ہوئے احکامات کی پیروی کی جائے گی ؟؟؟؟؟

جبکہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کو بہترین نمونہ قرار دیتا
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
دین کے احکامات رسول اللہ کی حیات میں کچھ تھے اور اس کے بعد بدل گئے !!!!!!
کیا اب ان بدلے ہوئے احکامات کی پیروی کی جائے گی ؟؟؟؟؟

جبکہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کو بہترین نمونہ قرار دیتا
یہ دین کا حکم نہیں ہے۔ جس کی ہم بات کر رہے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بذریعہ وحی رہنمائی کی بات ہے۔
رسول کی حیات میں جو معاملات ان کے ساتھ کئے جاتے تھے، ان میں سے بعض ان کی وفات کے بعد ممکن نہیں۔ کیونکہ وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور وہ ہماری نظروں کے سامنے نہیں۔
مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کوئی مسئلہ ہوتا تھا تو ان سے براہ راست پوچھ لیتے تھے۔ اب کوئی ان کی قبر پر جا کر پوچھنا شروع کر دے،اور اسے روکا جائے تو وہ آپ ہی کے الفاظ میں کہے کہ:

دین کے احکامات رسول اللہ کی حیات میں کچھ تھے اور اس کے بعد بدل گئے !!!!!!
تو ظاہر ہے یہ بداہتاً باطل بات ہے۔ دین نہیں بدلا ہے۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے جانے والے معاملات اور ان سے طرز کلام وغیرہ بدلا ہے۔ مثلاً اُس دور میں صحابہ، اللہ کے رسول کو یا رسول اللہ کر کے بلاتے تھے یا ان سے دنیاوی معاملات میں مدد طلب کرتے تھے تو درست تھا۔ آج جو لوگ انہیں حاضر جان کر انہیں خطاب کرتے ہیں، یا ان سے مدد چاہتے ہیں، وہ قطعاً غیر شرعی عمل میں ملوث ہیں۔ علیٰ ھذا القیاس۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
"اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں "
جیسا کہ آپ کا دعوٰی ہے۔۔۔
ماضی میں کھوکھلے دعوؤں کی طرح۔۔۔
تو اس کا جواب یہ ہے جب غزوہ بدر میں عذاب درخت تک آچکا تھا۔۔۔
مگر اس عذاب سے بقول لسان رسول صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ محفوظ رہتے۔۔۔
کیونکہ اُن کا واحد کا فیصلہ یہ تھا کہ قید میں آنے والے ہر شخص کو اس کا رشتہ دار خود قتل کرے لیکن اُن کی رائے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔۔۔ واقعہ بڑا دلچسپ ہے مجلس پر میں نے لگایا ہوا ہے کے عذاب آچکا تھا درخت تک اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بعد میں اس کا علم ہوا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ تم صحیح تھے۔۔۔ یعنی اس پورے واقعے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟؟؟۔۔۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
جیسا کہ آپ کا دعوٰی ہے۔۔۔
ماضی میں کھوکھلے دعوؤں کی طرح۔۔۔
تو اس کا جواب یہ ہے جب غزوہ بدر میں عذاب درخت تک آچکا تھا۔۔۔
مگر اس عذاب سے بقول لسان رسول صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ محفوظ رہتے۔۔۔
کیونکہ اُن کا واحد کا فیصلہ یہ تھا کہ قید میں آنے والے ہر شخص کو اس کا رشتہ دار خود قتل کرے لیکن اُن کی رائے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔۔۔ واقعہ بڑا دلچسپ ہے مجلس پر میں نے لگایا ہوا ہے کے عذاب آچکا تھا درخت تک اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بعد میں اس کا علم ہوا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ تم صحیح تھے۔۔۔ یعنی اس پورے واقعے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟؟؟۔۔۔

''پھر جب اِن منکرین حق سے تمھاری مڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب اِن کا خون اچھی طرح بہادو تو اِنھیں مضبوط باندھ لو۔ اِس کے بعد یا تو احسان کر کے چھوڑنا ہے یا فدیہ لے کر رہا کر دینا ہے، اُس وقت تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔''

(محمد ٤٧:٤)
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
جیسا کہ آپ کا دعوٰی ہے۔۔۔
ماضی میں کھوکھلے دعوؤں کی طرح۔۔۔
تو اس کا جواب یہ ہے جب غزوہ بدر میں عذاب درخت تک آچکا تھا۔۔۔
مگر اس عذاب سے بقول لسان رسول صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ محفوظ رہتے۔۔۔
کیونکہ اُن کا واحد کا فیصلہ یہ تھا کہ قید میں آنے والے ہر شخص کو اس کا رشتہ دار خود قتل کرے لیکن اُن کی رائے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔۔۔ واقعہ بڑا دلچسپ ہے مجلس پر میں نے لگایا ہوا ہے کے عذاب آچکا تھا درخت تک اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بعد میں اس کا علم ہوا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ تم صحیح تھے۔۔۔ یعنی اس پورے واقعے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟؟؟۔۔۔
اس واقع کی قلعی تو قرآنی آیت پر غور کرنے سے ہی کھل جائے گی جس آیت قرآنی کو بنیاد بناکر یہ قصہ خلیفہ دوم کے مناقب میں بیان کیا جاتا ہے
اللہ تعالیٰ سورہ انفال میں ارشاد فرماتا ہے کہ
کسی نبی کو لائق نہیں کہ کافروں کو زندہ قید کرے جب تک زمین میں ان کا خون خوب نہ بہائے تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے
الانفال 8 : 67
( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )

اس آیت پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آیت کسی ایسے معرکے میں کہ جس میں قتال کی نوبت نہیں آئی اور کافروں کو زندہ قید کیا گیا کے بارے میں نازل ہوئی ہے نہ کہ جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں کہ جس میں ستر 70 کے قریب کافروں کو قتل کیا گیا اور ان کافروں کا خوب خون بہانے کے بعد تقریبا 70 کافروں کو زندہ قید کیا گیا اس لئے بہتر یہی ہے کہ اس آیت کا اطلاق جنگ بدر کے قیدیوں کے لئے نہ کیا جائے اس کے لئے سورہ محمد کی درج بالا آیت زیادہ مناسب ہے
ویسے آپس کی بات ہے کہ جنگ بدر میں خلیفہ دوم نے کتنے کفار قریش کو قتل کیا ؟
دوسری بات یہ کہ جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے فدیہ لے کر چھوڑنے کا مشورہ تو خلیفہ اول نے ہی دیا تھا کیا آپ کے علم میں ہے کہ خلیفہ اول نے جنگ بدر میں کتنے کفار قریش کو قتل کیا ویسے ہی اپنی معلومات کے لئے پوچھ رہا ہوں
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
دوسری بات یہ کہ جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے فدیہ لے کر چھوڑنے کا مشورہ تو خلیفہ اول نے ہی دیا تھا کیا آپ کے علم میں ہے کہ خلیفہ اول نے جنگ بدر میں کتنے کفار قریش کو قتل کیا ویسے ہی اپنی معلومات کے لئے پوچھ رہا ہوں
محترم ہمارا موضوع کیا تھا؟؟؟۔۔۔
یادہانی کے لئے میں یہاں پر اس کا ٹائٹل دوبارہ پیش کردوں؟؟؟۔۔۔
اللہ اعلم یا اللہ ورسولہ اعلم۔۔۔
میں نے جو واقعہ آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔۔۔
وہ اس پورے عقیدے کو باطل قرار دینے کے لئے کافی ہے۔۔۔رسولہ اعلم۔۔۔
جیسا کے شاکر بھائی تھوڑا سا خلاصہ پیش کیا تھا ملاحظہ کیجئے۔۔۔
مثلاً اُس دور میں صحابہ، اللہ کے رسول کو یا رسول اللہ کر کے بلاتے تھے یا ان سے دنیاوی معاملات میں مدد طلب کرتے تھے تو درست تھا۔ آج جو لوگ انہیں حاضر جان کر انہیں خطاب کرتے ہیں، یا ان سے مدد چاہتے ہیں، وہ قطعاً غیر شرعی عمل میں ملوث ہیں۔ علیٰ ھذا القیاس۔
اسی طرح میں دوسرا واقعہ بیان کردوں۔۔۔
جب منافقوں نے اُمت مسلمہ کی ماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت لگائی۔۔۔
تو اُس وقت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کیفیات گذری تھیں وہ سب کیا تھیں۔۔۔
اللہ وحدہ لاشریک مشکل کشاء نے وحی کے ذریعہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقت سے آگاہ کیا۔۔۔
اب بقول آپ کے رسولہ اعلم کا عقیدہ اگر درست ہوتا تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو تشفی اللہ کی طرف سے۔۔۔
جو آیات اُمت کی ماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامی پر گواہی کے لئے نازل فرمائیں جو قیامت تک تلاوت کی جائیں گی (سبحان اللہ)۔۔۔
تو اس کے نزول کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ یہیں سے آپ کا پیش کردہ عقیدہ ورسول اللہ اعلم آپ کے مذہب شیعہ کی طرح باطل ہوجاتا ہے۔۔۔
یاد رکھیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی اللہ تعالٰی واقعات اور معاملات وحی کے ذریعے سے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں لاتے۔۔۔

کسی نبی کے پاس غیب کا علم نہیں ہے۔۔۔
تو جب کسی نبی کے پاس علم غیب نہیں تو پھر بندوں میں سے جن جن کو مشکل کشا یا المدد کے کھوکھلے نعروں سے پکارا جاتا ہے۔۔۔
یہ سب باطل افکار اور خود ساختہ نظریہ ہے۔۔۔ جس سے دین اسلام برآت کا اظہار کرتا ہے۔۔۔
اب جس عقیدے سے دین اسلام برآت کا اظہار کرے تو اس عقیدے سے مسلمان کا کوئی تعلق نہیں۔۔۔
لیکن اگر کوئی شخص خود کو مسلمان سمجھے اور اِن عقائد کو تسلیم کرے تو فیصلہ قاری پر۔۔۔
دوسری سب سے اہم بات جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبزول کروادوں۔۔۔
آپ کوشش کیا کیجئے کے موضوع میں ہی رہا کریں۔۔۔
بدر میں کس نے کتنے کفار کو قتل کیا یہ دوسرا موضوع ہے۔۔۔
خلیفہ اول یا خلیفہ دوم کی بات بیچ میں کہاں سے آگئی۔۔۔
یہ غلط روش ہے علمی مباحث میں یہ بچکانہ حرکتیں کم سے کم آپ کو زیب نہیں دیتیں۔۔۔
مجھے پوری اُمید ہے کہ آئندہ آپ اس نقطے کو سامنے رکھتے ہوئے۔۔۔
خیال کریں گے۔۔۔
شکریہ۔۔۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
محترم ہمارا موضوع کیا تھا؟؟؟۔۔۔
یادہانی کے لئے میں یہاں پر اس کا ٹائٹل دوبارہ پیش کردوں؟؟؟۔۔۔
اللہ اعلم یا اللہ ورسولہ اعلم۔۔۔
میں نے جو واقعہ آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔۔۔
وہ اس پورے عقیدے کو باطل قرار دینے کے لئے کافی ہے۔۔۔رسولہ اعلم۔۔۔
جیسا کے شاکر بھائی تھوڑا سا خلاصہ پیش کیا تھا ملاحظہ کیجئے۔۔۔
یادہانی کا شکریہ مگر میری جس پوسٹ پر آپ نے یہ یاد ہانی کی ہے وہ آپ کی اس پوسٹ کا جواب تھا جس واقعہ کو آپ بڑا دلچسپ واقعہ بتا رہیں ہیں

جیسا کہ آپ کا دعوٰی ہے۔۔۔
ماضی میں کھوکھلے دعوؤں کی طرح۔۔۔
تو اس کا جواب یہ ہے جب غزوہ بدر میں عذاب درخت تک آچکا تھا۔۔۔
مگر اس عذاب سے بقول لسان رسول صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ محفوظ رہتے۔۔۔
کیونکہ اُن کا واحد کا فیصلہ یہ تھا کہ قید میں آنے والے ہر شخص کو اس کا رشتہ دار خود قتل کرے لیکن اُن کی رائے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔۔۔ واقعہ بڑا دلچسپ ہے مجلس پر میں نے لگایا ہوا ہے کے عذاب آچکا تھا درخت تک اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بعد میں اس کا علم ہوا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ تم صحیح تھے۔۔۔ یعنی اس پورے واقعے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟؟؟۔۔۔
جہاں تک بات ہے اس عقیدے کی کہ
اللہ اعلم یا اللہ ورسولہ اعلم

تو یہ عقیدہ صحابہ کو عقیدہ ہے جس کی دلیل میں آپ کی قرآن کے بعد اصح ترین کتاب سے پیش کرچکا لیکن اس کے جواب میں اب تک صرف نری عقلی دلیل ہی پیش کی گئی ہے منکر حدیث کی طرح اور جن واقعات کی طرف آپ اشارہ فرمارہیں ہیں وہ تمام واقعات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ہی کے واقعات ہیں اگر بلفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ صحابہ کا یہ عقیدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات تک ہی محدود تھا تو پھر ان تمام قصوں سے جو دلیل آپ قائم کرنا چاہتے ہیں وہ دلیل تو کوئی ذی شعور نہیں مانے گا ۔
اسی طرح میں دوسرا واقعہ بیان کردوں۔۔۔
جب منافقوں نے اُمت مسلمہ کی ماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت لگائی۔۔۔
تو اُس وقت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کیفیات گذری تھیں وہ سب کیا تھیں۔۔۔
اللہ وحدہ لاشریک مشکل کشاء نے وحی کے ذریعہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقت سے آگاہ کیا۔۔۔
اب بقول

آپ کے رسولہ اعلم کا عقیدہ اگر درست ہوتا تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو تشفی اللہ کی طرف سے۔۔۔
جو آیات اُمت کی ماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامی پر گواہی کے لئے نازل فرمائیں جو قیامت تک تلاوت کی جائیں گی (سبحان اللہ)۔۔۔


تو اس کے نزول کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ یہیں سے آپ کا پیش کردہ عقیدہ ورسول اللہ اعلم آپ کے مذہب شیعہ کی طرح باطل ہوجاتا ہے۔۔۔
یاد رکھیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی اللہ تعالٰی واقعات اور معاملات وحی کے ذریعے سے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں لاتے۔۔۔

کسی نبی کے پاس غیب کا علم نہیں ہے۔۔۔
تو جب کسی نبی کے پاس علم غیب نہیں تو پھر بندوں میں سے جن جن کو مشکل کشا یا المدد کے کھوکھلے نعروں سے پکارا جاتا ہے۔۔۔
یہ سب باطل افکار اور خود ساختہ نظریہ ہے۔۔۔ جس سے دین اسلام برآت کا اظہار کرتا ہے۔۔۔
اب جس عقیدے سے دین اسلام برآت کا اظہار کرے تو اس عقیدے سے مسلمان کا کوئی تعلق نہیں۔۔۔
لیکن اگر کوئی شخص خود کو مسلمان سمجھے اور اِن عقائد کو تسلیم کرے تو فیصلہ قاری پر۔۔۔
دوسری سب سے اہم بات جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبزول کروادوں۔۔۔
آپ کوشش کیا کیجئے کے موضوع میں ہی رہا کریں۔۔۔
بدر میں کس نے کتنے کفار کو قتل کیا یہ دوسرا موضوع ہے۔۔۔
خلیفہ اول یا خلیفہ دوم کی بات بیچ میں کہاں سے آگئی۔۔۔
یہ غلط روش ہے علمی مباحث میں یہ بچکانہ حرکتیں کم سے کم آپ کو زیب نہیں دیتیں۔۔۔
مجھے پوری اُمید ہے کہ آئندہ آپ اس نقطے کو سامنے رکھتے ہوئے۔۔۔
خیال کریں گے۔۔۔
شکریہ۔۔۔
جب آدمی کے پاس کہنے کے کچھ نہیں ہوتا تو سامنے والے کے جوابات کو ایسی طرح بچکانہ حرکتیوں سے تعبیر کرتا ہے
یہاں ہم اس بات پر بحث نہیں کررہے ہیں کہ یہ عقیدہ ]اللہ اعلم یا اللہ ورسولہ اعلم شیعہ کا عقیدہ ہے یا سنی کا اور ہر جگہ فرقہ واریت کی بات لے آتے ہیں جب کہ میرے علم کے مطابق آج بھی کئی سنی عالم اپنے فتوہ کے آخر میں یہی لکھتے ہیں ]اللہ اعلم یا اللہ ورسولہ اعلم اگر آپ کہے تو میں لنک بھی پیش کرسکتا ہوں
جب آپ شاکر صاحب کے اس قول کی تائید کرتے ہیں کہ صحابہ کا یہ عقیدہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات تک ہی محدود تھا اور یہ تمام واقعات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ہی کے واقعات ہیں اور اس وقت بھی صحابہ کا یہی ایمان ہوگا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذیادہ جانتے ہیں پھر ان واقعات کو اس عقیدے کے رد میں بیان کرنے کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے !!!!
میرا بھی آپ کو یہی مشورہ ہے کہ آپ بھی کوشش کیا کیجئے کے موضوع میں ہی رہا کریں اور کوئی ایسی بات نہ کریں جس کا موضوع سے تعلق نہ ہو ورنہ پھر اس کا جواب دیا جائے گا تو آپ ہی کہو گے کہ موضوع میں ہی رہا کریں ۔
لگتا ہے خلیفہ اول یا خلیفہ دوم والی بات کا آپ کے پاس کوئی جواب نہیں !! یہ میری خام خیالی بھی ہوسکتی ہے !!!!
 
Top