• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ اعلم یا اللہ و رسولہ اعلم؟؟؟

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,523
پوائنٹ
304
آتا کیا گیا نہیں بلکہ عطاء کیا گیا ہے ! درست فرمالیں
آپ یہ فرماتے ہو کہ یہ عموعی علم عطاء کیا گیا مگر داؤد راز صاحب فرماتے ہیں کہ ساری تفصیل کے ساتھ علم عطاء کیا گیا یہ ہے وہ تضاد جس کی نشاندہی میں پہلے بھی کرچکا ہوں لیکن لگتا ہے آپ میری پوسٹوں کو پڑھے بغیر ہی جوابات دیتے ہیں اس لئے عرض ہے کہ پہلے میری پوسٹوں کو بغور پڑھ لیں شکریہ



کیا غزوہ بدر سے متعلق وہ صحیح حدیث آپ کے ذہین میں نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے ہی بتادیا تھا اس جنگ میں فلاں کافر اس جگہ مارا جائے گا فلاں کافر اس جگہ مارا جائے گا اور جنگ کے بعد صحابہ بتاتے ہیں کہ جس کافر کے مارےجانے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو جگہ بتائی تھی وہ کافر وہیں مارا گیا
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جنگ سے پہلے اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگنا امت کی تعلیم کے لئے بھی ہوسکتا ہے اس سے وہ معنی مراد نہیں لئے جاسکتے جو آپ لے رہیں ہیں کیونکہ یہ بات طے ہوچکی کہ صحابہ کا یہ کہنا کہ اللہ اور اس کے رسول ذیادہ جانتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات تک درست تھا اور یہ دونوں واقعات جن کی آپ نے نشاندہی کی ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ہی کے واقعات ہیں اس لئے ان واقعات سے آپ کا استدلال کرنا باطل ہوجاتا ہے


اس آیات کریمہ میں صرف إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ پر غور کرلیا جائے تو آپ کی سمجھ میں اس آیت کا صحیح مفہوم آجائے گا
ایک چھوٹی سی مثال اس کے لئے کافی ہوگی
اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ۰۰۱
صحیح بخاری میں اس کی تفسیر
ترجمہ از داؤد راز
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سے ابوالبشر نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے "کوثر" کے متعلق کہ وہ خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔ ابو بشر نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے عرض کی، لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے جنت کی ایک نہر مراد ہے؟ سعید نے کہا کہ جنت کی نہر بھی اس خیر کثیر میں سے ایک ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔
حدیث نمبر: 4966
یہ ہے إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ کا صحیح مفہوم کہ خیر کثیر کہ جس میں نہر جنت بھی شامل ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطاء کردی گئی ہے اور خیر کثیر کو سمجھنے کے لئے اتنا ہی عرض کروں گا کہ جس خیر کو اللہ تعالیٰ کثیر کہے اس کی انتہا کیا ہوگی کیونکہ اللہ کی قلیل عطاء کو بھی ہم شمار نہیں کرسکتے ۔
اللہ اور اس کے رسول ذیادہ جانتے ہیں
یہ داود راز صاحب کا اپنا فہم ہے - نبی کریم صل الله علیہ وسلم کا اپنا بیان نہیں -نا ہی کسی صحابی کا بیان ہے کہ اس پر ا عتماد کیا سکے- کہ جو باتیں نبی کریم صل الله وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو بتائیں وہ کیا تھیں - زیادہ سے زیادہ ہم یہی کہ سکتے ہیں کہ وہ آدم اور بنی آدم سے لے کراس کے انجام تک عمومی باتیں تھیں - نا کہ تفصیلی باتیں- حدیث کے آخری الفاظ ہیں حفظ ذلك من حفظه،‏‏‏‏ ونسيه من نسيه‏ - جسے اس نے حدیث کو یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا۔ سوال ہے کس نے اس کی یاد رکھا اور کون بھول گیا - جس نے یاد رکھا اس نے اس کو آگے کیوں نہیں پہنچایا -؟؟؟ کیا نبی صل الله علیہ وسلم کی باتیں اتنی غیرضروری تھیں کہ آگے نا پہنچائی جاسکتیں ؟؟؟

جہاں تک غزوہ بدر کا تعلق ہے تو حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ صل الله علیہ وسلم نے الله سے یہ بھی فرمایا تھا کہ "اے الله اگر آج کفار غالب آ گئے تو اس دنیا میں تیرا نام لیوا کوئی نہ ہو گا" - یعنی الله کے نبی کو بھی اس جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ فتح کس کی ہو گی اہل حق کی یا اہل باطل کی ؟؟؟ - آپ صل الله علیہ وسلم کی دعا کے نتیجے میں ہی الله نے خوشخبری دی کہ فتح اہل حق کی ہو گی -

جہاں تک إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ کی تفسیر تا تعلق ہے اس میں کویہ شک نہیں کہ ہم که سکتے ہیں کہ اس سے مراد خیر کثیر ہے - لیکن افسوس کہ آپ نے صرف اسی ایک حصہ کو لیکر معنی اخذ کرنا شروع کردیے - بغیر یہ سوچے سمجھے کہ آیت کے اگلے حصّے میں الله رب العزت یہ فرما رہا ہے کہ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ کہہ دو اگر میں غیب کی بات جان سکتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا - یعنی میرے اختیار میں کچھ نہیں - خیر کثیر کے ساتھ اگر مجھے تکلیفوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس لئے کہ میں نہیں جنتا کہ مستقبل میں میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے ؟؟؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ خیر کثیر سے مراد علم غیب نہیں -

ساتھ یہ آیت بھی ذہن میں رکھیں جس کا حکم ہر انسان بشمول انبیاء پر بھی لاگو ہے-

وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ سوره تکویر ٢٩
نہیں ہوتا تمھارے چاہنے سے کچھ بھی مگر وہی کچھ جو تمام جہان کا رب چاہے -
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,149
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
یعنی جب جواب دیا جاتا ہے تو فرماتے ہیں کہ اس کی ضرورت ہی نہیں تھی یہ ہے وہ ردعمل جو آپ لی طرف سے آتا ہے
یہ ہے ابتسامہ کا صحیح موقع
لیکن شاید آپ نے میرے جواب کے ساتھ میری عرض پر توجہ نہیں دی۔۔۔
اگر آپ میری عرض پر توجہ دیتے تو اعتراض کے بجائے جو آپ کی گھٹی میں شامل ہے وہ شاید نہ کرتے بلکہ جواب دیتے۔۔۔
لیکن مجھےاُمید ہے کہ آپ میرے سوال کا مدلل جواب دیں گے جو سوال میں نے آپ کی عرض میں پیش کئے تھے۔۔۔
ملاحظہ کیجئے!۔
پہلی علم دوسری غیب۔۔۔
پھر آگے بڑھتے ہیں ان شاء اللہ۔۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
یہ داود راز صاحب کا اپنا فہم ہے - نبی کریم صل الله علیہ وسلم کا اپنا بیان نہیں -نا ہی کسی صحابی کا بیان ہے کہ اس پر ا عتماد کیا سکے- کہ جو باتیں نبی کریم صل الله وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو بتائیں وہ کیا تھیں - زیادہ سے زیادہ ہم یہی کہ سکتے ہیں کہ وہ آدم اور بنی آدم سے لے کراس کے انجام تک عمومی باتیں تھیں - نا کہ تفصیلی باتیں- حدیث کے آخری الفاظ ہیں حفظ ذلك من حفظه،‏‏‏‏ ونسيه من نسيه‏ - جسے اس نے حدیث کو یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا۔ سوال ہے کس نے اس کی یاد رکھا اور کون بھول گیا - جس نے یاد رکھا اس نے اس کو آگے کیوں نہیں پہنچایا -؟؟؟ کیا نبی صل الله علیہ وسلم کی باتیں اتنی غیرضروری تھیں کہ آگے نا پہنچائی جاسکتیں ؟؟؟
داؤد راز صاحب کے فہم سے آپ متفق نہیں کہ ساری تفصیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کردی اور پھر جو لوگ آپ کی فہم سے متفق نہیں تو ان کا کیا قصور ہے
تو پھر آپ ہی اس حدیث سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد بیان فرمادیں کہ یہ عموعی علم کی تفصیل تھی

جہاں تک بات ہے کہ کس نے اس حدیث کو یاد رکھا تو اس کے میں پہلے ہی عرض کرچکا کہ اہل سنت کی کتب حدیث کے مطالعہ سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ ایک ہستی ضرور ہے جس نے اس حدیث کو یاد رکھا اور انھوں نے بھی سلونی کا نعرہ لگایا کہ جو چاہو مجھے سے پوچھ لو آپ جیسے صاحب علم سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہوگی !!!
جہاں تک غزوہ بدر کا تعلق ہے تو حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ صل الله علیہ وسلم نے الله سے یہ بھی فرمایا تھا کہ "اے الله اگر آج کفار غالب آ گئے تو اس دنیا میں تیرا نام لیوا کوئی نہ ہو گا" - یعنی الله کے نبی کو بھی اس جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ فتح کس کی ہو گی اہل حق کی یا اہل باطل کی ؟؟؟ - آپ صل الله علیہ وسلم کی دعا کے نتیجے میں ہی الله نے خوشخبری دی کہ فتح اہل حق کی ہو گی -
یہ بات امت کی تعلیم کے لئے بھی ہوسکتی ہے ضروری نہیں کہ آپ جو اپنی فہم سے اس کی وضاحت کررہے ہیں وہی صحیح ہو
جہاں تک إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ کی تفسیر تا تعلق ہے اس میں کویہ شک نہیں کہ ہم که سکتے ہیں کہ اس سے مراد خیر کثیر ہے - لیکن افسوس کہ آپ نے صرف اسی ایک حصہ کو لیکر معنی اخذ کرنا شروع کردیے - بغیر یہ سوچے سمجھے کہ آیت کے اگلے حصّے میں الله رب العزت یہ فرما رہا ہے کہ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ کہہ دو اگر میں غیب کی بات جان سکتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا - یعنی میرے اختیار میں کچھ نہیں - خیر کثیر کے ساتھ اگر مجھے تکلیفوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس لئے کہ میں نہیں جنتا کہ مستقبل میں میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے ؟؟؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ خیر کثیر سے مراد علم غیب نہیں -
یاد رہے یہاں ہم قول صحابہ "اللہ اور اس کے رسول ذیادہ جانتے " پر بات کررہے ہیں نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ علم غیب پر نہیں اس لئے بہتر ہوگا کہ آپ اس پر اپنے دلائل قرآن و حدیث سے بیان فرمائیں
اور جہاں تک بات ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مستقبل کے جاننے کی تو یہ جنتی اور جہنمی ہونے کی خبر تو تو دوسرے کے بارے میں جانتے ہیں اور اپنے ہی مستقبل کی خبر نہیں یہ ہے آپ کی فہم کا معیار
انا للہ وانا الیہ راجعون

ساتھ یہ آیت بھی ذہن میں رکھیں جس کا حکم ہر انسان بشمول انبیاء پر بھی لاگو ہے-

وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ سوره تکویر ٢٩
نہیں ہوتا تمھارے چاہنے سے کچھ بھی مگر وہی کچھ جو تمام جہان کا رب چاہے -
یہی بات میں آپ کے گوش گذار کرچکا کہ اللہ کے چاہنے سے ہی سب کچھ ہوتا ہے اور اللہ نے جو چاہا اس کو آپ ماننے کو تیار نہیں
ایک بار پھر سورہ کوثر کی پہلی آیت کی تلاوت فرمالیں آپ کی سمجھ میں آجائے گا
 
Top