محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
کسی تاویل ہی کی توقع ہو سکتی ہے۔ کیونکہ حدیث کے مقابلے میں اپنے مسلک کے خلاف چلنا مقلدین کے بس کی بات نہیں ہوتی الا ما شاء اللہ۔ جسے اللہ ہدایت نصیب فرما دے۔
کسی تاویل کی کوئی ضرورت ہی نہیں کیونکہ یہ نصوص خود اضطراب کا موجب ہیںکسی تاویل ہی کی توقع ہو سکتی ہے۔ کیونکہ حدیث کے مقابلے میں اپنے مسلک کے خلاف چلنا مقلدین کے بس کی بات نہیں ہوتی الا ما شاء اللہ۔ جسے اللہ ہدایت نصیب فرما دے۔
کسی تاویل کی کوئی ضرورت ہی نہیں کیونکہ یہ نصوص خود اضطراب کا موجب ہیں
کسی میں ہے کہ اللہ سات آسمانوں کے اوپر عرش پر مستوی ہے۔
کسی میں ہے کہ وہ آسمان میں ہے اور آسمان عرش نہیں ۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہالیجیے ہو گیا شروع عقل کا اندھیرا۔
مسلکی تعصب کی عینک نہ اترے تو
نصوص صریحہ و صحیحہ کبھی بھی سمجھ میں نہیں آ سکتیں
تطبیق کرنا تو دُور دُور کی بات بھی دکھائی نہیں دیتی
البتہ
نصوصِ صریحہ و صحیحہ ہی میں کیڑے نظر آتے ہیں۔
اسی لئے
اعلی حضرت فرماتے ہیں:
اللہ تعالی عرش پر مستوی ہیں اور عرش آسمان پر ہے ۔کسی تاویل کی کوئی ضرورت ہی نہیں کیونکہ یہ نصوص خود اضطراب کا موجب ہیں
کسی میں ہے کہ اللہ سات آسمانوں کے اوپر عرش پر مستوی ہے۔
کسی میں ہے کہ وہ آسمان میں ہے اور آسمان عرش نہیں ۔
ساتھ میں خود امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے تاویل بھی کی ہے کہ معیت کو معیت علمی کے معنی میں لیا ہے ۔