lovelyalltime
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 28، 2012
- پیغامات
- 3,735
- ری ایکشن اسکور
- 2,899
- پوائنٹ
- 436
۔۔۔۔۔۔۔۔

ابراہیم میر سیالکوٹی مزید فرماتے ہیں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی شان میں۔"(3) اسی طرح حافظ ذہبی رحمہ اللہ آپ (امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ) کی جلالت شان کے بدل قائل ہیں چنانچہ آپ اپنی مایہ ناز کتاب میزان الاعتدال کے شروع میں فرماتے ہیں۔
"اور اسی طرح میں اس کتاب میں ان ائمہ کا زکر نہیں کروں گا جن کی احکام شریعت فروع میں پیروی کی جاتی ہے کیونکہ ان کی شان اسلام میں بہت بڑی ہے اور مسلمانوں کے دلوں میں ان کی عظمت بہت ہے۔مثلا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ اور امام بخاری رحمہ اللہ"(میزان الاعتدال جلد اول صفحہ 3 مطبوعہ لکھنئو)
اسی طرح حافظ ذہبی اپنی دوسری کتاب "تذکرۃ الحفاظ" میں آپ کے ترجمہ کے عنوان کو معزز لقب امام اعظم سے مزین کرکے آپ کا جامع اوصاف حسنہ ہونا ان الفاظ میں ارقام فرماتے ہیں
" وکان اماما ، ورعا عالما عاملا متعبد اکبیرالشان۔۔۔۔۔۔۔الخ"
"آپ دین کے پیشوا صاحب ورع ،نہایت پرہیزگار،عالم باعمل تھے، ریاضت کش عبادت گزار تھے ،بڑی شان والے تھے، بادشاہوں کے انعامات قبول نہیں کرتے تھے بلکہ تجارت کرکے اور اپنی روزی کما کر کھاتے تھے۔"
"سبحان اللہ کیسے مختصر الفاظ میں کس خوبی سے ساری حیات طیبہ کا نقشہ سامنے رکھ دیا ہے اور آپ (امام اعظم رحمہ اللہ) کی زندگی کے ہر علمی اور عملی شعبہ اور قبولیت عامہ اور غنائے قلبی اور حکام و سلاطین سے بے تعلقی وغیرہ وغیرہ فضائل میں سے کسی ضروری امر کو چھوڑ نہیں رکھا۔اسی طرح اسی کتاب میں امام یحیٰ بن معین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا
"امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ میں کوئی عیب نہیں اور آپ کسی برائی سے متہم نہ تھے"
مولانا داؤد غزنوی فرماتے ہیں
"ائمه دین ، نے جو دین کی خدمت کی ہے امت قیامت تک ان کے احسان سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتی ہمارے نزدیک ائمه دین کے لئے جو شخص سوء ظن رکھتا ہے یا زبان سے ان کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کے الفاظ استعمال کرتا ہے یہ اس کی شقاوت قلبی کی علامت ہے اور میرے نزدیک اسکے سوء خاتمہ کا خوف ہے
ہمارے نزدیک ائمه دین کی ہدایت و درایت پر امت کا اجماع ہے
(داؤد غزنوی ص373)
"الناس فی ابی حنیفة حاسد او جاھل" یعنی حضرت امام اعظم ابو حنیفه رحمه الله کے حق میں بری رائے رکھنے والے کچھ لوگ تو حاسد ہیں اور کچھ انکے مقام سے بے خبر ہیں (داؤد غزنوی صفحہ 378)
محترم بھائی۔اشماریہ بھائی کیا کہیں گے آپ یہاں - مقصد تنقید کرنا نہیں - صرف یہ پوچھنا ہے کہ کیا یہ حوالے صحیح سند سے ثابت ہیں یا نہیں -