• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم اُحد کے بعد کی فوجی مہمات

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اُحد کے بعد کی فوجی مہمات

مسلمانوں کی شہرت اور ساکھ پر احد کی ناکامی کا بہت برا اثر پڑا۔ ان کی ہوا اکھڑ گئی، اور مخالفین کے دلوں سے ان کی ہیبت جاتی رہی۔ اس کے نتیجے میں اہل ایمان کی داخلی اور خارجی مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔ مدینے پر ہر جانب سے خطرات منڈلانے لگے۔ یہود، منافقین اور بدّوؤں نے کھُل کر عداوت کا مظاہرہ کیا، اور ہر گروہ نے مسلمانوں کو زک پہنچانے کی کوشش کی۔ بلکہ یہ توقع باندھ لی کہ وہ مسلمانوں کا کام تمام کر سکتا ہے۔ اور انہیں بیخ و بن سے اکھاڑ سکتا ہے۔ چنانچہ اس غزوے پر ابھی دو مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ بنو اَسَد نے مدینے پر چھاپہ مارنے کی تیاری کی۔ پھر صفر ۴ھ میں عضل اور قارہ کے قبائل نے ایک ایسی مکارانہ چال چلی کہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جامِ شہادت نوش کرنا پڑا۔ اور ٹھیک اسی مہینے میں رئیس بنو عامر نے اسی طرح کی ایک دغا بازی کے ذریعے ستر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شہادت سے ہمکنار کرایا۔ یہ حادثہ بئر معونہ کے نام سے معروف ہے۔ اس دوران بنو نَضِیر بھی کھُلی عداوت کا مظاہرہ شروع کر چکے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ربیع الاول ۴ھ میں خود نبی کریم ﷺ کو شہید کرنے کی کوشش کی۔ ادھر بنو غطفان کی جرأت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ انہوں نے جمادی الاولیٰ ۴ھ میں مدینے پر حملہ کا پروگرام بنایا۔
غرض مسلمانوں کی جو ساکھ غزوہ احد میں اُکھڑ گئی تھی اس کے نتیجے میں مسلمان ایک مدت تک پیہم خطرات سے دوچار رہے، لیکن وہ تو نبی کریم ﷺ کی حکمت بالغہ تھی جس نے سارے خطرات کا رُخ پھیر کر مسلمانوں کی ہیبتِ رفتہ واپس دلا دی۔ اور انہیں دوبارہ مجد و عزت کے مقامِ بلند تک پہنچا دیا۔ اس سلسلے میں آپ کا سب سے پہلا قدم حمراء الاسد تک مشرکین کے تعاقب کا تھا۔ اس کارروائی سے آپ کے لشکر کی آبرو بڑی حد تک برقرار رہ گئی۔ کیونکہ یہ ایسا پر وقار اور شجاعت پر مبنی جنگی اقدام تھا کہ مخالفین خصوصاً منافقین اور یہود کا منہ حیرت سے کھُلے کا کھلا رہ گیا۔ پھر آپ ﷺ نے مسلسل ایسی جنگی کارروائیاں کیں کہ ان سے مسلمانوں کی صرف سابقہ ہیبت ہی بحال نہیں ہوئی بلکہ اس میں مزید اضافہ بھی ہو گیا۔ اگلے صفحات میں انہی کا کچھ تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۱۔ سریۂ ابو سلمہ:
جنگ اُحد کے بعد مسلمانوں کے خلاف سب سے پہلے بنو اسد بن خزیمہ کا قبیلہ اٹھا۔ اس کے متعلق مدینے میں یہ اطلاع پہنچی کہ خُویلِد کے دو بیٹے طلحہ اور سلمہ اپنی قوم اور اپنے اطاعت شعاروں کو لے کر بنو اسد کو رسول اللہ ﷺ پر حملے کی دعوت دیتے پھر رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جھٹ ڈیڑھ سو انصار و مہاجرین کا ایک دستہ تیار فرمایا۔ اور حضرت ابو سلمہؓ کو اس کا عَلَم دے کر اور سپہ سالار بنا کر روانہ فرمادیا۔ حضرت ابو سلمہؓ نے بنو اسد کے حرکت میں آنے سے پہلے ہی ان پر اس قدر اچانک حملہ کیا کہ وہ بھاگ کر اِدھر اُدھر بکھر گئے۔ مسلمانوں نے ان کے اونٹ اور بکریوں پر قبضہ کر لیا۔ اور سالم و غانم مدینہ واپس آ گئے۔ انہیں دوبُدو جنگ بھی نہیں لڑنی پڑی۔
یہ سریہ محرم ۴ھ کا چاند نمودار ہونے پر روانہ کیا گیا تھا۔ واپسی کے بعد حضرت ابو سلمہؓ کا ایک زخم -جو انہیں اُحد میں لگا تھا - پھُوٹ پڑا اور اس کی وجہ سے وہ جلد ہی وفات پا گئے۔ (زادا لمعاد ۲/۱۰۸)
۲۔ عبد اللہ بن اُنیسؓ کی مہم:
اسی ماہ محرم ۴ھ کی ۵ تاریخ کو یہ خبر ملی کہ خالد بن سفیان ہُذلی مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے فوج جمع کر رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے خلاف کارروائی کے لیے عبد اللہ بن اُنیسؓ کو روانہ فرمایا۔
عبد اللہ بن اُنیسؓ مدینہ سے ۱۸ روز باہر رہ کر ۲۳ محرم کو واپس تشریف لائے۔ وہ خالد کو قتل کر کے اس کا سر بھی ہمراہ لائے تھے۔ جب خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر انہوں نے یہ سر آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ نے انہیں ایک عصا مرحمت فرمایا۔ اور فرمایا کہ یہ میرے اور تمہارے درمیان قیامت کے روز نشانی رہے گا۔ چنانچہ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے وصیت کی کہ یہ عصا بھی ان کے ساتھ ان کے کفن میں لپیٹ دیا جائے۔ (ایضاً ۲/۱۰۹۔ابن ہشام ۲/۶۱۹، ۶۲۰)
رجیع کا حادثہ:
اسی سال ۴ھ کے ماہ صفر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس عضل اور قارہ کے کچھ لوگ حاضر ہوئے۔ اور ذکر کیا کہ ان کے اندر اسلام کا کچھ چرچا ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ ان کے ہمراہ کچھ لوگوں کو دین سکھانے اور قرآن پڑھانے کے لیے روانہ فرما دیں۔ آپ ﷺ نے ابن اسحاق کے بقول چھ افراد کو اور صحیح بخاری کی روایت کے مطابق دس افراد کو روانہ فرمایا۔ اور ابن اسحاق کے بقول مرثد بن ابی مرثد غنوی کو اور صحیح بخاری کی روایت کے مطابق عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا حضرت عاصم بن ثابت کو ان کا امیر مقرر فرمایا۔ جب یہ لوگ رابغ اور جدہ کے درمیان قبیلہ ہُذیل کے رجیع نامی ایک چشمے پر پہنچے تو ان پر عضل اور قارہ کے مذکورہ افراد نے قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ بنو لحیان کو چڑھا دیا۔ اور بنو لحیان کے کوئی ایک سو تیر انداز ان کے پیچھے لگ گئے۔ اور نشانات قدم دیکھ دیکھ کر انہیں جا لیا۔ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک ٹیلے پر پناہ گیر ہو گئے۔ بنو لحیان نے انہیں گھیر لیا، اور کہا: تمہارے لیے عہد و پیمان ہے کہ اگر ہمارے پاس اتر آؤ تو ہم تمہارے کسی آدمی کو قتل نہیں کریں گے۔ حضرت عاصم نے اترنے سے انکار کر دیا اور اپنے رفقاء سمیت ان سے جنگ شروع کر دی۔ بالآخر تیروں کی بوجھاڑ سے سات افراد شہید ہو گئے۔ اور صرف تین آدمی حضرت خبیب، زید بن دثنہ اور ایک صحابی باقی بچے۔ اب پھر بنو لحیان نے اپنا عہد و پیمان دہرایا۔ اور اس پر یہ تینوں صحابی ان کے پاس اتر آئے لیکن انہوں نے قابو پاتے ہی بد عہدی کی۔ اور انہیں اپنی کمانوں کی تانت سے باندھ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لیا، اس پر تیسرے صحابی نے یہ کہتے ہوئے کہ یہ پہلی بد عہدی ہے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کھینچ گھسیٹ کر ساتھ لے جانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے تو انہیں قتل کر دیا۔ اور حضرت خبیب اور زید رضی اللہ عنہما کو مکہ لے جا کر بیچ دیا۔ ان دونوں صحابہ نے بدر کے روز اہل مکہ کے سرداروں کو قتل کیا تھا۔
حضرت خبیب کچھ عرصہ اہل مکہ کی قید میں رہے۔ پھر مکے والوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا۔ اور انہیں حرم سے باہر تنعیم لے گئے۔ جب سولی پر چڑھانا چاہا تو انہوں نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو، ذرا دو رکعت نماز پڑھ لوں۔ مشرکین نے چھوڑ دیا اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ جب سلام پھیر چکے تو فرمایا: واللہ! اگر تم لوگ یہ نہ کہتے کہ میں جو کچھ کر رہاہوں گھبراہٹ کی وجہ سے کر رہا ہوں تو میں کچھ اور طول دیتا۔ اس کے بعد فرمایا: اے اللہ! انہیں ایک ایک کر کے گن لے، پھر بکھیر کر مارنا۔ اور ان میں سے کسی ایک کو باقی نہ چھوڑنا۔ پھر یہ اشعار کہے:
لقد أجمع الأحزاب حولـی وألـبوا قبائلہـــم واستجمعـوا کل مجـمـع
وقـد قـربـوا أبنـاء ہم ونســاء ہم وقــربت مـن جـزع طـویـل ممـنــع
إلـی اللہ أشکـو غربتی بعد کربتی وما جمع الأحزاب لی عند مضجـعی
فذا العرش صبر لی علی ما یراد بی فقد بضعوا لحمی وقد بؤس مطعـمی
وقـد خیرونی الکفر والموت دونـہ فقـد ذرفت عینـای من غیـر مدمـــع
ولسـت أبالی حیـن أقتـل مسلمــاً علـی أی شــق کان للـہ مضـجـعـی
وذلک فـی ذات الإلـــہ وإن یشـــأ یبـارک عـلی أوصـال شلــو ممــزع
''لوگ میرے گرد گروہ در گروہ جمع ہو گئے ہیں۔ اپنے قبائل کو چڑھا لائے ہیں۔ اور سارا مجمع جمع کر لیا ہے، اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بھی قریب لے آئے ہیں۔ اور مجھے ایک لمبے مضبوط تنے کے قریب کر دیا گیا ہے، میں اپنی بے وطنی و بے کسی کا شکوہ اور اپنی قتل گاہ کے پاس گروہوں کی جمع کردہ آفات کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں۔ اے عرش والے! میرے خلاف دشمنوں کے جو ارادے ہیں اس پر مجھے صبر دے۔ انہوں نے مجھے بوٹی بوٹی کر دیا ہے۔ اور میری خوراک بُری ہو گئی ہے۔ انہوں نے مجھے کفر کا اختیار دیا ہے۔ حالانکہ موت اس سے کمتر اور آسان ہے۔ میری آنکھیں آنسو کے بغیر امنڈ آئیں۔ میں مسلمان مارا جاؤں تو مجھے پروا نہیں کہ اللہ کی راہ میں کس پہلو پر قتل ہوں گا۔ یہ تو اللہ کی ذات کے لیے ہے۔ اور وہ چاہے تو بوٹی بوٹی کیے ہوئے اعضاء کے جوڑ جوڑ میں برکت دے۔''
اس کے بعد ابو سفیان نے حضرت خبیبؓ سے کہا: کیا تمہیں یہ بات پسند آئے گی کہ (تمہارے بدلے) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ہوتے۔ ہم ان کی گردن مارتے۔ اور تم اپنے اہل و عیال میں رہتے۔ انہوں نے کہا: نہیں۔ واللہ! مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ میں اپنے اہل و عیال میں رہوں اور (اس کے بدلے) محمد ﷺ کو جہاں آپ ہیں وہیں رہتے ہوئے کانٹا چبھ جائے، اور وہ آپ کو تکلیف دے۔
اس کے بعد مشرکین نے انہیں سولی پر لٹکا دیا، اور ان کی لاش کی نگرانی کے لیے آدمی مقرر کر دیے لیکن حضرت عَمرو بن اُمیہ ضمریؓ تشریف لائے۔ اور رات میں جھانسہ دے کر لاش اٹھا لے گئے۔ اور اسے دفن کر دیا۔ حضرت خبیب کا قاتل عُقبہ بن حارث تھا۔ حضرت خبیب نے اس کے باپ حارث کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا۔
صحیح بخاری میں مروی ہے کہ حضرت خُبیب پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے قتل کے موقع پر دو رکعت نماز پڑھنے کا طریقہ مشروع کیا۔ اور انہیں قید میں دیکھا گیا کہ وہ انگور کے گچھے کھا رہے تھے۔ حالانکہ ان دنوں مکے میں کھجور بھی نہیں ملتی تھی۔
دوسرے صحابی جو اس واقعے میں گرفتار ہوئے تھے، یعنی حضرت زید بن دثنہ، انہیں صفوان بن اُمیہ نے خرید کر اپنے باپ کے بدلے قتل کر دیا۔
قریش نے اس مقصد کے لیے بھی آدمی بھیجے کہ حضرت عاصم کے جسم کا کوئی ٹکڑا لائیں، جس سے انہیں پہچانا جا سکے۔ کیونکہ انہوں نے جنگ بدر میں قریش کے کسی عظیم آدمی کو قتل کیا تھا۔ لیکن اللہ نے ان پر بھِڑوں کا جھُنڈ بھیج دیا۔ جس نے قریش کے آدمیوں سے ان کی لاش کی حفاظت کی۔ اور یہ لوگ ان کا کوئی حصہ حاصل کرنے پر قدرت نہ پاس کے۔ درحقیقت حضرت عاصمؓ نے اللہ سے یہ عہد و پیمان کر رکھا تھا کہ نہ انہیں کوئی مشرک چھوئے گا۔ نہ وہ کسی مشرک کو چھوئیں گے۔ بعد میں جب حضرت عمرؓ کو اس واقعے کی خبر ہوئی تو فرمایا کرتے تھے کہ اللہ مومن بندے کی حفاظت اس کی وفات کے بعد بھی کرتا ہے جیسے اس کی زندگی میں کرتا ہے۔ (ابن ہشام ۲/۱۶۹ تا ۱۷۹ زارا لمعاد ۲/۱۰۹ صحیح بخاری ۲/۵۶۸، ۵۶۹، ۵۸۵)
بئر معونہ کا المیہ:
جس مہینے رجیع کا حادثہ پیش آیا ٹھیک اسی مہینے بئر معونہ کا المیہ بھی پیش آیا، جو رجیع کے حادثہ سے کہیں زیادہ سنگین تھا۔
اس واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ ابو براء عامر بن مالک، جو مُلاعِبُ الاسُنّہ (نیزوں سے کھیلنے والا) کے لقب سے مشہور تھا، مدینہ خدمت نبوی میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دی، اس نے اسلام تو قبول نہیں کیا۔ لیکن دُوری بھی اختیار نہیں کی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اگر آپ اپنے اصحاب کو دعوتِ دین کے لیے اہلِ نجد کے پاس بھیجیں تو مجھے امید ہے کہ وہ لوگ آپ کی دعوت قبول کرلیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اپنے صحابہ کے متعلق اہلِ نجد سے خطرہ ہے۔ ابو براء نے کہا: وہ میری پناہ میں ہوں گے۔ اس پر نبی ﷺ نے ابن اسحاق کے بقول چالیس اور صحیح بخاری کی روایت کے مطابق ستر آدمیوں کو بھیج دیا - ستر ہی کی روایت درست ہے - اور منذربن عَمرو کو جو بنو ساعدہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اور ''معتق للموت'' (موت کے لیے آزاد کردہ) کے لقب
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سے مشہور تھے۔ ان کا امیر بنا دیا۔ یہ لوگ فضلاء، قراء اور سادات و اخیارِ صحابہ تھے۔ دن میں لکڑیاں کاٹ کر اس کے عوض اہل صُفّہ کے لیے غلہ خریدتے اور قرآن پڑھتے پڑھاتے تھے، اور رات میں اللہ کے حضور مناجات و نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے۔ اس طرح چلتے چلاتے معونہ کے کنوئیں پر جا پہنچے۔ یہ کنواں بنو عامر اور حرہ بنی سلیم کے درمیان ایک زمین میں واقع ہے۔ وہاں پڑاؤ ڈالنے کے بعد ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اُمِ سُلیم کے بھائی حرام بن ملحان کو رسول اللہ ﷺ کا خط دے کر اللہ کے دشمن عامر بن طفیل کے پاس روانہ کیا لیکن اس نے خط کو دیکھا تک نہیں اور ایک آدمی کو اشارہ کر دیا جس نے حضرت حرام کو پیچھے سے اس زور کا نیزہ مارا کہ وہ نیزہ آر پار ہو گیا۔ خون دیکھ کر حضرت حرام نے فرمایا: اللہ اکبر! ربِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔
اس کے بعد فوراً ہی اس اللہ کے دشمن عامر نے باقی صحابہؓ پر حملہ کرنے کے لیے اپنے قبیلہ بنی عامر کو آواز دی۔ مگر انہوں نے ابو براء کی پناہ کے پیش نظر اس کی آواز پر کان نہ دھرے۔ ادھر سے مایوس ہو کر اس شخص نے بنو سلیم کو آواز دی۔ بنو سلیم کے تین قبیلوں عصیہ، رعل اور ذکوان نے اس پر لبیک کہا۔ اور جھٹ آ کر ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا محاصرہ کر لیا۔ جواباً صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی لڑائی کی مگر سب کے سب شہید ہو گئے۔ صرف حضرت کعب بن زید بن نجارؓ زندہ بچے۔ انہیں شہداء کے درمیان سے زخمی حالت میں اٹھا لایا گیا۔ اور وہ جنگ خندق تک حیات رہے۔ ان کے علاوہ مزید دو صحابہ حضرت عَمرو بن امیہ ضمری اور حضرت مُنذر بن عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما اونٹ چرا رہے تھے۔ انہوں نے جائے واردات پر چڑیوں کو منڈلاتے دیکھا تو سیدھے جائے واردات پر پہنچے۔ پھر حضرت منذر تو اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر مشرکین سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اور حضرت عمرو بن اُمیہ ضمری کو قید کر لیا گیا لیکن جب بتایا گیا کہ ان کا تعلق قبیلہ مُضَر سے ہے تو عامر نے ان کی پیشانی کے بال کٹوا کر اپنی ماں کی طرف سے -جس پر ایک گردن آزاد کرنے کی نذر تھی- آزاد کر دیا۔
حضرت عمرو بن اُمیہ ضمریؓ اس دردناک المیے کی خبر لے کر مدینہ پہنچے۔ سَتّر افاضل مسلمین کی شہادت کا المیہ جس نے جنگ اُحد کا چرکہ تازہ کر دیا۔ اور وہ بھی اس فرق کے ساتھ کہ شہداء احد تو ایک کھُلی ہوئی اور دوبدو جنگ میں مارے گئے تھے، مگر یہ بیچارے ایک شرمناک غداری کی نذر ہو گئے۔
حضرت عمرو بن اُمیہ ضمری واپسی میں وادی قناۃ کے سرے پر واقع مقام قرقرہ پہنچے تو ایک درخت کے سائے میں اتر پڑے وہیں بنو کلاب کے دو آدمی بھی آکر اتر رہے۔ جب وہ دونوں بے خبر سو گئے تو حضرت عمرو بن امیہؓ نے ان دونوں کا صفایا کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اپنے ساتھیوں کا بدلہ لے رہے ہیں، حالانکہ ان دونوں کے پاس رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عہد تھا۔ مگر حضرت عَمرو جانتے نہ تھے۔ چنانچہ جب مدینہ آ کر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی اس کارروائی کی خبر دی تو آپ نے فرمایا کہ تم نے ایسے دو آدمیوں کو قتل کیا ہے جن کی دیت مجھے لازماً ادا کرنی ہے۔ اس کے بعد آپ مسلمان اور ان کے حُلفاء یہود سے دیت جمع کرنے مشغول ہو گئے۔ (دیکھئے: ابن ہشام ۲/۱۸۳تا ۱۸۸ ، زاد المعاد ۲/۱۰۹،۱۱۰ صحیح بخاری ۲/۵۸۴، ۵۸۶)
اور یہی غزوۂ بنی نضیر کا سبب بنا۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو معونہ اور رجیع کے ان المناک واقعات سے جو چند ہی دن آگے پیچھے پیش آئے تھے۔ (ابن سعد نے لکھا ہے کہ رجیع اور معونہ دونوں حادثوں کی خبر رسول اللہﷺ کو ایک ہی رات میں ملی تھی۔ (۲/۵۳ )) اس قدر رنج پہنچا، اور آپ اس قدر غمگین و دلفگار ہوئے (ابن سعد نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس قدر اہل بئر معونہ پر غمگین ہوئے میں نے کسی اور پر آپ کو اتنا زیادہ غمگین ہوتے نہیں دیکھا۔ (۲/۵۴)) کہ جن قوموں اور قبیلوں نے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ غدر و قتل کا یہ سلوک کیا تھا آپ ﷺ نے ان پر ایک مہینے تک بددعا فرمائی۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ جن لوگوں نے آپ ﷺ کے صحابہ کو بئر معونہ پر شہید کیا تھا۔ آپ نے ان پر تیس روز تک بددعا کی۔ آپ نماز فجر میں رعل، ذکوان لحیان اور عُصَیَّہ پر بددعا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی معصیت کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اپنے نبی پر قرآن نازل کیا، جو بعد میں منسوخ ہو گیا۔ وہ قرآن یہ تھا ''ہماری قوم کو یہ بتلا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے تو وہ ہم سے راضی ہے اور ہم اس سے راضی ہیں۔'' اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنا یہ قنوت ترک فرما دیا۔ (صحیح بخاری ۲/۵۸۶، ۵۸۷، ۵۸۸)
۵۔ غزوہ بنی نضیر:
ہم بتا چکے ہیں کہ یہود اسلام اور مسلمانوں سے جلتے بھُنتے تھے، مگر چونکہ وہ مردِ میدان نہ تھے۔ سازشی اور دسیسہ کار تھے، اس لیے جنگ کے بجائے کینے اور عداوت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اور مسلمانوں کو عہد و پیمان کے باوجود اذیت دینے کے لیے طرح طرح کے حیلے اور تدبیریں کرتے تھے۔ البتہ بنو قَینُقاع کی جلا وطنی اور کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ پیش آیا تو ان کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ اور انہوں نے خوفزدہ ہو کر خاموشی اور سکون اختیار کر لیا۔ لیکن غزوۂ احد کے بعد ان کی جرأت پھر پلٹ آئی۔ انہوں نے کھلم کھلا عداوت و بد عہدی کی۔ مدینہ کے منافقین اور مکے کے مشرکین سے پس پردہ ساٹ گانٹھ کی۔ اور مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی حمایت میں کام کیا۔ (سنن ابی داؤد باب خبر النضیر کی روایت سے یہ بات مستفاد ہے۔ دیکھئے: سنن ابی داؤد مع شرح عون المعبود ۳/۱۱۶،۱۱۷)
نبی ﷺ نے سب کچھ جانتے ہوئے صبر سے کام لیا لیکن رجیع اور معونہ کے حادثات کے بعد ان کی جرأت وجسارت حد سے بڑھ گئی۔ اور انہوں نے نبی ﷺ ہی کے خاتمے کا پروگرام بنا لیا۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی ﷺ اپنے چند صحابہ کے ہمراہ یہود کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے بنو کلاب کے ان دونوں مقتولین کی دیت میں اعانت کے لیے بات چیت کی- (جنہیں حضرت عَمرو بن اُمیہ ضَمری
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نے غلطی سے قتل کر دیا تھا) ان پر معاہدہ کی رُو سے یہ اعانت واجب تھی۔ انہوں نے کہا: ابو القاسم! ہم ایسا ہی کریں گے۔ آپ ﷺ یہاں تشریف رکھئے ہم آپ ﷺ کی ضرورت پوری کیے دیتے ہیں۔ آپ ﷺ ان کے ایک گھر کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ اور ان کے وعدے کی تکمیل کا انتظار کرنے لگے۔ آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابو بکرؓ ، حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت بھی تشریف فرما تھی۔
ادھر یہود تنہائی میں جمع ہوئے تو ان پر شیطان سوار ہو گیا۔ اور جو بدبختیاں ان کا نوشتہ تقدیر بن چکی تھی اسے شیطان نے خوشنما بنا کر پیش کیا۔ یعنی ان یہود نے باہم مشورہ کیا کہ کیوں نہ نبی ﷺ ہی کو قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے کہا: کون ہے جو اس چکی کو لے کر اوپر جائے اور آپ ﷺ کے سر پر گرا کر آپ ﷺ کو کچل دے۔ اس پر ایک بدبخت یہودی عَمرو بن جحاش نے کہا: میں ... ان لوگوں سے سلام بن مشکم نے کہا بھی کہ ایسا نہ کرو۔ کیونکہ اللہ کی قسم! انہیں تمہارے ارادوں کی خبر دے دی جائے گی۔ اور پھر ہمارے اور ان کے درمیان جو عہد و پیمان ہے یہ اس کی خلاف ورزی بھی ہے۔ لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور اپنے منصوبے کو روبہ عمل لانے کے عزم پر برقرار رہے۔
ادھر رب العالمین کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت جبریل ؑ تشریف لائے۔ اور آپ ﷺ کو یہود کے ارادے سے باخبر کیا۔ آپ ﷺ تیزی سے اُٹھے۔ اور مدینے کے لیے چل پڑے۔ بعد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ ﷺ سے آن ملے اور کہنے لگے: آپ ﷺ اُٹھ آئے اور ہم سمجھ نہ سکے۔ آپ ﷺ نے بتلایا کہ یہود کا ارادہ کیا تھا۔ مدینہ واپس آ کر آپ ﷺ نے فوراً ہی محمد بن مسلمہ کو بنی نضیر کے پاس روانہ فرمایا اور انہیں یہ نوٹس دیا کہ تم لوگ مدینے سے نکل جاؤ۔ اب یہاں میرے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ تمہیں دس دن کی مہلت دی جاتی ہے اس کے بعد جو شخص پایا جائے گا اس کی گردن مار دی جائے گی۔ اس نوٹس کے بعد یہود کو جلا وطنی کے سوا کوئی چارہ کار سمجھ میں نہیں آیا۔ چنانچہ وہ چند دن تک سفر کی تیاریاں کرتے رہے۔ لیکن اسی دوران عبد اللہ بن اُبی رئیس المنافقین نے کہلا بھیجا کہ اپنی جگہ برقرار رہو۔ ڈٹ جاؤ۔ اور گھر بار نہ چھوڑو۔ میرے پاس دو ہزار مردانِ جنگی ہیں۔ جو تمہارے ساتھ تمہارے قلعے میں داخل ہو کر تمہاری حفاظت میں جان دے دیں گے۔ اور اگر تمہیں نکالا ہی گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے۔ اور تمہارے بارے میں کسی سے ہرگز نہیں دبیں گے۔ اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ اور بنو قریظہ اور غَظْفَان جو تمہارے حلیف ہیں وہ بھی تمہاری مدد کریں گے۔
یہ پیغام سن کر یہود کی خود اعتمادی پلٹ آئی۔ اور انہوں نے طے کر لیا کہ جلا وطن ہونے کے بجائے ٹکر لی جائے گی۔ ان کے سردار حُیی بن اخطب کو توقع تھی کہ راس المنافقین نے جو کچھ کہا ہے وہ پورا کرے گا۔ اس لیے اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جوابی پیغام بھیج دیا کہ ہم اپنے دیار سے نہیں نکلتے ، آپ کو جو کرنا ہو کر لیں۔
اس میں شبہ نہیں کہ مسلمانوں کے لحاظ سے یہ صورت حال نازک تھی کیونکہ ان کے لیے اپنی تاریخ کے اس نازک اور پیچیدہ موڑ پر دشمنوں سے ٹکراؤ کچھ زیادہ قابل اطمینان نہ تھا۔ انجام خطرناک ہو سکتا تھا۔آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ سارا عرب مسلمانوں کے خلاف تھا۔ اور مسلمانوں کے دو تبلیغی وفود نہایت بے دردی سے تہ تیغ کیے جا چکے تھے، پھر بنی نضیر کے یہود اتنے طاقتور تھے کہ ان کا ہتھیار ڈالنا آسان نہ تھا۔ اور ان سے جنگ مول لینے میں طرح طرح کے خدشات تھے۔ مگر بئر معونہ کے المیے سے پہلے اور اس کے بعد حالات نے جو نئی کروٹ لی تھی، اس کی وجہ سے مسلمان قتل اور بد عہدی جیسے جرائم کے سلسلے میں زیادہ حساس ہو گئے تھے، اور ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف مسلمانوں کا جذبہ انتقام فزوں تر ہو گیا تھا۔ لہٰذا انہوں نے طے کر لیا کہ چونکہ بنو نضیر نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کا پروگرام بنایا تھا، اس لیے ان سے بہرحال لڑنا ہے۔ خواہ اس کے نتائج جو بھی ہوں۔ چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ کو حیی بن اخطب کا جوابی پیغام ملا تو آپ نے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ اکبر اور پھر لڑائی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور حضرت ابن اُمِ مکتوم کو مدینہ کا انتظام سونپ کر بنو نضیر کے علاقے کی طرف روانہ ہو گئے۔ حضرت علی بن ابی طالبؓ کے ہاتھ میں عَلَم تھا بنو نضیرکے علاقے میں پہنچ کر ان کا محاصرہ کر لیا گیا۔
ادھر بنو نضیر نے اپنے قلعوں اور گڑھیوں میں پناہ لی۔ اور قلعہ بندرہ کر فصیل سے تیر اور پتھر برساتے رہے چونکہ کھجور کے باغات ان کے لیے سپر کا کام دے رہے تھے۔ اس لیے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ان درختوں کو کاٹ کر جلا دیا جائے۔ بعد میں اسی کی طرف اشارہ کر کے حضرت حسانؓ نے فرمایا تھا :
وہـان علـی سـراۃ بنـی لـوی
حـریق بـالبویـــرۃ مستطیــر
بنی لوی کے سرداروں کے لیے یہ معمولی بات تھی کہ بَوُیَرْہ میں آگ کے شعلے بلند ہوں (بویرہ بنو نضیر کے نخلستان کا نام تھا) اور اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا:
مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَ‌كْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَىٰ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّـهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ (۵۹: ۵)
''تم نے کھجور کے جو درخت کاٹے یا جنہیں اپنے تنوں پر کھڑا رہنے دیا وہ سب اللہ ہی کے اذن سے تھا۔ اور ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ اللہ ان فاسقوں کو رسوا کرے۔''
بہرحال جب ان کا محاصرہ کیا گیا تو بنو قُریظہ ان سے الگ تھلگ رہے۔ عبداللہ بن اُبی نے بھی خیانت کی۔ اور ان کے حلیف غَطفان بھی مدد کو نہ آئے۔ غرض کوئی بھی انہیں مدد دینے یا ان کی مصیبت ٹالنے پر آمادہ نہ ہوا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے واقعے کی مثال یوں بیان فرمائی :
كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ‌ فَلَمَّا كَفَرَ‌ قَالَ إِنِّي بَرِ‌يءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَ‌بَّ الْعَالَمِينَ (۵۹:۱۶)
''جیسے شیطان انسان سے کہتا ہے کفر کرو اور جب وہ کفر کر بیٹھتا ہے تو شیطان کہتا ہے میں تم سے بری ہوں۔''
محاصرے نے کچھ زیادہ طول نہیں پکڑا۔ بلکہ صرف چھ رات ...یا بقول بعض پندرہ رات ... جاری رہا کہ اس دوران اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ ان کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ وہ ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہو گئے۔ اور رسول اللہ ﷺ کو کہلوا بھیجا کہ ہم مدینے سے نکلنے کو تیار ہیں۔ آپ نے ان کی جلا وطنی کی پیش کش منظور فرمائی۔ اور یہ بھی منظور فرما لیا کہ وہ ہتھیار کے علاوہ باقی جتنا ساز و سامان اونٹوں پر لاد سکتے ہوں سب لے کر بال بچوں سمیت چلے جائیں۔
بنو نضیر نے اس منظوری کے بعد ہتھیار ڈال دیے اور اپنے ہاتھوں اپنے مکانات اجاڑ ڈالے، تاکہ دروازے اور کھڑکیاں بھی لاد لے جائیں۔ بلکہ بعض بعض نے تو چھت کی کڑیاں اور دیواروں کی کھونٹیاں بھی لاد لیں۔ پھر عورتوں اور بچوں کو سوار کیا۔ اور چھ سو اونٹوں پر لد لدا کر روانہ ہو گئے۔ بیشتر یہود اور ان کے اکابر مثلاً حُیی بن اخطب اور سلام بن ابی الحُقَیق نے خیبر کا رُخ کیا۔ ایک جماعت ملک شام روانہ ہوئی صرف دو آدمیوں، یعنی یامین بن عمرو اور ابو سعید بن وہب نے اسلام قبول کیا۔ لہٰذا ان کے مال کو ہاتھ نہیں لگایا گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے شرط کے مطابق بنو نضیر کے ہتھیار، زمین، گھر اور باغات اپنے قبضے میں لے لیے، ہتھیار میں پچاس زِرہیں، پچاس خُود اور تین سو چالیس تلواریں تھیں۔
بنو نضیر کے یہ باغات، زمین اور مکانات خالص رسول اللہ ﷺ کا حق تھا۔ آپ کو اختیار تھا کہ آپ اسے اپنے لیے محفوظ رکھیں یا جسے چاہیں دیں۔ چنانچہ آپ نے (مالِ غنیمت کی طرح) ان اموال کا خُمس (پانچواں حصہ) نہیں نکالا۔ کیونکہ اسے اللہ نے آپ کو بطور فَیْ دیا تھا۔ مسلمانوں نے اس پر گھوڑے اور اونٹ دوڑا کر اسے (بزور شمشیر) فتح نہیں کیا تھا۔ لہٰذا آپ نے اپنے اس اختیار خصوصی کے تحت اس پورے مال کو صرف مہاجرین اولین پر تقسیم فرمایا۔ البتہ دو انصاری صحابہ، یعنی ابو دجانہ اور سہل بن حُنیف رضی اللہ عنہما کو ان کے فقر کے سبب اس میں سے کچھ عطا فرمایا۔ اس کے علاوہ آپ نے (ایک چھوٹا سا ٹکڑا اپنے لیے محفوظ رکھا جس میں سے آپ) اپنی ازواج مطہرات کا سال بھر کا خرچ نکالتے تھے۔ اور اس کے بعد جو کچھ بچتا تھا اسے جہاد کی تیاری کے لیے ہتھیار اور گھوڑوں کی فراہمی میں صرف فرم ادیتے تھے۔
غزوہ بنی نضیر ربیع الاول ۴ھ، اگست ۶۲۵ء میں پیش آیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس تعلق سے پوری سورۂ حشر نازل فرمائی۔ جس میں یہود کی جلا وطنی کا نقشہ کھینچتے ہوئے منافقین کے طرزِ عمل کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔ اور مال فَیْ کے احکام بیان فرماتے ہوئے مہاجرین و انصار کی مدح و ستائش کی گئی ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگی مصالح کے پیش نظر دشمن کے درخت کاٹے جاسکتے ہیں۔ اور ان میں آگ لگائی جا سکتی ہے۔ ایسا کرنا فساد فی الارض نہیں ہے۔ پھر اہلِ ایمان کو تقویٰ کے التزام اور آخرت کی تیاری کی تاکید کی گئی ہے۔ ان سب کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد و ثنا فرماتے ہوئے اور اپنے اسماء و صفات کو بیان کرتے ہوئے سورۃ ختم فرما دی ہے۔
ابن عباسؓ اس سورۂ (حشر) کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ اسے سورہ بنی النضیر کہو۔ (ابن ہشام ۲/۱۹۰ ،۱۹۱، ۱۹۲، زاد المعاد ۲/۷۱، ۱۱۰، صحیح بخاری ۲/۵۷۴،۵۷۵)
یہ اس غزوہ کے بارے میں ابن اسحاق اور عام اہلِ سیر کے بیان کا خلاصہ ہے، امام ابو داؤد اور امام عبد الرزاق وغیرہ نے اس غزوے کی ایک دوسری وجہ روایت کی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جب غزوۂ بدر پیش آیا تو اس غزوۂ بدر کے بعد قریش نے یہود کو لکھا کہ تم لوگوں کے پاس زِرہیں اور قلعے ہیں۔ لہٰذا تم لوگ ہمارے صاحب (محمد ﷺ) سے لڑائی کرو، ورنہ ہم تمہارے ساتھ ایسا اور ایسا کریں گے۔ اور ہمارے اور تمہاری عورتوں کے پازیب کے درمیان کوئی چیز رکاوٹ نہ بن سکے گی۔ جب یہود کو یہ خط ملا تو بنو نضیر نے غدر کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ نبی ﷺ کو کہلا بھیجا کہ آپ اپنے ساتھیوں میں سے تیس آدمی لے کر ہماری جانب تشریف لائیں۔ اور ہماری طرف سے بھی تیس عالم نکلیں۔ فلاں جگہ جو ہمارے اور آپ کے بیچوں بیچ ہے ملاقات ہو۔ اور وہ آپ کی بات سنیں۔ اس کے بعد اگر وہ آپ کو سچا مان لیں، اور آپ پر ایمان لے آئیں تو ہم سب آپ پر ایمان لے آئیں گے۔
اس تجویز کے مطابق نبی ﷺ تیس صحابہ کے ہمراہ تشریف لے گئے۔ اور یہود کے بھی تیس عالم آئے۔ ایک کھلی جگہ پہنچ کر بعض یہود نے بعض سے کہا: دیکھو ان کے ساتھ تیس آدمی ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک ان سے پہلے مرنا پسند کرے گا۔ ایسی صورت میں تم ان تک کیسے پہنچ سکتے ہو؟ اس کے بعد انہوں نے کہلا بھیجا کہ ہم ساٹھ آدمی ہوں گے تو آپ کیسے سمجھائیں گے اور ہم کیسے سمجھیں گے؟ بہتر ہے کہ آپ اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ آئیں اور ہمارے بھی تین عالم آپ کے پاس جائیں اور وہ آپ کی بات سنیں، اگر وہ ایمان لائیں گے تو ہم سب ایمان لائیں گے۔ اور آپ کی تصدیق کریں گے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ اپنے تین صحابہ کے ہمراہ تشریف لے گئے۔ ادھر یہود نبی ﷺ کے قتل کے ارادے سے خنجر چھپا کر آئے، لیکن بنو نضیر کی ایک خیر خواہ عورت نے اپنے بھتیجے کے پاس - جو ایک انصاری مسلمان تھا - رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بنو نضیر کے غدر کے ارادے کی خبر کہلا بھیجی۔ وہ تیز رفتاری سے آیا۔ اور نبی ﷺ کو ان تک پہنچنے سے پہلے ہی پا لیا۔ اور سرگوشی کے ساتھ ان کی خبر بتائی۔ آپ ﷺ وہیں سے واپس آ گئے۔ اور دوسرے دن صحابۂ کرام کے دستے لے کر تشریف لے گئے اور ان کا محاصرہ کر لیا۔ اور فرمایا کہ تم لوگ جب تک مجھے عہد و پیمان نہ دے دو قابل اطمینان نہیں۔ انہوں نے کسی قسم کا عہد دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر آپ نے اور مسلمانوں نے اس دن ان سے لڑائی کی۔ دوسرے دن گھوڑے اور دستے لے کر آپ بنو قریظہ کے پاس تشریف لے گئے۔ اور بنو نضیر کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ بنو قریظہ کو بھی عہد و پیمان کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے معاہدہ کر لیا، لہٰذا آپ ﷺ ان سے پلٹ آئے۔ اور دوسرے دن دستوں کے ساتھ پھر بنو نضیر کا رُخ کیا۔ اور ان سے جنگ کی۔ بالآخر انہوں نے اس شرط پر جلا وطنی منظور کر لی کہ ہتھیار وں کے سوا جو کچھ اونٹوں پر بار کیا جا سکتا ہے اسے ہم لے جانے کے مجاز ہوں گے۔ چنانچہ بنو نضیر آئے اور اپنے ساز و سامان،
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
گھروں کے دروازے اور لکڑیاں غرض جو کچھ بھی اونٹوں سے اٹھ سکتا تھا اسے لاد لیا۔ اس کے لیے انہوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنے گھر برباد کیے اور انھیں ڈھایا۔ اور جو لکڑیاں کام کی محسوس ہوئیں انہیں لا دلیا۔ جلا وطنی ملک شام کی طرف ان لوگوں کا پہلا حشر یا پہلا ہانکا اور جماؤ تھا۔ (مصنف عبد الرزاق ۵/۳۵۸- ۳۶۰ ح ۳۳ ۷ ۹، سنن ابی داؤد، کتاب الخراج والفی والعمارۃ، باب فی خبر النضیر ۲/۱۵۴)
۶۔ غزوۂ نجد :
غزوۂ بنی نضیر میں کسی قربانی کے بغیر مسلمانوں کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی اس سے مدینے میں قائم مسلمانوں کا اقتدار مضبوط ہو گیا۔ اور منافقین پر بد دلی چھا گئی۔ اب انہیں کھل کر کچھ کرنے کی جرأت نہیں ہو رہی تھی۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ ان بدوؤں کی خبر لینے کے لیے یکسو ہو گئے جنہوں نے اُحد کے بعد ہی سے مسلمانوں کو سخت مشکلات میں الجھا رکھا تھا۔ اور نہایت ظالمانہ طریقے سے داعیانِ اسلام پر حملے کر کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتار چکے تھے۔ اور اب ان کی جرأت اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ وہ مدینے پر چڑھائی کی سوچ رہے تھے۔
چنانچہ غزوۂ بنو نضیر سے فارغ ہو کر رسول اللہ ﷺ ابھی ان بد عہدوں کی تادیب کے لیے اٹھے بھی نہ تھے کہ آپ ﷺ کو اطلاع ملی کہ بنی غَطْفَان کے دوقبیلے بنو محارب اور بنو ثعلبہ لڑائی کے لیے بدوؤں اور اعرابیوں کی نفری فراہم کر رہے ہیں۔ اس خبر کے ملتے ہی نبی ﷺ نے نجد پر یلغار کا فیصلہ کیا۔ اور صحرائے نجد میں دور تک گھُستے چلے گئے۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ ان سنگ دل بدوؤں پر خوف طاری ہو جائے۔ اور وہ دوبارہ مسلمانوں کے خلاف پہلے جیسی سنگین کارروائیوں کے اعادے کی جرأت نہ کریں۔
ادھر سرکش بدو، جو لوٹ مار کی تیاریاں کر رہے تھے مسلمانوں کی اس اچانک یلغار کی خبر سنتے ہی خوف زدہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اور پہاڑوں کی چوٹیوں میں جا دبکے۔ مسلمانوں نے لٹیرے قبائل پر اپنا رعب و دبدبہ قائم کرنے کے بعد امن و امان کے ساتھ واپس مدینے کی راہ لی۔
اہل سیر نے اس سلسلے میں ایک معیّن غزوے کا نام لیا ہے جو ربیع الآخر یا جمادی الاولیٰ ۴ھ میں سر زمین نجد کے اندر پیش آیا تھا۔ اور وہ اسی غزوہ کو غزوۂ ذات الرقاع قرار دیتے ہیں۔ جہاں تک حقائق اور ثبوت کا تعلق ہے تو اس میں شبہ نہیں کہ ان ایام میں نجد کے اندر ایک غزوہ پیش آیا تھا۔ کیونکہ مدینے کے حالات ہی کچھ ایسے تھے۔ ابو سفیان نے غزوۂ احد سے واپسی کے وقت آئندہ سال میدان بدر میں جس غزوے کے لیے للکارا تھا، اور جسے مسلمانوں نے منظور کر لیا تھا اب اس کا وقت قریب آ رہا تھا۔ اور جنگی نقطۂ نظر سے یہ بات کسی طرح مناسب نہ تھی کہ بدوؤں اور اعراب کو ان کی سرکشی اور تمرد پر قائم چھوڑ کر بدر جیسی زور دار جنگ میں جانے کے لیے مدینہ خالی کر دیا جائے۔ بلکہ ضروری تھا کہ میدانِ بدر میں جس ہولناک جنگ کی توقع تھی اس کے لیے نکلنے سے پہلے ان
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بدوؤں کی شوکت پر ایسی ضرب لگائی جائے کہ انہیں مدینے کا رُخ کرنے کی جرأت نہ ہو۔
باقی رہی یہ بات کہ یہی غزوہ جو ربیع الآخر یا جمادی لاولیٰ۴ھ میں پیش آیا تھا غزوہ ذات الرقاع تھا ہماری تحقیق کے مطابق صحیح نہیں۔ کیونکہ غزوۂ ذات الرقاع میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما موجود تھے۔ اور ابو ہریرہؓ جنگ خیبر سے صرف چند دن پہلے اسلام لائے تھے۔ اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ (مسلمان ہو کر یمن سے روانہ ہوئے تو ان کی کشتی ساحل حبشہ سے جا لگی تھی۔ اور وہ حبشہ سے اس وقت واپس آئے تھے جب نبی ﷺ خیبر میں تشریف فرما تھے۔ اس طرح وہ پہلی بار) خیبر ہی کے اندر خدمت نبوی میں حاضر ہو سکے تھے۔ پس ضروری ہے کہ غزوۂ ذات الرقاع غزوۂ خیبر کے بعد پیش آیا ہو۔
۴ھ کے ایک عرصے بعد غزوہ ذات الرقاع کے پیش آنے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ ذات الرقاع میں صلوٰۃ خوف (حالت جنگ کی نماز کو صلوٰۃِ خوف کہتے ہیں۔ جس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدھی فوج ہتھیار بند ہو کر امام کے پیچھے نماز پڑھے باقی آدھی فوج ہتھیار باندھے دشمن پر نظر رکھے۔ ایک رکعت کے بعد یہ فوج امام کے پیچھے آ جائے اور پہلی فوج دشمن پر نظر رکھنے چلی جائے۔ امام دوسری رکعت پوری کر لے تو باری باری فوج کے دونوں حصے اپنی اپنی نماز پوری کریں۔ اس نمازکے اس سے ملتے جلتے اور بھی متعدد طریقے ہیں جو موقع جنگ کی مناسبت سے اختیار کیے جاتے ہیں۔ تفصیلات کتب ِ احادیث میں موجود ہیں) پڑھی تھی اور صلوٰۃِ خوف پہلے پہل غزوہ عسفان میں پڑھی گئی۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ غزوۂ عسفان کا زمانہ غزوہ خندق کے بھی بعد کا ہے۔ جبکہ غزوہ خندق کا زمانہ ۵ھ کے اخیر کا ہے۔ درحقیقت غزوہ عسفان سفرِ حدیبیہ کا ایک ضمنی واقعہ تھا۔ اور سفر حدیبیہ ۶ھ کے اخیر میں پیش آیا تھا جس سے واپس آ کر رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی راہ لی تھی۔ اس لیے اس اعتبار سے بھی غزوۂ ذاتِ الرقاع کا زمانہ خیبر کے بعد ہی ثابت ہوتا ہے۔
۷۔ غزوہ بدر دوم:
اعراب کی شوکت توڑ دینے اور بدوؤں کے شر سے مطمئن ہو جانے کے بعد مسلمانوں نے اپنے بڑے دشمن (قریش) سے جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ کیونکہ سال تیزی سے ختم ہو رہا تھا۔ اور احد کے موقع پر طے کیا ہوا وقت قریب آتا جا رہا تھا۔ اور محمد ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا فرض تھا کہ میدان کار زار میں ابو سفیان اور اس کی قوم سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے نکلیں اور جنگ کی چکی اس حکمت کے ساتھ چلائیں کہ جو فریق زیادہ ہدایت یافتہ اور پائیدار بقاء کا مستحق ہو حالات کا رُخ پوری طرح اس کے حق میں ہو جائے۔
چنانچہ شعبان ۴ھ جنوری ۶۲۶ء میں رسول اللہ ﷺ نے مدینے کا انتظام حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کو سونپ کر اس طے شدہ جنگ کے لیے بدر کا رُخ فرمایا۔ آپ ﷺ کے ہمراہ ڈیڑھ ہزار کی جمعیت اور دس گھوڑے تھے۔ آپ ﷺ نے فوج کا عَلَم حضرت علیؓ کو دیا اور بدر پہنچ کر مشرکین کے انتظار میں خیمہ زن ہو گئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
دوسری طرف ابو سفیان بھی پچاس سوار سمیت دو ہزار مشرکین کی جمعیت لے کر روانہ ہوا۔ اور مکے سے ایک مرحلہ دور وادی مَرا لظَّہران پہنچ کر مجنہ نام کے مشہور چشمے پر خیمہ زن ہوا۔ لیکن وہ مکہ ہی سے بوجھل اور بددل تھا۔ بار بار مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی جنگ کاا نجام سوچتا تھا۔ اور رعب و ہیبت سے لرز اٹھتا تھا۔ مَر الظَّہران پہنچ کر اس کی ہمت جواب دے گئی۔ اور وہ واپسی کے بہانے سوچنے لگا۔ بالآخر اپنے ساتھیوں سے کہا: قریش کے لوگو! جنگ اس وقت موزوں ہوتی ہے جب شادابی اور ہریالی ہو کہ جانور بھی چر سکیں اور تم بھی دودھ پی سکو۔ اس وقت خشک سالی ہے لہٰذا میں واپس جا رہا ہوں۔ تم بھی واپس چلے چلو۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے ہی لشکر کے اعصاب پر خوف و ہیبت سوار تھی کیونکہ ابو سفیان کے اس مشورہ پر کسی قسم کی مخالفت کے بغیر سب نے واپسی کی راہ لی اور کسی نے بھی سفر جاری رکھنے اور مسلمانوں سے جنگ لڑنے کی رائے نہ دی۔
ادھر مسلمانوں نے بدر میں آٹھ روز تک ٹھہر کر دشمن کا انتظار کیا۔ اور اس دوران اپنا سامانِ تجارت بیچ کر ایک درہم کے دو درہم بناتے رہے۔ اس کے بعد اس شان سے مدینہ واپس آئے کہ جنگ میں اقدام کی باگ ان کے ہاتھ آ چکی تھی۔ دلوں پر ان کی دھاک بیٹھ چکی تھی۔ اور ماحول پر ان کی گرفت مضبوط ہو چکی تھی۔ یہ غزوۂ بدر موعد، بدر ثانیہ، بدر آخرہ اور بدر صغریٰ کے ناموں سے معروف ہے۔ (اس غزوے کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ابن ہشام ۲/۲۰۹، ۲۱۰، زادا لمعاد۲/۱۱۲)
غزوہ دُوْمَۃُ الجندل:
رسول اللہ بدر سے واپس ہوئے تو ہر طرف امن و امان قائم ہو چکا تھا۔ اور پورے اسلامی قلمرو میں اطمینان کی باد بہاری چل رہی تھی۔ اب آپ عرب کی آخری حدود تک توجہ فرمانے کے لیے فارغ ہو چکے تھے۔ اور اس کی ضرورت بھی تھی تاکہ حالات پر مسلمانوں کا غلبہ اور کنٹرول رہے۔ اور دوست و دشمن سبھی اس کو محسوس اور تسلیم کریں۔
چنانچہ بدر صغریٰ کے بعدچھ ماہ تک آپ نے اطمینان سے مدینے میں قیام فرمایا۔ اس کے بعد آپ کو اطلاعات ملیں کہ شام کے قریب دُوْمۃ الجندل کے گرد آباد قبائل آنے والے قافلوں پر ڈاکے ڈال رہے ہیں۔ اور وہاں سے گزرنے والی اشیاء لوٹ لیتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ انہوں نے مدینے پر حملہ کرنے کے لیے ایک بڑی جمعیت فراہم کر لی ہے۔ ان اطلاعات کے پیش نظر رسول اللہ نے سباع بن عرفطہ غفاریؓ کو مدینے میں اپنا جانشین مقرر فرما کر ایک ہزار مسلمانوں کی نفری کے ساتھ کوچ فرمایا۔ یہ ۲۵ / ربیع الاول ۵ھ کا واقعہ ہے۔ راستہ بتانے کے لیے بنو عذرہ کا ایک آدمی رکھ لیا گیا تھا جس کا نام مذکور تھا۔
دُوْمۃ ...دال کو پیش ... یہ سرحد شام میں ایک شہر ہے۔ یہاں سے دمشق کا فاصلہ پانچ رات اور مدینے کا پندرہ رات ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اس غزوے میں آپ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ رات میں سفر فرماتے اور دن میں چھُپے رہتے تھے تاکہ دشمن پر بالکل اچانک اور بے خبری میں ٹوٹ پڑیں۔ قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ باہر نکل گئے ہیں۔ لہٰذا ان کے مویشیوں اور چرواہوں پر ہلہ بول دیا، کچھ ہاتھ آئے کچھ نکل بھاگے۔
جہاں تک دومۃ الجندل کے باشندوں کا تعلق ہے تو جس کا جدھر سینگ سمایا بھاگ نکلا، جب مسلمان دومہ کے میدان میں اترے تو کوئی نہ ملا۔ آپ نے چند دن قیام فرما کر ادھر اُدھر متعدد دستے روانہ کیے۔ لیکن کوئی بھی ہاتھ نہ آیا، بالآخر آپ مدینہ پلٹ آئے اس غزوے میں عُیَینہ بن حصن سے مصالحت بھی ہوئی۔
ان اچانک اور فیصلہ کن اقدامات اور حکیمانہ حزم و تدبر پر مبنی منصوبوں کے ذریعے نبی ﷺ نے قلمرو اسلام میں امن و امان بحال کرنے اور صورت حال پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی۔ اور وقت کی رفتار کا رُخ مسلمانوں کے حق میں موڑ لیا۔ اور ان اندرونی اور بیرونی مشکلات پیہم کی شدت کم کی جو ہر جانب سے انہیں گھیرے ہوئے تھیں۔ چنانچہ منافقین خاموش اور مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔ یہود کا ایک قبیلہ جلا وطن کر دیا گیا۔ دوسرے قبائل نے حق ہمسائیگی اور عہد و پیمان کے ایفاء کا مظاہرہ کیا۔ بدو اور اعراب ڈھیلے پڑ گئے اور قریش نے مسلمانوں کے ساتھ ٹکرانے سے گریز کیا۔ اور مسلمانوں کو اسلام پھیلانے اور رب العالمین کے پیغام کی تبلیغ کرنے کے مواقع میسر آئے۔

****​
 
Top