• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل سنت کا تصور سنت

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
پانچواں اصول
بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے کسی فعل کی حرمت معلوم ہوتی ہے۔ مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:
((لَا یَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَیْعِ بَعْضٍ وَلَا یَخْطُبْ بَعْضُکُمْ عَلٰی خِطْبَةِ بَعْضٍ)) (٥٦)
''تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ ہی کوئی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے''۔
اگر کسی شخص نے بذریعہ ایجاب و قبول کوئی سودا مکمل کر لیا ہے تو اس کے اس سودے پر سودا کرنا حرام ہے۔اسی طرح ا گر کسی شخص کا کسی خاندان میں رشتہ طے ہو چکا ہو تو وہاں اپنے رشتے کی بات چلانا حرام ہے سوائے اس کے کہ پہلا شخص دوسرے کو اجازت دے دے یا وہ اس جگہ نکاح کا اردہ ترک کر دے۔ امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
ھذہ الأحادیث ظاہرة فی تحریم الخطبة علی خطبة أخیہ و أجمعوا علی تحریمھا اذکان قد صرح للخاطب بالجابة و لم یأذن و لم یترک(٥٧)
''ان احادیث مبارکہ کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلمان بھائی کی منگنی پر منگنی کرنا حرام ہے اور اُمت کا اس فعل کی حرمت پر اجماع ہے جبکہ لڑکی والوں نے پیغام بھیجنے والے کے پیغام کو صراحتا قبول کر لیا ہو اور پہلے شخص نے دوسرے کو نہ تو وہاں پیغام بھیجنے کی اجازت دی ہو اور نہ ہی اس جگہ نکاح کا ارادہ ترک کیا ہو''۔
احناف ایسے فعل کو حرام کی بجائے مکر وہ تحریمی کہتے ہیں۔جمہور اور احناف کے نزدیک اس کی تعریف ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ حرام یامکروہ تحریمی سے مراد ایسا فعل ہے جس کے نہ کرنے کا شارع نے حکم دیا ہو اور اس کے نہ کرنے کو لازم بھی ٹھہرایا ہو۔اس کے مرتکب کو ملامت کی جائے گی اور اس کو آخرت میں عذاب بھی ہو گا ۔احناف کے نزدیک اگر اس کا علم قطعی ذریعے یعنی قرآن ' خبر متواتر یا اجماع سے ہو گا تو یہ حرام ہے اور اگر اس کا علم ظنی ذریعے یعنی خبر واحد سے ہو گا تویہ مکروہ تحریمی ہے ۔جبکہ جمہور اسے حرام ہی کہتے ہیں چاہے قرآن سے اس کا علم حاصل ہو یا خبر واحد سے اور یہی بات راجح ہے ۔ائمہ جمہور اور احناف کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اگر کسی فعل کی حرمت بذریعہ سنت( یعنی خبر واحد) معلوم ہو اور اس سنت کا کوئی شخص انکار کر دے تو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی اگرچہ دنیا میں اس کوسخت ملامت کی جائے گی اور آخرت میں وہ عذابِ الٰہی کا مستحق ہو گا۔الشیخ عاصم الحداد لکھتے ہیں :
''اور سب'وہ (یعنی احناف) اور دوسرے(یعنی مالکیہ ' شافعیہ' حنابلہ ور اہل الحدیث) یہ کہتے ہیں کہ تکفیر اس شخص کی کی جائے گی جو کسی قطعی دلیل سے ثابت چیز کا انکار کر ے اور اس شخص کی تکفیر نہیں کی جائے جو کسی ظنی دلیل سے ثابت چیز کا انکار کرے۔اسے صرف فاسق یا گمراہ قرار دیا جا سکتاہے''۔(٥٨)
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
چھٹا اصول
بعض اوقات کسی مسئلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول ہوتا ہے اور ایک شخص اس قول پر عمل کرنے کو سنت پر عمل سمجھ رہا ہوتاہے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب و تشویق دلا رہا ہوتا ہے جبکہ آپ کا وہ قول آپ ہی کے کسی دوسرے قول یا فعل سے منسوخ ہوتا ہے۔عام اشخاص یا اہل علم کی بات تو کجا بعض اوقات بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی آپ کی کسی سنت کے نسخ کا علم نہیں ہوتا تھا اور وہ منسوخ سنت پر خودبھی عمل کر رہے ہوتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب و تشویق دلا رہے ہوتے تھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر صحابی ہر وقت آپ کی مجلس میں موجود نہیں ہوتا تھا اس لیے ہر صحابی کو ہر حدیث کا علم بھی نہیں ہوتا تھا۔حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((تَوَضَّئُوْا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ)) (٥٩)
''جس کو آگ نے چھوا ہو اُس کے کھانے کے بعد وضو کرو''۔
اسی طرح حضرت ابو ہریرة رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((اَلْوُضُوْئُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَلَوْ مِنْ ثَوْرِ أَقِطٍ)) قَالَ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ یَا أَبَا ھُرَیْرَةَ أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الدُّھْنِ؟ أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الْحَمِیْمِ؟ قَالَ فَقَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَةَ یَا ابْنَ أَخِیْ اِذَا سَمِعْتَ حَدِیْثًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَلَا تَضْرِبْ لَہ مَثَلاً (٦٠)
''جس چیز کو آگ نے چھو ا ہو اُ س کے کھانے کے بعد وضو کروچاہے وہ پنیر کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو''۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے حضرت ابو ہریرہ سے دریافت کیا: کیا ہم چکناہٹ کی وجہ سے وضو کریں ؟ کیا ہم گرم پانی کی وجہ سے بھی وضو کریں؟(کیونکہ گرم پانی کو بھی آگ چھوتی ہے)۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ نے جواب میں کہا:اے میرے بھتیجے!جب تمہارے سامنے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے لیے مثالیں نہ بیان کیاکرو''۔
علامہ البانی نے اس روایت کو 'حسن' کہا ہے۔(٦١) شیخ احمد شاکر نے اس کی سند کو 'صحیح' کہا ہے۔(٦٢)
اصل مسئلہ یہ ہے کہ شروع میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کا حکم دیا تھا۔ بعد میں آپ نے ہی اس کومنسوخ کر دیا اور اس نسخ کا علم بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو نہ ہوا،لہٰذا وہ اس منسوخ سنت پر خود بھی عمل کرتے رہے اوردوسروں کو بھی اس کا حکم جاری کرتے رہے۔حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
کَانَ آخِرُ الْاَمْرَیْنِ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ تَرْکُ الْوُضُوْئِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ(٦٣)
''دونوں باتوں میں سے آخری بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے وہ ایسی چیزوں کے کھانے کے بعد وضو نہ کرنا ہے جنہیں آگ نے چھوا ہو۔''
امام نووی نے اس حدیث کی سند کو 'صحیح' کہا ہے۔(٦٤)امام ابن حجر نے اس کو 'حسن 'کہا ہے۔ (٦٥)امام ابن الملقننے اس روایت کو 'صحیح' کہا ہے۔(٦٦)امام طحاوی نے بھی 'صحیح 'کہا ہے۔(٦٧) امام ابن حزم نے اس کو 'قابل حجت' قرار دیا ہے۔(٦٨)ابن قدامہ نے اس روایت کو 'ضعیف' کہا ہے۔(٦٩)
یہ روایت صحیح ہے اور جمہور صحابہ' تابعین اور ائمہ کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضوکرنا واجب نہیں ہے ۔صحابہ میں حضرت ابو بکر' حضرت عمر ' حضرت عثمان' حضرت علی' حضرت عبد اللہ بن عباس' حضرت ابوامامہ' حضرت عامر بن ربیعہ ' حضرت مغیرہ بن شعبہ' حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم اور تابعین میں حضرت عبید اللہ السلمانی' حضرت سالم بن عبد اللہ ' حضرت قاسم بن محمدرحمہم اللہ اور فقہائے اہل مدینہ اور ائمہ میں امام مالک ' امام شافعی' امام احمد بن حنبل' اما م ابو حنیفہ' امام اسحاق بن راہویہ' امام عبد اللہ بن مبارک' امام سفیان ثوری رحمہم اللہ اور اہل کوفہ اور اہل حجاز کا موقف یہی ہے۔
جبکہ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کے وجوب کی قائل ہے ۔تفصیل کے لیے امام نووی رحمہ اللہ کی 'شر ح مسلم' اور امام عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کی 'تحفة الاحوذی' کا مطالعہ مفید رہے گا۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
ساتواں اصول
بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم تدبیری امور سے متعلق ہوتا ہے ۔آپ کے ایسے اقوال بھی سنت شرعیہ نہیں ہیں ۔حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
قَدِمَ نَبِیُّ اللّٰہِ الْمَدِیْنَةَ وَھُمْ یَأْبُرُوْنَ النَّخْلَ یَقُوْلُوْنَ یُلَقِّحُوْنَ النَّخْلَ فَقَالَ: ((مَا تَصْنَعُوْنَ؟)) قَالُوْا کُنَّا نَصْنَعُہُ قَالَ: ((لَعَلَّکُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوْا کَانَ خَیْرًا)) فَتَرَکُوْہُ فَنَفَضَتْ ]أَوْ فَنَقَصَتْ[ قَالَ فَذَکَرُوْا ذٰلِکَ لَہ فَقَالَ: ((اِنَّمَا أَنَا بَشَر ِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ دِیْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہ وَذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ رَأْیٍ فَاِنَّمَا أَنَا بَشَر؟)) (٧٠)
''اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کھجور کی پیوند کاری کرتے تھے اور وہ کہتے تھے اس طرح فصل زیادہ ہوتی ہے ۔ آپ نے ان سے دریافت فرمایا: ''تم یہ کیا کرتے ہو؟'' انہوں نے کہا: ہم عرصہ درازسے ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''شاید کہ تم ایسا نہ کرو تو بہتر ہو''۔ چنانچہ صحابہ نے اگلی فصل میں ایسا نہ کیا جس سے پھل کم ہو گیا۔صحابہ نے آپ سے اس بات کا تذکرہ کیاتو آپ نے ارشاد فرمایا: ''سوائے اس کے نہیں کہ میں تو ایک انسان ہوں۔جب میں تمہیں تمہارے دین سے متعلق کوئی حکم دوں تو تم اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور جب میں تمہیں اپنی ذاتی رائے سے کوئی حکم جاری کروں تو میں بھی ایک انسان ہوں''۔
یہ حدیث اس مسئلے میں نص صریح ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض احکامات تشریع کے لیے نہ تھے۔جیسے کسی مسئلے میں آپ نے بعض صحابہ کو دنیاوی امور میں کوئی مشورہ دے دیا ہو یا ان کی رہنمائی کر دی ہو۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
آٹھواں اصول
بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات سفارش کی قبیل سے ہوتے ہیں۔ یہ بھی اُمت کے لیے سنت شرعیہ نہیں ہوتے ہیں ۔مثلاً روایات میں آتا ہے کہ حضرت بریرہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہماکی لونڈی تھیں جو ایک غلام حضرت مغیث رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔بعد ازاں ایک موقع پر حضرت عائشہ نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہما کو آزاد کر دیا۔ شرعی مسئلہ یہ ہے کہ اگر عورت آزاد ہوجائے تو اسے یہ اختیار حاصل ہوجاتا ہے کہ اپنی غلامی کی حالت میں کیے ہوئے نکاح کو برقرار رکھے یا توڑ دے۔حضرت بریرہ نے اپنی آزادی کے بعد اپنے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے حضرت مغیث کے نکاح میں رہنے سے انکار کر دیا۔اس پر حضرت مغیث اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے درخواست کی کہ آپ بریرہ 'کو سمجھائیں۔توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ کو بلوا کر کہا:
((یَا بَرِیْرَةُ اتَّقِی اللّٰہَ فَِنَّہ زَوْجُکِ وَأَبُوْ وَلَدِکِ)) فَقَالَتْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَتَاْمُرُنِیْ بِذٰلِکَ؟ قَالَ: ((لَا' ِنَّمَا اَنَا شَافِع)) فَکَانَ دُمُوْعُہ تَسِیْلُ عَلٰی خَدِّہ' فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ لِلْعَبَّاسِ: ((أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِیْثٍ بَرِیْرَةَ وَبُغْضِھَا ِیَّاہُ؟)) (٧١)
''اے بریرہ ! اللہ سے ڈر 'وہ تیرا شوہر ہے اور تیرے بچے کا باپ ہے ۔تو حضرت بریرہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے مغیث کی طرف لوٹ جانے کا حکم دے رہے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' نہیں ' میری حیثیت تو ایک سفارشی کی ہے''۔حضرت مغیث کی حالت یہ تھی کہ ( وہ مدینہ کی گلیوں میں حضرت بریرہ کے پیچھے پھرتے تھے اور) ان کے گالوں پر ہر وقت آنسو بہتے رہتے تھے۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس سے فرمایا:''کیا تجھے تعجب نہیں ہوتا کہ مغیث 'کو بریرہ سے کتنی محبت ہے اور بریرہ ' کو مغیث سے کس قدر نفرت ہے ؟''
امام ابن حزم نے اس روایت کو 'قابل حجت' قرار دیا ہے۔(٧٢) امام ابن تیمیہ نے اس کو' صحیح' کہا ہے۔(٧٣) علامہ البانی نے اس کو 'صحیح' کہا ہے۔(٧٤) شیخ احمد شاکر نے بھی اس کی سند کو 'صحیح 'کہا ہے۔(٧٥)
اس حدیث سے بعض علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرحکم ماننا واجب ہے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو حضرت بریرہ آپ سے یہ سوال نہ کرتیں کہ کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟
ہمارے خیال میں یہ استدلال درست نہیں ہے 'بلکہ یہ صریح نصوص کے خلاف ہے 'جیسا کہ تأبیر نخل والی روایت میں ہے۔ اسی طرح آپ نے جب ایک دفعہ صحابہ 'کو راستوں میں بیٹھنے سے منع کیا تو صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ حکم نہ مانا'کیونکہ صحابہ کے نزدیک یہ کوئی شرعی حکم نہ تھا'بلکہ اس حدیث سے تو اس کے برعکس حکم معلوم ہوتا ہے، کیونکہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ کو کہا کہ اللہ سے ڈرو تو حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ کاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ 'اِتَّقِی اللّٰہَ' کے باوجود آپ سے سوال کرنا کہ کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں ' یہ واضح کرتا ہے کہ صحابہ ہر حکم کو شرعی حکم نہیں سمجھتے تھے ۔لہٰذا آپ کے ایسے احکامات جو کہ مشورے کی قبیل سے ہوں 'ان کا انکار ' انکارِ سنت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ایسی سنن کی اتباع واجب نہیں ہے، اگرچہ مستحسن امر ضرور ہے ۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
نواں اصول
بعض اوقات آپ کے احکامات قضاء یا فوری فیصلوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ آپ کے ایسے احکامات بھی بعض مخصوص صورتوں میں سنت یعنی مصدر شریعت نہیں ہوتے ہیں ۔آپ کا ارشاد ہے :
((اِنَّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ ِلَیَّ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ اَلْحَنُ بِحُجَّتِہ مِنْ بَعْضٍ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہ بِحَقِّ أَخِیْہِ شَیْئًا بِقَوْلِہ فَِنَّمَا أَقْطَعُ لَہ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ فَلَا یَأْخُذْھَا)) ( ٧٦)
''تم میں سے بعض لوگ میرے پاس اپنے جھگڑے لے کر آتے ہیں' اور شاید تم میں سے کوئی ایک زیادہ'چرب زبان واقع ہو ۔پس اگر میں کسی ایک شخص کو اس کی چرب زبانی کی وجہ سے اس کے بھائی کے حق میں سے دے دوں ' تو ایسے شخص کو میں آگ کا ایک ٹکڑاکاٹ کر دے رہا ہوں'پس وہ اس کونہ لے''۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
دسواں اصول
بعض اوقات آپ کے احکامات کسی ایک شخص کے بارے میں خاص ہوتے ہیں 'لہٰذا تمام اُمت کے لیے وہ سنت نہیں ہوتے۔مثلاً ایک روایت کے الفاظ ہیں:
ذَبَحَ أَبُوْ بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ: ((أَبْدِلْھَا)) قَالَ لَیْسَ عِنْدِیْ اِلاَّ جَذَعَة ]قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُہ قَالَ:ھِیَ خَیْر مِنْ مُسِنَّةٍ[ قَالَ : ((اِجْعَلْھَا مَکَانَھَا وَلَنْ تَجْزِیَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَکَ)) (٧٧)
''حضرت ابو بردہ نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:'' تم اس کے بدلے میں ایک اور قربانی کرو''۔ تو انہوں نے جواباً کہا: میرے پاس تو صرف ایک جذعہ(بکری) ہے۔ [حدیث کے راوی شعبہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ (یعنی جذعہ) دوندے سے بہتر حالت میں ہے] تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' اس کے بدلے میں جذعہ (بکری) قربانی کے طور پر دے دو 'لیکن یہ(یعنی جذعہ بکری) تیرے بعد کسی کو(بطور قربانی) کفایت نہیں کرے گی(یعنی بکری کے لیے دو دانتاہوناضروری ہے )''۔
اسی طرح آپ کے بعض احکامات کے بارے میں صحابہ میں اختلاف بھی ہوجاتا تھا کہ وہ عام ہیں یا خاص۔مثلاً آپ کے ایک صحابی حضرت ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم ان کے ساتھ ہی ان کے گھر میں رہتے تھے 'لیکن یہ ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے ۔جب یہ بالغ ہو گئے تو حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اُن کا اپنے گھر میں آنا جانا اور رہنا پسند نہ تھا 'اس پر ان کی بیوی حضرت سہلہ بنت سہیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلے کا حل دریافت فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابیہ کو مشورہ دیا:
((أَرْضِعِیْہِ)) قَالَتْ وَکَیْفَ أُرْضِعُہ وَھُوَ رَجُل کَبِیْر؟ فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَقَالَ: ((قَدْ عَلِمْتُ أَنَّہ رَجُل کَبِیْر)) (٧٨)
''اس (یعنی سالم) کو دودھ پلا دو ''تو حضرت سہلہ نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اسے کیسے دودھ پلاؤں جبکہ وہ ایک بالغ لڑکا ہے ؟تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ''میں جانتا ہوں کہ وہ ایک بالغ لڑکا ہے''۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کے حکم کو صرف ان صحابیہ کے ساتھ خاص نہیں سمجھتی تھیں۔ایک روایت کے الفاظ ہیں :
فَبِذٰلِکَ کَانَتْ عَائِشَةُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا تَأْمُرُ بَنَاتِ اَخَوَاتِھَا وَبَنَاتِ ِخْوَتِھَا أَنْ یُرْضِعْنَ مَنْ اَحَبَّتْ عَائِشَةُ اَنْ یَرَاھَا وَیَدْخُلَ عَلَیْھَا وَاِنْ کَانَ کَبِیْرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ یَدْخُلُ عَلَیْھَا وَاَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ أَنْ یُدْخِلْنَ عَلَیْھِنَّ بِتِلْکَ الرَّضَاعَةِ اَحَدًا مِنَ النَّاسِ حَتّٰی یَرْضَعَ فِی الْمَھْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللّٰہِ مَا نَدْرِیْ لَعَلَّکَانَتْ رَخْصَةً مِنَ النَّبِیِّ لِسَالِمٍ دُوْنَ النَّاسِ(٧٩)
''اسی حدیث کی وجہ سے حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی بھانجیوں اور بھتیجیوں کو حکم دیتی تھیں کہ وہ اس کو پانچ مرتبہ دودھ پلائیں جس کے بارے میں حضرت عائشہ کو یہ پسند ہوتا تھا کہ وہ ان کو دیکھے اور ان کے پاس آئے اگرچہ وہ بڑا ہی کیوں نہ ہو۔لیکن اُم سلمہ اورباقی تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے اس بات سے انکار کر دیا کہ کوئی شخص اس طرح (بڑی عمر میں ) ان کا رضاعی رشتہ دار بنے اور پھر اس کے لیے ازواج مطہرات کے پاس آنا جائز ہو۔یہ تمام ازواج گود کی(حالت میں) رضاعت کی وجہ سے اپنے ساتھ رضاعی رشتہ داری کو جائز قرار دیتی تھیں۔یہ ازواج حضرت عائشہ کو کہتی تھیں کہ اللہ کی قسم!ہم تو یہی سمجھتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم صرف حضرت سالم کے لیے تھا نہ کہ تمام لوگوں کے لیے''۔
علامہ البانی نے اس روایت کو 'صحیح' کہا ہے۔(٨٠)امام ابو داؤد کے نزدیک بھی یہ روایت 'صالح 'ہے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
گیارہواں اصول
بعض اوقات آپ کے احکامات 'سدًّا للذریعة' ہوتے ہیں۔ یعنی آپ کوئی حکم بطور شریعت جاری نہیں کرتے بلکہ کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی کی طرف لے جانے والے کسی سبب اور ذریعے سے منع کرتے ہیں'حالانکہ وہ سبب اور ذریعہ بذاتہ شرعاً جائز ہوتا ہے۔ آپ کے ایسے احکامات کی اتباع بھی ضروری نہیں ہے۔مثلاً ایک دفعہ آپ نے صحابہ کو حکم دیا:
((اِیَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ فِی الطُّرُقَاتِ)) قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَالَنَا بُدّ مِنْ مَجَالِسِنَا' نَتَحَدَّثُ فِیْھَا' فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ۖ: (( فَاِذَا أَبَیْتُمْ ِلاَّ الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِیْقَ حَقَّہ)) قَالُوْا وَمَا حَقُّہ؟ قَالَ: ((غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الْاَذٰی وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ)) (٨١)
''راستوں میں بیٹھنے سے بچو''۔ صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے راستوں میں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے' ہم یہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب تم نے میری بات سے انکار کر دیا اور بیٹھنے کی بات کی ہے تو پھر راستے کو اس کاحق دو''۔صحابہ نے عرض کیا کہ راستے کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: ''نظر کو جھکا کر رکھنا' کسی کو تکلیف دینے سے بچنا(تکلیف دہ چیز دور کرنا)' سلام کا جواب دینا' معروف کا حکم دینا اورمنکر سے منع کرنا''۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا تھااور اس کی وجہ یہ تھی کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو معلوم تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کایہ حکم کوئی شرعی حکم نہیں ہے۔لہٰذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کے انکار پر ان پر کوئی دباؤ نہ ڈالا 'بلکہ ان کو جس سبب سے یہ حکم جاری کیا تھا اس کی وضاحت کر دی 'یعنی راستوں میں بیٹھو لیکن ان کا حق ادا کرو۔گویا مطلق راستے میں بیٹھنے سے منع کرنا آپ کا مقصود نہ تھا 'بلکہ آپ'نے یہ حکم کسی سبب سے جاری کیا تھا اور وہ سبب یہ تھا کہ راستوں میں بیٹھنا لوگوں کو اذیت دینے اور بے حیائی کی طرف لے جانے کا باعث بن سکتا ہے ۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
بارہواں اصول
بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی وقتی ضرر کو دور کرنے اور جزئی مصلحت کے حصول کے لیے کوئی حکم جاری کرتے تھے ۔مثلاً اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عید الاضحی کے موقع پر صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ قربانی کے جانوروں کا گوشت تین دن سے زائد استعمال نہ کریں ۔بعض صحابہ نے اس حکم کو آپ کا ایک مستقل حکم سمجھ لیا 'حالانکہ آپ نے یہ حکم ان غریب بدو صحابہ کی وجہ سے جاری کیا تھا جو اُس عید کے موقع پر آپ کے ساتھ حاضر تھے۔اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے اس حکم سے مقصود یہ تھا کہ لوگ قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے کی بجائے ان بدو صحابہ پر صدقہ کر دیں۔حضرت سالم ' حضرت عبد اللہ بن عمر رضی الہ عنہما سے نقل کرتے ہیں:
اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ نَھٰی اَنْ تُؤْکَلَ لُحُوْمُ الْاَضَاحِیْ بَعْدَ ثَلَاثٍ ' قَالَ سَالِم فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا یَاْکُلُ لُحُوْمَ الْاَضَاحِیْ فَوْقَ ثَلَاثٍ(٨٢)
''اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع کر دیا۔حضرت سالم کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر 'تین دن کے بعد قربانی کا گوشت نہ کھاتے تھے ''۔
حضرت علی کا بھی یہی موقف تھا 'جیسا کہ امام نووی نے 'شرح مسلم' میں بیان کیاہے ۔جبکہ باقی صحابہ اس حکم کو ایک مستقل حکم نہیں مانتے اور جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے ۔اسی لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب اس بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سال بدو صحابہ'کی وجہ سے تین دن سے زائد قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع کیا تھا تاکہ لوگ اس کو صدقہ کریں 'لیکن اگلے سال آپ نے لوگوں کو تین دن سے زائد بھی قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے کی اجازت دے دی۔ روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ نے فرمایا:
((ِانَّمَا نَھَیْتُکُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِیْ دَفَّتْ' فَکُلُوْا وَادَّخِرُوْا وَتَصَدَّقُوْا)) (٨٣)
'' میں نے تم کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے بعض بدو صحابہ کی وجہ سے منع کیا تھا جو کہ ہمارے پاس آ گئے تھے۔اب تم تین دن کے بعد بھی کھاؤ ' ذخیرہ کروا ور صدقہ بھی کرو''۔
اسی طرح صحیحین میں ایک روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ 'کو کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور صحابہ نے اس پر عمل بھی کیا 'یہاں تک کہ حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ مدینہ کے قرب و جوار میں ہم نے کوئی کتا نہ چھوڑا۔اسی حدیث کی بنیاد پر مالکیہ کے نزدیک کتوں کو قتل کرنا ایک شرعی حکم ہے جو کہ اب بھی جاری ہے 'جبکہ شوافع کے نزدیک یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے اور اس کی دلیل صحیح مسلم میں حضرت جابرکی روایت ہے' جس کے مطابق آپ نے بعد میں کتوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا تھا۔ محسوس یہی ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاص وقت میں مدینہ اور اس کے ارد گرد کے کتوں کو قتل کرنے کا جو حکم دیاوہ نہ تو کوئی شرعی حکم تھا اور نہ وہ منسوخ ہوا 'بلکہ آپ کے زمانے میں پاگل کتوں کی تعداد بڑھ گئی جس کی وجہ سے آپ نے صحابہ' کو کتوں کو مارنے کا حکم دیا تا کہ مسلمانوں کو ضرر سے بچایا جا سکے۔بعد میں جب کافی تعداد میں کتے مار ے گئے تو آپ نے صحابہ' کو مزید کتوں کو مارنے سے منع کر دیا۔لہٰذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاا صل مقصود مسلمانوں کو ضرر سے بچانا تھا نہ کہ کوئی شرعی حکم جاری کرنا اور پھر اس کو منسوخ کرنا۔جیسا کہ ایک صحیح روایت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے حدودِ حرم میں جن پانچ چیزوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے ان میں ایک 'الکلب العقور' یعنی پاگل کتا بھی ہے ۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
تیرہواں اصول
بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات بظاہر مطلق ہوتے ہیں لیکن در حقیقت وہ مطلق نہیں ہوتے۔ایسے احکامات اپنے اطلاق میں سنت نہیں ہوں گے۔ مثلاً حضرت عبد اللہ بن عمر رجی اللہ عنہ سے روایت ہے' وہ فرماتے ہیں کہ:
کَانَتْ تَحْتِی امْرَاَة اُحِبُّھَا وَکَانَ اَبِیْ یَکْرَھُھَا' فَأَمَرَنِیْ اَبِیْ أَنْ أُطَلِّقَھَا' فَأَبَیْتُ' فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ فَقَالَ : ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ طَلِّقِ امْرَأَتَکَ)) (٨٤)
''ایک خاتون میرے نکاح میں تھیں اور مجھے اس سے محبت تھی 'لیکن میرے والد (یعنی حضرت عمر ) کو وہ خاتون نا پسند تھیں' تو میرے والد نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو طلاق دے دوں ۔میں نے انکار کر دیا۔ پھر میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کاتذکرہ کیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے عبد اللہ بن عمر! اپنی بیوی کو طلاق دے دو''۔
اس روایت کو امام ترمذی نے 'حسن صحیح' کہا ہے۔(٨٥) امام ابن العربی نے 'صحیح' اور 'ثابت' کہا ہے۔(٨٦) علامہ البانی نے 'حسن 'کہا ہے۔(٨٧) شیخ احمد شاکر نے اس کی سند کو 'صحیح 'کہا ہے۔(٨٨)
ایک اور روایت کے الفاظ ہیں کہ اس بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن عمر کو کہا: ((أَطِعْ أَبَاکَ))(٨٩) یعنی اپنے باپ کی اطاعت کر۔
اب اس روایت سے یہ مسئلہ نکالنا کہ اگر باپ اپنے بیٹے کو یہ حکم دے کہ اپنی بیوی کو طلاق دو تو اس مسئلے میں باپ کی اطاعت مطلقاً واجب ہے' درست نہیں ہے۔ 'تحفة الاحوذی' اور 'نیل الاوطار' کے مصنفین نے اس حدیث کو دلیل بناتے ہوئے لکھا ہے کہ باپ کے حکم پر بیٹے کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے چاہے کوئی شرعی عذر ہو یا نہ ہو اور اگر ماں بیوی کو طلاق کا حکم دے تو تین گنا زیادہ واجب ہے 'کیونکہ حدیث میں ماں کا حق تین گنا زیادہ بیان کیا گیا ہے۔

ہمارے نزدیک یہ موقف درست نہیں ہے اور اگر ماں کی طرف سے طلاق کے حکم میں بیٹے کو پابند کیا جائے گا تو شاید یہاں کوئی بھی گھر آباد نہیں رہے گا کیونکہ ساس اور بہو کے اختلافات تو فطری ہیں۔ علاوہ ازیں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس دو بدو آئے۔ان میں سے ایک نے کہا کہ میں اپنے اونٹ کی تلاش میں ایک قبیلے میں جا نکالا اور وہاں ایک لڑکی مجھے پسند آگئی تو میں نے اس سے شادی کر لی 'لیکن میرے والدین نے قسم اٹھا کر یہ بات کی ہے کہ وہ اس لڑکی کو اپنے خاندان میں شامل نہیں کریں گے۔اس پر حضرت عبد اللہ بن عباس نے اس بدو سے کہا:
مَا اَنَا بِالَّذِیْ آمُرُکَ أَنْ تُطَلِّقَ امْرَأَتَکَ وَلَا أَنْ تَعُقَّ وَالِدَیْکَ ' قَالَ فَمَا أَصْنَعُ بِھٰذِہِ الْمَرْاَةَ؟ قَالَ ابْرَرْ وَالِدَیْکَ(٩٠)
''میں تمہیں نہ تو یہ حکم دیتا ہوں کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دو اور نہ ہی یہ مشورہ کہ تم اپنے والدین کی نافرمانی کرو۔تو وہ شخص کہنے لگا کہ میں پھر اس عورت کا کیا کروں ؟تو حضرت عبد اللہ بن عباس نے کہا:اپنے والدین سے حسن سلوک کرو''۔
اسی طرح حضرت ابودردا ضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میر اباپ پہلے مجھے ایک لڑکی کے ساتھ شادی پر مجبور کرتا رہا اور جب میں نے اس سے شادی کر لی تو اب مجھے حکم دیتا ہے کہ میں اسے طلا ق دے دوں۔تو حضرت ابو دردا رضی اللہ عنہ نے کہا:
مَا أَنَا بِالَّذِیْ آمُرُکَ أَنْ تَعُقَّ وَالِدَکَ وَلَا أَنَا بِالَّذِیْ آمُرُکَ اَنْ تَعُقَّ امْرَاَتَکَ غَیْرَ ِنَّکَ ِانْ شِئْتَ حَدَّثْتُکَ مَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ یَقُوْلُ : ((الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَحَافِظْ عَلٰی ذٰلِکَ ِانْ شِئْتَ أَوْ دَعْ)) (٩١)
''میں تمہیں نہ تو یہ حکم دیتا ہوں کہ تم اپنے والدین کی نافرمانی کرواورنہ ہی یہ مشورہ کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دو ۔ہاں اگر تم چاہو تو میں تمہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کر دیتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''باپ جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے۔ اگر تو چاہے تو اس کی حفاظت کر اور اگر چاہے تو اس کو چھوڑ دے''۔
علامہ البانی نے اس حدیث کو 'صحیح 'کہا ہے۔(٩٢)
اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے جب اس مسئلے کے بارے میں سوال ہو تو آپ نے سائل سے کہا: اپنی بیوی کو طلا ق مت دے ۔اس پر سائل نے جواباًحضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ والامذکورہ بالا واقعہ سنا دیا تو امام احمد نے جواب دیا:
اِذَا کَانَ أَبُوْکَ مِثْلَ عُمَرَ فَطَلِّقْھَا(٩٣)
''اگر تیرا باپ بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ہے(یعنی اتنا ہی متقی ودین دار اور حکمت وفراست والا) تو اپنی بیوی کو طلاق دے دے''۔
سعودی علماء کی کمیٹی 'فتاوی اللجنة الدائمة' سے جب اس بارے میں سوال ہوا تو علماء نے یہ جواب دیا:
علیک اقناع والدک بعدم طلاق زوجتک' فان أصر وجب علیک أن تطلقھا ذا کان ذلک لأمر شرعی' أما ن کان أمرہ بطلاقھا بغیر مسوغ شرعی فانہ لا یلزمک طاعتہ فی ذلک؛ لقول النبی: ((اِنَّمَا الطَّاعَةُ فِیالْمَعْرُوْفِ)) (٩٤)
''تمہارے لیے لازم ہے کہ اپنے والدین کی بات نہ مانو اور بیوی کو طلاق نہ دو'لیکن اگر والدین بیوی کو طلاق دینے پر اصرار کریں او ر کسی شرعی عیب کی وجہ سے یہ حکم دے رہے ہوں تو ان کی بات مان لو۔لیکن اگر کسی شرعی سبب کے بغیر طلاق کا حکم دیں تو ان کی اطاعت لازم نہیں ہے 'کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ''اطاعت صرف معروف میں ہے''۔
اسی طرح داڑھی کے بارے میں بعض روایات میں 'أَعْفُوا اللِّحٰی' اور 'وَفِّرُوا اللِّحٰی' اور 'أَرْخُوا اللِّحٰی' کے جوا لفاظ آئے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ امر مطلق ہے؟ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ ان احادیث میں امر کا صیغہ وجوب کے لیے ہے 'لیکن کیامطلق طور پر داڑھی کو چھوڑنا واجب ہے یا کسی حد تک چھوڑنا واجب ہے؟بعض علماء کے نزدیک داڑھی کو اس کی حالت پر چھوڑنا واجب ہے اور اس میں سے کچھ بھی کتربیونت جائز نہیں ہے ۔علماء کی یہ جماعت آپ کے حکم کو اس کے اطلاق پر باقی رکھتی ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے تویہی معلوم ہوتاہے کہ آپ نے اپنی داڑھی کی کبھی تراش خراش نہیں کی' لیکن بعض صحابہ سے ملتا ہے کہ انہوں نے ایک مشت سے زائداپنی داڑھی کی تراش خراش کی ہے' جس سے ثابت ہوا کہ ان صحابہ کے نزدیک آپ کا داڑھی رکھنے کا حکم تو وجوب کے لیے تھا لیکن وہ حکم اپنے اطلاق میں واجب نہ تھا۔حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((خَالِفُوا الْمُشْرِکِیْنَ وَفِّرُوا اللِّحٰی وَاحْفُوا الشَّوَارِبَ)) وَکَانَ ابْنُ عُمَرَا ِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلٰی لِحْیَتِہ فَمَا فَضْلَ أَخَذَہ(٩٥)
''مشرکین کی مخالفت کرو 'داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کم کرو'' ۔اور حضرت عبد اللہ بن عمر جب حج یا عمرہ'کرتے تھے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں لیتے تھے اور جو بال مٹھی سے زائد ہوتے تھے ان کو کاٹ دیتے تھے'' ۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مطلقاً واجب نہ سمجھتے تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر نے ایک اور شخص کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ کیا ' یعنی اس کی داڑھی کی تراش خراش کی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی داڑھی کی تراش خراش ثابت ہے۔ اس کی تفصیل 'فتح الباری' میں موجود ہے۔ سنن ابی داؤد کی ایک 'حسن' روایت کے مطابق حضرت جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہم (یعنی صحابہ) حج اور عمرہ کے علاوہ داڑھی چھوڑے رکھتے تھے ' یعنی حج اور عمرہ کے موقع پر ہم داڑھی کی تراش خراش کر لیتے تھے۔اہل الحدیث علماء میں سے حافظ عبد اللہ محدث روپڑی، حافظ ثناء اللہ مدنی اور حافظ عبد الرحمن مدنی وغیرہم ایک متعین مقدار سے زائد ڈاڑھی کے بال لینے کے قائل ہیں۔واللہ اعلم بالصواب
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
چودہواں اصول
بعض اوقات بعض مخصوص حالات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے میں کسی فتنے کا اندیشہ ہوتا ہے جس کہ وجہ سے بعض علماء کے نزدیک ان حالات میں آپۖ کے اس حکم پر عمل کرنا سنت پر عمل شمار نہیں ہوتا۔مثلاً آپ کا حکم ہے:
((لاَ تَمْنَعُوْا ِمَائَ اللّٰہِ مَسَاجِدَ اللّٰہِ)) (٩٦)
''اللہ کی بندیوں(یعنی اپنی بیویوں ) کو مسجدوں میں جانے سے مت روکو''۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے مسجد جانے کو ناپسند کرتے تھے اور بعض اوقات اس کا اظہار بھی کر دیتے تھے ۔ایک روایت میں ہے کہ ان کی بیوی سے کہا گیا :
لِمَ تَخْرُجِیْنَ وَقَدْ تَعْلَمِیْنَ أَنْ عُمَرَ یَکْرَہُ ذٰلِکَ وَیَغَارُ؟ (٩٧)
''آپ مسجد کے لیے گھر سے کیوں نکلتی ہیں جبکہ آپ جانتی ہیں کہ حضرت عمر کو ناپسند کرتے ہیں اور اس بات پرغیرت کھاتے ہیں؟''
اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے جب اپنے زمانے کے فتن کو دیکھا تو کہا:
لَوْ أَدْرَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ مَا أَحْدَثَ النِّسَائُ لَمَنَعَھُنَّ کَمَا مُنِعَتْ نِسَائُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ(٩٨)
''اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آج کل کی عورتوںکے حالات دیکھتے تو عورتوں کو مسجد میں جانے سے روک دیتے جیسے کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیاتھا''۔
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جب اپنے بیٹے بلال کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت سنائی کہ اپنی بیویوں کو مسجد میں جانے سے نہ روکو توحضرت بلال نے جواباً کہا:
وَاللّٰہِ لَنَمْنَعُھُنَّ' فَقَالَ لَہ عَبْدُ اللّٰہِ أَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ وَتَقُوْلُ اَنْتَ لَنَمْنَعُھُنَّ؟(٩٩)
''اللہ کی قسم ہم تو اِن کو منع کریں گے'' ۔تو حضر ت عبد اللہ بن عمر نے کہا: ''میں تم سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتاہوں اور تم کہتے ہو کہ ہم منع کریں گے؟''
بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت بلال نے اپنے والد کوکہا کہ ہمارے زمانے میں عورتیں اگر مسجد میں جائیں گی تو فتنے میں مبتلا ہو جائیں گے لہٰذا ہم انہیں مسجد میں جانے سے روکیں گے۔با وجودیکہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے حضرت بلال کو ان کے اس جواب پر سرزنش کی٭ لیکن خود حضرت عبد اللہ بن عمر بھی شرعی احکام پر عمل پیرا ہونے کے لیے اس اصول(یعنی سد الذرائع) کو مدنظر رکھتے تھے جس کی وجہ سے ان کے بیٹے نے اس حدیث پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔اموی خلیفہ سلیمان بن عبد الملک نے اپنے دورِ خلافت میں حجاج بن یوسف ثقفی کو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حجاز میں قائم شدہ خلافت کو ختم کرنے کے لیے بھیجا ۔اس وقت دو افراد حضرت عبد اللہ بن عمر کے پاس آئے اور کہنے لگے :
اِنَّ النَّاسَ صَنَعُوْا وَأَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَصَاحِبُ النَّبِیِّۖ فَمَا یَمْنَعُکَ أَنْ تَخْرُجَ؟ فَقَالَ یَمْنَعُنِیْ أَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ دَمَ أَخِیْ فَقَالَا اَلَمْ یَقُلِ اللّٰہُ (وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَة) فَقَالَ قَاتَلْنَا حَتّٰی لَمْ تَکُنْ فِتْنَة وَکَانَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ وَأَنْتُمْ تُرِیْدُوْنَ أَنْ تُقَاتِلُوْا حَتّٰی تَکُوْنَ فِتْنَة وَیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِغَیْرِ اللّٰہِ؟ (١٠٠)
''لوگوں نے امانت کو ضائع کر دیا( یعنی حق دار کو امارت و خلافت عطا نہ کی ) اور آپ حضرت عمر کے بیٹے ہیں'اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی بھی ہیں' پھر بھی آپ ان ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج کیوں نہیں کرتے؟ تو حضرت عبد اللہ بن عمرنے کہا مجھے اللہ کا یہ حکم ان کے خلاف خروج سے روکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان بھائی کے خون کو حرام کیا ہے ۔تو اس شخص نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نہیں دیا کہ ان سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو جائے؟(یعنی حضرت عبد اللہ بن زبیر' کو بنو امیہ کے فتنے سے نکالنے کے لیے قتال ہونا چاہیے) تو حضرت عبد اللہ بن عمرنے جواب دیا: ہم نے قتال کیا تھا یہاںتک کہ فتنہ ختم ہو گیااور دین (یعنی اطاعت) اللہ ہی کے لیے ہو گیا اور تم یہ چاہتے ہو کہ تم قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ پیدا ہو اور دین غیر اللہ کے لیے ہوجائے؟''
صحیح بخاری ہی کی ایک اور روایت کے الفاظ ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمر نے آکر کہاکہ آپ ہر سال حج و عمرہ تو کرتے ہیں لیکن اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے ۔تو حضرت عبد اللہ بن عمرنے کہا : ارکان اسلام پانچ ہی ہیں 'یعنی جہاد ان میں شامل نہیں ہے ۔تو اس شخص نے کہا اللہ تعالیٰ نے تو یہ حکم دیا کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراو اور اگر پھر ان میں کوئی ایک زیادتی کرے تو اس کے خلاف لڑو ۔یہ شخص دراصل حضرت عبد اللہ بن عمر کو کہہ رہا تھا کہ (فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ)(الحُجُرٰت:٩)کی نص کے تحت آپ پر ظالم گروہ کے ساتھ قتال واجب ہے۔اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر نے اسے وہ جواب دیا جو اوپر مذکور ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کو وہ روایت بیان کرنے سے زبردستی روک دیا تھا جس میں کلمہ پڑھنے والے کے لیے جنت کی بشارت تھی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فعل کی تائید کی تھی۔
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top