1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے !!!

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مئی 06، 2014۔

  1. ‏اگست 15، 2016 #31
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,401
    موصول شکریہ جات:
    1,087
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    اب دیکھتے ہیں کہ احادیث میں کیا تاویل ہوتی ہے:
    سنن أبي داؤد: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ مُجَانَبَةِ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ وَبُغْضِهِمْ)
    سنن ابو داؤد: کتاب: سنتوں کا بیان (باب: اہل بدعت سے دور رہنے اور ان سے بغض رکھنے کا بیان)
    4599 . حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ الْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ
    حکم : ضعیف
    4599 . سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اعمال میں سے افضل عمل اللہ کے لیے محبت کرنا اور اسی کے لیے بغض رکھنا ہے ۔ “
    یہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن اس موضوع پر دیگر صحیح روایات موجود ہیں
    محبت میں کمی اور بیشی ہوتی ہے یہ بتانے کی تو شاید ضرورت نہیں. لہذا جب محبت میں کمی بیشی ہوتی تو ایمان میں بھی کمی بیشی ہوگی.
    مزید حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
    ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ: حُبُّ الرَّسُولِ ﷺ مِنَ الإِيمَانِ)
    صحیح بخاری: کتاب: ایمان کے بیان میں (باب: اس بیان میں کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھنا بھی ایمان میں داخل ہے)
    14 . حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ»
    حکم : صحیح
    14 . ہم سے ابوالیمان نے حدیث بیان کی، ان کو شعیب نے، ان کو ابولزناد نے اعرج سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی کہ بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم میں سے کوئی بھی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جاؤں۔

    تشریح: اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ایمان کی اول وآخر تکمیل ہوتی ہے۔ یہ ہے توایمان ہے۔ یہ نہیں توکچھ نہیں۔ اس سے بھی ایمان کی کمی وبیشی پر روشنی پڑتی ہے کیونکہ محبت میں تفاوت ہوتا ہے. اسمیں کمی بیشی ہوتی ہے.
    مزید یہ بات معلوم ہوئ کہ اعمال صالحہ واخلاق فاضلہ وخصائل حمیدہ سب ایمان میں داخل ہیں۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے ایمان کی حلفیہ نفی فرمائی ہے جس کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر اس کے والد یا اولاد کی محبت غالب ہو۔

    مزید حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
    صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابٌ ظُلْمٌ دُونَ ظُلْمٍ)

    صحیح بخاری: کتاب: ایمان کے بیان میں (باب: اس بیان میں کہ بعض ظلم بعض سے ادنٰی ہیں)
    9 . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الجُعْفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ العَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ «الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، وَالحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ»
    حکم : صحیح
    9 . ہم سے بیان کیا عبداللہ بن محمد جعفی نے، انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابو عامر عقدی نے، انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا سلیمان بن بلال نے، انھوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے روایت کیا ابوصالح سے، انہوں نے نقل کیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نقل فرمایا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ اور حیا ( شرم ) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔

    تشریح: غور کریں. اس حدیث میں حیا کو ایمان کی ایک شاخ بتایا گیا ہے. اور آپ کو تو معلوم ہوگا کہ انسان کی حیا میں کمی بیشی ہوتی ہے. اگر نہ معلوم ہو تو اس حدیث میں دیکھ لیجۓ گا جسمیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حیا کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے.

    واللہ اعلم بالصواب
     
  2. ‏اگست 15، 2016 #32
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,401
    موصول شکریہ جات:
    1,087
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    ہنوز منتظر
     
  3. ‏اگست 16، 2016 #33
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    قارئینِ کرام یہ ہے مہذب طبقہ (ابتسامہ)کے مہذب دلائل(پر بھی ابتسامہ)!!!
     
  4. ‏اگست 16، 2016 #34
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اس کا ترجمہ بھی کریں اور پھر سر دھنیں۔
     
  5. ‏اگست 16، 2016 #35
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت آپ لوگوں کی کم زیادہ ہوتی ہوگی ہمیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں اور اس میں کبھی کمی نہیں آنے دیتے۔
     
  6. ‏اگست 16، 2016 #36
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,532
    موصول شکریہ جات:
    6,616
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    گویا کہ کمی آسکتی ہے..پر آپ آنے نہیں دیتے؟
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏اگست 16، 2016 #37
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,618
    موصول شکریہ جات:
    735
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    زبردست
     
  8. ‏اگست 16، 2016 #38
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ حقیقت ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے ،
    ﴿وَإِذَا مَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٞ فَمِنۡهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمۡ زَادَتۡهُ هَٰذِهِۦٓ إِيمَٰنٗاۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فَزَادَتۡهُمۡ إِيمَٰنٗا وَهُمۡ يَسۡتَبۡشِرُونَ - وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ فَزَادَتۡهُمۡ رِجۡسًا إِلَىٰ رِجۡسِهِمۡ وَمَاتُواْ وَهُمۡ كَٰفِرُونَ﴾--التوبة: 124۔125
    ’’اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق (استہزا کرتے اور) پوچھتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے، تو جو ایمان والے ہیں ان کا تو ایمان زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں مرض ہے ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا اور وہ مرے بھی تو کافر کے کافر۔‘‘
    لیکن اس کے ساتھ اس حقیقت کی طرف بھی ہمیشہ توجہ رہے کہ :
    ایمان موجود ہوگا تو اس میں کمی ، بیشی ہوگی ، منافقین خود چونکہ ایمان سے محروم تھے ، لہذا اس حقیقت کا مذاق بناتے تھے کہ قرآن سننے ماننے سے ایمان میں زیادتی ہوتی ہے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن منافقین کا حال مومنوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے جب جب قرآن کی کوئی سورت نازل ہوتی ہے ان کا نفاق بڑھتا جاتا ہے، اس سے بڑھ کر ان کی بدبختی اور کیا ہوسکتی ہے کہ جو چیز اہل ایمان کے دلوں کو زندگی دیتی ہے وہی ان کے دلوں کو اور مردہ بنا دیتی ہے اور بالآخر ان کی موت کفر پر ہوتی ہے۔
     
    Last edited: ‏اگست 16، 2016
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏اگست 16، 2016 #39
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    چلیں فقرہ کی تصحیح فرمالیں؛
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت آپ لوگوں کی کم زیادہ ہوتی ہوگی ہمیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں ۔
     
  10. ‏اگست 16، 2016 #40
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    علمی موضوع میں عالمانہ انداز کو برقرار رکھا جائے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں