• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بابرکت و باسعادت بڑھاپا

شمولیت
اکتوبر 25، 2014
پیغامات
350
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
85
نام کتاب:
بابرکت و باسعادت بڑھاپا


انتساب: ’’ان مسلم نوجوانوں کے نام‘‘ جو ’’بابرکت و باسعادت زندگی اور بڑھاپا‘‘ گزارنے کے متمنی ہیں۔

بڑھاپا جو زندگی کا آخری مرحلہ ہے، چالیس سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے اور موت تک جاری رہتا ہے۔ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچتے ہی طرح طرح کے عوارض نے گھیر لیا اور موت سر پر کھڑی نظر آنے لگی۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ زندگی کے اب گنے چنے دن باقی رہ گئے ہیں۔ ایسے میں زندگی کے ان باقی ماندہ ایام کو بابرکت بنانے کی فکر لاحق ہوئی اور اس موضوع پر کسی کتاب کی طلب نے دل میں انگڑائی لی۔ لیکن تلاش بِسیار کے باوجود اس موضوع پر کوئی کتاب نہیں ملی۔ اس لیے قرآن و سنت کی روشنی میں میں نے خود اس موضوع پر چند مضامین لکھے اور سوشل میڈیا پر دوستوں کے ساتھ شیئر کیے جنہیں دوستوں نے بہت پسند کیا۔ سوشل میڈیا پر جوان لوگ ہی زیادہ دوست بنتے ہیں۔ لہذا نوجوانوں کی ہی فرمائش تھی کہ اس موضوع پر ایک مستقل کتاب لکھی جائے جس کی روشنی میں ان کے لیے ’’بابرکت و باسعادت بڑھاپا‘‘ گزارنا ممکن ہوسکے۔

لہذا اللہ تعالٰی کی توفیق سے اس موضوع پر لکھنا شروع کیا اور یہ رب کریم کی میرے اوپر لطف و کرم کی انتہا ہے کہ مجھ جیسے کم علم شخص کو ایک ایسی منفرد کتاب تالیف کرنے کی توفیق عطا فرمائی جو اگرچہ عمر رسیدہ لوگوں کو مخاطب کرتی ہے لیکن نوجوانوں کے لیے کچھ زیادہ مفید ہے کیونکہ آج کے نوجوانوں نے ہی کل بڑھاپے میں قدم رکھنا ہے۔ اس لیے میں نے اس کتاب کو ’’ان مسلم نوجوانوں کے نام منسوب‘‘ کیا جو ’’بابرکت و باسعادت زندگی اور بڑھاپا‘‘ گزارنے کے متمنی ہیں۔

آج کے نوجوانوں نے ہی کل بڑھاپا دیکھنا ہے۔ اس لیے یہ کتاب ان کے لیے زیادہ مفید ہے تاکہ ان کے والدین سے جو کوتاہیاں ہوئی ہیں وہ ان سے بچ جائیں اور اپنی اور اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرکے اپنا بڑھاپا بابرکت و باسعادت بنائیں۔

لہذا یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے ہر گھر میں ہونا چاہیے، ہر باپ کو اپنی نوجوان اولاد کو اور ہر نوجوان کو اپنے والدین اور خاندان کے دیگر بزرگوں کو اسے تحفے میں دینا چاہیے۔ یہ باتیں آپ اس کتاب کو پڑھ کر ہی جان سکیں گے، اگر یہ کتاب اس دعوے پر پورا نہیں اترتی تو کتاب واپس کر دیں اور دگنی قیمت واپس لے جائیں۔

یہ دو جلدوں پر مشتمل ایک منفرد کتاب ہے۔ میری تحقیق کے مطابق اس موضوع پر ابھی تک عربی، اردو، انگریزی یا کسی اور زبان میں کوئی کتاب دستیاب نہیں ہے۔ یہ میری دو سال کی کاوش اور محنت کا نتیجہ ہے۔ باقی اس کتاب کا مطالعہ کرکے ہی آپ جان سکیں گے۔ اس کتاب سے مکمل استفادہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی دونوں جلدیں پڑھیں اور ان میں موجود قرآن و سنت کی باتوں کے مطابق اپنی زندگی کو با برکت بنائیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات با برکات سے امید ہے کہ یہ کتاب اپنے ہر پڑھنے والے کی زندگی اور بڑھاپے کو با برکت اور خوشگوار بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔

اس کتاب کی تالیف میں میں نے بہت تحقیق اور باریک بینی سے کام لیا ہے۔ قرآنی آیات کو اس کے معنی و تفسیر کے مطابق مناسب موضوع میں مناسب جگہ پر رکھنا اور آیات کی تشریح احادیث کے ذریعہ کرنا ایک مشکل کام تھا جو اللہ تعالٰی کی مدد ہی سے ممکن ہوا۔ چنانچہ ہرمقام پر قرآنی آیت اور حدیث کا حوالہ پیش کیا گیا ہے۔

اللہ کریم! میری اس حقیر کاوش کو قبول فرما ئے اور اس کو میرے لیے، میرے اہل و عیال، دیگر رشتہ دار، دوست احباب اور قارئین کے لیے دینی اور دنیاوی خیر و برکت کا سبب بنا دے۔ آمین

وَصَلٰی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ

مؤلف: محمد اجمل خان ،
کراچی، پاکستان
یوم عاشورہ، بروز ہفتہ، ۱۰/ محرم الحرام، ۱۴۴۵، بمطابق 29/ جولائی، 2023

کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں:
واٹس اپ یا کال کریں: 03363780896​
ایمیل: ajmal4@yahoo.com
۔​

2.jpeg

300dpi title - Part 2A_.jpg
 
شمولیت
اکتوبر 25، 2014
پیغامات
350
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
85
ہم رب کے شکر گزار ہیں


بڑھاپے میں پہنچتے پہنچتے ہم سب زندگی کا بڑا حصہ گزار چکے ہیں، وہ جیسی بھی گزری ہو پیچھے مُڑ کر دیکھنے پر اچھی ہی لگتی ہے۔ اس پر اللہ کا شکر ہے۔ ہمارے کتنے ہی ساتھی راستے میں ہی ہم سے بچھڑ گئے جبکہ ہمارے رب نے ہمیں لمبی عمر عطا فرمائی اور ہمیں بڑھاپے تک پہنچا دیا اور ہمیں اپنے بہترین بندوں میں شامل ہونے کا موقع دیا۔

جیسا کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کی خبر نہ دوں؟ تم میں افضل لوگ وہ ہیں جن کی عمریں سب سے زیادہ لمبی اور اعمال انتہائی نیک ہوں۔ (سلسلہ احادیث صحیحہ، ترقيم الباني: 1298)

اسی طرح ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تم میں بہترین لوگ کون ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہاں ضرور بتائیں، فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو لمبی عمر والے ہیں اور جن کے اخلاق اچھے ہیں ۔ (مسند احمد: 9235)

ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ہمیں لمبی عمر عطا کرکے بڑھاپے تک پہنچانے پر۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف لمبی زندگی سے ہی نہیں نوازا بلکہ زندگی گزارنے کے لیے ہر ضروری نعمتوں سے بھی نوازتا رہا، اس پر بھی ہم اپنے رب کے شکرگزار ہیں۔ اس رب نے ہمیں بیوی اور بیٹے بیٹیوں سے نوازا جبکہ اب ہم میں سے بعض پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی گود کھلا رہے ہیں۔ ہم خالی ہاتھ اس دنیا میں آئے تھے لیکن آج ہمارے ہاتھوں میں بہت کچھ ہے، ان سب کا شکر ہم چاہتے ہوئے بھی ادا نہیں کرسکتے لیکن پھر بھی اے اللہ ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں، ہمیں اپنے شکرگزار بندوں میں شامل فرما لے۔ آمین

ہمارے رب نے بن مانگے ہی ہم پر اپنے لامحدود احسانات و انعامات کیے ہیں، ہم کتنی ہی ایسے نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں اور رہتے ہیں جنہیں ہم جانتے بھی نہیں اور کتنی ہی ایسی مصیبتیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے علم میں لائے بغیر ہم سے دور رکھی ہیں۔

بڑھاپے کے بارے میں مزید جاننے اور اپنے بڑھاپے کو بابرکت و باسعادت بنانے کے لیے آج ہی مطالعہ شروع کیجیے اس موضوع پر ایک منفرد کتاب " بابرکت و باسعادت بڑھاپا" کی۔

کتاب حاصل کرنے کے لیے کال یا واٹس اپ کیجیے: 03363780896 پر
 
شمولیت
اکتوبر 25، 2014
پیغامات
350
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
85
قربت کی سیڑھیاں
جو لوگ جوانی سے ہی اپنی آخرت کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں، انہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ لیکن جو لوگ اپنی جوانی لہو و لعب میں گنوا کر اب بڑھاپے میں پہنچ چکے ہیں، ان کے لیے اپنی آخرت کو سنوارنے کا یہ آخری موقع ہے۔
اس لیے پریشان نہ ہوں کیونکہ جوانی کی طرح انسان کے لیے بڑھاپا اور بڑھاپے کی عبادت و ریاضت بھی کم نہیں ہیں کیونکہ بڑھاپا انسان کے لیے وہ خیر لاتا ہے جو جوانی نہیں لا سکتی۔ بڑھاپے میں کمزوری کا احساس انسان کو اللہ سے قریب کرتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بڑی نعمت ہے۔
»»» بڑھاپا انسان کو اللہ سے قرب کی وہ سیڑھیاں طے کراتا ہے جو جوانی میں نہیں کرا سکتی«««
لہٰذا جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے میں پہنچا کر یہ آخری موقع دیا ہے انہیں اس سے پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔
اور اس بارے میں مزید جاننے کے لیے مطالعہ کرنا چاہیے کتاب *"بابرکت و باسعادت بڑھاپا"*
جسے حاصل کرنے کے لیے ابھی کال یا واٹس اپ کیجیے: 03363780896

2.jpg

۔
 
شمولیت
اکتوبر 25، 2014
پیغامات
350
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
85
یہ ایک ایسی کتاب ہے جو صرف عمر رسیدہ افراد کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر عمر کے مرد و خواتین کے لیے بھی یکساں مفید ہے اور نوجوانوں کے لیے تو نہایت ہی نفع بخش ہے کیونکہ نوجوانوں کے پاس اپنے بڑھاپے کو سنوارنے کا زیادہ وقت میسر جو اس کتاب کے مطالعے سے وہ کر سکتے ہیں۔
کتاب *"بابرکت و باسعادت بڑھاپا"* حاصل کرنے کے لیے ابھی کال یا واٹس اپ کیجیے: 03363780896
۔
 
شمولیت
اکتوبر 25، 2014
پیغامات
350
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
85
سنہرا موقع

علم حاصل کرو گود سے گور تک۔ علم سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ علم سیکھنے کے لیے بڑھاپا کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ بڑھاپے میں سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنا ذہنی قوت کو چاق چوبند رکھتا ہے۔ ‏جتنا ہم اپنے ذہن کو استعمال کریں گے اتنا ہی وہ نئی باتیں سیکھے گا۔‏ ہمارا ذہن ہر لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھنا چاہتا ہے اور یہی نئی باتیں یا نیا علم سیکھنا ہمارے ذہن کی غذا ہے۔ یہ درست ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر میں ذہن اتنا چست نہیں رہتا جتنا جوانی میں ہوتا ہے لیکن اگر ہم ذہن کو اس کی غذا دیتے رہیں تو اس پر بڑھتی عمر کا کم ہی اثر پڑتا ہے۔‏ سائنسدان کہتے ہیں کہ اگر ایک شخص باقاعدگی سے ورزش کرنے کے ساتھ ساتھ نئی باتیں سیکھنے کی بھی کوشش کرتا رہے تو بڑھاپے میں بھی اُس کے ذہن کی چستی برقرار رہے گی۔‏ ہم جتنا وقت سیکھنے میں لگائیں گےاتنا ہی ہماری سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔‏‏ اسی لیے ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ہمیں روزانہ قرآن کریم کا کچھ حصہ سیکھنے کی ترغیب دی ہے، جیسا کہ ذیل کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے:

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے اور ہم لوگ صفہ میں تھے۔ پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کون چاہتا ہے کہ روز صبح کو بطحان یا عقیق کو جائے (یہ دونوں مدینہ کے بازار تھے) اور وہاں سے بڑے بڑے کوہان کی دو اونٹنیاں بغیر کسی گناہ کے اور بغیر اس کے کہ کسی رشتہ دار کی حق تلفی کرے، لائے تو ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم سب اس کو چاہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تم میں سے ہر ایک مسجد کو کیوں نہیں جاتا اور کیوں نہیں سیکھتا یا پڑھتا اللہ کی کتاب کی دو آیتیں، جو اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین بہتر ہیں تین اونٹنیوں سے اور چار بہتر ہیں چار اونٹنیوں سے اور اسی طرح جتنی آیتیں ہوں، اتنی اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔ (صحيح مسلم: 803، سنن ابي داود: 1456)

اگر ہم نے ساری زندگی یہ عمل نہیں کیا تو اب بڑھاپے میں یہ عمل کرنے کا سنہرا موقع ہے۔

اس بارے میں مزید جاننے کے لیے مطالعہ کیجیے کتاب *"بابرکت و باسعادت بڑھاپا"*

اور اسے حاصل کرنے کے لیے ابھی کال یا واٹس اپ کیجیے: 03363780896

ہ
 
شمولیت
اکتوبر 25، 2014
پیغامات
350
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
85
سنہرا دور

اب بڑھاپے میں یہ علم سیکھنے کا سنہرا موقع ہے کیونکہ عمر رسیدہ لوگوں کی اکثریت اپنے اہل و عیال کی روزی روٹی کی ذمہ داری سے فارغ ہو چکی ہوتی ہے۔ بڑھاپے میں ہمارے پاس وقت کی کمی بھی نہیں ہوتی۔ لہذا ہم مسجد میں بیٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے اس قول پر عمل کر سکتے ہیں(حدیث اوپر بیان ہوئی ہے) اور بے شمار نیکیاں اور قرآن کریم سیکھنے کی فضیلت حاصل کرسکتے ہیں۔ اس طرح بڑھاپے میں ہمارا وقت بھی اچھا گزرے گا اور ہماری آخرت بھی سنور جائے گی۔

یقیناً علم سیکھنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے اور نہ ہی کوئی جسمانی معذوری علم سیکھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا نام کون نہیں جانتا، پیدائشی نابینا ہونے کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے قرآن مجید سیکھا، قرآن مجید کے حافظ اور قراءتِ قرآن کے اسپیشیلسٹ تھے اور مدینہ ہجرت کے بعد لوگوں کو قراءت سکھاتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے فیض صحبت سے احادیث سے بھی آپ رضی اللہ عنہ کا دامن خالی نہ تھا، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ سے زر بن حبیش، عبدالرحمن بن لیلی، عبد اللہ بن شداد بن الھادی اور ابو البختری حضرات تابعین نے احادیث روایت کی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی کے مؤذن اور امام ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا طغرائے امتیاز یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تیرہ غزوات میں شرکت فرمائی، آپ ﷺ نے ہر غزوہ میں حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین و خلیفہ مقرر فرمایا، حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اُن دنوں لوگوں کی امامت فرماتے۔ نابینا ہونے کے باوجود ساری زندگی درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور آخری عمر میں جنگ قادسیہ میں شرکت کی اور شہادت کا مرتبہ پایا۔

لہذا اگر ارادہ پختہ ہوتو بڑھاپا یا معذوری علم سیکھنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی اور دین کا علم سیکھنا سب سے افضل عمل ہے جس پر زندگی کے آخری لمحے تک ہر بندہ مومن کو کاربند رہنا چاہئے اورسیکھے ہوئے علم پر عمل بھی کرنا چاہئے، کیونکہ علم پر عمل کرنے سے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ «تَفَقَّهُوا قَبْلَ أَنْ تُسَوَّدُوا - سردار بننے سے پہلے سمجھدار بنو» (یعنی دین کا علم حاصل کرو) اور ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ سردار بنائے جانے کے بعد بھی علم حاصل کرو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے بڑھاپے میں بھی دین سیکھا۔ (صحيح البخاري: حدیث نمبر: Q73 ۔ كِتَاب الْعِلْمِ، 15. باب: علم و حکمت میں رشک کرنے کے بیان میں)

خود ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ نے چالیس سال کی عمر میں علم سیکھنا شروع کیا جب آپ ﷺ کو غار حرا میں پڑھایا گیا:

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ‎(١)‏ سورة العلق
’’پڑھیے! اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا‘‘

انگریزوں کا نافذ کردہ تعلیمی نظام ہمیں صرف ہنر سکھاتا ہے، علم نہیں۔ اس لیے ہمارے معاشرے میں ایسے تعلیم یافتہ افراد کی اکثریت ہے جو دنیاوی علم و ہنر سے تو مالامال ہیں لیکن دین کا کوئی علم نہیں رکھتے، یہاں تک کہ قرآن مجید بھی پڑھ نہیں سکتے۔ ایسے لوگوں کے لیے بڑھاپا وہ سنہرا دور ہے جب فراغت ہی فراغت ہے اور دین کا علم سیکھنے کے لیے وقت نکالنا کوئی مشکل بھی نہیں ہے۔ ایسے میں ذیل کی حدیث کو یاد رکھنا فائدہ مند ثابت ہوگا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے :
(1) صحت و تندرستی اور
(2) فارغ البالی (یعنی کام کاج سے فراغت اور فرصت کے لمحات)۔ (صحيح البخاري: 6412)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسے صحابہ بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں جنہوں نے نہ صرف بڑی عمر میں تحصیل علم کیا بلکہ مرتبہ کمال کو پہنچے۔ یہ سلسلہ بعد کے زمانے میں بھی جاری رہا بلکہ قرآن کریم کو بڑی عمر میں حفظ کرنے کا سلسلہ تو آج بھی جاری ہے اور یہ قرآن کریم کی برکت ہے۔
 
شمولیت
اکتوبر 25، 2014
پیغامات
350
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
85
علم والے اور بے علم برابر نہیں ہوسکتے


کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو بڑھاپے میں لغویات میں پڑنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے قرآن مجید حفظ کرتے ہیں، قراءت و تجوید، معنی و مفاہیم اور تفسیر سیکھتے ہیں، پھر قرآن و سنت کی باتوں پر عمل بھی کرتے ہیں اور دوسروں تک پہچانے کا کام بھی کرتے ہیں۔

فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ --- (١٢٥)‏ سورة الأنعام
پس (یہ حقیقت ہے کہ) جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کشادہ کردیتا ہے۔

اور انہیں دین کی صحیح سمجھ عطا کرتا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعاليٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی گہری سمجھ عطا فرما دیتا ہے، اور میں تو تقسیم کرنے والا ہوں جبکہ عطا اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ (صحيح البخاري: 71، صحيح مسلم:2392)۔

اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 224)

لیکن علم کیا ہے؟ علم وہ عظیم وصف ہے جو انسان کو نہ صرف یہ کہ شرافت و تہذیب کا سرمایہ بخشتا ہے، عزّت و عظمت کی دولت سے نوازتا ہے، اخلاق و عادات میں جلا پیدا کرتا ہے اور انسانیت کو انتہائی بلندیوں پر پہنچاتا ہے، بلکہ قلب انسانی کو عرفان الہٰی کی مقدّس روشنی سے منوّر کرتا ہے، ذہن و فکر کو صحیح عقیدے کی معراج بخشتا ہے اور دل و دماغ کو اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت گزاری کی راہ مستقیم پر لگاتا ہے۔ اسلام! جو انسان کے لیے ترقی و عظمت کی راہ میں سب سے عظیم مینارۂ نور ہے، وہ اس عظیم وصف کو انسانی برادری کے لیے ضروری قرار دیتا ہے اور اس کے حصول کو دینی و دنیوی ترقی و کامیابی کا زینہ بتاتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اسلام ہر اس علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو اسلامی عقیدہ و عمل سے مزاحم ہوئے بغیر انسانی معراج کا ضامن ہو، اسلام کسی بھی علم کے حصول کو منع نہیں کرتا۔ لیکن ایسے علم سے وہ بیزاری کا اظہار بھی کرتا ہے جو ذہن و فکر کو گمراہی کی طرف موڑ دے یا انسان کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے نا آشنا رکھ کر دہریت کے راستہ پر لگا دے۔

اسلامی شریعت کی نظر میں جو علم بنیادی اور ضروری حیثیت رکھتا ہے وہ علم دین ہے، جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر مشتمل ہے۔ یہ وہ علم ہے جو دوسرے علوم کے مقابلے میں اسلام کی نظر میں سب سے مقدّم اور ضروری ہے جس کا حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 192)

اسلا م کی نظر میں تعلیم و تعلم کا مقصد خالص رضائے الٰہی کی طلب ہے اور بس، اس میں کسی دنیاوی غرض کا میل نہیں۔ اس کی نظر میں تعلیم کا مقصد انسانی پیدائش کے منشاء کو پورا کرنا، اچھے اخلاق سے خود آراستہ ہونا، اور دوسروں کوا ٓراستہ کرنا، علم کی روشنی سے جہل اور نادانی کے اندھیروں کو دور کرنا، نہ جاننے والوں کو سکھانا، بھولے بھٹکوں کو راہ دکھانا ، حق کو پھیلانا اور باطل کو مٹانا ہے۔

اسلام نے علم اور دین دونوں کو ایک دوسرے سے اس طرح باندھا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے بیگانہ نہیں ہو سکتے۔ اور جب انہیں ایک دوسرے سے جدا کر دیا جاتا ہے تو دہریت اور ظلم و بربریت انسانیت کو گھیر لیتی ہے۔ لہذا علم وہی ہے جس سے دین کی سمجھ اور دین پر عمل کرنے کا شعور پیدا ہو۔ علم کی بنیاد پر ہی انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے، اپنے رب سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی اطاعت و عبادت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ--- (٢٨)‏ ‏سورة فاطر
بے شک ﷲ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ --- ‎(٩) سورة الزمر
(تو) کہو کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں؟

یقیناً نہیں! پس جب علم والے اور بے علم برابر نہیں ہوسکتے تو دین کا علم حاصل کیے بغیر اپنے رب کو پہچاننا ممکن نہیں۔ لہذا جو اپنے رب کو نہیں پہچانا اور جس نے اپنے رب کی شان و عظمت کو نہیں جانا، اس کے لیے اپنے رب سے ڈرنا کیونکر ممکن ہوگا اور وہ اپنے رب کی اطاعت و عبادت وہ کیوں کرے گا؟

یاد رکھیے: ہر مسلمان کو دین کا کم از کم اتنا علم ضرور حاصل کرنا چاہیے جس کی بنیاد پر وہ اپنے عقائد و اعمال کو درست رکھ سکے۔ اگر وہ علم حاصل کرنے سے عاجز ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ صحیح العقیدہ علمائے حق کی صحبت اختیار کرے اور دینی امور میں ان سے رہنمائی حاصل کرتا رہے۔

اس طرح وہ بابرکت و باسعادت بڑھاپاپائے گا۔


۔
 
شمولیت
اکتوبر 25، 2014
پیغامات
350
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
85
بڑھاپے میں فرصت سے فائدہ اٹھائیں

(گزشتہ سے پیوستہ)
اب بڑھاپا ہے اور موت سر پر کھڑی ہے لیکن اب بھی وقت ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم دین کا علم سیکھنے کی سعی کریں تو اللہ تعالیٰ ہمارے درجات بلند فرما دے گا اور ہمارا بڑھاپا بابرکت و باسعادت بنا دے گا۔

يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ‎(١١)‏ سورة المجادلة
’’اللہ اُن لوگوں کے درجات بلند فرما دے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم سے نوازا گیا، اور اللہ اُن کاموں سے جو تم کرتے ہو خوب آگاہ ہے‘‘

جس طرح علم سیکھنا ضروری ہے اسی طرح علم کا دوسروں تک پہنچانا بھی اہم ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: « بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً ۔’’میری طرف سے لوگوں کو (احکام الٰہی) پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی ہو‘‘» ۔ (صحيح البخاري:3461)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے علم کی حد تک ہر شخص اس بات کا مکلف ہے کہ قرآن و حدیث کا جو بھی علم اسے حاصل ہو اسے لوگوں تک پہنچائے، یہاں تک کہ اگر کسی ایک حکم الٰہی سے ہی آگاہ ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو بھی اس سے آگاہ کرے۔

حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے تقریباً ایک لاکھ حاضرین کے سامنے خطبہ دیا جس کے آخر میں فرمایا: حاضر کو چاہیے کہ غائب کو میری باتیں پہنچا دے کیونکہ بہت سے لوگ جن تک یہ پیغام پہنچے گا سننے والوں سے زیادہ (پیغام کو) یاد رکھنے والے ثابت ہوں گے۔ (صحيح البخاري:1741، صحيح مسلم: 1679)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ کی باتیں دوسروں تک پہنچانے کے کتنے حریص تھے اس بات کا اندازہ ہم ابوذر رضی اللہ عنہ کے ارشاد سے لگا سکتے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ اگر تم اس پر تلوار رکھ دو، اور اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا، اور مجھے گمان ہو کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے جو ایک کلمہ سنا ہے، گردن کٹنے سے پہلے بیان کر سکوں گا تو یقیناً میں اسے بیان کر ہی دوں گا۔ (صحيح البخاري، حدیث نمبر: Q68 ، كِتَاب الْعِلْمِ، 10. بَابُ الْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ)

رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو اسلام کی تعلیم دی، یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین آپ کے براہ راست تربیت یافتہ تھے، لہذا صحابہ معیاری مسلمان تھے۔ وہ لوگ آپ ﷺ کی ہر بات کو سنتے، سمجھتے اور اس پر عمل کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول االلہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: « بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً» اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس وقت کی معلوم دنیا تک دین کی باتیں پہنچا دیں۔ آج جو دین ہم تک پہنچا ہے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی انتھک محنت کا ہی نتیجہ ہے۔

دین کی تبلیغ و اشاعت کی ذمہ داری اس امت کی اہم ذمہ داری ہے اور یہ ہم سب پر بھی فرض ہے۔ دین کی وہ باتیں جو ہم جانتے ہیں اسے دوسروں تک پہنچانے کا حکم ہمارے لیے بھی ہے لیکن ہم ہیں کہ دین کی وہ باتیں جو ہم جانتے ہیں اسے اپنے بچوں تک بھی نہیں پہنچاتے تو دوسروں تک کیا پہنچائیں گے؟

بڑھاپے میں فرصت کے جو لمحات ہمیں میسر ہیں ان میں ہم بہت آسانی سے یہ فریضہ انجام دے سکتے ہیں، بس ضرورت ہے ارادے کی پختگی کی۔ لہذا آج سے عہد کریں کہ ہم روزانہ دین کی کچھ باتیں سیکھیں گے، ان پر عمل کریں گے اور انہیں دوسروں تک پہنچائیں گے۔ اس طرح ہمارے فرصت کے لمحات ضائع ہونے سے بچ جائیں گے اور ہم اپنے بڑھاپے میں بھی زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرکے توشہ آخرت جمع کر پائیں گے۔ اس طرح ہمارا بڑھاپا بھی بابرکت و باسعادت ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی توفیق عطاا فرمائے۔ آمین۔

مزید جاننے کے لیے مطالعہ کیجیے کتاب: بابرکت و باسعادت بڑھاپا
۔
 
Last edited:
شمولیت
اکتوبر 25، 2014
پیغامات
350
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
85
بابرکت و باسعادت بڑھاپے کی تیاری

ہمارا دین ہمیں زندگی کے اوائل ایام سے ہی بابرکت و باسعادت بڑھاپے کی تیاری کرنے کا حکم دیتا ہے،
رسول ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو:
جوانی کو بُڑھاپے سے پہلے،
تندرستی کو بیماری سے پہلے،
امیری کو فقیری سے پہلے،
فرصت کو مَصروفیّت سے پہلے اور
زندگی کو موت سے پہلے۔ (مشكوة المصابيح: 5174)

یعنی جوانی غنیمت ہے۔ بڑھاپے سے پہلے جوانی میں ہی بڑھاپے کی تیاری کر لینی چاہیے اور لوگ کرتے بھی ہیں۔ لیکن آج اکثریت کے پیش نظر صرف دنیا ہی ہوتی ہے، اس لیے لوگ دین کو چھوڑ کر دنیاوی طور پر بڑھاپے کی تیاری کرتے ہیں۔ جوانی میں لوگ حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر زیادہ سے زیادہ مال کماتے ہیں اور اپنے بڑھاپے کے لیے پس انداز کرکے رکھتے ہیں۔ وقت پر کھانا، دوا اور ورزش کے ساتھ صحت کا بھی پورا خیال رکھتے ہیں تاکہ یہ لوگ بڑھاپے میں صحت مند رہیں اور ان کا بڑھاپا اچھا گزرے، لیکن پھر بھی ان کا بڑھاپا اچھا نہیں گزرتا؟

بے شمار بوڑھے اچھی صحت اور مالدار ہونے کے باوجود بے سکونی کی زندگی گزار رہے ہیں، نہ ہی کسی پل چین ہے نہ ہی دل کو اطمینان ہے۔ زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔ بیٹا بیٹی بیوی سب نافرمان ہیں۔ بڑے میاں کے پاس مال و دولت ہونے کے باوجود کوئی فرمانبرداری نہیں کرتا۔ خود بھی قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں لیکن فسق و فجور میں مبتلا ہیں۔ گھنٹوں ٹی وی، فلم اور انٹرنیٹ بینی پر گزار رہے ہیں۔ اس عمر میں بھی نماز و روزہ سے کوئی سروکار نہیں، رب کو راضی کرنے کی کوئی فکر نہیں، رب کو بھلائے بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے ان کی زندگی تنگ ہے اور ان کا بڑھاپا پریشان کن ہے، فرمایا:

وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ ‎(١٢٤) سورة طه
’’اور جو میرے ذِکر ( نصیحت) سے منہ موڑے گا اس کی زندگی تنگ ہو جائے گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے‘‘

اپنے خالق کو چھوڑ کر اور اپنے خالق کے ذکر سے منہ موڑ کر ساری زندگی اپنی نفسانی شہوتوں اور دنیوی لذتوں میں منہمک رہنے والوں کو اللہ بھی بھلا دیتا ہے، پھر ایسے لوگوں کو بڑھاپے میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے کی توفیق نہیں ہوتی، کار خیر کرنے کی صلاحیت اور اس کا احساس ان کے دلوں سے جاتا رہتا ہے، اگر وہ کوئی کار خیر کرتے بھی ہیں تو وہ دکھاوے اور ریا کاری کے لیے کرتے ہیں، آخرت کے فکر اور تصور سے ان کا دل خالی رہتا ہے۔ ایسے لوگوں پر شیطان مسلط کر دیئے جاتے ہیں جو انہیں راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں، فرمان ہے:

وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ ‎(٣٦)
وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ ‎(٣٧) سورة الزخرف

’’جو شخص رحمان کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے۔
یہ شیاطین ایسے لوگو ں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں،اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں‘‘

ایسے لوگ بڑھاپے میں بھی فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیں اور بڑھاپے کی سعادت مندی سے بہرہ ور نہیں ہوپاتے بلکہ بُرے بڑھاپے سے دوچار ہوتے ہیں جو ان کی آخرت کے عذاب میں روز بروز اضافے کا باعث بنتا ہے پھر اسی حالت میں قبر میں جا گرتے ہیں جہاں عذاب قبر اور عذاب جہنم ان کا منتظر ہوتا ہے۔

لیکن جو لوگ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہیں۔ اپنی جوانی سے ہی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری میں زندگی گزارتے ہیں، وہ لوگ بڑھاپے میں پہنچ کر کسی فتنہ یا فسق و فجور میں گرفتار نہیں ہوتے بلکہ پہلے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں زندگی گزارنے کی سعی کرتے ہیں، اپنی آخرت بنانے کی فکر کرتے ہیں، رب کی یاد سے ان کے دل ہمہ وقت لرزاں رہتے ہیں۔ اس طرح وہ بڑھاپے کی سعادت مندی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ان کا بڑھاپا خوشگوار گزرتا ہے اور آخرت سنور جاتی ہے۔

کتاب *بابرکت و باسعادت بڑھاپا* کی دو علیحدہ جلدیں ہیں۔ ہر جلد تقریبا 300 صفحات پر مشتمل ہے۔
 
Top