• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بریلویوں کا مشرکانہ عقیدہ

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
وسیلہ کی تھوڑی وضاحت کر دوں کہ کسی کو وسیلہ بنانے کے دو احتمالات ہو سکتے ہیں
1-ایک شرک اکبر ہوتا ہے اسی کو امام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ نے اپنے نواقض اسلام میں دوسرے نمبر پر رکھا ہے پہلا ناقض اسلام ڈائریکٹ غیر اللہ (اولیاء وغیرہ)ک ی عبادت یا ان سے مانگنا ہے جو شرک اکبر ہے اور دوسرا ناقض ان
اولیاء کو واسطہ اس طرح بنانا ہے کہ یہ عقیدہ ہو کہ یہ اللہ سے لازمی کام کروا کر دے سکتے ہیں پس دوسرا ناقض بھی اگرچہ پہلے ناقض میں ہی داخل ہے مگر یہ اس سے ایک طرح سے اخص ہے یعنی عموم خصوص کی نسبت ہے (عموم خصوص کی نسبت ایسے ہوتی ہے جیسے پنجابی اور پاکستانی میں نسبت ہے کہ پنجابی اخص ہے یعنی ہر پنجابی پاکستانی تو ہو گا مگر ہر پاکستانی کا پنجابی ہونا لازم نہیں) پس جب کوئی اس عقیدے سے کسی نبی ولی سے سفارش چاہئے کہ وہ لازمی یہ کام اللہ سے کروا سکتا ہے کیونکہ اللہ اسکی محبت یا کسی اور چیز سے مجبور ہے تو ایسا شرک اکبر ہو گا واللہ اعلم

2-دوسرا بدعت یا شرک کی طرف لے جانے والا ہوتا ہے اس کو مختلف علماء نے بدعت کہا ہے اور شرک کی طرف لے جانے والا کہا ہے مثلا ابن باز رحمہ اللہ، شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ وغیرہ- یہاں شاید ایسا ہوتا ہے کہ لوگ نبی یا ولی کے بارے یہ تو عقیدہ نہیں رکھتے کہ وہ اپنی مرضی سے کام کروا سکتا ہے لیکن یہ سمجھتے ہیں کہ انکے نام کی عظمت ایسے ہے جیسے ہمارے نیک اعمال کی عظمت- پس جیسے نیک اعمال کا جب واسطہ دیا جاتا ہے تو اللہ دعا زیادہ قبول کرتا ہے تو اسی طرح کسی نیک ذات کا حوالہ دیا جاتا ہے تو پھر بھی قبولیت کے چانس زیادہ ہو جاتے ہیں البتہ اللہ تعالی مجبور نہیں- واللہ اعلم

1-اولیا سے مدد مانگنا اور 2-انہیں پکارنا 3-ان کے ساتھ توسل کرنا امر مشروع (یعنی شرعا جایز ) وشی مرغوب ھے جسکا انکار نہ کرے گا مگر 4-ھٹ دھرم یا دشمن انصاف- ( فتاوی رضویہ از احمد رضا : 300)
اسکا کیا معنی ھے۔
نمبر 1 اور نمبر 2 سے مراد پہلا ناقض اسلام جبکہ نمبر 3 سے یہاں زیادہ چانس تیسرے ناقض کے ہیں یعنی ہم اس نظریے کے تحت توسل کریں جس کے تحت وسیلہ شرک بن جاتا ہے بدعت نہیں بنتا واللہ اعلم
نمبر 4 سے مراد ہم یعنی وھابی ہیں
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
یہ اس سے ایک طرح سے اخص ہے یعنی عموم خصوص کی نسبت ہے (عموم خصوص کی نسبت ایسے ہوتی ہے جیسے پنجابی اور پاکستانی میں نسبت ہے کہ پنجابی اخص ہے یعنی ہر پنجابی پاکستانی تو ہو گا مگر ہر پاکستانی کا پنجابی ہونا لازم نہیں)
یہ مثال کچھ سمجھ نہیں آئی کہ ہر پنجابی کا پاکستانی تو ہوگا یعنی اس مثال کے ذریعہ آپ نے ہندوستان کے پنجاب میں رہنے والے پنجابیوں کوبھی پاکستانی بنا ڈالا
لیکن یہ سمجھتے ہیں کہ انکے نام کی عظمت ایسے ہے جیسے ہمارے نیک اعمال کی عظمت- پس جیسے نیک اعمال کا جب واسطہ دیا جاتا ہے تو اللہ دعا زیادہ قبول کرتا ہے تو اسی طرح کسی نیک ذات کا حوالہ دیا جاتا ہے تو پھر بھی قبولیت کے چانس زیادہ ہو جاتے ہیں البتہ اللہ تعالی مجبور نہیں- واللہ اعلم
اللہ کے نیک بندوں کی عظمت اللہ کے نزدیک ہم جیسے لوگوں کے نیک اعمال سے بڑھکر ہے کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جن اعمال کو اپنے تیئں نیک گمان کررہے ہیں وہ اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہیں یاان اعمال کو اللہ ہمارے منہ پر مار دیے گا یعنی چانس 50-50 لیکن اللہ کے سب سے ذیادہ محبوب بندے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے ہر مسلمان( وہابیوں کا نہیں ) کا ایمان ہے آپکی ذات اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے ذیادہ مقبول ہے یعنی چانس 100٪ اسی لئے مسلمان 100٪ کی طرف جاتے ہیں اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں لیکن وہابی اس کو شرک کہتے ہیں
1-اولیا سے مدد مانگنا اور 2-انہیں پکارنا 3-ان کے ساتھ توسل کرنا امر مشروع (یعنی شرعا جایز ) وشی مرغوب ھے جسکا انکار نہ کرے گا مگر 4-ھٹ دھرم یا دشمن انصاف- ( فتاوی رضویہ از احمد رضا : 300)
اسکا کیا معنی ھے۔
اس لئے اس فتاویٰ میں وہابیوں کو ھٹ دھرم یا دشمن انصاف کہا گیا ہے

نمبر 1 اور نمبر 2 سے مراد پہلا ناقض اسلام جبکہ نمبر 3 سے یہاں زیادہ چانس تیسرے ناقض کے ہیں یعنی ہم اس نظریے کے تحت توسل کریں جس کے تحت وسیلہ شرک بن جاتا ہے بدعت نہیں بنتا واللہ اعلم
نمبر 4 سے مراد ہم یعنی وھابی ہیں
 
شمولیت
مئی 12، 2014
پیغامات
226
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
42
علی بہرام صاحب :جناب احمد رضا خان صاحب کے اس فتوی کو مدِ نظر رکھیں ۔
1۔اولیا سے مدد مانگنا اور 2-انہیں پکارنا 3-ان کے ساتھ توسل کرنا امر مشروع (یعنی شرعا جایز ) وشی مرغوب ھے جسکا انکار نہ کرے گا مگر 4-ھٹ دھرم یا دشمن انصاف- ( فتاوی رضویہ از احمد رضا : 300)
اس فتوی میں چار باتوں کا ذکر ہے (1) اولیاء سے مدد مانگنا،(2)انہیں پکارنا،(3) ان کے ساتھ توسل کرنا امرِ مشروع ہونا،(4)انکار کرنے والے کا ہٹ دھرم ہونا۔
ان چار باتوں میں جناب کا عقیدہ و نظریہ یہی ہے جو جناب احمد رضا خان صاحب کا ہے؟اگر جواب "ہاں " میں ہو تو ان باتوں کی وضاحت کریں
(1) کیا جناب اولیاء کرام سے بعد از وفات غائبانہ مدد مانگنے کا عقیدہ رکھتے ہیں ؟(2)یااولیاء کرام کو بعد از وفات غائبانہ مدد کے لئے پکارنے کا عقیدہ رکھتے ہیں ،(3) اولیاء کے ساتھ توسل کے مشروع ہونے سے کیا مراد ہے؟ کیا قرآن و سنت اور سلف صالحین (صحابہ و تابعین )نے اسے مشروع قرار دیا ہے؟(4) جو شخص بھی ان باتوں کا قائل نہ ہو کیا وہ ہٹ دھرم یا انصاف کا دشمن کہلائے گا؟
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
یہ مثال کچھ سمجھ نہیں آئی کہ ہر پنجابی کا پاکستانی تو ہوگا یعنی اس مثال کے ذریعہ آپ نے ہندوستان کے پنجاب میں رہنے والے پنجابیوں کوبھی پاکستانی بنا ڈالا

بہرام صاحب مجھے بھی یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہاں یعرفونھم---- والا معاملہ ہے یا پھر حقیقت میں آپ جیسی معلومات رکھنے والے کو اشکال لگا ہے
ھیدایۃ النحو کے شروع میں مصنف نے کلمہ کی تعریف کی ہے کہ لفظ وضع لمعنی مفرد- اسکی تشریح میں ہر شارح لکھتا ہے کہ یہاں مفرد مرکب کے پس منظر میں کہا گیا ہے نہ کہ واحد جمع کے پس منظر میں- پس رجلان اگرچہ واحد مذکر کے پس منظر میں مفرد نہیں مگر اوپر کلمہ کی تعریف میں استعمال کیے گئے مفرد پر پورا اترتا ہے
اسی طرح لفظ سنت کی تعریف عقیدے کے پس منظر میں کچھ اور بیان کی جاتی ہے اور محدثین اسکا معنی کچھ اور کرتے ہیں اور فقہاء اپنی بحث میں اسکا فرض اور نوافل کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں
پس پاکستان میں جب کسی کو پنجابی کہا جاتا ہے تو وہ چاروں صوبوں کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا جاتا ہے اس میں آپکے بھارتی پنجابی نہیں آتے
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
اللہ کے نیک بندوں کی عظمت اللہ کے نزدیک ہم جیسے لوگوں کے نیک اعمال سے بڑھکر ہے کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جن اعمال کو اپنے تیئں نیک گمان کررہے ہیں وہ اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہیں یاان اعمال کو اللہ ہمارے منہ پر مار دیے گا یعنی چانس 50-50 لیکن اللہ کے سب سے ذیادہ محبوب بندے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے ہر مسلمان( وہابیوں کا نہیں ) کا ایمان ہے آپکی ذات اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے ذیادہ مقبول ہے یعنی چانس 100٪ اسی لئے مسلمان 100٪ کی طرف جاتے ہیں
اوپر یعرفونھم والی آیت کا معاملہ تھا تو یہاں تلبسوا الحق والی آیت کا معاملہ نکل آیا یعنی قیاس مع الفارق -سچ کہتے ہیں کہ جس کا کام اسی کو ساجھے
ذرا سمجھیں کہ آپ نے مندرجہ ذیل باتیں کہی ہیں
1-ہمارے اعمال کی اللہ کے ہاں مقبولیت 50٪ ہونا
2-اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا اللہ کے ہاں 100 ٪ مقبول ہونا ہے
اب "بھان متی نے کنبہ جوڑا -- کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا" کے تحت اوپر دو باتوں کو ملا کر مندرجہ ذیل تیسری بات ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
3-ہمارے اعمال کی مقبولیت تو 50 ٪ سے بڑھ نہیں سکتی پس مسلمان ان اعمال کو چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی طرف جاتے ہیں جسکے چانس 100 ٪ ہیں
بھئی ذرا یہ بتائیں کہ اوپر ایک اور دو میں یہ کہاں ثابت کیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہماری نجات کے لئے 100 ٪ چانس دلواتی ہے بلکہ وہاں و یہ لکھا ہے کہ تمام مسلمانوں کے ہاں وہ بذات خود اللہ کے ہاں مقبول ہیں تو کسی کا اللہ کے ہاں مقبول ہونا یہ کہاں ثابت کرتا ہے کہ ہم بھی اللہ کے ہاں اتنے مقبول ہوں گے اس پر عقلی یا نقلی دلیل چاہئے
اسکو میں دنیا کی مثال سے سمجھاتا ہوں
آپ کو امریکہ کا ویزہ چاہئے تو آپ اوباما کو کہتے ہیں کہ مجھے ویزہ دے دو تو اسکے چانس کم ہیں
اسکی بجائے آپ اسکی بیٹی کو وسیلہ بناتے ہیں تو اسکے تین طریقے ہو سکتے ہیں
1-آپ اسکی بیٹی سے کسی طریقے سے سفارش کرواتے ہیں
2-آپ اسکی بیٹی کو جانتے تو نہیں کہ سفارش کروا سکیں البتہ کہتے ہیں کہ اپنی بیٹی کے صدقے مجھے ویزا دے دو
3-آپ اسکی بیٹی کا صدقہ بھی نہیں کہتے کیونکہ عیسائی کو آپ صدقے پر کیسے قائل کریں گے بلکہ کہتے ہیں کہ چونکہ وہ تمھاری پیاری بیٹی ہے پس مجھے ویزہ دے دو
اللہ کے ہاں وسیلہ بنانے پر ہم پہلے طریقے کا انکار نہیں کرتے البتہ کچھ شرائط کے ساتھ
دوسرا طریقہ اللہ کے لئے ممکن نہیں کیوں کہ دنیا میں کوئی بیٹی کا صدقہ اس لئے دیتا ہے کہ اسکی آخرت بن جائے مگر اللہ کو کسی نبی کے لئے صدقہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے
تیسری صورت عقل کے خلاف ہے جیسے دنیا میں اوباما آپ سے کہے گا کہ اگرچہ میری بیٹی مجھ کو عزیز ہے مگر آپ کو کس لئے ویزہ دوں آپ کا میری بیٹی سے کیا تعلق ہے

اب آپ اسکے علاوہ کوئی تیسرا طریقہ وسیلہ کا بتائیں تاکہ اس پر بات کر سکیں یا پھر انکی اوپر کی گئی وضاحت کا رد کر دیں

اس لئے اس فتاویٰ میں وہابیوں کو ھٹ دھرم یا دشمن انصاف کہا گیا ہے
اوپر دو آیتوں کے اطلاق کا شبہ پڑا تھا یہاں تیسری آیت کہ اتامرون الناس ----- کت تحت یہ لگ رہا ہے کہ جیسے چور بھی کہے چور چور
تو اللہ نے قرآن میں بغیا بینھم کس کے لئے کہا ہے
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
اوپر یعرفونھم والی آیت کا معاملہ تھا تو یہاں تلبسوا الحق والی آیت کا معاملہ نکل آیا یعنی قیاس مع الفارق -سچ کہتے ہیں کہ جس کا کام اسی کو ساجھے
ذرا سمجھیں کہ آپ نے مندرجہ ذیل باتیں کہی ہیں
1-ہمارے اعمال کی اللہ کے ہاں مقبولیت 50٪ ہونا
2-اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا اللہ کے ہاں 100 ٪ مقبول ہونا ہے
اب "بھان متی نے کنبہ جوڑا -- کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا" کے تحت اوپر دو باتوں کو ملا کر مندرجہ ذیل تیسری بات ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
3-ہمارے اعمال کی مقبولیت تو 50 ٪ سے بڑھ نہیں سکتی پس مسلمان ان اعمال کو چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی طرف جاتے ہیں جسکے چانس 100 ٪ ہیں
بھئی ذرا یہ بتائیں کہ اوپر ایک اور دو میں یہ کہاں ثابت کیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہماری نجات کے لئے 100 ٪ چانس دلواتی ہے بلکہ وہاں و یہ لکھا ہے کہ تمام مسلمانوں کے ہاں وہ بذات خود اللہ کے ہاں مقبول ہیں تو کسی کا اللہ کے ہاں مقبول ہونا یہ کہاں ثابت کرتا ہے کہ ہم بھی اللہ کے ہاں اتنے مقبول ہوں گے اس پر عقلی یا نقلی دلیل چاہئے
بات ہورہی ہے اللہ کی بارگاہ میں کسی مقبول کا واسطہ یا وسیلہ دینے کی نجات کے لئے
اوپر کسی نے یہ کہا کہ
اپنے نیک اعمال کا وسیلہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کرنا چاہئے اپنی نجات کے لئے
اس پر میں نے عرض کی تھی کہ
وہابی اپنے جن اعمال کو نیک گمان کرتے ہیں تو یقینا وہابیوں کے ان نام نہاد نیک اعمال کو اللہ ان کے کے منہ پر مار دے گا تو پھر چانس تو - 100 ٪ ہوگیا کیونکہ وہابیوں کے ان نیک اعمال پر اللہ انھیں سخت سزا دیگا جس کا اعتراف تو اب سعودی عرب کے حکمرانوں کے تخواہ دار وہابی علماء برملا کرتے ہیں پھر کس بناء پر وہابی اپنے ان نام نہاد نیک اعمال کا وسیلہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کرکے نجات حاصل کر سکتے ہیں ؟
اس کے برعکس وہابی بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ مقبول ذات حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے لیکن اس یقینی بات کا وسیلہ وہابی مذہب میں حرام ہے بلکہ شرک بھی ہے
اسکو میں دنیا کی مثال سے سمجھاتا ہوں
آپ کو امریکہ کا ویزہ چاہئے تو آپ اوباما کو کہتے ہیں کہ مجھے ویزہ دے دو تو اسکے چانس کم ہیں
اسکی بجائے آپ اسکی بیٹی کو وسیلہ بناتے ہیں تو اسکے تین طریقے ہو سکتے ہیں
1-آپ اسکی بیٹی سے کسی طریقے سے سفارش کرواتے ہیں
2-آپ اسکی بیٹی کو جانتے تو نہیں کہ سفارش کروا سکیں البتہ کہتے ہیں کہ اپنی بیٹی کے صدقے مجھے ویزا دے دو
3-آپ اسکی بیٹی کا صدقہ بھی نہیں کہتے کیونکہ عیسائی کو آپ صدقے پر کیسے قائل کریں گے بلکہ کہتے ہیں کہ چونکہ وہ تمھاری پیاری بیٹی ہے پس مجھے ویزہ دے دو
اللہ کے ہاں وسیلہ بنانے پر ہم پہلے طریقے کا انکار نہیں کرتے البتہ کچھ شرائط کے ساتھ
دوسرا طریقہ اللہ کے لئے ممکن نہیں کیوں کہ دنیا میں کوئی بیٹی کا صدقہ اس لئے دیتا ہے کہ اسکی آخرت بن جائے مگر اللہ کو کسی نبی کے لئے صدقہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے
تیسری صورت عقل کے خلاف ہے جیسے دنیا میں اوباما آپ سے کہے گا کہ اگرچہ میری بیٹی مجھ کو عزیز ہے مگر آپ کو کس لئے ویزہ دوں آپ کا میری بیٹی سے کیا تعلق ہے

اب آپ اسکے علاوہ کوئی تیسرا طریقہ وسیلہ کا بتائیں تاکہ اس پر بات کر سکیں یا پھر انکی اوپر کی گئی وضاحت کا رد کر دیں
آپ کی مثالوں کا کیا ہی کہنا( ابتسامہ )
اس لئے اس فتاویٰ میں وہابیوں کو ھٹ دھرم یا دشمن انصاف کہا گیا ہے
اوپر دو آیتوں کے اطلاق کا شبہ پڑا تھا یہاں تیسری آیت کہ اتامرون الناس ----- کت تحت یہ لگ رہا ہے کہ جیسے چور بھی کہے چور چور
تو اللہ نے قرآن میں بغیا بینھم کس کے لئے کہا ہے
کسی نے پوچھا کہ
اولیا سے مدد مانگنا اور انہیں پکارنا ان کے ساتھ توسل کرنا امر مشروع (یعنی شرعا جایز ) وشی مرغوب ھے جسکا انکار نہ کرے گا مگر ھٹ دھرم یا دشمن انصاف- ( فتاوی رضویہ از احمد رضا : 300)
اسکا کیا معنی ھے۔
اس پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ
نمبر 1 اور نمبر 2 سے مراد پہلا ناقض اسلام جبکہ نمبر 3 سے یہاں زیادہ چانس تیسرے ناقض کے ہیں یعنی ہم اس نظریے کے تحت توسل کریں جس کے تحت وسیلہ شرک بن جاتا ہے بدعت نہیں بنتا واللہ اعلم
نمبر 4 سے مراد ہم یعنی وھابی ہیں
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
پس جب کوئی اس عقیدے سے کسی نبی ولی سے سفارش چاہئے کہ وہ لازمی یہ کام اللہ سے کروا سکتا ہے کیونکہ اللہ اسکی محبت یا کسی اور چیز سے مجبور ہے تو ایسا شرک اکبر ہو گا واللہ اعلم
چلیں آپ کی اس بات کو ایک دوسرے انداز سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
جب کوئی اس عقیدے سے کہ اپنے تیئں گمان کئے گئے نیک اعمال کے وسیلےسے سفارش چاہئے کہ یہ اعمال لازمی یہ کام اللہ سے کروا سکتے ہیں کیونکہ اللہ ان نیک اعمال سے محبت یا کسی اور چیز سے مجبور ہے تو کیا یہ بھی شرک اکبر ہو گا؟
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
کیا یہ بھی شرک اکبر ہو گا؟[/h2]
بہرام صاحب ابھی ایک بات ختم ہونے دیں کہ کیا وسیلہ دینے کا کوئی فائدہ بھی ہوتا ہے کہ نہیں- اسکے بعد اس پر بات ہو جائے گی کہ کون سا وسیلہ شرک اکبر ہے اور کونسا صرف بدعت جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا

وسیلہ کے فائدہ مند ہونے پر میں نے کہا تھا کہ یا تو قرآن و حدیث سے متفقہ نقلی دلیل دیں یا پھر عقلی دلیل دیں
عقلی دلائل میں میں نے کچھ دلائل دئے تھے جس پر آپ نے فرمایا کہ
چلیں آپ کی اس بات کو ایک دوسرے انداز سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
جب کوئی اس عقیدے سے کہ اپنے تیئں گمان کئے گئے نیک اعمال کے وسیلےسے سفارش چاہئے کہ یہ اعمال لازمی یہ کام اللہ سے کروا سکتے ہیں کیونکہ اللہ ان نیک اعمال سے محبت یا کسی اور چیز سے مجبور ہے
فرض کریں کہ اللہ کسی چیز کی محبت سے مجبور بھی ہے تو اوپر اوباما والی وہ تیسری صورت بنتی ہے کہ اوباما اپنی بیٹی کی محبت سے مجبور ہے مگر میرا اسکی بیٹی سے کوئی تعلق نہیں تو جب تک اسکی بیٹی میری سفارش نہیں کرے گی اوباما کی اپنی بیٹی سے محبت کو میں کیسے کیش کروا سکتا ہوں فاعتبروا یا اولی--------
 
شمولیت
مئی 09، 2014
پیغامات
93
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
18
علی بہرام کیوں ادھر اُدھر گھومتے ہو احمد رضا خان کے فتاویٰ میں غیر اللہ سے مدد مانگنے اور انہیں پکارنے کی بات پہلے موجود ہے اور وسیلہ کی بات تیسرے نمبر پر لکھی ہوئی ہے ،جناب پہلی دو شرکیہ باتوں کی طرف کیوں نہیں آتے؟پہلے اِن کی وضاحت کریں پھر وسیلہ کی بات کریں ۔
بھائی یزید حسین نے جناب سے پوچھا تھا اسکا جواب بھی لکھیں
یہ بتائیں کہ کیا جناب غیر اللہ سے مدد مانگنےکا عقیدہ رکھتے ہیں ؟یا غیر اللہ کو غائبانہ پکارنے کا عقیدہ رکھتے ہیں ؟کیا قرآن و سنت نے غیر اللہ کی پکار کو شرک سے تعبیر نہیں کیا ؟
پہلے اپنا عقیدہ واضع کریں کہ پتہ چلے بات کرنے والا مشر ک ہے یا موحد؟
جس وسیلہ کو احمد رضا نے مشروع سمجھتا ہے ،کیا قرآن و سنت اور سلف صالحین نے اس وسیلہ کو مشروع کہا ہے؟
 
Top