• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بریلویوں کا مشرکانہ عقیدہ

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,108
ری ایکشن اسکور
322
پوائنٹ
156
کیا کوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز سے مجبور ہو جاتا ہے یا مجبور ہے ؟ پہلے اسکی وضاحت کریں۔
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,108
ری ایکشن اسکور
322
پوائنٹ
156
کیا اللہ تعالیٰ کسی کے سامنے مجبور ہے ؟
مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ
کون ہے کہ اسکی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کرسکے۔
قرآن ، سورت البقرۃ ، آیت نمبر 255
ۭمَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ
کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کئے بغیر (کسی کی) سفارش نہیں کرسکتا۔
قرآن ، سورت یونس ، آیت نمبر 03
يَوْمَىِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوْلًا ١٠٩؁
اس روز (کسی کی) سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے اللہ اجازت دے اور اسی کی بات کو پسند فرمائے۔
قرآن ، سورت طٰہٰ ، آیت نمبر 109
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُوْنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَهُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ 28؀
جو کچھ ان کے آگے ہو چکا ہے اور جو پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اسکے پاس کسی کی) سفارش نہیں کر سکتے مگر اس شخص کی جس سے اللہ خوش ہوا اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں۔
قرآن ، سورت الانبیاء ، آیت نمبر 28
وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ ۭ
اور اللہ کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔
قرآن ، سورت سباء ، آیت نمبر 23
وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُهُمْ شَـيْــــًٔا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْضٰى 26؀
اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ اللہ جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے۔
قرآن ، سورت النجم ، آیت نمبر 26
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
[quote="عبدہ, post: 185013, member: 3636"
فرض کریں کہ اللہ کسی چیز کی محبت سے مجبور بھی ہے تو اوپر اوباما والی وہ تیسری صورت بنتی ہے کہ اوباما اپنی بیٹی کی محبت سے مجبور ہے مگر میرا اسکی بیٹی سے کوئی تعلق نہیں تو جب تک اسکی بیٹی میری سفارش نہیں کرے گی اوباما کی اپنی بیٹی سے محبت کو میں کیسے کیش کروا سکتا ہوں فاعتبروا یا اولی--------[/quote]

آپ کی اوباما والی مثال پر میں نے عرض کیا تھا کہ" آپ کی مثالوں کا کیا ہی کہنا( ابتسامہ )" لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنی مثال پر غور نہیں فرمایا اس لئے اب اس پر تھوڑا عرض کئے دیتا ہوں
آپ نے فرمایا " اوباما اپنی بیٹی کی محبت سے مجبور ہے مگر میرا اسکی بیٹی سے کوئی تعلق نہیں"
بیشک جس طرح آپ کا تعلق اوباما کی بیٹی سے نہیں ٹھیک اسی طرح آپ کا کوئی تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی نہیں اسی لئے امام احمد رضا خان صاحب نے فرمایا ہے کہ
نجدیوں کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا
لیکن میرا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دنیا کی ہر شےء سے زیادہ ہے کیونکہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہے
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
کیا اللہ تعالیٰ کسی کے سامنے مجبور ہے ؟
مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ
کون ہے کہ اسکی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کرسکے۔
قرآن ، سورت البقرۃ ، آیت نمبر 255
ۭمَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ
کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کئے بغیر (کسی کی) سفارش نہیں کرسکتا۔
قرآن ، سورت یونس ، آیت نمبر 03
يَوْمَىِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوْلًا ١٠٩؁
اس روز (کسی کی) سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے اللہ اجازت دے اور اسی کی بات کو پسند فرمائے۔
قرآن ، سورت طٰہٰ ، آیت نمبر 109
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُوْنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَهُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ 28؀
جو کچھ ان کے آگے ہو چکا ہے اور جو پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اسکے پاس کسی کی) سفارش نہیں کر سکتے مگر اس شخص کی جس سے اللہ خوش ہوا اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں۔
قرآن ، سورت الانبیاء ، آیت نمبر 28
وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ ۭ
اور اللہ کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔
قرآن ، سورت سباء ، آیت نمبر 23
وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُهُمْ شَـيْــــًٔا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْضٰى 26؀
اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ اللہ جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے۔
قرآن ، سورت النجم ، آیت نمبر 26
یہ کلمات تو حق ہیں لیکن وہابی اس سے جو مراد لیتے ہیں وہ باطل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ
ما مجادلةُ أحدِكم في الحقِّ يكون له في الدنيا، بأشدَّ مجادلةً منَ المؤمنين لربهم في إخوانهم الذين أُدخلوا النارَ،
صحيح النسائي - الصفحة أو الرقم: 5025
السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 3054

اور اسی مفہوم کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں بھی بیان کیا ہے
ترجمہ شیخ السلام ڈاکٹر طاہر القادری
''حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ راویت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے کسی ایک شخص کا بھی دنیا میں کسی حق بات کے لئے تکرار کرنا اس قدر سخت نہیں ہو گا جو تکرار مومنین کاملین اپنے پروردگار سے اپنے ان بھائیوں کے لئے کریں گے جو جہنم میں داخل کئے جا چکے ہوں گے"

یہ ہے مومنین کاملین کی شان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو پھر انبیاء علیہم السلام کی شان کا کیا کہنا اور سب سے بڑھکر امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و منزلت کا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے ؟
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
فرض کریں کہ اللہ کسی چیز کی محبت سے مجبور بھی ہے تو اوپر اوباما والی وہ تیسری صورت بنتی ہے کہ اوباما اپنی بیٹی کی محبت سے مجبور ہے مگر میرا اسکی بیٹی سے کوئی تعلق نہیں تو جب تک اسکی بیٹی میری سفارش نہیں کرے گی اوباما کی اپنی بیٹی سے محبت کو میں کیسے کیش کروا سکتا ہوں فاعتبروا یا اولی--------
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے محبت و تعلق کے باعث نجات
أن رجلًا سأل النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم عن الساعةِ، فقال : متى الساعةُ ؟ قال : ( وماذا أعْدَدْتَ لها ؟ ) . قال : لا شيء، إلا أني أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم، فقال : ( أنت مع مَن أحْبَبْتَ )
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 3688
''حضرت انس فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیامت کے متعلق سوال کیا کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے قیامت کے لیے تیاری کیا کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کچھ بھی نہیں، سوا اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہو گا جن سے تمہیں محبت ہے۔"
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,108
ری ایکشن اسکور
322
پوائنٹ
156
یہ کلمات تو حق ہیں لیکن وہابی اس سے جو مراد لیتے ہیں وہ باطل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ
ما مجادلةُ أحدِكم في الحقِّ يكون له في الدنيا، بأشدَّ مجادلةً منَ المؤمنين لربهم في إخوانهم الذين أُدخلوا النارَ،
صحيح النسائي - الصفحة أو الرقم: 5025
السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 3054

اور اسی مفہوم کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں بھی بیان کیا ہے
ترجمہ شیخ السلام ڈاکٹر طاہر القادری
''حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ راویت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے کسی ایک شخص کا بھی دنیا میں کسی حق بات کے لئے تکرار کرنا اس قدر سخت نہیں ہو گا جو تکرار مومنین کاملین اپنے پروردگار سے اپنے ان بھائیوں کے لئے کریں گے جو جہنم میں داخل کئے جا چکے ہوں گے"

یہ ہے مومنین کاملین کی شان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو پھر انبیاء علیہم السلام کی شان کا کیا کہنا اور سب سے بڑھکر امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و منزلت کا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے ؟
أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِي النَّارِ ﴿١٩﴾
جس شخص پر عذاب کی بات ثابت ہو چکی ہے، تو کیا آپ اسے جو دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں؟
قرآن ، سورت الزمر ، آیت نمبر 19
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
بات ہورہی ہے اللہ کی بارگاہ میں کسی مقبول کا واسطہ یا وسیلہ دینے کی نجات کے لئے
اوپر کسی نے یہ کہا کہ
اپنے نیک اعمال کا وسیلہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کرنا چاہئے اپنی نجات کے لئے
بالکل، جائز وسیلے کی ایک صورت یہی ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بنایا جائے ، جیسے غار میں پھنس جانے والے تین لوگوں نے بنایا تھا، اور یہ وسیلہ وہ وسیلہ نہیں ہے جس سے اللہ کی توہین اور شرک کا پہلو نکلتا ہو،اسی لئے یہ وسیلہ جائز ہے اور شرک نہیں ہے۔

اس پر میں نے عرض کی تھی کہ
وہابی اپنے جن اعمال کو نیک گمان کرتے ہیں تو یقینا وہابیوں کے ان نام نہاد نیک اعمال کو اللہ ان کے کے منہ پر مار دے گا تو پھر چانس تو - 100 ٪ ہوگیا کیونکہ وہابیوں کے ان نیک اعمال پر اللہ انھیں سخت سزا دیگا جس کا اعتراف تو اب سعودی عرب کے حکمرانوں کے تخواہ دار وہابی علماء برملا کرتے ہیں پھر کس بناء پر وہابی اپنے ان نام نہاد نیک اعمال کا وسیلہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کرکے نجات حاصل کر سکتے ہیں ؟
یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کس کے ساتھ قیامت والے دن کیا معاملہ ہو گا، البتہ ہمیں جو قرآن و حدیث سے رہنمائی ملتی ہے اس کے مطابق ہر مشرک چاہے وہ قبر پرست ہو، حجر پرست ہو، شجر پرست ہو ، بت پرست ہو یا صنم پرست ہو، اس کے اعمال غارت اور ٹھکانہ جہنم ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا ﴿٤٨﴾...سورۃ النساء
ترجمہ: یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا
اور
أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِن دُونِي أَوْلِيَاءَ ۚ إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ نُزُلًا ﴿١٠٢﴾قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا ﴿١٠٣﴾ الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا ﴿١٠٤﴾أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا ﴿١٠٥﴾ ذَٰلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَرُسُلِي هُزُوًا ﴿١٠٦﴾...سورۃ الکھف
ترجمہ: کیا کافر یہ خیال کیے بیٹھے ہیں؟ کہ میرے سوا وه میرے بندوں کو اپنا حمایتی بنا لیں گے؟ (سنو) ہم نے تو ان کفار کی مہمانی کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے (102) کہہ دیجئے کہ اگر (تم کہو تو) میں تمہیں بتا دوں کہ باعتبار اعمال سب سے زیاده خسارے میں کون ہیں؟ (103) وه ہیں کہ جن کی دنیوی زندگی کی تمام تر کوششیں بیکار ہوگئیں اور وه اسی گمان میں رہے کہ وه بہت اچھے کام کر رہے ہیں (104) یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کی ملاقات سے کفر کیا، اس لئے ان کے اعمال غارت ہوگئے پس قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے(105) حال یہ ہے کہ ان کا بدلہ جہنم ہے کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کو مذاق میں اڑای
اس کے برعکس وہابی بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ مقبول ذات حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے لیکن اس یقینی بات کا وسیلہ وہابی مذہب میں حرام ہے بلکہ شرک بھی ہے
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ جو اللہ نے اپنے رسول کو عطا فرمایا ہے سب سے زیادہ ہے، جہاں تک اس مقام و مرتبے کو مد نظر رکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کرنے کو شرک اور حرام قرار دیا گیا ہے تو اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں:
  1. اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم نہیں دیا، نا ہی ایسی کوئی تعلیم کتاب و سنت میں موجود ہے، اہل شرک اس کی دلیل دینے سے قاصر ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔
  2. قرآن مجید میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے انسان کے قریب ہونے کی بات کی ہے، اللہ تعالیٰ ہمارے کیسے قریب ہے جیسے اس کی شان کے لائق ہے، ہمیں اس پر بحث نہیں کرنی بس بلاں چوں چراں ایمان لانا ہے، تو وہ رب العالمین جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا اور نبوت عطا فرمائی جب وہ خود نزدیک ہے اور پکارنے کا حکم دے رہا ہے تو ایسے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے، اگر کوئی نہیں اٹھاتا تو اس کی قسمت؟ دوسروں کو کم از کم گمراہ نہ کرے۔
نقلی دلیل
اہل شرک اکثر و پیشتر قیاس آرائیاں کرتے ہوئے سیڑھی کی مثال دیتے ہیں، اہل شرک کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ ہمارے شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اسے کسی وسیلے کی ضرورت نہیں، اور پھر اہل شرک حد درجے منافقت کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں کہ ایک طرف شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ جو وفات پا چکے ہیں ان کو بغیر وسیلے کے پکار کر مشرک بنتے ہیں ، جبکہ اللہ جو شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اس کے لئے واسطے وسیلے ڈھونڈتے ہیں۔اللہ ان لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے آمین
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
چلیں آپ کی اس بات کو ایک دوسرے انداز سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
جب کوئی اس عقیدے سے کہ اپنے تیئں گمان کئے گئے نیک اعمال کے وسیلےسے سفارش چاہئے کہ یہ اعمال لازمی یہ کام اللہ سے کروا سکتے ہیں کیونکہ اللہ ان نیک اعمال سے محبت یا کسی اور چیز سے مجبور ہے تو کیا یہ بھی شرک اکبر ہو گا؟
اہل شرک چونکہ اللہ کے دشمن ہوتے ہیں، لہذا وہ اپنی گفتگو میں اللہ کے لئے ادب و آداب کا خیال نہیں رکھتے (مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّـهِ وَقَارًا ﴿١٣﴾۔۔۔سورة نوح) اہل شرک کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کسی سے کوئی مجبور نہیں ہے، اللہ جو چاہے کرے چاہے تو کسی کی دعا کو قبول کر لے، چاہے تو نہ کرے، اس نے کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہونا، ہم سب نے اس کے آگے جواب دہ ہونا ہے۔ لہذا ہم اللہ کو پکاریں گے، ضرور پکاریں گے، زمین و آسمان کے اکیلے رب کے سامنے جھولیاں پھیلا پھیلا کر اور گڑ گڑا کر مانگیں گے، رب العزت چاہے گا تو قبول فرما لے گا نہیں چاہے گا تو قبول نہیں فرمائے گا (وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ﴿٢٩﴾۔۔۔التكوير) ہم اس کے عاجز بندے ہیں اس کی رحمت سے مایوس نہیں (قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴿٥٣﴾۔۔۔سورة الزمر)
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
آپ نے فرمایا " اوباما اپنی بیٹی کی محبت سے مجبور ہے مگر میرا اسکی بیٹی سے کوئی تعلق نہیں"
بیشک جس طرح آپ کا تعلق اوباما کی بیٹی سے نہیں ٹھیک اسی طرح آپ کا کوئی تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی نہیں اسی لئے امام احمد رضا خان صاحب نے فرمایا ہے کہ
نجدیوں کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا
اہل شرک کا انبیاء و رسل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اگرچہ وہ نبی کی سگی اولاد ہی کیوں نہ ہو۔نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا:
وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ ﴿٤٥﴾۔۔۔سورۃ ھود
ترجمہ: نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ میرے رب میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے ہے، یقیناً تیرا وعده بالکل سچا ہے اور تو تمام حاکموں سے بہتر حاکم ہے (45)
اللہ نے فرمایا:
قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ ﴿٤٦﴾۔۔۔سورۃ ھود
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح یقیناً وه تیرے گھرانے سے نہیں ہے، اس کے کام بالکل ہی ناشائستہ ہیں تجھے ہرگز وه چیز نہ مانگنی چاہئے جس کا تجھے مطلقاً علم نہ ہو میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے اپنا شمار کرانے سے باز رہے (46)
نوح علیہ السلام کو جب اس بات کا احساس ہوا تو فورا ہی کہا:
قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٤٧﴾۔۔۔سورۃ ھود
ترجمہ: نوح نے کہا میرے پالنہار میں تیری ہی پناه چاہتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے وه مانگوں جس کا مجھے علم ہی نہ ہو اگر تو مجھے نہ بخشے گا اور تو مجھ پر رحم نہ فرمائے گا، تو میں خساره پانے والوں میں ہو جاؤں گا (47)
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ ۚ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٤٨﴾۔۔۔سورۃ ھود
ترجمہ: فرما دیا گیا کہ اے نوح! ہماری جانب سے سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ اتر، جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کی بہت سی جماعتوں پر اور بہت سی وه امتیں ہوں گی جنہیں ہم فائده تو ضرور پہنچائیں گے لیکن پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا (48)
اس سے ثابت ہوا کہ مشرک کا انبیاء سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اور اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت والی دعا کا فائدہ بھی اللہ کے حکم سے صرف موحد کو پہنچے گا، کسی بھی قبر پر سجدہ، رکوع، طواف کرنے والے، غیراللہ کے نام کی نذر و نیاز دینے والی، حسین رضی اللہ عنہ کی شبیہ بنا کر اس کی پوجا کرنے والے، دس محرم کو گھوڑے کو بابرکت سمجھ کر اس کے نیچے سے گزرنے والے، قلندر کے مزار کا حج کرنے والے، اور دیگر مشرکین کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ یہ شرک کے مرتکب ہیں۔ ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
« لِكُلِّ نَبِىٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِىٍّ دَعْوَتَهُ وَإِنِّى اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِى شَفَاعَةً لأُمَّتِى يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَهِىَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِى لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا »
'' ہر نبی کی ایک دعا ہے جسے شرف قبولیت بخشا جاتا ہے،چنانچہ ہر نبی نے اپنی دعوت کو عجلت میں کرلیا ہے، لیکن میں نے اپنی دعا کو روز قیامت کو اپنی امت کےلیے بطور سفارش چھپایا ہے پس وہ ان شاء اللہ میری امت میں سے ہراس شخص کو پہنچے گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔(صحیح مسلم:199).

لیکن میرا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دنیا کی ہر شےء سے زیادہ ہے کیونکہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہے
اہل شرک اگر واقعی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دنیا کی ہر شے سے زیادہ تعلق استوار کا دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ عقیدہ توحید قبول کر لیں، شرک کی صورت میں چاہے لاکھ بار اس تعلق کا دعویٰ کر لیا جائے ، عبث و بیکار ثابت ہو گا۔ جیسے کہ اوپر حدیث مبارکہ میں دیکھ لیں۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
یہ کلمات تو حق ہیں لیکن وہابی اس سے جو مراد لیتے ہیں وہ باطل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ
ما مجادلةُ أحدِكم في الحقِّ يكون له في الدنيا، بأشدَّ مجادلةً منَ المؤمنين لربهم في إخوانهم الذين أُدخلوا النارَ،
صحيح النسائي - الصفحة أو الرقم: 5025
السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 3054

اور اسی مفہوم کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں بھی بیان کیا ہے
ترجمہ شیخ السلام ڈاکٹر طاہر القادری
''حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ راویت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے کسی ایک شخص کا بھی دنیا میں کسی حق بات کے لئے تکرار کرنا اس قدر سخت نہیں ہو گا جو تکرار مومنین کاملین اپنے پروردگار سے اپنے ان بھائیوں کے لئے کریں گے جو جہنم میں داخل کئے جا چکے ہوں گے"

یہ ہے مومنین کاملین کی شان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو پھر انبیاء علیہم السلام کی شان کا کیا کہنا اور سب سے بڑھکر امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و منزلت کا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے ؟
کوئی شک نہیں کہ انبیاء کا مقام و مرتبہ خاص کر امام الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ واقعی میں بہت زیادہ ہے بلکہ سب انسانوں سے بڑھ کر ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اللہ کے انبیاء کسی مشرک کی سفارش کریں گے، اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ قبروں کے پجاری، قبروں کے مجاور، قبروں پر طواف کرنے والے، حسین رضی اللہ عنہ کی شبیہ بنا کر اس پوجا کرنے والے، علی رضی اللہ عنہ سے مشکل میں مدد مانگنے والے، قلندر کی قبر کا حج کرنے والے اگر یہ سمجھتے ہیں کہ امام الانبیاء کا درجہ چونکہ سب انسانوں سے زیادہ ہے اس لئے بخشش ہو جائے گی تو یہ سراسر دھوکہ اور شیطان کی چال ہے اور کچھ نہیں، مشرک کی بخشش نہیں ہو سکتی، بلکہ مشرک کا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، ہاں البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی موحد ہے لیکن ساری زندگی اس نے گناہوں میں گزار دی، اور دین پر عمل کرنے کی طرف توجہ کم ہی رکھی لیکن وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا تھا اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا تھا تو وہ ان شاءاللہ ان شاءاللہ شفاعت کا مستحق ٹھہرے گا۔ موحد مگر بہت زیادہ گناہ گار کے متعلق بالکل کہا جا سکتا ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی بخشش ممکن ہے۔ ان شاءاللہ
 
Top