• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بریلویوں کا مشرکانہ عقیدہ

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے محبت و تعلق کے باعث نجات
أن رجلًا سأل النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم عن الساعةِ، فقال : متى الساعةُ ؟ قال : ( وماذا أعْدَدْتَ لها ؟ ) . قال : لا شيء، إلا أني أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم، فقال : ( أنت مع مَن أحْبَبْتَ )
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 3688
''حضرت انس فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیامت کے متعلق سوال کیا کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے قیامت کے لیے تیاری کیا کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کچھ بھی نہیں، سوا اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہو گا جن سے تمہیں محبت ہے۔"
کوئی شک نہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بیان فرمایا ہے ایسا ہی ہے۔ اس کی مزید تشریح کریں تو وہ شخص جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا، اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بھی کرتا ہے، لیکن اعمال میں تھوڑا کم دیندار ہے تو ان شاءاللہ وہ جنت میں جائے گا اور اطاعت و اتباع سے ہی انبیاء، صلحا، شہداء، صادقین کی رفاقت ملے گی۔ ان شاءاللہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا ﴿٦٩﴾۔۔۔سورة النساء
ترجمه: اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے، وه ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں
لیکن کوئی اس بھول بھلیاں میں مبتلا ہے کہ جیسے چاہو عمل کر لو، مزاروں پر ماتھے رگڑو، یا مشکل میں غیراللہ کو پکارو، میلاد کے نام پر بھنگڑے ڈال کر لڑکیاں نچواؤ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے زیادہ اپنے پیروں ، فقیروں اور عجیب و غریب سرکاروں کی بات کو ترجیح دو تو یہ شیطان کا دھوکہ ہے اور کچھ نہیں۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
قارئین حضرات! بدعقیدہ اور اہل شرک سے تعلق رکھنے والے اس ممبر سے عقیدہ توحید کے موضوع پر میری پہلے بھی کئی مرتبہ گفتگو ہو چکی ہے،الحمدللہ، اللہ کی توفیق سے اسے ہر بار کتاب و سنت کے دلائل کے مقابلے میں خاموش ہی ہونا پڑا ہے، اس میں میرا کوئی کمال نہیں یہ سب اللہ کا کرم ہے۔

اس کی باتیں پڑھ کر حیران نہ ہوں، اہل شرک اسی طرح اللہ کے گستاخ اور دشمن ہوتے ہیں، مذکورہ ممبر نے ایک دن اللہ کی گستاخی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان باندھتے ہوئے اپنا یہ عقیدہ ظاہر کیا تھا کہ قیامت کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ سے شفاعت کی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ العیاذباللہ، اعوذباللہ ان اکون من الجاھلین، نعوذباللہ من ذلک

میں نے آخری پیغمبر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ دکھائی جس میں واضح طور پر اجازت لینے کا ذکر تھا لیکن مذکورہ ممبر نے اس طرف کوئی توجہ نہ کی۔ ایسے لوگوں پر قرآن مجید میں کیا خوب بات کی گئی ہے:
وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ ﴿١٧٩﴾۔۔۔سورة الاعراف
ترجمه: اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کئے ہیں، جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیاده گمراه ہیں۔ یہی لوگ غافل ہیں
ان کی مزید بدعقیدہ باتوں کا اس تھریڈ میں جائزہ لیا گیا ہے آپ تمام حضرات بھی ملاحظہ فرمائیں۔ شکریہ
بریلویت کا اللہ تعالیٰ سے اختلاف
ہم اللہ کی بارگاہ میں سوال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مذکورہ ممبر کو عقیدہ توحید کی سمجھ عطا فرمائے آمین اور انہیں صحیح معنوں میں مسلم بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین
والسلام
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
[quote="عبدہ, post: 185013, member: 3636"
فرض کریں کہ اللہ کسی چیز کی محبت سے مجبور بھی ہے تو اوپر اوباما والی وہ تیسری صورت بنتی ہے کہ اوباما اپنی بیٹی کی محبت سے مجبور ہے مگر میرا اسکی بیٹی سے کوئی تعلق نہیں تو جب تک اسکی بیٹی میری سفارش نہیں کرے گی اوباما کی اپنی بیٹی سے محبت کو میں کیسے کیش کروا سکتا ہوں فاعتبروا یا اولی--------
آپ کی اوباما والی مثال پر میں نے عرض کیا تھا کہ" آپ کی مثالوں کا کیا ہی کہنا( ابتسامہ )" لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنی مثال پر غور نہیں فرمایا اس لئے اب اس پر تھوڑا عرض کئے دیتا ہوں
آپ نے فرمایا " اوباما اپنی بیٹی کی محبت سے مجبور ہے مگر میرا اسکی بیٹی سے کوئی تعلق نہیں"
بیشک جس طرح آپ کا تعلق اوباما کی بیٹی سے نہیں ٹھیک اسی طرح آپ کا کوئی تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی نہیں اسی لئے امام احمد رضا خان صاحب نے فرمایا ہے کہ
نجدیوں کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا
لیکن میرا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دنیا کی ہر شےء سے زیادہ ہے کیونکہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہے
بہرام صاحب چلو یہ تو آپ نے مانا کہ بغیر کسی تعلق کے وسیلہ بنانا پاگل پن ہے اسی وجہ سے میں نے کہا تھا کہ فاعتبروا یا اولی الابصار کہ آپ کا جو تعلق ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اس تعلق کا واسطہ دے کر مانگو اللہ سے
ہم وھابی یہی تو کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کو وسیلہ یا اسکے نقش قدم پر چلنے کو وسیلہ بنانا تو بہترین کام ہے اس میں محل نزاع ہی نہیں
پس اوپر اوباما والی مثال میں میں نے کہا تھا کہ بغیر کسی تعلق کے خالی اوباما کی بیٹی کی ذات کو وسیلہ بناؤ گے تو لوگ پاگل کہیں گے اسی طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خالی ذات کا وسیلہ نہ بناؤ بلکہ تمھارا انکی ذات سے وہ تعلق جو اللہ کو پسند ہو اس تعلق کو وسیلہ بنا کر دعا مانگو
جہاں تک امام رضا کے قول کی بات ہے تو اسکے لئے اردو بازار والوں کے اشتہار چور بھی کہے چور چور والی مثال اوپر دی جا چکی ہے
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے محبت و تعلق کے باعث نجات
أن رجلًا سأل النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم عن الساعةِ، فقال : متى الساعةُ ؟ قال : ( وماذا أعْدَدْتَ لها ؟ ) . قال : لا شيء، إلا أني أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم، فقال : ( أنت مع مَن أحْبَبْتَ )
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 3688
''حضرت انس فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیامت کے متعلق سوال کیا کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے قیامت کے لیے تیاری کیا کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کچھ بھی نہیں، سوا اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہو گا جن سے تمہیں محبت ہے
آج آپ کے منہ سے لاشعوری طور پر سچ بات سن کر مجھے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث یاد آ گئی کہ جن کو شیطان نے جب آیت الکرسی کی فضیلت بتائی تھی تو اللہ کے نبی نے فرمایا تھا کہ ----------
جو میں اوپر سمجھا رہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہمارا عمل ہے اور اس عمل کا واسطہ دینا عقل میں آتا ہے اور نقلی طور پر بھی ثابت ہے وما علینا الا البلاغ
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
کوئی شک نہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بیان فرمایا ہے ایسا ہی ہے۔ اس کی مزید تشریح کریں تو وہ شخص جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا، اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بھی کرتا ہے، لیکن اعمال میں تھوڑا کم دیندار ہے تو ان شاءاللہ وہ جنت میں جائے گا اور اطاعت و اتباع سے ہی انبیاء، صلحا، شہداء، صادقین کی رفاقت ملے گی۔ ان شاءاللہ
دونوں اقتباسات میں ہائی لائٹ کردہ جملوں پر غور کریں
صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق جب اس سائل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ "تم نے قیامت کے لیے تیاری کیا کی ہے" تو اس سائل نے جواب دیا کہ " کچھ بھی نہیں، سوا اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں "
اب اپنے اقتباس پر غور فرمائیں

أن رجلًا سأل النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم عن الساعةِ، فقال : متى الساعةُ ؟ قال : ( وماذا أعْدَدْتَ لها ؟ ) . قال : لا شيء، إلا أني أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم، فقال : ( أنت مع مَن أحْبَبْتَ )
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 3688
''حضرت انس فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیامت کے متعلق سوال کیا کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے قیامت کے لیے تیاری کیا کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کچھ بھی نہیں، سوا اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہو گا جن سے تمہیں محبت ہے۔"
 
شمولیت
مئی 05، 2014
پیغامات
197
ری ایکشن اسکور
40
پوائنٹ
81
بہرام کیوں یہود کے نقش قدم پر چلتے ہو ؟ آدھی بات پر ایمان اور آدھی کا منکر ہونا یہ یہود کا طریق ہے اسے قرآن ان الفاظ سے بیان کرتا ہے(أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُ‌ونَ بِبَعْضٍ ۚ )
جناب نے بخاری کی آدھی حدیث نقل کی اور آدھی کو چھوڑ دیا آخر کیوں؟ کیونکہ اگر جناب حدیث کا آخری حصہ نقل کرتے تو مذہب شیعہ میں بھونچال آجاتا اور کفر کے کنگرے گر جاتے۔
امام بخاری اس حدیث کو مناقب کے باب میں لائے ہیں اور اس حدیث سے سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کے مناقب ثابت کرنا چاہتے ہیں،
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّاعَةِ، فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا» . قَالَ: لاَ شَيْءَ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» . قَالَ أَنَسٌ: فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ، فَرَحَنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» قَالَ أَنَسٌ: «فَأَنَا أُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ بِحُبِّي إِيَّاهُمْ، وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِمِثْلِ أَعْمَالِهِمْ»
امام مسلم نے بھی اس حدیث کو انہی الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے ،اب یہ حدیث بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہوئی
(2639) حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ؟» قَالَ: حُبَّ اللهِ وَرَسُولِهِ، قَالَ: «فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» قَالَ أَنَسٌ: فَمَا فَرِحْنَا، بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحًا أَشَدَّ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» قَالَ أَنَسٌ: فَأَنَا أُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ، وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِأَعْمَالِهِمْ
بہرام صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ سیدنا ابو بکر و عمر سے بھی محبت رکھنا ہوگی حضرت انس نے اس حدیث کا یہی مطلب مراد لیا ہے (اہل تشیع کے سینے اس سے خالی ہیں)

جس سینے میں سیدنا ابوبکر و عمر کی محبت نہ ہو وہ سینہ نبی کی محبت کا جھوٹا دعوی دار ہے


بہرام اپنے اس جھوٹے دعوی (لیکن میرا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دنیا کی ہر شےء سے زیادہ ہے کیونکہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہے)کو اس حدیث مبارکہ کی روشنی پرکھ کر دیکھو


عن أبي عثمان قال : حدّثني عمرو بن العاص رضي الله عنه : أنّ النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم بعثه علٰي جيش ذات السّلاسل، فأتيته فقلت : ’’أيّ النّاس أحبّ إليک؟‘‘ قال : ’’عائشة‘‘. فقلت : ’’من الرّجال؟‘‘ فقال : ’’أبوها‘‘ قلت : ثمّ من؟ قال : ’’عمر بن الخطّاب‘‘ فعدّ رجالا.

حضرت ابو عثمان رضي اللہ عنہ سے مروی ہے : کہ مجھے حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غزوہ ذاتِ السلاسل کا امیرِ لشکر بنا کر روانہ فرمایا : جب واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض گزار ہوا۔ ’’لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبت کس کے ساتھ ہے؟‘‘ تو ارشاد فرمایا۔ ’’عائشہ رضی اﷲ عنھا کے ساتھ۔‘ میں نے پھر عرض کی ’’مردوں میں سے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’اُن کے والد ( ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ۔‘‘ میں نے عرض کی، پھر اُن کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ’’عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب کے ساتھ‘‘۔ اور پھر اُن کے بعد چند دوسرے حضرات کے نام لئے۔
. بخاري، الصحيح، 3 : 1339، کتاب المناقب، رقم : 3462
اگر جناب تقیہ کہ آڑ نہ لیں تو صاف صاف بتائیں کہ جناب اور جناب کے اہل مذہب کیا !نبی اکرم ٖصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر و عمررضی اللہ عنہم و سیدہ عائشہ صدیقہ سے محبت رکھتے ہیں ؟؟؟شیعہ مذہب کی کتابیں تو اسکا انکار کرتی ہیں اور "القلم فورم" پر جناب کی سیدنا ابوبکر و عمر کے خلاف بغض سے بھری تحریریں بھی اس پر گواہ ہیں ۔
ثابت ہوا جناب کا یہ دعوی سراسر جھوٹا ہے۔
اس دھاگہ میں امام اہل بدعت، جناب احمد رضا خان کے فتوی پر بات چل رہی ہے ،یہاں بھی جناب نے یہود کا طریق اپنایا ہوا ہے ،آدھے فتوی کو مانتے ہیں اور ادھے کا انکارہے کیوں؟
امام اہل بدعت نے اولیاء سے مدد مانگنا اور اُن کو پکا ر کرنے کا عقیدہ پہلے لکھا ہے پھر وسیلہ کے مشروع ہونے کی بات کی ہے ،جناب پہلی دو باتوں سے ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے شیطان سیدنا عمر کو دیکھ کر بھاگتا تھا ،
مکفر المسلمین امام اہل بدعت احمد رضا خان کے اس فتوی میں اولیاء سے مدد مانگنا اور انہیں (مصیبت) میں پکارنا ، ذکر کیا گیا ہے ،جناب اس طرف آتے ہی نہیں ہیں؟
جناب یہ بتائیں کہ کیا مصیبت میں صرف اللہ سے مدد مانگنی چاہئیے یا اولیاء کرام سے؟ اور کیا مصیبت میں غائبانہ صرف اللہ کو پکارنا چاہئے یا اولیاء کرام کو؟ قرآن و سنت اور سلف صالحین اس کے بارے کیا کہتے ہیں ؟کیا غیر اللہ کی پکار کو قرآن وسنت نے شرک سے تعبیر نہیں کیا؟
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,108
ری ایکشن اسکور
322
پوائنٹ
156
بہرام کیوں یہود کے نقش قدم پر چلتے ہو ؟ آدھی بات پر ایمان اور آدھی کا منکر ہونا یہ یہود کا طریق ہے اسے قرآن ان الفاظ سے بیان کرتا ہے(أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُ‌ونَ بِبَعْضٍ ۚ )
جناب نے بخاری کی آدھی حدیث نقل کی اور آدھی کو چھوڑ دیا آخر کیوں؟ کیونکہ اگر جناب حدیث کا آخری حصہ نقل کرتے تو مذہب شیعہ میں بھونچال آجاتا اور کفر کے کنگرے گر جاتے۔
امام بخاری اس حدیث کو مناقب کے باب میں لائے ہیں اور اس حدیث سے سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کے مناقب ثابت کرنا چاہتے ہیں،
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّاعَةِ، فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا» . قَالَ: لاَ شَيْءَ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» . قَالَ أَنَسٌ: فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ، فَرَحَنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» قَالَ أَنَسٌ: «فَأَنَا أُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ بِحُبِّي إِيَّاهُمْ، وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِمِثْلِ أَعْمَالِهِمْ»
امام مسلم نے بھی اس حدیث کو انہی الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے ،اب یہ حدیث بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہوئی
(2639) حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ؟» قَالَ: حُبَّ اللهِ وَرَسُولِهِ، قَالَ: «فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» قَالَ أَنَسٌ: فَمَا فَرِحْنَا، بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحًا أَشَدَّ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» قَالَ أَنَسٌ: فَأَنَا أُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ، وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِأَعْمَالِهِمْ
بہرام صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ سیدنا ابو بکر و عمر سے بھی محبت رکھنا ہوگی حضرت انس نے اس حدیث کا یہی مطلب مراد لیا ہے (اہل تشیع کے سینے اس سے خالی ہیں)

جس سینے میں سیدنا ابوبکر و عمر کی محبت نہ ہو وہ سینہ نبی کی محبت کا جھوٹا دعوی دار ہے


بہرام اپنے اس جھوٹے دعوی (لیکن میرا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دنیا کی ہر شےء سے زیادہ ہے کیونکہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہے)کو اس حدیث مبارکہ کی روشنی پرکھ کر دیکھو


عن أبي عثمان قال : حدّثني عمرو بن العاص رضي الله عنه : أنّ النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم بعثه علٰي جيش ذات السّلاسل، فأتيته فقلت : ’’أيّ النّاس أحبّ إليک؟‘‘ قال : ’’عائشة‘‘. فقلت : ’’من الرّجال؟‘‘ فقال : ’’أبوها‘‘ قلت : ثمّ من؟ قال : ’’عمر بن الخطّاب‘‘ فعدّ رجالا.

حضرت ابو عثمان رضي اللہ عنہ سے مروی ہے : کہ مجھے حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غزوہ ذاتِ السلاسل کا امیرِ لشکر بنا کر روانہ فرمایا : جب واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض گزار ہوا۔ ’’لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبت کس کے ساتھ ہے؟‘‘ تو ارشاد فرمایا۔ ’’عائشہ رضی اﷲ عنھا کے ساتھ۔‘ میں نے پھر عرض کی ’’مردوں میں سے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’اُن کے والد ( ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ۔‘‘ میں نے عرض کی، پھر اُن کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ’’عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب کے ساتھ‘‘۔ اور پھر اُن کے بعد چند دوسرے حضرات کے نام لئے۔
. بخاري، الصحيح، 3 : 1339، کتاب المناقب، رقم : 3462
اگر جناب تقیہ کہ آڑ نہ لیں تو صاف صاف بتائیں کہ جناب اور جناب کے اہل مذہب کیا !نبی اکرم ٖصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر و عمررضی اللہ عنہم و سیدہ عائشہ صدیقہ سے محبت رکھتے ہیں ؟؟؟شیعہ مذہب کی کتابیں تو اسکا انکار کرتی ہیں اور "القلم فورم" پر جناب کی سیدنا ابوبکر و عمر کے خلاف بغض سے بھری تحریریں بھی اس پر گواہ ہیں ۔
ثابت ہوا جناب کا یہ دعوی سراسر جھوٹا ہے۔
اس دھاگہ میں امام اہل بدعت، جناب احمد رضا خان کے فتوی پر بات چل رہی ہے ،یہاں بھی جناب نے یہود کا طریق اپنایا ہوا ہے ،آدھے فتوی کو مانتے ہیں اور ادھے کا انکارہے کیوں؟
امام اہل بدعت نے اولیاء سے مدد مانگنا اور اُن کو پکا ر کرنے کا عقیدہ پہلے لکھا ہے پھر وسیلہ کے مشروع ہونے کی بات کی ہے ،جناب پہلی دو باتوں سے ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے شیطان سیدنا عمر کو دیکھ کر بھاگتا تھا ،
مکفر المسلمین امام اہل بدعت احمد رضا خان کے اس فتوی میں اولیاء سے مدد مانگنا اور انہیں (مصیبت) میں پکارنا ، ذکر کیا گیا ہے ،جناب اس طرف آتے ہی نہیں ہیں؟
جناب یہ بتائیں کہ کیا مصیبت میں صرف اللہ سے مدد مانگنی چاہئیے یا اولیاء کرام سے؟ اور کیا مصیبت میں غائبانہ صرف اللہ کو پکارنا چاہئے یا اولیاء کرام کو؟ قرآن و سنت اور سلف صالحین اس کے بارے کیا کہتے ہیں ؟کیا غیر اللہ کی پکار کو قرآن وسنت نے شرک سے تعبیر نہیں کیا؟
میں علی بہرام صاحب کی ایسی احادیث کا اسی لیے جواب نہیں دیتا کہ وہ حدیث سے ایک بات اپنے مطلب کی لے لیتے ہیں اور دوسری بات کو قصدا چھوڑ دیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ علی بہرام صاحب کسی دوسرے ” شخص “ کی بات کو بغیر پرکھے آگے نقل کر دیتے ہیں۔
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
بہرام کیوں یہود کے نقش قدم پر چلتے ہو ؟ آدھی بات پر ایمان اور آدھی کا منکر ہونا یہ یہود کا طریق ہے اسے قرآن ان الفاظ سے بیان کرتا ہے(أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُ‌ونَ بِبَعْضٍ ۚ )
جناب نے بخاری کی آدھی حدیث نقل کی اور آدھی کو چھوڑ دیا آخر کیوں؟ کیونکہ اگر جناب حدیث کا آخری حصہ نقل کرتے تو مذہب شیعہ میں بھونچال آجاتا اور کفر کے کنگرے گر جاتے۔
امام بخاری اس حدیث کو مناقب کے باب میں لائے ہیں اور اس حدیث سے سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کے مناقب ثابت کرنا چاہتے ہیں،
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّاعَةِ، فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا» . قَالَ: لاَ شَيْءَ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» . قَالَ أَنَسٌ: فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ، فَرَحَنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» قَالَ أَنَسٌ: «فَأَنَا أُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ بِحُبِّي إِيَّاهُمْ، وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِمِثْلِ أَعْمَالِهِمْ»
بِأَعْمَالِهِمْ
اول تو اس روایت کے بقیا ٹکرے کا اس موضوع سے کوئی تعلق نہیں تھا اس لئے اس ٹکرے کو نہیں پیش کیا گیا
دوم یہ کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد نہیں بلکہ حضرت انس کی رائے ہے اور صحابہ کی رائے وہابیوں کے
نزدیک ہمیشہ متعبر نہیں ہوتی یہ وجہ تھی اور پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد پاک سے ہی دلیل مکمل ہو تو
پھر کسی اور کا قول پیش کرنے کی حاجت نہیں رہتی
اس کے علاوہ جو آپ نے لن ترانی فرمائی ہے اس کا اس موضوع سے کوئی تعلق نہیں اس لئے معذرت
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
آج آپ کے منہ سے لاشعوری طور پر سچ بات سن کر مجھے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث یاد آ گئی کہ جن کو شیطان نے جب آیت الکرسی کی فضیلت بتائی تھی تو اللہ کے نبی نے فرمایا تھا کہ ----------
جو میں اوپر سمجھا رہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہمارا عمل ہے اور اس عمل کا واسطہ دینا عقل میں آتا ہے اور نقلی طور پر بھی ثابت ہے وما علینا الا البلاغ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کو میں اب تک ایمان سمجھتا رہا تھا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی روشنی جس کا مفہوم یہ کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
آپ ہیں کہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عمل بتارہے ہیں
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
دونوں اقتباسات میں ہائی لائٹ کردہ جملوں پر غور کریں
صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق جب اس سائل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ "تم نے قیامت کے لیے تیاری کیا کی ہے" تو اس سائل نے جواب دیا کہ " کچھ بھی نہیں، سوا اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں "
اب اپنے اقتباس پر غور فرمائیں
اس حدیث میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی فضیلت بیان کی گئی ہے، لیکن اس کا مقصد یہ بالکل نہیں کہ دیگر احادیث اور قرآن کی صریح آیات کا انکار کر دیا جائے، تمام باتوں کو دیکھنا چاہئے ، یہی وجہ ہے کہ منکرین حدیث، ملحد اور بے دین لوگوں نے بھی قرآن کی آیت (إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئُونَ وَالنَّصَارَىٰ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦٩...سورة المائده) کو بنیاد بنا کر یہ شوشہ چھوڑا کہ بلا تفریق مذہب بس اللہ اور یوم آخرت پر ایمان والا نجات پائے گا، نعوذباللہ، یعنی اسلام کا انکار، رسالت کا انکار، ملائکہ و کتب آسمانی کا انکار،ذخیرہ احادیث کا انکار، لیکن اپنا من چاہا مفہوم صرف ایک آیت سے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایسے لوگ مسلمان نہیں ہو سکتے۔

بالکل اسی طرح آپ نے بھی دیگر قرآن اور احادیث مبارکہ سے قطع نظر ہو کر صرف ایک حدیث کو سامنے رکھا اور مفہوم بھی وہ نہیں ہے جو آپ لے رہے ہیں، یعنی صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا نام نہاد دعویٰ کر کے پھر آزادی سے جو چاہیں کریں۔

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک صحابی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں رفاقت کی خواہش ظاہر کی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کثرت سجود سے میری مدد کرو" (او کما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم) ، مطلب نوافل کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جائے، کیا جس صحابی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں رفاقت کی خواہش ظاہر کی تو ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں ہو گی؟ ضرور ہو گی بلکہ یہ محبت کا ہی تو تقاضا ہے، لیکن اس کے باوجود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا "کثرت سجود سے میری مدد کرو" یہ نہیں فرمایا کہ بس رفاقت ہو گئی بلکہ زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی طرف توجہ دلائی تاکہ اللہ کو رضامند کرنے کی کوشش کو تیز کیا جا سکے، یہ ہے اہل ایمان کا طریقہ کار، قرآن و حدیث سے درست استدلال کرنے کے لئے۔

لیکن آپ کو شرک و بدعت کی وجہ سے شیطان نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے کہ بس جھوٹی محبت کا دعویٰ کر لو، پھر چاہیں قبروں اور آستانوں پر ماتھے رگڑو، چاہو تو گھوڑے سے نیچے گزرنے کو سعادت سمجھو،چاہے تو غیراللہ کی نذرو نیاز یں دیتے رہو، چاہے تو متعہ کے نام پر لڑکیوں سے عیاشی کرتے رہو، نہیں نہیں، یہ سب شیطان کا دھوکہ ہے، مشرک کی سزا جہنم ہے، نا تو اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کام آ سکتا ہے، نا ہی اس کے اعمال کسی کام کے ہو سکتے ہیں، لہذا اپنے عقیدے کی درستگی پر توجہ کریں، اللہ تعالیٰ آپ کو عقل سلیم عطا فرمائے آمین
 
Top