بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورۃ البقرۃ آیت: 1
جب ہم قرآن کھولتے ہیں تو پہلی ہی آیت "المٓ" ہمیں ایک عجیب سی کیفیت میں ڈال دیتی ہے۔ یہ تین حروف نہ کوئی مکمل جملہ ہیں، نہ کوئی واضح حکم، اور نہ ہی ان کا کوئی عمومی مفہوم ہمیں معلوم ہے۔ لیکن یہی تو قرآن کی سب سے پہلی درسگاہ ہےکہ ہر چیز کو جاننا ضروری نہیں، بلکہ اللہ کی حکمت پر بھروسا رکھنا اصل نکتہ ہے۔ قرآن کا آغاز ایسے حروف سے کیوں ہوا، جو ہمیں سمجھ نہیں آتے؟ یہ ہمارے لیے ایک امتحان ہے، ایک پیغام ہے، اور ایک گہرے تدبر کی دعوت ہے۔
انسان کی محدود عقل اور اللہ کا لامحدود علم
جب ہم ان تین حروف کو دیکھتے ہیں، تو فوراً یہ احساس ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہماری عقل کی حد سے باہر ہیں۔ یہی ہماری زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہےہم جتنا بھی علم حاصل کر لیں، اللہ کے علم کے سامنے ہم ایک قطرے کی مانند بھی نہیں۔ اللہ نے سورۃ بنی اسرائیل میں فرمایا:
کیا ہم واقعی سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟
جب کوئی طالب علم استاد کے سامنے آتا ہے، تو سب سے پہلے اسے سننے اور سیکھنے کی آمادگی رکھنی چاہیے۔ اگر وہ پہلے سے ہی یہ سوچے کہ "مجھے سب معلوم ہے"، تو وہ کچھ بھی نہیں سیکھ سکتا۔ المٓ قرآن کے دروازے پر پہلی دستک ہے، جو ہم سے یہ سوال کرتا ہے: کیا تم واقعی سیکھنے کے لیے تیار ہو؟ کیا تم اپنے علم، اپنی عقل اور اپنی سمجھ کو اللہ کے سپرد کر کے جھکنے کے لیے تیار ہو؟
اگر ہم واقعی قرآن سے ہدایت لینا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے اپنی عقل کی سرحدوں کو ماننا ہوگا اور خود کو اللہ کے سامنے ایک خالی برتن کی مانند پیش کرنا ہوگا، تاکہ وہ ہمیں ہدایت سے بھر دے۔
ایمان اور آزمائش کا تعلق
یہ تین حروف ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ایمان کا تقاضا صرف وہی چیز ماننا نہیں جو سمجھ میں آ جائے، بلکہ وہ بھی ماننا جو عقل سے بالاتر ہو۔ اللہ نے قرآن میں کئی بار فرمایا کہ ایمان والوں کی آزمائش کی جاتی ہے:
ہر مشکل کے پیچھے اللہ کی حکمت ہوتی ہے
زندگی میں کئی مواقع ایسے آتے ہیں جہاں ہمیں کسی آزمائش کا سبب سمجھ نہیں آتا۔ کبھی کوئی قریبی رشتہ دار دنیا سے چلا جاتا ہے، کبھی کوئی موقع چھن جاتا ہے، کبھی ہم کسی بڑی مشکل میں پڑ جاتے ہیں، اور ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ "یہ کیوں ہوا؟"
"المٓ" ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جیسے ان حروف کی حکمت اللہ جانتا ہے، ویسے ہی ہماری زندگی میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی حکمت بھی وہی جانتا ہے۔ جو کچھ ہمیں سمجھ نہیں آتا، وہ بھی اللہ کی طرف سے ایک خیر ہو سکتا ہے، چاہے ہماری آنکھیں ابھی نہ دیکھ سکیں۔ قرآن ہمیں ایک اور جگہ سکھاتا ہے:
غور و فکر اور تدبر کی دعوت
یہ تین حروف قرآن کی تفسیر کے دروازے کی پہلی کنجی ہیں۔ اللہ ہمیں بتانا چاہتے ہیں کہ یہ کتاب صرف تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ غور و فکر کے لیے بھی ہے۔
"المٓ" کا پیغام
یہ تین چھوٹے حروف ایک عظیم پیغام رکھتے ہیں:
1) اللہ کی حکمت پر بھروسا رکھو ہر چیز کا فوری جواب تلاش کرنے کی کوشش نہ کرو، بلکہ ایمان رکھو کہ اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
2) اپنی عقل کی حد کو پہچانو سب کچھ جاننے کی خواہش چھوڑ کر سیکھنے کی روش اپناؤ۔
3) مشکلات میں صبر کرو جو سمجھ میں نہ آئے، اسے بھی قبول کرو، کیونکہ ہر مشکل کے پیچھے اللہ کی ایک حکمت ہوتی ہے۔
4) قرآن پر تدبر کرو یہ کتاب صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک گہرے پیغام کا خزانہ ہے۔
5) ایمان اور تسلیمیت کی راہ اپناؤ ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کے بجائے، اللہ کی باتوں پر یقین رکھو، کیونکہ وہی سب سے بہتر جاننے والا ہے۔
"المٓ" ہمیں اللہ کے سامنے جھکنے، غور و فکر کرنے، اور اللہ کی حکمت پر یقین رکھنے کا سبق دیتا ہے۔ کیا ہم واقعی سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟
سورۃ البقرۃ آیت: 1
المٓ
اللہ کی حکمت کی گہرائی میں جھانکنے کی دعوتجب ہم قرآن کھولتے ہیں تو پہلی ہی آیت "المٓ" ہمیں ایک عجیب سی کیفیت میں ڈال دیتی ہے۔ یہ تین حروف نہ کوئی مکمل جملہ ہیں، نہ کوئی واضح حکم، اور نہ ہی ان کا کوئی عمومی مفہوم ہمیں معلوم ہے۔ لیکن یہی تو قرآن کی سب سے پہلی درسگاہ ہےکہ ہر چیز کو جاننا ضروری نہیں، بلکہ اللہ کی حکمت پر بھروسا رکھنا اصل نکتہ ہے۔ قرآن کا آغاز ایسے حروف سے کیوں ہوا، جو ہمیں سمجھ نہیں آتے؟ یہ ہمارے لیے ایک امتحان ہے، ایک پیغام ہے، اور ایک گہرے تدبر کی دعوت ہے۔
انسان کی محدود عقل اور اللہ کا لامحدود علم
جب ہم ان تین حروف کو دیکھتے ہیں، تو فوراً یہ احساس ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہماری عقل کی حد سے باہر ہیں۔ یہی ہماری زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہےہم جتنا بھی علم حاصل کر لیں، اللہ کے علم کے سامنے ہم ایک قطرے کی مانند بھی نہیں۔ اللہ نے سورۃ بنی اسرائیل میں فرمایا:
وَمَا أُوتِيتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
اور تمہیں تو بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے (17:85)
المٓ ہمیں ہماری حیثیت یاد دلاتا ہے، کہ اگر ہم قرآن کی ہدایت چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے اپنی عاجزی کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اور تمہیں تو بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے (17:85)
کیا ہم واقعی سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟
جب کوئی طالب علم استاد کے سامنے آتا ہے، تو سب سے پہلے اسے سننے اور سیکھنے کی آمادگی رکھنی چاہیے۔ اگر وہ پہلے سے ہی یہ سوچے کہ "مجھے سب معلوم ہے"، تو وہ کچھ بھی نہیں سیکھ سکتا۔ المٓ قرآن کے دروازے پر پہلی دستک ہے، جو ہم سے یہ سوال کرتا ہے: کیا تم واقعی سیکھنے کے لیے تیار ہو؟ کیا تم اپنے علم، اپنی عقل اور اپنی سمجھ کو اللہ کے سپرد کر کے جھکنے کے لیے تیار ہو؟
اگر ہم واقعی قرآن سے ہدایت لینا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے اپنی عقل کی سرحدوں کو ماننا ہوگا اور خود کو اللہ کے سامنے ایک خالی برتن کی مانند پیش کرنا ہوگا، تاکہ وہ ہمیں ہدایت سے بھر دے۔
ایمان اور آزمائش کا تعلق
یہ تین حروف ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ایمان کا تقاضا صرف وہی چیز ماننا نہیں جو سمجھ میں آ جائے، بلکہ وہ بھی ماننا جو عقل سے بالاتر ہو۔ اللہ نے قرآن میں کئی بار فرمایا کہ ایمان والوں کی آزمائش کی جاتی ہے:
أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتْرَكُوٓا۟ أَن يَقُولُوٓا۟ ءَامَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لے آئے، اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟ (29:2)
"المٓ" بھی ایک آزمائش ہے۔ کچھ لوگ کہیں گے، "ہم نہیں مانتے کیونکہ ہمیں سمجھ نہیں آتا۔" جبکہ کچھ لوگ اللہ کی حکمت پر بھروسا رکھتے ہوئے اسے قبول کر لیں گے۔ یہی اصل امتحان ہےکون اللہ پر ایمان رکھتا ہے بغیر یہ شرط لگائے کہ سب کچھ فوراً سمجھ میں آ جائے۔ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لے آئے، اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟ (29:2)
ہر مشکل کے پیچھے اللہ کی حکمت ہوتی ہے
زندگی میں کئی مواقع ایسے آتے ہیں جہاں ہمیں کسی آزمائش کا سبب سمجھ نہیں آتا۔ کبھی کوئی قریبی رشتہ دار دنیا سے چلا جاتا ہے، کبھی کوئی موقع چھن جاتا ہے، کبھی ہم کسی بڑی مشکل میں پڑ جاتے ہیں، اور ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ "یہ کیوں ہوا؟"
"المٓ" ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جیسے ان حروف کی حکمت اللہ جانتا ہے، ویسے ہی ہماری زندگی میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی حکمت بھی وہی جانتا ہے۔ جو کچھ ہمیں سمجھ نہیں آتا، وہ بھی اللہ کی طرف سے ایک خیر ہو سکتا ہے، چاہے ہماری آنکھیں ابھی نہ دیکھ سکیں۔ قرآن ہمیں ایک اور جگہ سکھاتا ہے:
وَعَسَىٰٓ أَن تَكْرَهُوا۟ شَيْـًٔا وَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰٓ أَن تُحِبُّوا۟ شَيْـًۭٔا وَهُوَ شَرٌّۭ لَّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بُری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔(2:216)
پس، جب زندگی میں کوئی ایسا معاملہ آئے جو ہماری سمجھ سے باہر ہو، تو ہمیں اللہ پر بھروسا رکھنا چاہیے کہ وہی بہتر جانتا ہے، جیسے "المٓ" کی حقیقت بھی وہی جانتا ہے۔ اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بُری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔(2:216)
غور و فکر اور تدبر کی دعوت
یہ تین حروف قرآن کی تفسیر کے دروازے کی پہلی کنجی ہیں۔ اللہ ہمیں بتانا چاہتے ہیں کہ یہ کتاب صرف تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ غور و فکر کے لیے بھی ہے۔
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا
کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے، یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟ (47:24)
"المٓ" ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ رُک جاؤ، سوچو، غور کرو۔ قرآن کا ہر حرف ایک گہرائی رکھتا ہے۔ کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے، یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟ (47:24)
"المٓ" کا پیغام
یہ تین چھوٹے حروف ایک عظیم پیغام رکھتے ہیں:
1) اللہ کی حکمت پر بھروسا رکھو ہر چیز کا فوری جواب تلاش کرنے کی کوشش نہ کرو، بلکہ ایمان رکھو کہ اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
2) اپنی عقل کی حد کو پہچانو سب کچھ جاننے کی خواہش چھوڑ کر سیکھنے کی روش اپناؤ۔
3) مشکلات میں صبر کرو جو سمجھ میں نہ آئے، اسے بھی قبول کرو، کیونکہ ہر مشکل کے پیچھے اللہ کی ایک حکمت ہوتی ہے۔
4) قرآن پر تدبر کرو یہ کتاب صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک گہرے پیغام کا خزانہ ہے۔
5) ایمان اور تسلیمیت کی راہ اپناؤ ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کے بجائے، اللہ کی باتوں پر یقین رکھو، کیونکہ وہی سب سے بہتر جاننے والا ہے۔
"المٓ" ہمیں اللہ کے سامنے جھکنے، غور و فکر کرنے، اور اللہ کی حکمت پر یقین رکھنے کا سبق دیتا ہے۔ کیا ہم واقعی سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟