• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ترجمہ قرآنِ کریم - مترجم: احمد علی لاہوری

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
سورۃ مریم
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱. کھیعصۤ
۲. یہ تیرے رب کی مہربانی کا ذکر ہے جو اس کے بندے زکریا پر ہوئی
۳. جب اس نے اپنے رب کو خفیہ آواز سے پکارا
۴. کہا اے میرے رب میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر میں بڑھاپا چمکنے لگا ہے اور میرے رب تجھ سے مانگ کر میں کبھی محروم نہیں ہوا
۵. اور بے شک میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو اپنے ہاں سے ایک وارث عطا کر
۶. جو میرا اور یعقوب کے خاندان کا بھی وارث ہو اور میرے رب اسے پسندیدہ بنا
۷. اے زکریا بے شک ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہو گا اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی پیدا نہیں کیا
۸. کہا اے میرے رب میرے لیے لڑکا کہاں سے ہو گا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے میں انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں
۹. کہا ایسا ہی ہو گا تیرے رب نے کہا ہے وہ مجھ پر آسان ہے اور میں نے تجھے اس سے پہلے پیدا کیا حالانکہ تو کوئی چیز نہ تھا
۱۰. کہا اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر کہا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات تک مسلسل لوگوں سے بات نہیں کر سکے گا
۱۱. پھر حجرہ سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں اشارہ سے کہا کہ تم صبح و شام خدا کی تسبیح کیا کرو
۱۲. اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی سے پکڑ اور ہم نے اسے بچپن ہی میں حکمت عطا کی
۱۳. اور اسے اپنے ہاں سے رحم دلی اور پاکیزگی عنایت کی اور وہ پرہیز گار تھا
۱۴. اور اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا اور سرکش نافرمان نہ تھا
۱۵. اور اس پر سلام ہو جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اور جس دن وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا
۱۶. اور اس کتاب میں مریم کا ذکر کر جب کہ وہ اپنے لوگوں سے علیحدہ ہو کر مشرقی مقام میں جا بیٹھی
۱۷. پھر لوگوں کے سامنے سے پردہ ڈال لیا پھر ہم نے اس کے پاس اپنے فرشتے کو بھیجا پھر وہ اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا
۱۸. کہا بے شک میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو پرہیزگار ہے
۱۹. کہا میں تو بس تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تجھے پاکیزہ لڑکا دوں
۲۰. کہا میرے لیے لڑکا کہاں سے ہو گا حالانکہ مجھے کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا اور نہ میں بدکار ہوں
۲۱. کہا ایسا ہی ہو گا تیرے رب نے کہا ہے وہ مجھ پر آسان ہے اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں اور یہ بات طے ہو چکی ہے
۲۲. پھر اس (بچہ کے ساتھ) حاملہ ہوئی پھر اسے لے کر کسی دور جگہ میں چلی گئی
۲۳. پھر اسے درد زہ ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا کہا اے افسوس میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور میں بھولی بھلائی ہوتی
۲۴. پھر اسے اس کے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کر تیرے رب نے تیرے نیچے سے ایک چشمہ پیدا کر دیا
۲۵. اور تو کھجور کے تنہ کو پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر پکی تازہ کھجوریں گریں گی
۲۶. سوکھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی کر پھر اگر تو کوئی آدمی دیکھے تو کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزہ کی نذر مانی ہے سو آج میں کسی انسان سے بات نہیں کروں گی
۲۷. پھر وہ اسے قوم کے پاس اٹھا کر لائی انہوں نے کہا اے مریمؑ البتہ تو نے عجیب بات کر دکھائی
۲۸. اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدکار تھی
۲۹. تب اس نے لڑکے کی طرف اشارہ کیا انہوں نے کہا ہم پنگوڑے والے بچے سے کیسے بات کریں
۳۰. کہا بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے
۳۱. اور مجھے با برکت بنایا ہے جہاں کہیں ہوں اور مجھے کو نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کی ہے جب تک میں زندہ ہوں
۳۲. اور اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرنے والا اور مجھے سرکش بدبخت نہیں بنایا
۳۳. اور مجھ پر سلام ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا
۳۴. یہ عیسیٰ مریمؑ کا بیٹا ہے سچی بات جس میں وہ جھگڑ رہے ہیں
۳۵. اللہ کی شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو صرف اسے کن کہتا ہے پھر وہ ہو جاتا ہے
۳۶. اور بے شک اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے سو اسی کی عبادت کرو یہ سیدھا راستہ ہے
۳۷. پھر جماعتیں آپس میں مختلف ہو گئیں سو کافروں کے لیے ایک بڑے دن کے آنے سے خرابی ہے
۳۸. کیا خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے جس دن ہمارے پاس آئیں گے لیکن ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں
۳۹. اور انہیں حسرت کے دن سے ڈرا جس دن سارے معاملہ کا فیصلہ ہو گا اور وہ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے
۴۰. بے شک ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں اور ہماری طرف لوٹائے جائیں گے
۴۱. اور کتاب میں ابراہیمؑ کا ذکر بے شک وہ سچا نبی تھا
۴۲. جب اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ تو کیوں پوجتا ہے ایسے کو جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ تیرے کچھ کام آ سکے
۴۳. اے میرے باپ بے شک مجھے وہ علم حاصل ہوا ہے جو تمہیں حاصل نہیں تو آپ میری تابعداری کریں میں آپ کو سیدھا راستہ دکھاؤں گا
۴۴. اے میرے باپ شیطان کی عبادت نہ کر بے شک شیطان اللہ کا نافرمان ہے
۴۵. اے میرے باپ بے شک مجھے خوف ہے کہ تم پر اللہ کا عذاب آئے پھر شیطان کے ساتھی ہو جاؤ
۴۶. کہا اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے البتہ اگر تو باز نہ آیا میں تجھے سنگسار کر دوں گا اور مجھ سے ایک مدت تک دور ہو جا
۴۷. کہا تیری سلامتی رہے اب میں اپنے رب سے تیری بخشش کی دعا کروں گا بے شک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے
۴۸. اور میں تمہیں چھوڑتا ہوں اور جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور میں اپنے رب ہی کو پکاروں گا امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کر محروم نہ رہوں گا
۴۹. پھر جب ان سے علیٰحدہ ہوا اور اس چیز سے جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیا اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا
۵۰. اور ہم نے ان سب کو اپنی رحمت سے حصہ دیا اور ہم نے ان کا نیک نام بلند کیا
۵۱. اور کتاب میں موسیٰؑ کا ذکر کر بے شک وہ خاص بندے اور بھیجے ہوئے پیغمبر تھے
۵۲. اور ہم نے اسے کوہِ طور کے دائیں طرف سے پکارا اور اسے راز کی بات کہنے کے لیے قریب بلایا
۵۳. اور ہم نے اسے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر عطا کیا
۵۴. اور کتاب میں اسماعیل کا بھی ذکر کر بے شک وہ وعدہ کا سچا اور بھیجا ہوا پیغمبر تھا
۵۵. اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتا تھا اور وہ اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھا
۵۶. اور کتاب میں ادریس کا ذکر کر بے شک وہ سچا نبی تھا
۵۷. اور ہم نے اسے بلند مرتبہ پر پہنچایا
۵۸. یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا پیغمبروں میں اور آدم کی اولاد میں سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے ہدایت کی اور پسند کیا جب ان پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرتے ہیں
۵۹. پھر ان کی جگہ ایسے نا خلف آئے جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے پھر عنقریب گمراہی کی سزا پائیں گے
۶۰. مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیے سو وہ لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا
۶۱. ہمیشگی کے باغوں میں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے جو ان کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے بے شک اس کا وعدہ پورا ہونے والا ہے
۶۲. اس میں سوائے سلام کے کوئی فضول بات نہ سنیں گے اور انہیں وہاں صبح و شام کھانا ملے گا
۶۳. یہ وہ جنت ہے کہ ہم اپنے بندوں میں سے اس کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہو گا
۶۴. اور ہم تیرے رب کے حکم کے سوا نہیں اترتے اسی کا ہے جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اور تیرا رب بھولنے والا نہیں
۶۵. آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو چیز ان کے درمیان ہے سو اسی کی عبادت کرو اسی کی عبادت پر قائم رہ کیا تیرے علم میں اس جیسا کوئی اور ہے
۶۶. اور انسان کہتا ہے جب میں مر جاؤں گا تو کیا پھر زندہ کر کے نکالا جاؤں گا
۶۷. کیا انسان کو یاد نہیں ہے کہ اس سے پہلے ہم نے اسے بنایا تھا اور وہ کوئی چیز بھی نہ تھا
۶۸. سو تیرے رب کی قسم ہے ہم انہیں اور ان کے شیطانوں کو ضرور جمع کریں گے پھر ہم انہیں گھٹنوں پر گرے ہوئے دوزخ کے گرد حاضر کریں گے
۶۹. پھر ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیں گے جو اللہ سے بہت ہی سرکش تھے
۷۰. پھر ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو دوزخ میں جانے کے زیادہ مستحق ہیں
۷۱. اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا اس پر گزر نہ ہو یہ تیرے رب پر لازم مقرر کیا ہوا ہے
۷۲. پھر ہم انہیں بچا لیں گے جو ڈرتے ہیں اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں پر گرے ہوئے چھوڑ دیں گے
۷۳. اور جب انہیں ہماری کھلی ہوئی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کافر ایمان داروں سے کہتے ہیں دونوں فریقوں میں سے کس کا مرتبہ بہتر ہے اور محفل کس کی اچھی ہے
۷۴. اور ہم ان سے پہلے کتنی جماعتیں ہلاک کر چکے ہیں وہ سامان اور نمود میں بہتر تھے
۷۵. کہہ دو جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے سو اللہ بھی اسے ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھیں گے جس کا انہیں نے وعدہ دیا گیا تھا یا عذاب یا قیامت تب معلوم کر لیں گے مرتبے میں کون برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے
۷۶. اور جو لوگ ہدایت پر ہیں اللہ انہیں زیادہ ہدایت دیتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں
۷۷. کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہتا ہے کہ مجھے ضرور مال اور اولاد ملے گی
۷۸. کیا اس نے غیب پر اطلاع پائی ہے یا اس نے اللہ سے اقرار لے رکھا ہے
۷۹. ہرگز نہیں ہم لکھ لیتے ہیں جو کچھ وہ کہتا ہے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے جاتے ہیں
۸۰. اور ہم اس کے وارث ہوں گے جو کچھ وہ کہتا ہے اور ہمارے ہاں تنہا آئے گا
۸۱. اور انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا لیے ہیں تاکہ وہ ان کے مددگار ہوں
۸۲. ہرگز نہیں وہ جلد ہی ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کے مخالف ہو جائیں گے
۸۳. کیا تو نے نہیں دیکھا ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے وہ انھیں ابھارتے رہتے ہیں
۸۴. سوتو ان کے لیے عذاب کی جلدی نہ کر ہم خود ان کے دن گن رہے ہیں
۸۵. جس دن ہم پرہیزگاروں کے رحمان کے پاس مہمان بنا کر جمع کریں گے
۸۶. اور گناہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے
۸۷. کسی کو سفارش کا اختیار نہیں ہو گا مگر جس نے رحمان کے ہاں سے اجازت لی ہو
۸۸. اور کہتے ہیں کہ رحمان نے بیٹا بنا لیا
۸۹. البتہ تحقیق تم سخت بات زبان پر لائے ہو
۹۰. کہ جس سے ابھی آسمان پھٹ جائیں اور زمین چر جائے اور پہاڑ ٹکڑے ہو کر گر پڑیں
۹۱. اس لئے کہ انہوں نے رحمان کے لیے بیٹا تجویز کیا
۹۲. اور رحمان کی یہ شان نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے
۹۳. جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ان میں سے ایسا کوئی نہیں جو رحمان کا بندہ بن کر نہ آئے
۹۴. البتہ تحقیق اس نے انھیں شمار کر رکھا ہے اور ان کی گنتی گن رکھی ہے
۹۵. اور ہر ایک ان میں سے اس کے ہاں اکیلا آئے گا
۹۶. بے شک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے عنقریب رحمان ان کے لیے محبت پیدا کرے گا بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اللہ تعالیٰ ان کے لیے محبت پیدا کر ے گا
۹۷. سو ہم نے فرمان کو تیری زبان میں اس لیے آسان کیا ہے کہ تو اس سے پرہیز گاروں کو خوشخبری سنا دے اور جھگڑنے والوں کو ڈرا دے
۹۸. اور ہم ان سے پہلے کئی جماعتیں ہلاک کر چکے ہیں کیا تو کسی کی ان میں سے آہٹ پاتا ہے یا ان کی بھنک سنتا ہے
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
سورۃ طٰہ
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱. طہۤ
۲. ہم نے تم پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم تکلیف اٹھاؤ
۳. بلکہ اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو ڈرتا ہے
۴. اس کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا
۵. رحمان جو عرش پر جلوہ گر ہے
۶. اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ گیلی زمین کے نیچے ہے
۷. اور اگر تو پکار کر بات کہے تو وہ پوشیدہ اور اس سے بھی زیادہ پوشیدہ کو جانتا ہے
۸. اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے سب نام اچھے ہیں
۹. اور کیا تجھے موسیٰؑ کی بات پہنچی ہے
۱۰. جب اس نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے شاید کہ میں اس سے تمہارے پاس کوئی چنگاری لاؤں یا وہاں کوئی رہبر پاؤں
۱۱. پھر جب وہ اس کے پاس آئے تو آواز آئی کہ اے موسیٰ
۱۲. میں تمہارا رب ہوں سو تم اپنی جوتیاں اتار دو بے شک تم پاک وادی طویٰ میں ہو
۱۳. اور میں نے تجھے پسند کیا ہے جو کچھ وحی کی جا رہی ہے اسے سن لو
۱۴. بے شک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری ہی بندگی کر اور میری ہی یاد کے لیے نماز پڑھا کر
۱۵. بے شک قیامت آنے والی ہے میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ مل جائے
۱۶. سو تمہیں قیامت سے ایسا شخص باز نہ رکھنے پائے جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں پر چلتا ہے پھر تم تباہ ہو جاؤ
۱۷. اور اے موسیٰؑ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے
۱۸. کہا یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لیے اور بھی فائدے ہیں
۱۹. فرمایا اے موسیٰ اسے ڈال دو
۲۰. پھر اسے ڈال دیا تو اسی وقت وہ دوڑتا ہوا سانپ ہو گیا
۲۱. فرمایا اسے پکڑ لے اور نہ ڈر ہم ابھی اسے پہلی حالت پر پھیر دیں گے
۲۲. اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے ملا دے بلا عیب سفید ہو کر نکلے گا یہ دوسری نشانی ہے
۲۳. تاکہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیوں میں سے بعض دکھائیں
۲۴. فرعون کے پاس جا بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے
۲۵. کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے
۲۶. اور میرا کام آسان کر
۲۷. اور میری زبان سے گرہ کھول دے
۲۸. کہ میری بات سمجھ لیں
۲۹. اور میرے لیے میرے کنبے میں سے ایک معاون بنا دے
۳۰. ہارون کو جو میرا بھائی ہے
۳۱. اس سے میری کمر مضبوط کر دے
۳۲. اور اسے میرے کام میں شریک کر دے
۳۳. تاکہ ہم تیری پاک ذات کا بہت بیان کریں
۳۴. اور تجھے بہت یاد کریں
۳۵. بے شک تو ہمیں خوب دیکھتا ہے
۳۶. فرمایا اے موسیٰ تیری درخواست منظور ہے
۳۷. اور البتہ تحقیق ہم نے تجھ پر ایک دفعہ اور بھی احسان کیا ہے
۳۸. جب ہم نے تیری ماں کے دل میں بات ڈال دی تھی
۳۹. کہ اسے صندوق میں ڈال دے پھر اسے دریا میں ڈال دے پر اسے دریا کنارے پر ڈال دے گا اسے میرا دشمن اور اس کا دشمن اٹھا لے گا اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی اور تاکہ تو میرے سامنے پرورش پائے
۴۰. جب تیری بہن کہتی جا رہی تھی کیا تمہیں ایسی عورت بتاؤں جو اسے اچھی طرح پالے پھر ہم نے تجھے تیری ماں کے پاس پہنچا دیا کہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کھائے اور تو نے ایک شخص کو مار ڈالا پھر ہم نے تجھے اس غم سے نکالا اور ہم نے تجھے کئی مرتبہ آزمائش میں ڈالا پھر تو مدین والوں میں کئی برس رہا پھر تو اے موسیٰ تقدیر سے یہاں آیا
۴۱. اور میں نے تجھے خاص اپنے واسطے بنایا
۴۲. تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں کوتاہی نہ کرو
۴۳. فرعون کے پاس جاؤ بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے
۴۴. سو اس سے نرمی سے بات کرو شاید وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے
۴۵. کہا اے ہمارے رب ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا یہ کہ زیادہ سرکشی کرے
۴۶. فرمایا ڈرو مت میں تمہارے ساتھ سنتا اور دیکھتا ہوں
۴۷. سو تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ بے شک ہم تیرے رب کی طرف سے پیغام لے کر آئے ہیں کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں تکلیف نہ دے ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اس کے لیے ہے جو سیدھی راہ پر چلے
۴۸. بے شک ہمیں وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب اسی پر ہو گا جو جھٹلائے اور منہ پھیر لے
۴۹. کہا اے موسیٰ پھر تمہارا رب کون ہے
۵۰. کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی صورت عطا کی پھر راہ دکھائی
۵۱. کہا پھر پہلی جماعتوں کا کیا حال ہے
۵۲. کہا ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں ہے میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے
۵۳. جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمہارے لیے اس میں راستے بنائے اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس میں طرح طرح کی مختلف سبزیاں نکالیں
۵۴. کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ بے شک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں
۵۵. اسی زمین سے ہم نے تمہیں بنایا اور اسی میں لوٹائیں گے اور دوبارہ اسی سے نکالیں گے
۵۶. اور ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھا دیں پھر اس نے جھٹلایا اور انکار کیا
۵۷. کہا اے موسیٰ کیا تو ہمیں اپنے جادو سے ہمارے ملک سے نکالنے کے لیے آیا ہے
۵۸. سو ہم بھی تیرے مقابلے میں ایک ایسا ہی جادو لائیں گے سو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کر دے نہ ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تو کسی صاف میدان میں
۵۹. کہا تمہارا وعدہ جشن کا دن ہے اور دن چڑھے لوگ اکھٹے کیے جائیں
۶۰. پھر فرعون لوٹ گیا اور اپنے مکر کا سامان جمع کیا پھر آیا
۶۱. موسیٰ نے کہا افسوس تم اللہ پر بہتان نہ باندھو ورنہ وہ کسی عذاب سے تمہیں ہلاک کر دے گا اور بے شک جس نے جھوٹ بنایا وہ غارت ہوا
۶۲. پھر ان کا آپس میں اختلاف ہو گیا اور خفیہ گفتگو کرتے رہے
۶۳. کہا بے شک یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارے عمدہ طریقہ کو موقوف کر دیں
۶۴. پھر تم اپنی تدبیر جمع کر کے صف باندھ کر آؤ اور تحقیق آج جیت گیا جو غالب رہا
۶۵. کہا اے موسیٰ یا تو ڈال اور یا ہم پہلے ڈالنے والے ہوں
۶۶. کہا بلکہ تم ڈالو پس اچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو سے اس کے خیال میں دوڑ رہی ہیں
۶۷. پھر موسیٰ نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا
۶۸. ہم نے کہا ڈرو مت بیشک تو ہی غالب ہو گا
۶۹. اور جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے ڈال دے کہ نگل جائے جو کچھ انہوں نے بنایا ہے جو کچھ کہ انہوں نے بنایا ہے صرف جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا جہاں بھی ہو
۷۰. پھر جادوگر سجدہ میں گر پڑے کہا ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے
۷۱. کہا تم میری اجازت سے پہلے ہی اس پر ایمان لے آئے بے شک یہ تمہارا سردار ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا سو اب میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹواؤں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور تمہیں معلوم ہو جائے گا ہم میں سے کس کا عذاب سخت اور دیر تک رہنے والا ہے
۷۲. کہا ہم تجھے ہرگز ترجیح نہ دیں گے ان کھلی ہوئی نشانیوں کے مقابلہ میں جو ہمارے پاس آ چکی ہیں اور نہ اس کے مقابلہ میں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے سو تو کر گزر جو تجھے کرنا ہے تو صرف اس دنیا کی زندگی پر حکم چلا سکتا ہے
۷۳. بے شک ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں تاکہ ہمارے گناہ معاف کرے اور جو تو نے ہم سے زبردستی جادو کرایا اور اللہ بہتر اور سدا باقی رہنے والا ہے
۷۴. بے شک جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم ہو کر آئے گا سواس کے لیے دوزخ ہے جس میں نہ مرے گا اور نہ جیے گا
۷۵. اور جو اس کے پاس مومن ہو کر آئے گا حالانکہ اس نے اچھے کام بھی کیے ہوں تو ان کے لیے بلند مرتبے ہوں گے
۷۶. ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ اس کی جزا ہے جو گناہ سے پاک ہوا
۷۷. اور ہم نے البتہ موسیٰ کو وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جا پھر ان کے لیے دریا میں خشک راستہ بنا دے پکڑے جانے سے نہ ڈر اور نہ کسی خطرہ کا خوف کھا
۷۸. پھر فرعون نے اپنے لشکر کو لے کر ان کا پیچھا کیا پھر انہیں دریا نے ڈھانپ لیا جیسا ڈھانپا
۷۹. اور فرعون نے اپنی قوم کو بہکایا اور راہ پر نہ لایا
۸۰. اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے طور کی دائیں طرف کا وعدہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا
۸۱. کھاؤ جو ستھری چیزیں ہم نے تمہیں دی ہیں اور اس میں حد سے نہ گزرو پھر تم پر میرا غضب نازل ہو گا اور جس پرمیرا غضب نازل ہوا سو وہ گڑھے میں جا گرا
۸۲. اور بے شک میں بڑا بخشنے والا ہوں اس کو جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھے کام کرے پھر ہدایت پر قائم رہے
۸۳. اور اے موسیٰ تجھے اپنی قوم سے پہلے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا
۸۴. کہا وہ بھی میرے پیچھے یہ آ رہے ہیں اور اے میرے رب میں جلدی تیرے طرف آیا تاکہ تو خوش ہو
۸۵. فرمایا تیری قوم کو تیرے بعد ہم نے آزمائش میں ڈال دیا ہے اور انہیں سامری نے گمراہ کر دیا ہے
۸۶. پھر موسیٰ اپنی قوم کی طرف غصہ میں بھرے ہوئے افسوس کرتے ہوئے لوٹے کہا اے میری قوم کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا پھر کیا تم پر بہت زمانہ گزر گیا تھا یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غصہ نازل ہو تب تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی
۸۷. کہا ہم نے اپنے اختیار سے آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی لیکن ہم سے اس قوم کے زیور کا بوجھ اٹھوایا گیا تھا سو ہم نے اسے ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈال دیا
۸۸. پھر ان کے لیے ایک بچھڑا نکال لایا ایک جسم جس میں گائے کی آواز تھی پھر کہا یہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود ہے سو وہ بھول گیا ہے
۸۹. کیا پس وہ نہیں دیکھتے کہ وہ انہیں کس بات کا جو اب نہیں دیتا اور ان کے نقصان اور نفع کا بھی اسے اختیار نہیں
۹۰. اور انہیں ہارون نے اس سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم اس سے تمہاری آزمائش کی گئی ہے اور بے شک تمہارا رب رحمان ہے سو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو
۹۱. کہا ہم برابر اسی پر جمے بیٹھے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ہمارے پاس لوٹ کر آئے
۹۲. کہا اے ہارون تمہیں کس چیز نے روکا جب تم نے دیکھا تھا کہ وہ گمراہ ہو گئے ہیں
۹۳. تو میرے پیچھے نہ آیا کیا تو نے بھی میری حکم عدولی کی
۹۴. کہا اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی اور اور سر نہ پکڑ بیشک میں ڈرا اس سے کہ تو کہے گا تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میرے فیصلہ کا انتظار نہ کیا
۹۵. کہا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے
۹۶. کہا میں نے وہ چیز دیکھی تھی جو دوسروں نے نہ دیکھی پھر میں نے رسول کے نقشِ قدم کی ایک مٹھی مٹی میں لے کر ڈال دی اور میرے دل نے مجھے ایسی ہی بات سوجھائی
۹۷. کہا بس چلا جا تیرے لیے زندگی میں یہ سزا ہے کہ تو کہے گا ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں اور تو اپنے معبود کو دیکھ جس پر تو جما بیٹھا تھا ہم اسے ضرور جلا دیں گے پھر اسے دریا میں بکھیر کر بہا دیں گے
۹۸. تمہارا معبود ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے علم میں سب چیز سما گئی ہے
۹۹. ہم اسی طرح سے تجھے گزشتہ لوگوں کی کچھ خبریں سناتے ہیں اور ہم نے تجھے اپنے ہاں سے ایک نصیحت نامہ دیا ہے
۱۰۰. جس نے اس سے منہ پھیرا سو وہ قیامت کے دن بوجھ اٹھائے گا
۱۰۱. اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لیے قیامت کے دن بُرا بوجھ ہو گا
۱۰۲. جس دن صور میں پھونکا جائے گا اور ہم اس دن مجرموں کو نیلی آنکھوں والے کر کے جمع کر دیں گے
۱۰۳. چپکے چپکے آپس میں باتیں کہتے ہوں گے کہ تم صرف دس دن ٹھیرے ہو
۱۰۴. ہم خوب جان لیں گے جو کچھ وہ کہیں گے جب ان میں سے بڑا سمجھدار کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن ٹھہرے ہو
۱۰۵. اور تجھ سے پہاڑوں کا حال پوچھتے ہیں سو کہہ دے میرا رب انہیں بالکل اڑا دے گا
۱۰۶. پھر زمین کو چٹیل میدان کر کے چھوڑے گا
۱۰۷. تو اس میں کجی اور ٹیلا نہیں دیکھے گا
۱۰۸. اس دن پکارے نے والے کا اتباع کریں گے اس میں کوئی کجی نہیں ہو گی اور رحمان کے ڈر سے آوازیں دب جائیں گی پھر تو پاؤں کی آہٹ کے سوا کچھ نہیں سنے گا
۱۰۹. اس دن سفارش کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمان نے اجازت دی اور اس کی بات پسند کی
۱۱۰. وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے اور پیچھے ہے اور ان کا علم اسے احاطہ نہیں کر سکتا
۱۱۱. اور سب منہ حّی و قیوم کے سامنے جھک جائیں گے اور تحقیق نامراد ہوا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا
۱۱۲. اور جو نیک کام کرے گا اور وہ مومن بھی ہو تو اسے ظلم اور حق تلفی کا کوئی خوف نہیں ہو گا
۱۱۳. اور اسی طرح ہم نے اسے عربی قرآن نازل کیا ہے اور ہم نے اس میں طرح طرح سے ڈرانے کی باتیں سنائیں تاکہ وہ ڈریں یا ان میں سمجھ پیدا کر دے
۱۱۴. سو اللہ بادشاہ حقیقی بلند مرتبے والا ہے اور تو قرآن کے لینے میں جلدی نہ کر جب تک اس کا اترنا پورا نہ ہو جائے اور کہہ اے میرے رب مجھے اور زیادہ علم دے
۱۱۵. اور ہم نے اس سے پہلے آدم سے بھی عہد لیا تھا پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں پختگی نہ پائی
۱۱۶. اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا اس نے انکار کیا
۱۱۷. پھر ہم نے کہا اے آدم بے شک یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے سو تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے پھر تو تکلیف میں پڑ جائے
۱۱۸. بے شک تو اس میں بھوکا اور ننگا نہیں ہو گا
۱۱۹. اور بے شک تو اس میں نہ پیاسا ہو گا اور نہ تجھے دھوپ لگے گی
۱۲۰. پھر شیطان نے اس کے دل میں خیال ڈالا کہا اے آدم کیا میں تجھے ہمیشگی کا درخت بتاؤں اور ایسی بادشاہی جس میں ضعف نہ آئے
۱۲۱. پھر دونوں نے اس درخت سے کھایا تب ان پر ان کی برہنگی ظاہر ہو گئی اور اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی پھر بھٹک گیا
۱۲۲. پھر اس کے رب نے اسے سرفراز کیا پھر اس کی توبہ قبول کی اور راہ دکھائی
۱۲۳. فرمایا تم دونوں یہاں سے نکل جاؤ تم میں سے ایک دوسرے کا دشمن ہے پھر اگر تمہیں میری طرف سے ہدایت پہنچے پھر جو میری ہدایت پر چلے گا تو گمراہ نہیں ہو گا اور نہ تکلیف اٹھائے گا
۱۲۴. اور جو میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی بھی تنگ ہو گی اور اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے
۱۲۵. کہے گا اے میرے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا حالانکہ میں بینا تھا
۱۲۶. فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں پہنچی تھیں پھر تو نے انھیں بھلا دیا تھا اور اسی طرح آج تو بھی بھلایا گیا ہے
۱۲۷. اور اسی طرح ہم بدلہ دیں گے جو حد سے نکلا اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہیں لیا اور البتہ آخرت کا عذاب بڑا سخت اور دیرپا ہے
۱۲۸. سو کیا انہیں اس بات سے بھی سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے کئی جماعتیں ہلاک کر دی ہیں یہ لوگ ان کی جگہوں پر پھرتے ہیں بیشک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں
۱۲۹. اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے شدہ نہ ہوتی اور میعاد معین نہ ہوتی تو عذاب لازمی طور پر ہوتا
۱۳۰. پس صبر کر اس پر جو کہتے ہیں اور سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں اور دن کے اول اور آخر میں تسبیح کر تاکہ تجھے خوشی حاصل ہو
۱۳۱. اور تو اپنی نظر ان چیزوں کی طرف نہ دوڑا جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے سامان دے رکھے ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزمائیں اور تیرے رب کا رزق بہتر اور دیرپا ہے
۱۳۲. اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کر اور خود بھی اس پر قائم رہ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے ہم تجھے روزی دیتے ہیں اور پرہیزگاری کا انجام اچھا ہے
۱۳۳. اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے پاس اپنے رب سے کوئی نشانی کیوں نہیں لے آتا کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی شہادت نہیں پہنچی
۱۳۴. اور اگر ہم انہیں اس سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو کہتے اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم ذلیل و خوار ہونے سے پہلے تیرے حکموں پر چلتے
۱۳۵. کہہ دو ہر ایک انتظار کرنے والا ہے سو تم بھی انتظار کرو آئندہ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ سیدھی راہ پر کون ہے اور ہدایت پانے والا کون ہے
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
سورۃ الانبیا
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱. لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے اور وہ غفلت میں پڑ کر منہ پھیرنے والے ہیں
۲. ان کے رب کی طرف سمجھانے کے لیے کوئی ایسی نئی بات ان کے پاس نہیں آتی کہ جسے سن کر ہنسی میں نہ ٹال دیتے ہوں
۳. ان کے دل کھیل میں لگے ہوئے ہیں اور ظالم پوشیدہ سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ تمہاری طرح ایک انسان ہی تو ہے پھر کیا تم دیدہ دانستہ جادو کی باتیں سنتے جاتے ہو
۴. رسول نے کہا میرا رب آسمان اور زمین کی سب باتیں جانتا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے
۵. بلکہ کہتے ہیں کہ یہ بیہودہ خواب ہیں بلکہ اس نے جھوٹ بنایا ہے بلکہ وہ شاعر ہے پھر چاہیے کہ ہمارے پاس کوئی نشانی لائے جس طرح پہلے پیغمبر بھیجے گئے تھے
۶. ان سے پہلے کوئی بستی ایمان نہیں لائی تھی جسے ہم نے ہلاک کیا کیا اب یہ ایمان لائیں گے
۷. اور ہم نے تم سے پہلے بھی تو آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا ان کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھ لو
۸. اور ہم نے ان کے ایسے بدن بھی نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے
۹. پھر ہم نے ان سے وعدہ سچا کر دیا تب انہیں اور جسے ہم نے چاہا نجات دی اور ہم نے حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک کر دیا
۱۰. البتہ تحقیق ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہاری نصیحت ہے کیا پس تم نہیں سمجھتے
۱۱. اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ظالم تھیں غارت کر دیا ہے اور ان کے بعد ہم نے اور قومیں پیدا کیں
۱۲. پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تو وہ فوراً وہاں سے بھاگنے لگے
۱۳. مت بھاگو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں جاؤ تاکہ تم سے پوچھا جائے
۱۴. کہنے لگے ہائے ہماری کم بختی بے شک ہم ہی ظالم تھے
۱۵. سو ان کی یہی پکار رہی یہاں تک کہ ہم نے انہیں ایسا کر دیا جس طرح کھیتی کٹی ہوئی ہو اور وہ بجھ کر رہ گئے
۱۶. اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے کھیلتے ہوئے نہیں بنایا
۱۷. اور اگر ہم کھیل ہی بنانا چاہتے تو اپنے پاس کی چیزوں کو بناتے اگر ہمیں یہی کرنا ہوتا
۱۸. بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں پھر وہ باطل کا سر توڑ دیتا ہے پھر وہ مٹنے والا ہوتا ہے اور تم پر افسوس ہے ان باتوں سے جو تم بناتے ہو
۱۹. اور اسی کا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے ہاں ہیں اس کی عبادت سے سرکشی نہیں کرتے اور نہ تھکتے ہیں
۲۰. رات اور دن تسبیح کرتے ہیں سستی نہیں کرتے
۲۱. کیا انہوں نے زمین کی چیزوں سے ایسے معبود بنا رکھے ہیں جو زندہ کریں گے
۲۲. اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو دونوں خراب ہو جاتے سو اللہ عرش کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں
۲۳. جو کچھ وہ کرتا ہے اس سے پوچھا نہیں جاتا اور وہ پوچھے جاتے ہیں
۲۴. کیا انہوں نے اس کے سوا اور بھی معبود بنا رکھے ہیں کہہ دو اپنی دلیل لاؤ یہ میرے ساتھ والوں کی کتاب اور مجھ سے پہلے لوگوں کی کتابیں موجود ہیں بلکہ اکثر ان میں سے حق جانتے ہی نہیں اس لیے منہ پھیرے ہوئے ہیں
۲۵. اور ہم نے تم سے پہلے ایسا کوئی رسول نہیں بھیجا جس کی طرف یہ وحی نہ کی ہو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں سو میری ہی عبادت کرو
۲۶. اور کہتے ہیں کہ اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے وہ پاک ہے لیکن وہ معزز بندے ہیں
۲۷. بات کرنے میں اس سے پیش قدمی نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم پر کام کرتے ہیں
۲۸. وہ جانتا ہے جو ان کے آگے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ شفاعت بھی نہیں کرتے مگر اسی کے لیے جس سے وہ خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے ہیں
۲۹. اور جو کوئی ان میں سے یہ کہے کہ بے شک میں اس کے سوا خدا ہوں تو اسی پر ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں
۳۰. کیا منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے انھیں جدا جدا کر دیا اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا کیا پھر بھی یقین نہیں کرتے
۳۱. اور ہم نے زمین میں بھاری پہاڑ رکھ دیئے تاکہ انہیں لے کر اِدھر اُدھر نہ جھکنے پائے اور ہم نے اس میں کشادہ راہیں بنا دی ہیں تاکہ وہ راہ پائیں
۳۲. اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا اور وہ آسمان کی نشانیوں سے منہ موڑنے والے ہیں
۳۳. اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند بنائے سب اپنے اپنے چکر میں پھرتے ہیں
۳۴. اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشہ کے لیے زندہ رہنے نہیں دیا پھر کیا اگر تو مر گیا تو وہ رہ جائیں گے
۳۵. ہر ایک جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی سے آزمانے کے لیے جانچتے ہیں اور ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے
۳۶. اور جہاں تمہیں کافر دیکھتے ہیں تو انہیں تجھ سے سوائے ٹھٹھا کرنے کے اور کوئی کام نہیں کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا نام لیتا ہے اور وہ رحمان کے نام سے منکر ہیں
۳۷. آدمی جلد باز بنایا گیا ہے میں تمہیں اپنی نشانیاں ابھی دکھاتا ہوں سو جلدی مت کرو
۳۸. ور کہتے ہیں یہ وعدہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو
۳۹. کاش یہ منکر اس وقت کو جان لیں کہ اپنے مونہوں اور اپنی پیٹھوں سے آگ کو روک نہیں سکیں گے اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے
۴۰. بلکہ وہ ان پر ناگہاں آئے گی پھر وہ ان کے ہوش کھو دے گی پھر نہ اسے ٹال سکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی
۴۱. اور تجھ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا ہے پھر جس عذاب کی بابت وہ ہنسی کیا کرتے تھے ان ٹھٹھا کرنے والوں پر وہی آ پڑا
۴۲. کہہ دو تمہاری رات اور دن میں رحمان سے کون نگہبانی کرتا ہے بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے منہ موڑنے والے ہیں
۴۳. کیا ہم سے ان کے معبود انہیں بچائے رکھتے ہیں وہ تو خود اپنی بھی مدد نہیں کر سکتے اور نہ ہمارے مقابلہ میں ان کا کوئی ساتھ دے گا
۴۴. بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان پر ایک عرصہ دراز گزر گیا کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ بے شک ہم زمین کو ہر طرف سے گھٹاتے چلے جاتے ہیں سو کیا یہ لوگ غالب آنے والے ہیں
۴۵. کہہ دو کہ میں تو صرف وحی کے ذریعہ سے تمہیں ڈراتا ہوں اور یہ بہرے جس وقت ڈرائے جاتے ہیں سنتے ہی نہیں
۴۶. اور البتہ اگر انہیں تیرے رب کا عذاب کا ایک جھونکا بھی لگ جائے تو ضرور کہیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی بے شک ہم ظالم تھے
۴۷. اور قیامت کے دن ہم انصاف کی ترازو قائم کریں گے پھر کسی پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی عمل ہو گا تو اسے بھی ہم لے آئیں گے اور ہم ہی حساب لینے کے لیے کافی ہیں
۴۸. اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ کرنے والی اور روشنی دینے والی اور پرہیز گاروں کو نصیحت کرنے والی کتاب دی تھی
۴۹. جو اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھنے والے ہیں
۵۰. اور یہ ایک مبارک نصیحت ہے جسے ہم نازل کیا ہے پھر کیا تم اس کے بھی منکر ہو
۵۱. اور ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم کو اس کی صلاحیت عطا کی تھی اور ہم اس سے واقف تھے
۵۲. جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ کیسی مورتیں ہیں جن پر تم مجاور بنے بیٹھے ہو
۵۳. انہوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا کو انہیں کی پوجا کرتے پایا ہے
۵۴. کہا البتہ تحقیق تم اور تمہارے باپ دادا صریح گمراہی میں رہے ہو
۵۵. انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس سچی بات لایا ہے یا تو دل لگی کرتا ہے
۵۶. کہا بلکہ تمہارا رب تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے انہیں بنایا ہے اور میں اسی بات کا قائل ہوں
۵۷. اور اللہ کی قسم میں تمہارے بتوں کا علاج کروں گا جب تم پیٹھ پھیر کر جا چکو گے
۵۸. پھر ان کے بڑے کے سوا سب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تاکہ اس کی طرف رجوع کریں
۵۹. انہوں نے کہا ہمارے معبودوں کے ساتھ کس نے یہ کیا ہے بے شک وہ ظالموں میں سے ہے
۶۰. انہوں نے کہا ہم نے سنا ہے کہ ایک جو ان بتوں کو کچھ کہا کرتا ہے اسے ابراہیم کہتے ہیں
۶۱. کہنے لگے اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ دیکھیں
۶۲. کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے
۶۳. کہا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کیا ہے سو ان سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں
۶۴. پھر وہ اپنے دل میں سوچ کر کہنے لگے بے شک تم ہی بے انصاف ہو
۶۵. پھر انہوں نے سر نیچا کر کے کہا تو جانتا ہے کہ یہ بولا نہیں کرتے
۶۶. کہا پھر کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی پوجا کرتے ہو جو نہ تمہیں نفع دے سکے اور نہ نقصان پہنچا سکے
۶۷. میں تم سے اور جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو بیزار ہوں پھر کیا تمھیں عقل نہیں ہے
۶۸. انھوں نے کہا اگر تمہیں کچھ کرنا ہے تو اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو
۶۹. ہم نے کہا اے آگ ابراہیم پر سرد اور راحت ہو جا
۷۰. اور انہوں نے اس کی برائی چاہی سو ہم نے انہیں ناکام کر دیا
۷۱. اور ہم اسے اور لوط کو بچا کراس زمین کی طرف لے آئے جس میں ہم نے جہان کے لیے برکت رکھی ہے
۷۲. اور ہم نے اسے اسحاق بخشا اور انعام میں یعقوب دیا اور سب کو نیک بخت کیا
۷۳. اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کیا کرتے تھے اور ہم نے انہیں اچھے کام کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا تھا اور وہ ہماری ہی بندگی کیا کرتے تھے
۷۴. اور لوط کو ہم نے حکمت اور علم عطا کیا تھا اور ہم اسے اس بستی سے جو گندے کام کیا کرتی تھی بچا کر لے آئے بے شک وہ لوگ برے نافرمانی کرنے والے تھے
۷۵. اور اسے ہم نے اپنی رحمت میں لے لیا بے شک وہ نیک بختوں میں سے تھا
۷۶. اور نوح کو جب اس نے اس سے پہلے پکارا پھر ہم نے اس کی دعا قبول کر لی پھر ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو گھبراہٹ سے بچا لیا
۷۷. اور ہم نے اس کی مدد کی ان لوگوں پر جو ہماری آیتیں جھٹلاتے تھے بے شک وہ بُرے لوگ تھے پھر ہم نے ان سب کو غرق کر دیا
۷۸. اور داؤد اور سلیمان کو جب وہ کھیتی کے جھگڑا میں فیصلہ کرنے لگے جب کہ اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت جا پڑیں اور ہم اس فیصلہ کو دیکھ رہے تھے
۷۹. پھر ہم نے وہ فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا اور ہر ایک کو ہم نے حکمت اور علم دیا تھا اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑ اور پرندے تابع کیے جو تسبیح کیا کرتے تھے اور یہ سب کچھ ہم ہی کرنے والے تھے
۸۰. اور ہم نے اسے تمہارے لیے زر ہیں بنانا بھی سکھایا تاکہ تمہیں لڑائی میں محفوظ رکھیں پھر کیا تم شکر کرتے ہو
۸۱. اور زور سے چلنے والی ہوا سلیمان کے تابع کی جو اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی جہاں ہم نے برکت دی ہے اور ہم ہر چیز کو جاننے والے ہیں
۸۲. اور تو کچھ ایسے جن تھے جو دریا میں اس کے واسطے غوطہ لگاتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کی حفاظت کرنے والے تھے
۸۳. اور جب کہ ایوب نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے روگ لگ گیا ہے حالانکہ تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
۸۴. پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور جو اسے تکلیف تھی ہم نے دور کر دی اور اسے اس کے گھر والے دیئے اور اتنا ہی ان کے ساتھ اپنی رحمت سے اور بھی دیا اور عبادت کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے
۸۵. اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو یہ سب صبر کرنے والے تھے
۸۶. اور ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کر لیا بے شک وہ نیک بختوں میں سے تھے
۸۷. اور مچھلی والے کو جب غصہ ہو کر چلا گیا پھر خیال کیا کہ ہم اسے نہیں پکڑیں گے اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو بے عیب ہے بے شک میں بے انصافوں میں سے تھا
۸۸. پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی اور ہم ایمان داروں کو یونہی نجات دیا کرتے ہیں
۸۹. اور ذکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے
۹۰. پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کے لیے اس کی بیوی کو درست کر دیا بے شک یہ لوگ نیک کاموں میں دوڑ پڑتے تھے اور ہمیں امید اور ڈر سے پکارا کرتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے
۹۱. اور وہ عورت جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اسے اور اس کے بیٹے کو جہان کے لیے نشانی بنایا
۹۲. یہ لوگ تمہارے گروہ کے ہیں جو ایک ہی گروہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں پھر میری ہی عبادت کرو
۹۳. اور ان لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف پیدا کر لیا سب ہمارے پاس ہی آنے والے ہیں
۹۴. پھر جو کوئی اچھے کام کرے گا اور وہ مومن بھی ہو گا تو اس کی کوشش رائگاں نہ جائے گی اور بے شک ہم اس کے لکھنے والے ہیں
۹۵. اور جن بستیوں کو ہم فنا کر چکے ہیں ان کے لیے ناممکن ہے کہ وہ پھر لوٹ کر آئیں
۹۶. یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے چلے آئیں گے
۹۷. اور سچا وعدہ نزدیک آ پہنچے گا پھر اس وقت منکروں کی آنکھیں اوپر لگی رہ جائیں گی ہائے کم بختی ہماری بے شک ہم تو اس سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے بلکہ ہم ہی ظالم تھے
۹۸. بے شک تم اور اللہ کے سوا جو کچھ پوجتے ہو دوزخ کا ایندھن ہے تم سب اس میں داخل ہو گے
۹۹. اگر یہ معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور سب اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
۱۰۰. ان کے لیے دوزخ میں چیخیں ہوں گی اور وہ اس میں کچھ نہیں سنیں گے
۱۰۱. بے شک جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہو چکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے
۱۰۲. اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانی مرادوں میں ہمیشہ رہیں گے
۱۰۳. اور انہیں بڑا بھاری خوف بھی پریشان نہیں کرے گا اور ان سے فرشتے آ ملیں گے یہی وہ تمہارا دن ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا
۱۰۴. جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ہے جس طرح ہم نے پہلی بار پیدا کیا تھا دوبارہ بھی پیدا کریں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے بے شک ہم پورا کرنے والے ہیں
۱۰۵. اور البتہ تحقیق ہم نصیحت کے بعد زبور میں لکھ چکے ہیں کہ بے شک زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے
۱۰۶. بے شک اس میں خدا پرستوں کے لیے ایک پیغام ہے
۱۰۷. اور ہم نے تو تمہیں تمام جہان کے لوگوں کے حق میں رحمت بنا کر بھیجا ہے
۱۰۸. کہہ دو مجھے تو یہی حکم آیا ہے کہ تمہارا معبود ایک معبود ہے پھر کیا اس کے آگے سر جھکاتے ہو
۱۰۹. پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو کہ میں نے یکساں طور پر خبر دے دی ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ نزدیک ہے یا دور ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
۱۱۰. بے شک وہ جانتا ہے جو بات پکار کر کہو اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو
۱۱۱. اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لیے امتحان ہو اور ایک وقت تک دنیا کا فائدہ پہنچانا منظور ہو
۱۱۲. کہ اے رب انصاف کا فیصلہ کر دے اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے اسی سے مدد مانگتے ہیں ان باتوں پر جو تم بیان کرتے ہو
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
سورۃ الحج
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱. اے لوگو اپنے رب سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ ایک بڑی چیز ہے
۲. جس دن اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تجھے لوگ مدہوش نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہو گا
۳. اور بعضے لوگ وہ ہیں جو اللہ کے معاملے میں بے سمجھی سے جھگڑتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کے کہنے پر چلتے ہیں
۴. جس کے حق میں لکھا جا چکا ہے کہ جو اسے یار بنائے گا تو وہ اسے گمراہ کر کے رہے گا اور اسے دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا
۵. اے لوگو اگر تمہیں دوبارہ زندہ ہونے میں شک ہے تو ہم نے تمہیں مٹی سے پھر قطرہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کی بوٹی نقشہ بنی ہوئی اور بغیر نقشہ بنی ہوئی سے بنایا تاکہ ہم تمہارے سامنے ظاہر کر دیں اور ہم رحم میں جس کو چاہتے ہیں ایک مدت معین تک ٹھیراتے ہیں پھر ہم تمہیں بچہ بنا کر باہر لاتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی جو انی کو پہنچو اور کچھ تم میں سے مر جاتے ہیں اور کچھ تم میں سے نکمی عمر تک پہنچائے جاتے ہیں کہ سمجھ بوجھ کا درجہ پاکر نا سمجھی کی حالت میں جا پڑتا ہے اور تم زمین کو سوکھی دیکھتے ہو پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو تر و تازہ ہو جاتی ہے اور ہر قسم کے خوش نما نباتات اُگ آتے ہیں
۶. یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی برحق ہے اور مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر بات پر قادر ہے
۷. اور بے شک قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شک نہیں اور بے شک اللہ قبروں والوں کو دوبارہ اٹھائے گا
۸. اور بعضا وہ شخص ہے جو اللہ کے معاملہ میں بے سمجھی اور دلیل اور روشن کتاب کے بغیر تکبر سے جھگڑتا ہے
۹. تاکہ اللہ کی راہ سے بہکائے اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن بھی ہم اسے دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھاویں گے
۱۰. یہ تیرے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے اور بے شک اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں
۱۱. اور بعض وہ لوگ ہیں کہ اللہ کی بندگی کنارے پر ہو کر کرتے ہیں پھر اگر اسے کچھ فائدہ پہنچ گیا تو اس عبادت پر قائم ہو گیا اور اگر تکلیف پہنچ گئی تو منہ کے بل پھر گیا دنیا اور آخرت گنوائی یہی وہ صریح خسارا ہے
۱۲. اللہ کے سوا ایسی چیز کو پکارتا ہے جو نہ اسے ضرر دے سکے اور نہ اسے فائدہ پہنچا سکے یہی وہ پرلے درجہ کی گمراہی ہے
۱۳. ایسے کو پکارتا ہے جس کا ضرر اس کے نفع سے نزدیک تر ہے ایسا کارساز بھی برا اور ایسا رفیق بھی برا ہے
۱۴. بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی بے شک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے
۱۵. جسے یہ خیال ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی ہرگز مدد نہ کرے گا اسے چاہیے کہ چھت میں ایک رسی لٹکائے پھر اسے کاٹ دے پھر دیکھے کہ اس کی تدبیر اس کے غصہ کو دور کرتی ہے
۱۶. اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو واضح آیتیں بنا کر نازل کیا ہے اور بے شک اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے
۱۷. بے شک اللہ مسلمانوں اور یہودیوں اور صابیوں اور عیسائیوں اور مجوسیوں اور مشرکوں میں قیامت کے دن فیصلہ کرے گا بے شک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے
۱۸. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے آدمی اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے ہیں کہ جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے اور جسے اللہ ذلیل کرتا ہے پھر اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا بے شک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے
۱۹. یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں پھر جو منکر ہیں ان کے لیے آگ کے کپڑے قطع کیے گئے ہیں اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا
۲۰. جس سے جو کچھ ان کے پیٹ میں ہے اور کھالیں جھلس دی جائیں گی
۲۱. اور ان پر لوہے کے گرز پڑیں گے
۲۲. جب گھبرا کر وہاں سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور دوزخ کا عذاب چکھتے رہو
۲۳. بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہاں انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائیں جائیں گے اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہو گا
۲۴. اور انہوں نے عمدہ بات کی راہ پائی اور تعریف والے اللہ کی راہ پائی
۲۵. بے شک جو منکر ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ اور مسجد حرام سے روکتے ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے وہاں اس جگہ کا رہنے والا اور باہر والا دونوں برابر ہیں اور جو وہاں ظلم سے کجروی کرنا چاہے تو ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے
۲۶. اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے کعبہ کی جگہ معین کر دی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھ
۲۷. اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے کہ تیرے پاس پا پیادہ اور پتلے دُبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے آئیں
۲۸. تاکہ اپنے فائدوں کے لیے آ موجود ہوں اور تاکہ جو چار پائے اللہ نے انہیں دیے ہیں ان پر مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں پھر ان میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ
۲۹. پھر چاہیئے کہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر کا طواف کریں
۳۰. یہی حکم ہے اور جو اللہ کی معزز چیزوں کی تعظیم کرے گا سو یہ اس کے لیے اس کے رب کے ہاں بہتر ہے اور تمہارے لیے مویشی حلال کر دیئے گئے ہیں مگر وہ جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں پھر بتوں کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرو
۳۱. خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے
۳۲. بات یہی ہے اور جو شخص اللہ کی نامزد چیزوں کی تعظیم کرتا ہے سو یہ دل کی پرہیز گاری ہے
۳۳. تمہارے لیے ان میں ایک وقت معین تک فائدے ہیں پھر اس کے ذبح ہونے کی جگہ قدیم گھر کے قریب ہے
۳۴. اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کر دی تھی تاکہ اللہ نے جو چار پائے انہیں دیے ہیں ان پر اللہ کا نام یاد کیا کریں پھر تم سب کا معبود تو ایک اللہ ہی ہے پس اس کے فرمانبردار رہو اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو
۳۵. وہ لوگ جب اللہ کا نام لیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر مصیبت آئے تو صبر کرنے والے ہیں اور نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
۳۶. اور ہم نے تمہارے لیے قربانی کے اونٹ کو اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے تمہارے لیے ان میں فائدے بھی ہیں پھر ان پر اللہ کا نام کھڑا کر کے لو پھر جب وہ کسی پہلو پر گر پڑیں تو ان میں سے خود کھاؤ اور صبر سے بیٹھنے والے اور سائل کو بھی کھلاؤ اللہ نے انہیں تمہارے لیے ایسا مسخر کر دیا ہے تاکہ تم شکر کرو
۳۷. اللہ کو نہ ان کا گوشت اور نہ ان کا خون پہنچتا ہے البتہ تمہاری پرہیز گاری اس کے ہاں پہنچتی ہے اسی طرح انہیں تمہارے تابع کر دیا تاکہ تم اللہ کی بزرگی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور نیکوں کو خوشخبری سنا دو
۳۸. بیشک اللہ ایمان والوں سے دشمنوں کو ہٹا دے گا اللہ کسی دغا باز نا شکر گزار کو پسند نہیں کرتا
۳۹. جن سے کافر لڑتے ہیں انہیں بھی لڑنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے
۴۰. وہ لوگ جنہیں ناحق ان کے گھروں سے نکال دیا گیا ہے صرف اس کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا تو تکیئے اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں ڈھا دی جاتیں جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے اور اللہ ضرور اس کی مدد کر ے گا جو اللہ کی مدد کرے گا بیشک اللہ زبردست غالب ہے
۴۱. وہ لوگ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے
۴۲. اور اگر تمہیں جھٹلائیں تو ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود
۴۳. اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم
۴۴. اور مدین والے اپنے اپنے نبی کو جھٹلا چکے ہیں اور موسیٰ کو بھی جھٹلایا گیا پھر میں نے منکروں کو مہلت دی پھر میں نے انہیں پکڑا پھر میری پکڑ کیسی تھی
۴۵. سو کتنی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں اور وہ گناہ گار تھیں اب وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے کنوئیں نکمے اور کتنے پکے محل اجڑے اجڑے پڑے ہیں
۴۶. کیا انھوں نے ملک میں سیر نہیں کی پھر ان کے ایسے دل ہو جاتے جن سے سمجھتے یا ایسے کان ہو جاتے جن سے سنتے پس تحقیق بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں اندھے ہو جاتے ہیں
۴۷. اور تجھ سے عذاب جلدی مانگتے ہیں اور اللہ اپنے وعدہ کا ہرگز خلاف نہیں کرے گا اور ایک دن تیرے رب کے ہاں ہزار برس کے برابر ہوتا ہے جو تم گنتے ہو
۴۸. اور کتنی بستیوں کو میں نے مہلت دی حالانکہ وہ ظالم تھیں پھر میں نے انہیں پکڑا اور میری طرف ہی پھر کر آنا ہے
۴۹. کہہ دو اے لوگو میں تو صرف تمہیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں
۵۰. پھر جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے
۵۱. اور جنہوں نے ہماری آیتوں کے پست کرنے میں کوشش کی وہی دوزخی ہیں
۵۲. اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی بھی ایسا رسول اور نبی نہیں بھیجا کہ جس نے جب کوئی تمنا کی ہو اور شیطان نے اس کی تمنا میں کچھ آمیزش نہ کی ہو پھر اللہ شیطان کی آمیزش کو دور کر کے اپنی آیتوں کو محفوظ کر دیتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
۵۳. تاکہ شیطان کی آمیزش کو ان لوگوں کے لیے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بے شک ظالم بڑی ضدی میں پڑے ہوئے ہیں
۵۴. اور تاکہ علم والے اسے تیرے رب کی طرف سے حق سمجھ کر ایمان لے آئیں پھر ان کے دل اس کے لیے جھک جائیں اور بیشک اللہ ایمان داروں کو سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرنے والا ہے
۵۵. اور منکر قرآن کی طرف سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت یکایک ان پر آ موجود ہو یا منحوس دن کا عذاب ان پر نازل ہو
۵۶. اس دن اللہ ہی کی حکومت ہو گی وہی ان میں فیصلہ کر لے گا پھر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے
۵۷. اور جو منکر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا سو انکے لیے ذلت کا عذاب ہے
۵۸. اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر قتل کیے گئے یا مر گئے البتہ انہیں اللہ اچھا رزق دے گا اور بے شک اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
۵۹. البتہ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا جسے پسند کریں گے اور بیشک اللہ جاننے والا بردبار ہے
۶۰. بات یہ ہے اور جس نے اسی قدر بدلہ لیا جس قدر اسے تکلیف دی گئی تھی پھر اس پر زیادتی کی گئی تو اللہ ضرور اس کی مد کرے گا بے شک اللہ درگزر کرنے والا معاف کرنے والا ہے
۶۱. وہ اس لیے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کیا کرتا ہے اور بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے
۶۲. یہ اس لیے کہ حق اللہ ہی کی ہستی ہے اور جنہیں اس کے سوا پکارتے ہیں باطل ہیں اور بے شک اللہ ہی بلند مرتبہ بڑائی والا ہے
۶۳. کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر زمین سرسبز ہو جاتی ہے بے شک اللہ مہربان خبردار ہے
۶۴. جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور بے شک اللہ وہی بے نیاز قابل تعریف ہے
۶۵. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین کی سب چیزوں اور کشتیوں کو تمہارے تابع کر دیا ہے جو دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہیں اور آسمان کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے مگر اس کے حکم سے بے شک اللہ لوگوں پر نرمی کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے
۶۶. اور وہ وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا بے شک انسان البتہ بڑا ہی نا شکرا ہے
۶۷. ہم نے ہر قوم کے لیے ایک دستور مقرر کر دیا ہے جس پر وہ چلتے ہیں پھر انہیں تمہارے ساتھ اس معاملہ میں جھگڑنا نہ چاہیئے اور اپنے رب کی طرف بلا بے شک تو البتہ سیدھے راستہ پر ہے
۶۸. اور اگر تجھ سے جھگڑا کریں تو کہہ دے اللہ بہتر جانتا ہے جو تم کرتے ہو
۶۹. اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے
۷۰. کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے یہ سب کتاب میں لکھا ہوا ہے یہ اللہ پر آسان ہے
۷۱. اور اللہ کے سوا ایسی چیز کو پوجتے ہیں جس پر اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور نہ انکے پاس کوئی اس کا علم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا
۷۲. اور جب انہیں ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جائیں تو تم منکروں کے چہروں میں ناراضگی دیکھو گے قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کر دیں کہہ دو کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر بات بتاؤں آگ ہے کہ جس کا اللہ نے منکروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ بری جگہ ہے
۷۳. اے لوگو ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگر چہ وہ سب اس کے لیے جمع ہو جائیں اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے تو اسے مکھی سے چھڑا نہیں سکتے عابد اور معبود دونوں ہی عاجز ہیں
۷۴. انہوں نے اللہ کی کچھ بھی قدر نہ کی بے شک اللہ زور والا غالب ہے
۷۵. فرشتوں اور آدمیوں میں سے اللہ ہی پیغام پہنچانے کے لیے چن لیتا ہے بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے
۷۶. وہ ان کے اگلے اور پچھلے حالات جانتا ہے اور سب کاموں کا مدار اللہ پر ہے
۷۷. اے ایمان والو رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرو اور بھلائی کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو
۷۸. اور اللہ کی راہ میں کوشش کرو جیسا کوشش کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں پسند کیا ہے اور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے اسی نے تمہارا نام پہلے سے مسلمان رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگوں پر گواہ بنو پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو مضبوط ہو کر پکڑو وہی تمہارا مولیٰ ہے پھر کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار ہے
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
سورۃ مُومنون
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱. بے شک ایمان والے کامیاب ہو گئے
۲. جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں
۳. اور جو بے ہودہ باتوں سے منہ موڑنے والے ہیں
۴. اور جو زکوٰۃ دینے والے ہیں
۵. اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں
۶. مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں پر اس لیے کہ ان میں کوئی الزام نہیں
۷. پس جو شخص اس کے علاوہ طلب گار ہو تو وہی حد سے نکلنے والے ہیں
۸. اور جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدہ کا لحاظ رکھنے والے ہیں
۹. اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں
۱۰. وہی وارث ہیں
۱۱. جو جنت الفردوس کے وارث ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے
۱۲. اور البتہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا
۱۳. پھر ہم نے حفاظت کی جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا
۱۴. پھر ہم نے نطفہ کا لوتھڑا بنایا پھر ہم نے لوتھڑے سے گوشت کی بوٹی بنائی پھر ہم نے اس بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت پہنایا پھر اسے ایک نئی صورت میں بنا دیا سو اللہ بڑی برکت والا سب سے بہتر بنانے والا ہے
۱۵. پھر تم اس کے بعد مرنے والے ہو
۱۶. پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے
۱۷. اور ہم ہی نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں اور ہم بنانے میں بے خبر نہ تھے
۱۸. اور ہم نے ایک اندازہ کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا پھر اسے زمین میں ٹھیرایا اور ہم اس کے لے جانے پر بھی قادر ہیں
۱۹. پھر ہم نے اس سے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ اگا دیے جن میں تمہارے بہت سے میوے ہیں اور انہی میں سے کھاتے ہو
۲۰. اور وہ درخت جو طور سینا سے نکلتا ہے جو کھانے والوں کے لیے روغن اور سالن لے کر اگتا ہے
۲۱. اور بے شک تمہارے لیے چار پایوں میں بھی عبرت ہے کہ ہم تمہیں ان کے پیٹ کی چیزوں میں سے پلاتے ہیں اور تمہارے لیے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے ہو
۲۲. اور ان پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو
۲۳. اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کے پاس بھیجا پھر اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں پھر تم کیوں نہیں ڈرتے
۲۴. سواس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ یہ بس تم ہی جیسا آدمی ہے تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو فرشتے بھیج دیتا ہم نے اپنے پہلے باب دادا سے یہ بات کبھی نہیں سنی
۲۵. یہ تو بس ایک دیوانہ آدمی ہے پس اس کا ایک وقت تک انتظار کرو
۲۶. کہا اے میرے رب تو میری مدد کر کیوں کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے
۲۷. پھر ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آ پہنچے اور تنور ابلنے لگے پس تو کشتی میں ہر چیز کا جوڑا نر مادہ اور اپنے گھر والوں کو بٹھا لے مگر ان میں سے وہ شخص جس کے لیے پہلے فیصلہ ہو چکا ہے اور ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے بات نہ کر بے شک وہ غرق کیے جائیں گے
۲۸. پھر جب تو اور جو تیرے ساتھ ہے کشتی پر چڑھ بیٹھو تو کہہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں ظالموں سے چھوڑایا
۲۹. اور کہہ اے میرے رب مجھے برکت کے ساتھ اتار اور تو بہتر اتارنے والا ہے
۳۰. اس واقعہ میں بہت سی نشانیاں ہیں بے شک ہم تو آزمائش کرنے والے تھے
۳۱. پھر ہم نے انکے بعد ایک دوسرا دور پیدا کیا
۳۲. پھر ان میں بھی انہیں میں سے ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں پھر تم کیوں نہیں ڈرتے
۳۳. اور اس کی قوم کے سرداروں نے کہا جنہوں نے کفر کیا تھا اور قیامت کی آمد کو جھٹلاتے تھے اور جنہیں ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا کہ یہ بس تمہیں جیسا آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو
۳۴. اور اگر تم نے اپنے جیسے آدمی کی فرمانبرداری کی تو بے شک تم گھاٹے میں پڑ گئے
۳۵. کیا تمہیں وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے
۳۶. بہت ہی بعید بہت ہی بعید بات ہے جو تم سے کہی جاتی ہے
۳۷. ہماری صرف یہی دنیا کی زندگی ہے مرتے اور جیتے ہیں اور ہم اٹھائے نہیں جائیں گے
۳۸. بس یہ ایک ایسا شخص ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے اور ہم اسے ماننے والے نہیں ہیں
۳۹. کہا اے میرے رب میری مدد کر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے
۴۰. فرمایا تھوڑی دیر کے بعد یہ خود نادم ہوں گے
۴۱. پھر انہیں ایک سخت آواز نے سچے وعدہ کا موافق آ پکڑا پھر ہم نے انہیں خس و خاشاک کر دیا پھر ظالموں پر اللہ کی پٹکار ہے
۴۲. پھر ہم نے ان کے بعد اور بہت سے دور پیدا کیے
۴۳. کوئی جماعت نہ اپنے وقت سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے
۴۴. پھر ہم اپنے رسول لگاتار بھیجتے رہے جب کوئی رسول اپنی قوم کے پاس آیا وہ اسے جھٹلاتی ہی رہی پھر ہم بھی ایک کے بعد دوسری کو ہلاک کرتے گئے اور ہم نے ان کو افسانے بنا دیے پھر ان لوگوں پر پھٹکار ہے جو ایمان نہیں لاتے
۴۵. پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلی سند دے کر
۴۶. فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا پھر انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے
۴۷. پھر کہا کیا ہم اپنے جیسے دو شخصوں پر ایمان لائیں جن کی قوم ہماری غلامی کر رہی ہو
۴۸. پھر ان دونوں کو جھٹلایا پھر ہلاک کر دیے گئے
۴۹. اور البتہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ ہدایت پائیں
۵۰. اور ہم نے مریم کے بیٹے اور اس کی ماں کو نشانی بنایا تھا اور انہیں ایک ٹیلہ پر جگہ دی جہاں ٹھیرے نے کا موقع اور پانی جاری تھا
۵۱. ا ے رسولو! ستھری چیزیں کھاؤ اور اچھے کام کرو بے شک میں جانتا ہوں جو تم کرتے ہو
۵۲. اور بے شک یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تم سب کا رب ہوں پس مجھ سے ڈرو
۵۳. پھر انہوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہر ایک جماعت اس ٹکڑے پو جو ان کے پاس ہے خوش ہونے والے ہیں
۵۴. پھر ایک وقت تک انہیں اپنے نشہ میں پڑا رہنے دو
۵۵. کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم انہیں مال اور اولاد میں ترقی دے رہے ہیں
۵۶. انہیں فائدہ پہچانے میں جلدی کر رہے ہیں بلکہ یہ نہیں سمجھتے
۵۷. بے شک جو اپنے رب کی ہیبت سے ڈرنے والے ہیں
۵۸. اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں
۵۹. اور جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے
۶۰. اور جو دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل اس سے ڈرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں
۶۱. یہی لوگ نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور وہی نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں
۶۲. اور ہم کسی پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو سچ بولے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
۶۳. بلکہ ان کے دل اس سے بے ہوشی میں پڑے ہوئے ہیں اور اس کے سوا ان کے اور بھی کام ہیں کہ جنہیں وہ کیا کرتے ہیں
۶۴. یہاں تک کہ جب ہم ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے فوراً وہ چلائیں گے
۶۵. آج کے دن مت چلاؤ بے شک تم ہم سے چھڑائے نہ جاؤ گے
۶۶. تمہیں میری آیتیں سنائی جاتی تھیں پھر تم ایڑیوں پر الٹے بھاگتے تھے
۶۷. غرور میں آ کر اسے کہانی سمجھ کر چلے جایا کرتے تھے
۶۸. کیا انہوں نے اس ارشاد میں غور ہی نہیں کیا یا ان کے پاس ایسی بات آئی ہے جو ان کے پہلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی
۶۹. یا یہ لوگ اپنے رسول کو پہچانتے نہیں تب یہ اس کے منکر ہیں
۷۰. یا کہتے ہیں کہ اسے جنون ہے بلکہ رسول ان کے پاس حق بات لے کر آیا ہے اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے ہیں
۷۱. اور اگر حق ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتا تو آسمان اور زمین میں اور جو کچھ ان میں ہے درہم برہم ہو گیا ہوتا بلکہ ہم نے تو ان کی نصیحت انہیں پہنچا دی ہے سو وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑنے والے ہیں
۷۲. کیا تو ان سے کچھ اجرت مانگتا ہے سو تیرے رب کی اجرت بہتر ہے اور وہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے
۷۳. اور بے شک تو انہیں سیدھے راستہ کی طرف بلاتا ہے
۷۴. اور جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے سیدھے راستہ سے ہٹنے والے ہیں
۷۵. اور اگر ہم ان پر رحم کر کے ان کی تکلیف کو دور کر دیں تو بھی وہ اپنی سرکشی میں گمراہ پڑے رہیں گے
۷۶. اور البتہ ہم نے انہیں عذاب میں مبتلا بھی کیا پھر بھی اپنے رب کے سامنے عاجزی نہ کی اور نہ گڑگڑائے
۷۷. یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھولا تو فوراً اس میں نا امید ہو گئے
۷۸. اور اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ہیں تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو
۷۹. اور اسی نے تمہیں زمین میں پھیلا رکھا ہے اور اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے
۸۰. اور وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور رات اور دن کا بدلنا اسی کی اختیار میں ہے سو کیا تم نہیں سمجھتے
۸۱. بلکہ وہی کہتے ہیں جو پہلے لوگ کہتے تھے
۸۲. کہتے ہیں کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے
۸۳. اس کا تو ہم سے اور اس سے پہلے اور ہمارے باپ دادا سے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یہ صرف اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
۸۴. ان سے پوچھو یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے کس کا ہے اگر تم جانتے ہو
۸۵. وہ فوراً کہیں گے اللہ کا ہے کہہ دو پھر تم کیوں نہیں سمجھتے
۸۶. ان سے پوچھو کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے
۸۷. وہ فوراً کہیں گے اللہ ہے کہہ دو کیا پھر تم اللہ سے نہیں ڈرتے
۸۸. ان سے پوچھو کہ ہر چیز کی حکومت کس کے ہاتھ میں ہے اور وہ بچا لیتا ہے اور اسے کوئی نہیں بچا سکتا اگر تم جانتے ہو
۸۹. وہ فوراً کہیں گے اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے کہہ دو پھر تم کیسے دیوانے ہو رہے ہو
۹۰. بلکہ ہم نے تو ان کے پاس حق بات پہنچا دی اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں
۹۱. اللہ نے کوئی بھی بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہی ہے اگر ہوتا تو ہر خدا اپنی بنائی ہوئی چیز کو الگ لے جاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کرتا اللہ پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں
۹۲. غائب اور حاضر سب کا جاننے والا ہے وہ بہت بلند ہے اس سے جسے یہ شریک بناتے ہیں
۹۳. کہہ دو اے میرے رب اگر تو مجھے دکھائے وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جا رہا ہے
۹۴. تو اے میرے رب مجھے ظالموں میں شامل نہ کر
۹۵. اور ہم اس پر قادر ہیں کہ تجھے دکھا دیں جو ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے
۹۶. بری بات کے جو اب میں وہ کہو جو بہتر ہے ہم خوب جانتے ہیں جو یہ بیان کرتے ہیں
۹۷. اور کہو اے میرے رب میں شیطانی خطرات سے تیری پناہ مانگتا ہوں
۹۸. اور اے میرے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ شیطان میرے پاس آئیں
۹۹. یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے گی تو کہے گا اے میرے رب مجھے پھر بھیج دے
۱۰۰. تاکہ جسے میں چھوڑ آیا ہوں اس میں نیک کام کر لوں ہر گز نہیں ایک بات ہی بات ہے جسے یہ کہہ رہا ہے اور ان کے آگے قیامت تک ایک پردہ پڑا ہوا ہے
۱۰۱. پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن ان میں نہ رشتہ داریاں رہیں گے اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا
۱۰۲. پھر جن کا پلہ بھاری ہوا تو وہی فلاح پائیں گے
۱۰۳. اور جن کا پلہ ہلکا ہو گا تو وہی یہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کیا ہمیشہ جہنم میں رہنے والے ہوں گے
۱۰۴. ان کے مونہوں کو آگ جھلس دے گی اور وہ اس میں بد شکل ہونے والے ہوں گے
۱۰۵. کیا تمہیں ہماری آیتیں نہیں سنائی جاتی تھیں پھر تم انہیں جھٹلاتے تھے
۱۰۶. کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر ہماری بدبختی غالب آ گئی تھی اور ہم لوگ گمراہ تھے
۱۰۷. اے رب ہمارے ہمیں اس سے نکال دے اگر پھر کریں تو بے شک ہم ظالم ہوں گے
۱۰۸. فرمائے گا اس میں پھٹکارے ہوئے پڑے رہو اور مجھ سے نہ بولو
۱۰۹. میرے بندوں میں سے ایک گروہ تھا جو کہتے تھے اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کرو اور تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے
۱۱۰. سو تم نے ان کی ہنسی اڑائی یہاں تک کہ انہوں نے تمہیں میری یاد بھی بھلا دی اور تم ان سے ہنسی ہی کرتے رہے
۱۱۱. آج میں نے انہیں ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہوئے
۱۱۲. فرمائے گا تم زمین پر گنتی کے کتنے برس رہے
۱۱۳. کہیں گے ایک دن یا اس سے بھی کم رہے ہیں پس آپ گنتی کرنے والوں سے پوچھ لیں
۱۱۴. فرمائے گا تم اس میں بہت نہیں تھوڑا ہی رہے ہو کاش کہ تم سمجھ لیتے
۱۱۵. سو کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں نکما پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آؤ گے
۱۱۶. سو اللہ بہت ہی عالیشان ہے جو حقیقی بادشاہ ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں عرش عظیم کا مالک ہے
۱۱۷. اور جس نے اللہ کے ساتھ اور معبود کو پکارا جس کی اس کے پاس کوئی سند نہیں تو اس کا حساب اسی کے رب کے ہاں ہو گا بے شک کافر نجات نہیں پائیں گے
۱۱۸. اور کہو اے میرے رب معاف کر اور رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
سورۃ نور
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱. یہ ایک سورت ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے احکام ہم نے ہی فرض کئے ہیں اور ہم نے اس میں صاف صاف آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم سمجھو
۲. بدکار عورت اور بدکار مرد سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو دُرّے مارو اور تمہیں اللہ کے معاملہ میں ان پر ذرا رحم نہ آنا چاہیئے اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو حاضر رہنا چاہیئے
۳. بدکار مرد سوائے بدکار عورت یا مشرکہ کے نکاح نہیں کرے گا اور بدکار عورت سے سوائے بد کار مرد یا مشرک کے اور کوئی نکاح نہیں کرے گا اور ایمان والوں پر یہ حرام کیا گیا ہے
۴. اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے تو انہیں اسّی درے مارو اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو اور وہی لوگ نافرمان ہیں
۵. مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کر لی اور درست ہو گئے تو بے شک اللہ ہی بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
۶. اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے لیے سوائے اپنے اور کوئی گواہ نہیں تو ایسے شخص کی گواہی کی یہ صورت ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ بے شک وہ سچا ہے
۷. اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہے
۸. اور عورت کی سزا کو یہ بات دور کر دے گی کہ اللہ کو گواہ کر کے چار مرتبہ یہ کہے کہ بے شک وہ سراسر جھوٹا ہے
۹. اور پانچویں مرتبہ کہے کہ بے شک اس پر اللہ کا غضب پڑے اگر وہ سچا ہے
۱۰. اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا حکمت والا ہے (تو کیا کچھ نہ ہوتا)
۱۱. بے شک جو لوگ یہ طوفان لائے ہیں تم ہی میں سے ایک گروہ ہے تم سے اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے ان میں سے ہر ایک کے لیے بقدرِ عمل گناہ ہے اور جس نے ان میں سے سب سے زیادہ حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے
۱۲. جب تم نے یہ بات سنی تھی تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنے لوگوں کے ساتھ نیک گمان کیوں نہ کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح بہتان ہے
۱۳. یہ لوگ اس پرچار گواہ کیوں نہ لائے پھر جب وہ گواہ نہ لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں
۱۴. اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور دنیا اور آخرت میں اس کی رحمت نہ ہوتی تو اس چرچا کرنے میں تم پر کوئی بڑی آفت پڑتی
۱۵. جب تم اسے اپنی زبانوں سے نکالنے لگے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہنی شروع کر دی جس کا تمہیں علم بھی نہ تھا اور تم نے اسے ہلکی بات سمجھ لیا تھا حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے
۱۶. اور جب تم نے اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں تو اس کا منہ سے نکالنا بھی لائق نہیں سبحان اللہ یہ بڑا بہتان ہے
۱۷. اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا اگر تم ایمان دار ہو
۱۸. اور اللہ تمہارے لیے آیتیں بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
۱۹. بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمانداروں میں بدکاری کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
۲۰. اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ نرمی کرنے والا مہربان ہے (تو کیا کچھ نہ ہوتا
۲۱. اے ایمان والو شیطان کے قدموں پر نہ چلو اور جو کوئی شیطان کے قدموں پر چلے گا سو وہ تو اسے بے حیائی اور بری باتیں ہی بتائے گا اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا اور لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے
۲۲. اور تم میں سے بزرگی اور کشائش والے اس بات پر قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو نہ دیا کریں گے اور انہیں معاف کرنا اور درگذر کرنا چاہیے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
۲۳. جو لوگ پاک دامنوں بے خبر ایمان والیوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے
۲۴. جس دن ان پر ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھے
۲۵. اس دن اللہ انہیں انصاف سے پوری جزا دے گا اور جان لیں گے بے شک اللہ ہی حق بیان کرنے والا ہے
۲۶. ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں وہ لوگ اس سے پاک ہیں جو یہ کہتے ہیں ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے
۲۷. اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور کسی کے گھروں میں نہ جایا کرو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کر لو یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو
۲۸. پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو اندر نہ جاؤ جب تک کہ تمہیں اجازت نہ دی جائے اور اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو اپس چلے جاؤ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ جانتا ہے
۲۹. تم پراس میں کوئی گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جہاں کوئی نہیں بستا ان میں تمہارا سامان ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو
۳۰. ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کو بھی محفوظ رکھیں یہ ان کے لیے بہت پاکیزہ ہے بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں
۳۱. اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہو جائے اور اے مسلمانو تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ
۳۲. اور جو تم میں مجرّد ہوں اور جو تمہارے غلام اور لونڈیاں نیک ہوں سب کے نکاح کرا دو اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا اور اللہ کشائش والا سب کچھ جاننے والا ہے
۳۳. اور چاہیے کہ پاک دامن رہیں وہ جو نکاح کی توفیق نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے اور تمہارے غلاموں میں سے جو لوگ مال دے کر آزادی کی تحریر چاہیں تو انہیں لکھ دو بشرطیکہ ان میں بہتری کے آثار پاؤ اور انہیں اللہ کے مال میں سے دو جو اس نے تمہیں دیا ہے اور تمہاری لونڈیاں جو پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدہ کی غرض سے زنا پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور ہونے کے بعد بخشنے والا مہربان ہے
۳۴. اور البتہ ہم نے تمہارے پاس روشن آیتیں بھیج دی ہیں اور جن میں تم سے پہلوں کے حالات ہیں اور جو پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہیں
۳۵. اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق میں چراغ ہو چراغ شیشے کی قندیل میں ہے قندیل گویا کہ موتی کی طرح چمکتا ہوا ستارا ہے زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے نہ مشرق کی طرف ہے اور نہ مغرب کی طرف اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہو جائے اگر چہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو روشنی ہے اللہ جسے چاہتا ہے اپنی روشنی کی راہ دکھاتا ہے اور اللہ کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے
۳۶. ان گھروں میں جن کی تعظیم کرنے اور ان میں اس کا نام یاد کرنے کا اللہ نے حکم دیا ان میں صبح اور شام اللہ کی تسبیح پڑھتے ہیں
۳۷. ایسے آدمی جنہیں سوداگری اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر اور نماز کے پڑھنے اور زکوٰۃ کے دینے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی
۳۸. تاکہ اللہ انہیں ان کے عمل کا اچھا بدلہ دے اور انہیں اپنے فضل سے اور بھی دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے
۳۹. اور جو کافر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے جنگل میں چمکتی ہوئی ریت ہو جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے اسے کچھ بھی نہیں پاتا اور اللہ ہی کو اپنے پاس پاتا ہے پھر اللہ نے اس کا حساب پورا کر دیا اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے
۴۰. یا جیسے گہرے دریا میں اندھیرے ہوں اس پر ایک لہر چڑھ آتی ہے اس پر ایک اور لہر ہے اس کے اوپر بادل ہے اوپر تلے بہت سے اندھیرے ہیں جب اپنا ہاتھ نکالے تو اسے کچھ بھی دیکھ نہ سکے اور جسے اللہ ہی نے نور نہ دیا ہو اس کے لیے کہیں نور نہیں ہے
۴۱. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کے رہنے والے اور پرند جو پر پھیلائے اڑتے ہیں سب اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں ہر ایک نے اپنی نماز اور تسبیح سمجھ رکھی ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں
۴۲. اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
۴۳. کیا تو نے نہیں دیکھا اللہ ہی بادل کو چلاتا ہے پھر اسے ملاتا ہے پھر اسے تہہ بر تہہ کرتا ہے پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے بیچ میں سے نکلتی ہے اور آسمان سے جو ان میں اولوں کے پہاڑ ہیں ان میں سے اولے برساتا ہے پھر انہیں جس پر چاہتا ہے گراتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھوں کو لے جائے
۴۴. اللہ ہی رات اور دن کو بدلتا ہے بے شک اس میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت ہے
۴۵. اور اللہ نے ہر جاندار کو پانی سے بنایا ہے سو بعض ان میں سے اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ان میں سے دو پاؤں پر چلتے ہیں اور اور بعض ان میں سے چار پاؤں پر چلتے ہیں اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے
۴۶. البتہ ہم نے کھلی کھلی آیتیں نازل کر دی ہیں اور اللہ جسے چاہے سیدھے راستہ پر چلاتا ہے
۴۷. اور کہتے ہیں ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ہم فرمانبردار ہو گئے پھر ایک گروہ ان میں سے اس کے بعد پھر جاتا ہے اور وہ لوگ مومن نہیں ہیں
۴۸. اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ ان میں فیصلہ کرے تب ہی ایک گروہ ان میں سے منہ موڑنے والے ہیں
۴۹. اور اگر انہیں حق پہنچتا ہو تو اس کی طرف گردن جھکائے آتے ہیں
۵۰. کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا شک میں پڑے ہیں یا ڈرتے ہیں اس سے کہ ان پر اللہ اور اس کا رسول ظلم کرے گا بلکہ وہی ظالم ہیں
۵۱. مومنوں کی بات تو یہی ہوتی ہے جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا اور وہی لوگ نجات پانے والے ہیں
۵۲. اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کی نافرمانی سے بچتا ہے بس وہی کامیاب ہونے والے ہیں
۵۳. اور اللہ کی پکی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آپ انہیں حکم دیں تو سب کچھ چھوڑ کر نکل جائیں کہہ دو قسمیں نہ کھاؤ دستور کے موافق فرمانبرداری چاہیئے بے شک اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو
۵۴. کہہ دو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اور تم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے
۵۵. اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے
۵۶. اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
۵۷. کافروں کی نسبت یہ خیال نہ کر کہ ملک میں عاجز کر دیں گے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہے
۵۸. اے ایمان والو تمہارے غلام اور تمہارے وہ لڑکے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تم سے ان تین وقتوں میں اجازت لے کر آیا کریں صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار دیتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد یہ تین وقت تمہارے پردوں کے ہیں ان کے بعد تم پر اور نہ ان پر کوئی الزام ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے پاس آنے جانے والے ہو اسی طرح اللہ تمہارے لیے آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
۵۹. اور جب تمہارے لڑکے بلوغ کو پہنچ جائیں انہیں بھی اجازت لے کر آنا چاہیے جس طرح کہ ان سے پہلے لوگ اجازت لے کر آتے ہیں اللہ اس طرح تمہارے لیے کھول کر احکام بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
۶۰. اور وہ بڑی بوڑھی عورتیں جو نکاح کی رغبت نہیں رکھتیں ان پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتار رکھیں بشرطیکہ زینت کا اظہار نہ کریں اور اس سے بھی بچیں تو ان کے لیے بہتر ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے
۶۱. اندھے پر اور لنگڑے پر اور بیمار پر اور خود تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپ کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے تم پر کوئی گناہ نہیں کہ مل کر کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ پھر جب گھروں میں داخل ہونا چاہو تو اپنے لوگوں سے سلام کیا کرو جو اللہ کی طرف سے مبارک اور عمدہ دعا ہے اسی طرح اللہ تمہارے لیے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
۶۲. مومن تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں اور جب وہ اس کے ساتھ کسی جمع ہونے کے کام میں ہوتے ہیں تو چلے نہیں جاتے جب تک اس سے اجازت نہ لیں جو لوگ تجھ سے اجازت لیتے ہیں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں پھر جب تجھ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت مانگیں تو ان میں سے جسے تو چاہے عزت دے اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کر اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
۶۳. رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کے بلانے جیسا نہ سمجھو اللہ انہیں جانتا ہے جو تم میں سے چھپ کر کھسک جاتے ہیں سو جو لوگ اللہ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس سے ڈرنا چاہیئے کہ ان پر کوئی آفت آئے یا ان پر کوئی دردناک عذاب نازل ہو جائے
۶۴. خبردار اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اسے معلوم ہے جس حال پر تم ہو اور جس دن اس کی طرف پھیر لائے جائیں گے تو انہیں بتائے گا جو کچھ وہ کرتے تھے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
سورۃ فرقان
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱. وہ بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ تمام جہان کے لیے ڈرانے والا ہو
۲. وہ جس کی آسمانوں اور زمین میں سلطنت ہے اور اس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ کوئی سلطنت میں اس کا شریک ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کر کے اندازہ پر قائم کر دیا
۳. اور انہوں نے اللہ کے سوا ایسے معبود بنا رکھے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے حالانکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں اور وہ اپنی ذات کے لیے نقصان اور نفع کے مالک نہیں اور موت اور زندگی اور دوبارہ اٹھنے کے بھی مالک نہیں
۴. اور کافر کہتے ہیں کہ یہ تو محض جھوٹ ہے جسے اس نے بنا لیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے پس وہ بڑے ظلم اور جھوٹ پر اتر آئے ہیں
۵. اور کہتے ہیں کہ پہلوں کی کہانیاں ہیں کہ جنہیں اس نے لکھ رکھا ہے پس وہی اس پر صبح اور شام پڑھی جاتی ہیں
۶. کہہ دو کہ اسے تو اس نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں جانتا ہے بے شک وہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
۷. اور کہتے ہیں اس رسول کو کیا ہو گیا کہ کھانا کھاتا اور بازاروں میں پھرتا ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ اس کے ساتھ وہ بھی ڈرانے والا ہوتا
۸. یا اس کے پاس کوئی خزانہ آ جاتا یا اس کے لیے باغ ہوتا جس میں سے کھاتا اور بے انصافوں نے کہا کہ تم تو بس ایک ایسے شخص کے تابع ہو گئے جس پر جادو کیا گیا ہے
۹. دیکھو تو تمہارے لیے کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں پس وہ ایسے گمراہ ہوئے کہ راستہ بھی نہیں پا سکتے
۱۰. بڑی برکت ہے اس کی جو چاہے تو تیرے لیے اس سے بہتر باغ بنا دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور تیرے لیے محل بنا دے
۱۱. بلکہ انہوں نے تو قیامت کو جھوٹ سمجھ لیا ہے اور ہم نے اس کے لیے آگ تیار کی ہے جو قیامت کو جھٹلاتا ہے
۱۲. جب وہ انہیں دور سے دیکھے گی تو اس کے جو ش و خروش کی آواز سنیں گے
۱۳. اور جب وہ اس کے کسی تنگ مکان میں جکڑ کر ڈال دیے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے
۱۴. آج ایک موت کو نہ پکارو اور بہت سی موتوں کو پکارو
۱۵. کہہ دو کیا بہتر ہے یا وہ بہشت جس کا پرہیز گاروں کے لیے وعدہ کیا گیا ہے جو ان کا بدلہ اور ٹھکانہ ہو گی
۱۶. وہاں انہیں جو چاہیں گے ملے گا وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ وعدہ تیرے رب کے ذمہ ہے جو قابل درخواست ہے
۱۷. اور جس دن انہیں اور ان کے معبودوں کو جمع کرے گا جنھیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے تو فرمائے گا کیا تم ہی نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ خود راستہ بھول گئے تھے
۱۸. کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ کب لایق تھا کہ تیرے سوا کسی اور کو کارساز بناتے لیکن تو نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو یہاں تک آسودگی دی تھی کہ وہ یاد کرنا بھول گئے اور یہ لوگ تباہ ہونے والے تھے
۱۹. سو تمہارے معبودوں نے تمہاری باتوں میں تمہیں جھٹلا دیا سو تم نہ تو ٹال سکتے ہو اور نہ مدد دے سکتے ہو اور جو تم میں سے ظلم کرے گا ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے
۲۰. اور ہم نے تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا کیا تم ثابت قدم رہتے ہو اور تیرا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے
۲۱. اور ان لوگوں نے کہا جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہ بھیجے گئے یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے البتہ انہوں نے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور بہت بڑی سرکشی کی ہے
۲۲. جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوشی نہیں ہو گی اور کہیں گے آڑ کر دی جائے
۲۳. اور جو عمل انہوں نے کیے تھے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے پھر انہیں اڑتی ہوئی خاک کر دیں گے
۲۴. اس دن بہشتیوں کا ٹھکانا بہتر ہو گا اور دوپہر کی آرام گاہ بھی عمدہ ہو گی
۲۵. اور جس دن آسمان بادل سے پھٹ جائے گا اور فرشتے بکثرت اتارے جائیں گے
۲۶. اس دن حقیقی حکومت رحمٰن ہی کی ہو گی اور وہ دن کافروں پر بڑا سخت ہو گا
۲۷. اور اس دن ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا کہے گا اے کاش میں بھی رسول کے ساتھ راہ چلتا
۲۸. ہائے میری شامت کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا
۲۹. اسی نے تو نصیحت کے آنے کے بعد مجھے بہکا دیا اور شیطان تو انسان کو رسوا کرنے والا ہی ہے
۳۰. اور رسول کہے گا اے میرے رب بے شک میری قوم نے اس قرآن کو نظر انداز کر رکھا تھا
۳۱. اور ہم اسی مجرموں کو ہر ایک نبی کا دشمن بناتے رہے ہیں اور ہدایت کرنے اور مدد کرنے کے لیے تیرا رب کافی ہے
۳۲. اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر یکبارگی قرآن کیوں نازل نہیں کیا گیا اسی طرح اتارا گیا تاکہ ہم اس سے تیرے دل کو اطمینان دیں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ سنایا
۳۳. اور جو انوکھی بات تیرے سامنے لائیں گے ہم بھی تمہیں اس کا بہت ٹھیک جو اب اور بہت عمدہ حل بتائیں
۳۴. جو لوگ مونہوں کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالیں جائیں گے یہی برے درجے والے ہیں اور بہت ہی بڑے گمراہ ہیں
۳۵. اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ہم نے اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر بنایا
۳۶. پھر ہم نے کہا تم دونو ان لوگوں کی طرف جاؤ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائی ہیں پھر ہم نے انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا
۳۷. اور نوح کی قوم کو بھی جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں غرق کر دیا اور ہم نے انہیں لوگوں کے لیے نشانی بنا دیا اور ہم نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیار کیا ہے
۳۸. اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں کو بھی اور بہت سے دور جو ان کے درمیان تھے
۳۹. اور ہم نے ہر ایک کو مثالیں دے کر سمجھایا تھا اور سب کو ہم نے ہلاک کر دیا
۴۰. اور یہ اس بستی پر بھی گزرے ہیں جس پر بری طرح پتھر برسائے گئے سو کیا یہ لوگ اسے دیکھتے نہیں رہتے بلکہ یہ لوگ مر کر زندہ ہونے کی امید ہی نہیں رکھتے
۴۱. اور جب یہ لوگ تمہیں دیکھتے ہیں تو بس تم سے مذاق کرنے لگتے ہیں کیا یہی ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا
۴۲. اس نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے ہٹا ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر قائم نہ رہتے اور انہیں جلدی معلوم ہو جائے گا جب عذاب دیکھیں گے کہ کون شخص گمراہ تھا
۴۳. کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنا خدا اپنی خواہشات نفسانی کو بنا رکھا ہے پھر کیا تو اس کا ذمہ دار ہو سکتا ہے
۴۴. یا تو خیال کرتا ہے کہ اکثر ان میں سے سنتے یا سمجھتے ہیں یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں
۴۵. کیا تو نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے سایہ کو کیسے پھیلایا ہے اور اگر چاہتا تو اسے ٹھہرا رکھتا پھر ہم نے سورج کو اس کا سبب بنا دیا ہے
۴۶. پھر ہم اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹتے ہیں
۴۷. اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو اوڑھنا اور نیند کو راحت بنا دیا اور دن چلنے پھرنے کے لیے بنایا
۴۸. اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری لانے والی ہوائیں چلاتا ہے اور ہم نے آسمان سے پاک پانی نازل فرمایا
۴۹. "تاکہ ہم اس سے مرے ہوئے شہر کو زندہ کریں اور اسے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں، چار پایوں اور بہت سے آدمیوں کو پلائیں"
۵۰. اور ہم نے اسے لوگوں میں بانٹ دیا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں پس بہت سے آدمی ناشکری کیے بغیر نہ رہے
۵۱. اور اگر ہم چاہتے تو ہر گاؤں میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے
۵۲. پس کافروں کا کہا نہ مان اس کے ساتھ بڑے زور سے ان کا مقابلہ کر
۵۳. اور وہی ہے جس نے دو دریاؤں کو آپس میں ملا دیا یہ میٹھا خوشگوار ہے اور یہ کھاری کڑوا ہے اور ان دونوں میں ایک پردہ اور مستحکم آڑ بنا دی
۵۴. اور وہی ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا پھر اس کے لیے رشتہ نسب اور دامادی قائم کیا اور تیرا رب ہر چیز پر قادر ہے
۵۵. اور وہ اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہیں جو انہیں نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور کافر اپنے رب کی طرف پیٹھ پھیرنے والا ہے
۵۶. اور ہم نے تمہیں محض خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے
۵۷. کہہ دو میں اس پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا مگر جو شخص اپنے رب کی طرف راستہ معلوم کرنا چاہے
۵۸. اور تم اس زندہ خدا پر بھروسہ رکھو جو کبھی نہ مرے گا اور اس کی تسبیح اور حمد کرتے رہو اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے
۵۹. جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے چھ دن میں بنایا پھر عرش پر قائم ہوا وہ رحمٰن ہے پس اس کی شان کسی خبردار سے پوچھو
۶۰. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا ہے کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو کہہ دے اور اس سے انہیں اور زیادہ نفرت ہوتی ہے
۶۱. بڑا برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں ستارے بنائے اور اس میں چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا
۶۲. اور وہی ہے جس نے رات اور دن یکے بعد دیگرے آنے والے بنائے یہ اس کے لیے ہے جو سمجھنا چاہے یا شکر کرنا چاہے
۶۳. اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر دبے پاؤں چلتے ہیں اور جب ان سے بے سمجھ لوگ بات کریں تو کہتے ہیں سلام ہے
۶۴. اور وہ لوگ جو اپنے رب کے سامنے سجدہ میں اور کھڑے ہو کر رات گزارتے ہیں
۶۵. اور وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم سے دوزخ کا عذاب دور کر دے بے شک اس کا عذاب پوری تباہی ہے
۶۶. بے شک وہ برا ٹھکانا اور بڑی قیام گاہ ہے
۶۷. اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ ان دونوں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے
۶۸. اور وہ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور اس شخص کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام کر دیا ہے اور زنا نہیں کرتے اور جس شخص نے یہ کیا وہ گناہ میں جا پڑا
۶۹. قیامت کے دن اسے دگنا عذاب ہو گا اس میں ذلیل ہو کر پڑا رہے گا
۷۰. مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیے سو انہیں اللہ برائیوں کی جگہ بھلائیاں بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے
۷۱. اور جس نے توبہ کی اور نیک کام کیے تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے
۷۲. اور جو بے ہودہ باتوں میں شامل نہیں ہوتے اور جب بیہودہ باتوں کے پاس سے گزریں تو شریفانہ طور سے گزرتے ہیں
۷۳. اور وہ لوگ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں سے سمجھایا جاتا ہے تو ان پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گرتے
۷۴. اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے
۷۵. یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلہ میں جنت کے بالا خانے دیے جائیں گے اور ان کا وہاں دعا اور سلام سے استقبال کیا جائے گا
۷۶. اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ٹھیرنے اور رہنے کی خوب جگہ ہے
۷۷. کہہ دو میرا رب تمہاری پروا نہیں کرتا اگر تم اسے نہ پکارو سو تم جھٹلا تو چکے ہو پھر اب تو اس کا وبال پڑ کر رہے گا
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
سورۃ شعرآ
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱. طسمۤ
۲. یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں
۳. شاید تو اپنی جان ہلاک کرنے والا ہے اس لیے کہ وہ ایمان نہیں لاتے
۴. اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے ایسی نشانی نازل کریں کہ اس کے آگے ان کی گردنیں جھک جائیں
۵. اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے کوئی نئی بات نصیحت کی ایسی نہیں آئی کہ وہ اس سے منہ نہ موڑ لیتے ہوں
۶. سو یہ جھٹلا تو چکے اب ان کے پاس اس چیز کی حقیقت آئے گی جس پر ٹھٹھا کیا کرتے تھے
۷. کیا وہ زمین کو نہیں دیکھتے ہم نے اس میں ہر ایک قسم کی کتنی عمدہ چیزیں اُگائی ہیں
۸. البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
۹. اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
۱۰. اور جب تیرے رب نے موسیٰ کو پکارا کہ اس ظالم قوم کے پاس جا
۱۱. فرعون کی قوم کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں
۱۲. عرض کی اے میرے رب میں ڈرتا ہوں کہ مجھے جھٹلا دیں
۱۳. اور میرا سینہ تنگ ہو جائے اور میری زبان نہ چلے پس ہارون کو پیغام دے
۱۴. اور میرے ذمہ ان کا ایک گناہ بھی ہے سو میں ڈرتا ہوں کہ مجھے مار نہ ڈالیں
۱۵. فرمایا ہر گز نہیں تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں
۱۶. سو فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم پروردگار عالم کا پیغام لے کر آئے ہیں
۱۷. یہ کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے
۱۸. کہا کیا ہم نے تمہیں بچپن میں پرورش نہیں کیا اور تو نے ہم میں اپنی عمر کے کئی سال گزارے
۱۹. اور تو اپنا وہ کرتوت کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں سے ہے
۲۰. کہا جب میں نے وہ کام کیا تھا تو میں بے خبر تھا
۲۱. پھر میں تم سے تمہارے ڈر کے مارے بھاگ گیا تب مجھے میرے رب نے دانائی عطا کی اور مجھے رسول بنایا
۲۲. اور یہ احسان جو تو مجھ پر رکھتا ہے اسی لیے تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے
۲۳. فرعون نے کہا رب العالمین کیا چیز ہے
۲۴. فرمایا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تمہیں یقین آئے
۲۵. اپنے گرد والوں سے کہا کیا تم سنتے نہیں ہو
۲۶. فرمایا تمہارا ور تمہارے پہلے باپ دادا کا رب ہے
۲۷. کہا بے شک تمہارا رسول جو تمہارے پاس بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے
۲۸. فرمایا مشرق مغرب اور جو ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تم عقل رکھتے ہو
۲۹. کہا اگر تو نے میرے سوا اور کوئی معبود بنایا تو تمہیں قید میں ڈال دوں گا
۳۰. فرمایا اگر چہ میں تیرے پاس ایک روشن چیز لے آؤں
۳۱. کہا اگر تو سچا ہے تو وہ چیز لا
۳۲. پھر اس نے اپنا عصا ڈال دیا سو اسی وقت وہ صریح اژدھا ہو گیا
۳۳. اور اپنا ہاتھ نکالا سو اسی وقت وہ دیکھنے والوں کو چمکتا ہوا دکھائی دیا
۳۴. اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ بے شک یہ بڑا ماہر جادوگر ہے
۳۵. چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے دیس سے اپنے جادو کے زور سے نکال دے پھر تم کیا رائے دیتے ہو
۳۶. کہا اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دو اور شہروں میں چپڑاسیوں کو بھیج دیجیئے
۳۷. کہ تیرے پاس بڑے ماہر جادوگروں کو لے آئیں
۳۸. پھر سب جادوگر ایک مقرر دن پر جمع کیے گئے
۳۹. اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم بھی اکھٹے ہوتے ہو
۴۰. تاکہ اگر جادوگر غالب آ جائیں تو ہم انہی کی راہ پر رہیں
۴۱. پھر جب جادوگر آئے تو فرعون سے کہا اگر ہم غالب آ گئے تو کیا ہمیں کوئی بڑا انعام ملے گا
۴۲. کہا ہاں اور بیشک تم اس وقت مقربوں میں داخل ہو جاؤ گے
۴۳. موسیٰ نے ان سے کہا ڈالو جو تم ڈالتے ہو
۴۴. پھر انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور کہا فرعون کے اقبال سے ہماری فتح ہے
۴۵. پھر موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا پھر وہ فوراً ہی نگلنے لگا جو انہوں نے جھوٹ بنایا تھا
۴۶. پھر جادوگر سجدے میں گر پڑے
۴۷. کہا ہم رب العالمین پر ایمان لائے
۴۸. جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے
۴۹. کہا کیا تم میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے بے شک وہ تمہارا استاد ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے سو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا البتہ میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا
۵۰. کہا کچھ حرج نہیں بے شک ہم اپنے رب کے پاس پہنچنے والا ہوں گے
۵۱. ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہوں کو معاف کر دے گا اس لیے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں
۵۲. اور ہم نے موسیٰ کو حکم بھیجا کہ میرے بندوں کو رات کو لے نکل البتہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا
۵۳. پھر فرعون نے شہروں میں چپڑاسی بھیجے
۵۴. کہ یہ ایک تھوڑی سی جماعت ہے
۵۵. اور انہوں نے ہمیں بہت غصہ دلایا ہے
۵۶. اور بے شک ہم سب ہتھیار بند ہیں
۵۷. پھر ہم نے انہیں باغوں اور چشموں سے نکال باہر کیا
۵۸. اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے
۵۹. اسی طرح ہوا اور ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنایا
۶۰. پھر سورج نکلنے کے وقت ان کے پیچھے پڑے
۶۱. پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے
۶۲. کہا ہرگز نہیں میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے راہ بتائے گا
۶۳. پھر ہم نے موسیٰ کو حکم بھیجا کہ اپنی لاٹھی کو دریا پر مار پھر پھٹ گیا پھر ہر ٹکڑا بڑے ٹیلے کی طرح ہو گیا
۶۴. اور ہم نے اس جگہ دوسروں کو پہنچا دیا
۶۵. اور ہم نے موسیٰ کی اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو نجات دی
۶۶. پھر ہم نے دوسروں کو غرق کر دیا
۶۷. البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
۶۸. اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
۶۹. اور انہیں ابراہیم کی خبر سنا دے
۷۰. جب اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تم کس کو پوجتے ہو
۷۱. کہنے لگے ہم بتوں کو پوجتے ہیں پھر انہی کے گرد رہا کرتے ہیں
۷۲. کہا کیا وہ تمہاری بات سنتے ہیں جب تم پکارتے ہو
۷۳. یا تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں
۷۴. کہنے لگے بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا کرتے پایا ہے
۷۵. کہا کیا تمہیں خبر ہے جنہیں تم پوجتے ہو
۷۶. تم اور تمہارے پہلے باپ دادا جنہیں پوجتے تھے
۷۷. سو وہ سوائے رب العالمین کے میرے دشمن ہیں
۷۸. جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی مجھے راہ دکھاتا ہے
۷۹. اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے
۸۰. اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے
۸۱. اور وہ جو مجھے مارے گا پھر زندہ کرے گا
۸۲. اور وہ جو مجھے امید ہے کہ میرے گناہ قیامت کے دن مجھے بخش دے گا
۸۳. اے میرے رب مجھے کمال علم عطا فرما اور مجھے نیکیوں کے ساتھ شامل کر
۸۴. اور آئندہ آنے والی نسلوں میں میرا ذکر خیر باقی رکھ
۸۵. اور مجھے نعمت کے باغ کے وارثوں میں کر دے
۸۶. اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے تھا
۸۷. اور مجھے ذلیل نہ کر جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے
۸۸. جس دن مال اور اولاد نفع نہیں دے گی
۸۹. مگر جو اللہ کے پاس پاک دل لے کر آیا
۹۰. اور پرہیز گاروں کے لیے جنت قریب لائی جائے گی
۹۱. اور دوزخ سرکشوں کے لیے ظاہر کی جائے گی
۹۲. اور انہیں کہا جائے گا کہاں ہیں جنہیں تم پوجتے تھے
۹۳. اللہ کے سوا کیا وہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں یا بدلہ لے سکتے ہیں
۹۴. پھر وہ اور سب گمراہ اس میں اوندھے ڈال دیے جائیں گے
۹۵. اور شیطان کے سارے لشکروں کو بھی
۹۶. اور وہ وہاں آپس میں جھگڑتے ہوئے کہیں گے
۹۷. اللہ کی قسم بیشک ہم صریح گمراہی میں تھے
۹۸. جب ہم تمہیں رب العالمین کے برابر کیا کرتے تھے
۹۹. اور ہمیں ان بدکاروں کے سوا کسی نے گمراہ نہیں کیا
۱۰۰. پھر کوئی ہماری سفارش کرنے والا نہیں
۱۰۱. اور نہ کوئی مخلص دوست ہے
۱۰۲. پھر اگر ہمیں دوبارہ جانا ملے تو ہم ایمان والوں میں شامل ہوں
۱۰۳. البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
۱۰۴. اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
۱۰۵. نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا
۱۰۶. جب ان کے بھائی نوح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں
۱۰۷. میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں
۱۰۸. پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۱۰۹. اور میں تم سے اس پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے
۱۱۰. سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۱۱۱. انہوں نے کہا کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں حالانکہ تیرے تابع تو کمینے لوگ ہوئے ہیں
۱۱۲. کہا اور مجھے کیا خبر کہ وہ کیا کرتے تھے
۱۱۳. ان کا حساب تو میرے رب ہی کے ذمہ ہے کاش کہ تم سمجھتے
۱۱۴. اور میں ایمان والوں کو دور کرنے والا نہیں ہوں
۱۱۵. میں تو بس کھول کر ڈرانے والا ہوں
۱۱۶. کہنے لگے اے نوح اگر تو باز نہ آیا تو ضرور سنگسار کیا جائے گا
۱۱۷. کہا اے میرے رب میری قوم نے مجھے جھٹلایا ہے
۱۱۸. پس تو میرے اور ان کے درمیان فیصلہ ہی کر دے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ایمان والے ہیں نجات دے
۱۱۹. پھر ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ بھری کشتی میں تھے بچا لیا
۱۲۰. پھر ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا
۱۲۱. البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
۱۲۲. اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
۱۲۳. قوم عاد نے پیغمبروں کو جھٹلایا
۱۲۴. جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے
۱۲۵. البتہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں
۱۲۶. پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۱۲۷. اور میں تم سے ا سپر کوئی مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے
۱۲۸. کیا تم ہر اونچی زمین پر کھیلنے کے لیے ایک نشان بناتے ہو
۱۲۹. اور بڑے بڑے محل بناتے ہو شاید کہ تم ہمیشہ رہو گے
۱۳۰. اور جب ہاتھ ڈالتے ہو تو بڑی سختی سے پکڑتے ہو
۱۳۱. پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۱۳۲. اور اس سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی ہے جنہیں تم بھی جانتے ہو
۱۳۳. چار پایوں اور اولاد سے
۱۳۴. اور باغوں اور چشموں سے تمہیں مدد دی
۱۳۵. میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
۱۳۶. کہنے لگے تو نصیحت کر یا نہ کر ہمارے لیے سب برابر ہے
۱۳۷. یہ تو بس پہلے لوگوں کی ایک عادت ہے
۱۳۸. اور ہمیں عذاب نہیں ہو گا
۱۳۹. پھر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا تب ہم نے انہیں ہلاک کر دیا البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں
۱۴۰. اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
۱۴۱. قوم ثمود نے پیغمبروں کو جھٹلایا
۱۴۲. جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں
۱۴۳. میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں
۱۴۴. پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۱۴۵. اور میں تم سے اسپر کوئی مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے
۱۴۶. کیا تمہیں ان چیزوں میں یہاں بے فکری سے رہنے دیا جائے گا
۱۴۷. یعنی باغوں اور چشموں میں
۱۴۸. اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کا خوشہ ملائم ہے
۱۴۹. اور تم پہاڑوں کو تراش کر تکلف کے گھر بناتے ہو
۱۵۰. پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۱۵۱. اور ان حد سے نکلنے والوں کا کہا مت مانو
۱۵۲. جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے
۱۵۳. کہنے لگے تم پر تو کسی نے جادو کیا ہے
۱۵۴. تو بھی ہم جیسا ایک آدمی ہے سو کوئی نشانی لے آ اگر تو سچا ہے
۱۵۵. کہا یہ اونٹنی ہے اس کے پینے کا ایک دن ہے اور یک دن معین تمہارے پینے کے لیے ہے
۱۵۶. اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمہیں بڑے دن کا عذاب آ پکڑے گا
۱۵۷. سو انہوں نے اس کے پاؤں کاٹ ڈالے پھر پشیمان ہوئے
۱۵۸. پھر انہیں عذاب نے آ پکڑا البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
۱۵۹. اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
۱۶۰. لوط کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا
۱۶۱. جب انہیں ان کے بھائی لوط نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں
۱۶۲. میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں
۱۶۳. پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۱۶۴. اور میں تم سے اس پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے
۱۶۵. کیا تم دنیا کے لوگوں میں لڑکوں پر گرے پڑتے ہو
۱۶۶. اور تمہارے رب نے جو تمہارے لیے بیویاں پیدا کر دی ہیں انہیں چھوڑ دیتے ہو بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو
۱۶۷. کہنے لگے اے لوط اگر تو ان باتوں سے باز نہ آیا تو ضرور تو نکال دیا جائے گا
۱۶۸. کہا میں تو تمہارے کام سے سخت بیزار ہوں
۱۶۹. اے میرے رب مجھے اور میرے گھر والوں کو اس کے وبال سے نجات دے جو وہ کرتے ہیں
۱۷۰. پھر ہم نے اسے اور اس کے سارے کنبے کو بچا لیا
۱۷۱. مگر ایک بڑھیا جو پیچھے رہ گئی تھی
۱۷۲. پھر ہم نے اور سب کو ہلاک کر دیا
۱۷۳. اور ہم نے ان پر مینہ برسایا پھر ڈرائے ہوؤں پر بُرا مینہ برسا
۱۷۴. البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
۱۷۵. اور بیشک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
۱۷۶. بن والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
۱۷۷. جب ان سے شعیب نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں
۱۷۸. میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں
۱۷۹. پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۱۸۰. اور میں تم سے اس پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے
۱۸۱. پیمانہ پورا دو اور نقصان دینے والے نہ بنو
۱۸۲. اور صحیح ترازو سے تولا کرو
۱۸۳. اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو اور ملک میں فساد مچاتے نہ پھرو
۱۸۴. اور اس سے ڈرو جس نے تمہیں اور پہلی خلقت کو بنایا
۱۸۵. کہنے لگے کہ تم پر تو کسی نے جادو کر دیا
۱۸۶. اور تو بھی ہم جیسا ایک آدمی ہے اور ہمارے خیال میں تو تو جھوٹا ہے
۱۸۷. سو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے اگر تو سچا ہے
۱۸۸. کہا میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
۱۸۹. پھر اسے جھٹلایا پھر انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا
۱۹۰. البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں
۱۹۱. اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے
۱۹۲. اور یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے
۱۹۳. اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے
۱۹۴. تیرے دل پر تاکہ تو ڈرانے والوں میں سے ہو
۱۹۵. صاف عربی زبان میں
۱۹۶. اور البتہ اس کی خبر پہلوں کی کتابوں میں بھی ہے
۱۹۷. کیا ان کے لیے نشانی کافی نہیں کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں
۱۹۸. اور اگر ہم اسے کسی عجمی پر نازل کرتے
۱۹۹. پھر وہ اسے ان کے سامنے پڑھتا تو بھی ایمان نہ لاتے
۲۰۰. اسی طرح ہم نے اس انکار کو گناہگاروں کے دل میں ڈال رکھا ہے
۲۰۱. وہ دردناک عذاب دیکھے بغیر اس پر ایمان نہیں لائیں گے
۲۰۲. پھر وہ ان پر اچانک آئے گا اور انہیں خبر بھی نہ ہو گی
۲۰۳. پھر کہیں گے کیا ہمیں مہلت مل سکتی ہے
۲۰۴. کیا ہمارے عذاب کو جلد چاہتے ہیں
۲۰۵. بھلا دیکھ اگر ہم انہیں چند سال فائدہ اٹھانے دیں
۲۰۶. پھر ان کے پاس وہ عذاب آئے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں
۲۰۷. تو جو انہوں نے فائدہ اٹھایا ہے کیا ان کے کچھ کام بھی آئے گا
۲۰۸. اور ہم نے ایسی کوئی بستی ہلاک نہیں کی جس کے لیے ڈرانے والے نہ آئے ہوں
۲۰۹. نصیحت دینے کے لیے اور ہم ظالم نہیں تھے
۲۱۰. اور قرآن کو شیطان لے کر نہیں نازل ہوئے
۲۱۱. اور نہ یہ ان کا کام ہے اور نہ وہ اسے کر سکتے ہیں
۲۱۲. وہ تو سننے کی جگہ سے بھی دور کر دیے گئے ہیں
۲۱۳. سو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار ورنہ تو بھی عذاب میں مبتلا ہو جائے گا
۲۱۴. اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈرا
۲۱۵. اور جو ایمان لانے والے تیرے ساتھ ہیں ان کے لیے اپنا بازو جھکائے رکھ
۲۱۶. پھر اگر تیری نافرمانی کریں تو کہہ دے میں تمہارے کام سے بیزار ہوں
۲۱۷. اور زبردست رحم والے پر بھروسہ کر
۲۱۸. جو تجھے دیکھتا ہے جب تو اٹھتا ہے
۲۱۹. اور نمازیوں میں تیری نشست و برخاست دیکھتا ہے
۲۲۰. بیشک وہ سننے والا جاننے والا ہے
۲۲۱. کیا میں تمہیں بتاؤں شیطان کس پر اترتے ہیں
۲۲۲. ہر جھوٹے گناہگار پر اترتے ہیں
۲۲۳. وہ سنی ہوئی باتیں پہنچاتے ہیں اور اکثر ان میں سے جھوٹے ہوتے ہیں
۲۲۴. اور شاعروں کی پیروی تو گمراہ ہی کرتے ہیں
۲۲۵. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر میدان میں بھٹکتے پھرتے ہیں
۲۲۶. اور جو وہ کہتے ہیں کرتے نہیں
۲۲۷. مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کیا اور مظلوم ہونے کے بعد بدلہ لیا اور ظالموں کو ابھی معلوم ہو جائے گا کہ کس کروٹ پر پڑتے ہیں
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
سورۃ نمل
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱. طس یہ آیتیں قرآن کی اور کتاب روشن کی ہیں
۲. ایمان داروں کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہے
۳. جو نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں
۴. البتہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کے لیے اچھے کر دکھائے ہیں پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں
۵. وہی ہیں جنہیں برا عذاب ہونا ہے اور وہ آخرت میں بڑے ہی خسارہ میں ہوں گے
۶. اور تجھے بڑے حکمت والے علم والے کی طرف سے قرآن دیا جا رہا ہے
۷. جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے میں ابھی وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لاتا ہوں یا کوئی انگارا سلگا کر لاتا ہوں تاکہ تم سینکو
۸. پھر جب موسیٰ وہاں آئے تو آواز آئی کہ جو آگ میں اور اس کے پاس ہے وہ با برکت ہے اور اللہ پاک ہے جو تمام جہان کا رب ہے
۹. اے موسیٰ وہ میں اللہ ہوں زبردست حکمت والا
۱۰. اور اپنی لاٹھی ڈال دے پھر جب اسے دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح چل رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اے موسیٰ ڈرو مت کیونکہ میرے حضور میں رسول ڈرا نہیں کرتے
۱۱. مگر جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا ہو تو میں بخشنے والا مہربان ہوں
۱۲. اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال دے وہ سفید بے عیب نکلے گا یہ دونوں ملا کر نو نشانیاں فرعون اور اس کی قوم کی طرف لے کر جا کیونکہ وہ بدکار لوگ ہیں
۱۳. پھر جب ان کے پاس آنکھیں کھولنے والی ہماری نشانیاں آئیں تو کہنے لگے یہ تو صاف جادو ہے
۱۴. اور انہوں نے انکا ظلم اور تکبر سے انکار کرد یا حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے پھر دیکھ مفسدوں کا انجام کیسا ہوا
۱۵. اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم دیا اور کہنے لگے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے ایمان دار بندوں پر فضیلت دی
۱۶. اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا اور کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر قسم کے سازو سامان دیے گئے ہیں بے شک یہ صریح فضیلت ہے
۱۷. اور سلیمان کے پاس اس کے لشکر جن اور انسان اور پرندے جمع کیے جاتے پھر انکی جماعتیں بنائی جاتیں
۱۸. یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان پر پہنچے ایک چینوٹی نے کہا اے چیونٹیو اپنے گھروں میں گھس جاؤ تمہیں سلیمان اور اس کی فوجیں نہ پیس ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو
۱۹. پھر اس کی بات سے مسکرا کر ہنس پڑا اور کہا اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیرے احسان کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا اور یہ کہ میں نیک کام کروں جو تو پسند کرے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل کر لے
۲۰. اور پرندوں کی حاضری لی تو کہا کیا بات ہے جو میں ہُد ہُد کو نہیں دیکھتا کیا وہ غیر حاضر ہے
۲۱. میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر دوں گا یا وہ میرے پاس کوئی صاف دلیل بیان کرے
۲۲. پھر تھوڑی دیر کے بعد ہُدہُد حاضر ہوا اور کہا کہ میں حضور کے پاس وہ خبر لایا ہوں جو حضور کو معلوم نہیں اور سبا سے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں
۲۳. میں نے ایک عورت کو پایا جو ان پر بادشاہی کرتی ہے اور اسے ہر چیز دی گئی ہے اور اس کا بڑا تخت ہے
۲۴. میں نے پایا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے سوا سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو انہیں آراستہ کر دکھایا ہے اور انہیں راستہ سے روک دیا ہے سو وہ راہ پر نہیں چلتے
۲۵. اللہ ہی کو کیوں نہ سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے اور جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو سب کو جانتا ہے
۲۶. اللہ ہی ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے
۲۷. کہا ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تو سچ کہتا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے
۲۸. میرا یہ خط لے جا اور ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے ہاں سے واپس آ جا پھر دیکھ وہ کیا جو اب دیتے ہیں
۲۹. کہنے لگی اے دربار والو میرے پاس ایک معزز خط ڈالا گیا ہے
۳۰. وہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے
۳۱. میرے سامنے تکبر نہ کرو اور میرے پاس مطیع ہو کر چلی آؤ
۳۲. کہنے لگی اے دربار والو مجھے میرے کام میں مشورہ دو میں کوئی بات تمہارے حاضر ہوئے بغیر طے نہیں کر تی
۳۳. کہنے لگے ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں اور کام تیرے اختیار میں ہے سو دیکھ لے جو حکم دینا ہے
۳۴. کہنے لگی بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے خراب کر دیتے ہیں اور وہاں کے سرداروں کو بے عزت کرتے ہیں اور ایسا ہی کریں گے
۳۵. اور میں ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ ایلچی کیا جو اب لے کر آتے ہیں
۳۶. پھر جب سلیمان کے پاس آیا فرمایا کیا تم میری مال سے مدد کرنا چاہتے ہو سو جو کچھ مجھے اللہ نے دیا ہے اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے بلکہ تم ہی اپنے تحفہ سے خوش رہو
۳۷. ان کی طرف واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر پہنچیں گے جن کا وہ مقابلہ نہ کر سکیں گے اور ہم انہیں وہاں سے ذلیل کر کے نکال دیں گے
۳۸. کہا اے دربار والو تم میں کوئی ہے کہ میرے پاس اس کا تخت لے آئے اس سے پہلے کہ وہ میرے پاس فرمانبردار ہو کر آئیں
۳۹. جنوں میں سے ایک دیو نے کہا میں تمہیں وہ لا دیتا ہوں اس سے پہلے کہ تو اپنی جگہ سے اٹھے اور میں اس کے لیے طاقتور امانت دار ہوں
۴۰. اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا میں اسے تیری آنکھ جھپکنے سے پہلے لا دیتا ہوں پھر جب اسے اپنے روبرو رکھا دیکھا تو کہنے لگا یہ میرے رب کا ایک فضل ہے تاکہ میری آزمائش کرے کیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو شخص شکر کرتا ہے اپنے ہی نفع کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بھی بے پرواہ عزت والا ہے
۴۱. کہا اس کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو ہم دیکھیں کیا اسے پتہ لگتا ہے یا انہیں میں ہوتی ہے جنہیں پتہ نہیں لگتا
۴۲. پھر جب آئی کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے کہنے لگی گویا کہ یہ وہی ہے اور ہمیں تو پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا اور ہم فرمانبردار ہو چکے ہیں
۴۳. اور اسے ان چیزوں سے روک دیا جنہیں اللہ کے سوا پوجتی تھی بے شک وہ کافروں میں سے تھی
۴۴. اسے کہا گیا اس محل میں داخل ہو پھر جب اسے دیکھا خیال کیا کہ وہ گہرا پانی ہے اور اپنی پنڈلیاں کھولیں کہا یہ تو ایسا محل ہے جس میں شیشے جڑے ہوئے ہیں کہنے لگی اے میرے رب میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ کی فرمانبردار ہوئی جو سارے جہاں کا رب ہے
۴۵. اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو پھر وہ دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے
۴۶. کہا اے میری قوم بھلائی سے پہلے برائی کو کیوں جلدی مانگتے ہو اللہ سے گناہ کیوں نہیں بخشواتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے
۴۷. کہنے لگے ہمیں تو تجھ سے اور تیرے ساتھیوں سے نحوست معلوم ہوئی کہا تہاری نحوست اللہ کی طرف سے ہے بلکہ تم لوگ آزمائش میں ڈالے گئے ہو
۴۸. اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے
۴۹. کہنے لگے آپس میں اللہ کی قسم کھاؤ کہ صالح اور اس کے گھر والوں پر شبخوں ماریں پھر اس کے وارث سے کہہ دیں ہم تو اس کے کنبہ کی ہلاکت کے وقت موجود ہی نہ تھے اور بے شک ہم سچے ہیں
۵۰. اور انہوں نے ایک داؤ کیا اور ہم نے بھی ایسا داؤ کیا کہ انہیں خبر بھی نہ ہوئی
۵۱. پھر دیکھو ان کے داؤ کا کیا انجام ہوا کہ ہم نے انہیں اور ان کی ساری قوم کو ہلاک کر دیا
۵۲. سو یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے سبب سے ویران پڑے ہیں بے شک اس میں دانشمندوں کے لیے عبرت ہے
۵۳. اور ہم نے ایمان اور تقویٰ والوں کو نجات دی
۵۴. اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم کو کہا کیا تم بے حیائی کرتے ہو حالانکہ تم سمجھ دار ہو
۵۵. کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں پر خواہش کر کے آتے ہو بلکہ تم لوگ جاہل ہو
۵۶. پھر اس کی قوم کا اور کوئی جو اب نہ تھا سوائے اس کے کہ یہ کہا لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بڑے پاک بنتے ہیں
۵۷. پھر ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے بچا لیا ہم اس کو پیچھے رہنے والوں میں ٹھہرا چکے تھے
۵۸. اور ہم نے ان پر مینہ برسایا پھر ڈرائے ہوؤں کا مینہ برا تھا
۵۹. کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہے بھلا اللہ بہتر ہے یا جنہیں وہ شریک بناتے ہیں
۶۰. بھلا کس نے آسمان اور زمین بنائے اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتار پھر ہم نے اس سے رونق والے باغ اگائے تمہارا کام نہ تھا کہ ان کے درخت اگاتے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے بلکہ یہ لوگ کجروی کر رہے ہیں
۶۱. بھلا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ کس نے بنایا اور اس میں ندیاں جاری کیں اور زمین کے لنگر بنائے اور دو دریاؤں میں پردہ رکھا کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے بلکہ اکثر ان میں بے سمجھ ہیں
۶۲. بھلا کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے اور برائی کو دور کرتا ہے اور تمہیں زمین میں نائب بناتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے تم بہت ہی کم سمجھتے ہو
۶۳. بھلا کون ہے جو تمہیں جنگل اور دریا کے اندھیروں میں راستہ بتاتا ہے اور اپنی رحمت سے پہلے کون خوشخبری کی ہوائیں چلاتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اللہ ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے
۶۴. بھلا کون ہے جو از سرِ نو خلقت کو پیدا کرتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا اور کون ہے وہ جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے کہہ دے اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو
۶۵. کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی غیب کی بات نہیں جانتا اور انہیں اس کی بھی خبر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے
۶۶. بلکہ آخرت کے معاملے میں تو ان کی سمجھ گئی گزری ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں بلکہ وہ اس سے اندھے ہی ہیں
۶۷. اور کافر کہتے ہیں کہ کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو گئے کیا ہم زمین سے نکالے جائیں گے
۶۸. اس کا تو ہم سے اور ہمارے پہلے باپ دادا سے وعدہ ہوتا آیا ہے یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں
۶۹. کہہ دے تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ گناہگاروں کا کیا انجام ہوا
۷۰. اور ان پر غم نہ کر اور ان کے فریب کرنے سے تنگ دل نہ ہو
۷۱. اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو
۷۲. کہہ دے شاید بعض وہ چیزیں جن کی تم جلدی کرتے ہو تمہاری پیٹھ کے پیچھے آ لگی ہوں
۷۳. اور بے شک تیرا رب تو لوگوں پر فضل کرتا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے
۷۴. اور بے شک تیرا رب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں
۷۵. اور آسمان اور زمین میں ایسی کوئی پوشیدہ بات نہیں جو روشن کتاب میں نہ ہو
۷۶. بے شک یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں کو ظاہر کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں
۷۷. اور بے شک وہ ایمانداروں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
۷۸. بے شک تیرا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ کرے گا اور وہ غالب علم والا ہے
۷۹. سو اللہ پر بھروسہ کر بے شک تو صریح حق پر ہے
۸۰. البتہ تو مردوں کو نہیں سنا سکتا اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹیں
۸۱. اور نہ تو اندھوں کو ان کی گمراہی دور کر کے ہدایت کر سکتا ہے تو ان ہی کو سنا سکتا ہے جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں سو وہی مان بھی لیتے ہیں
۸۲. اور جب ان پر وعدہ پورا ہو گا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں لاتے تھے
۸۳. اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے پھر ان کی جماعت بندی ہو گی
۸۴. یہاں تک کہ جب سب حاضر ہوں گے کہے گا کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا حالانکہ تم انہیں سمجھے بھی نہ تھے یا کیا کرتے رہے ہو
۸۵. اور ان کے ظلم سے ان پر الزام قائم ہو جائے گا پھر وہ بول بھی نہ سکیں گے
۸۶. کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات بنائی تاکہ اس میں چین حاصل کریں اور دیکھنے کو دن بنایا البتہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں
۸۷. اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو جو کوئی آسمان میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے سب ہی گھبرائیں گے مگر جسے اللہ چاہے اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے
۸۸. اور تو جو پہاڑوں کو جمے ہوئے دیکھ رہا ہے یہ تو بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے اس اللہ کی کاریگری سے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنا رکھا ہے اسے خبر ہے جو تم کرتے ہو
۸۹. جو نیکی لائے گا سو اسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے بھی امن میں ہوں گے
۹۰. اور جو برائی لائے گا سو ان کے منہ آگ میں اوندھے ڈالے جائیں گے تمہیں وہی بدلہ مل رہا ہے جو تم کرتے تھے
۹۱. مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اس شہر کے مالک کی بندگی کروں جس نے اسے عزت دی ہے اور ہر ایک چیز اسی کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں
۹۲. اور یہ بھی کہ قرآن سنا دوں پھر جو کوئی راہ پر آ گیا تو وہ اپنے بھلے کو راہ پر آتا ہے اور جو گمراہ ہوا تو کہہ دو میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ہوں
۹۳. اور کہہ دو سب تعریف اللہ کے لیے ہے تمہیں عنقریب اپنی نشانیاں دکھا دے گا پھر انہیں پہچان لو گے اور تیرا رب اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
سورۃ قصص
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱. طسم
۲. یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں
۳. ہم تجھے ایمان داروں کے فائدے کے لیے موسیٰ اور فرعون کا کچھ صحیح حال سناتے ہیں
۴. بے شک فرعون زمین پر سرکش ہو گیا تھا اور وہاں کے لوگوں کے کئی گروہ کر دیئے تھے ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کر رکھا تھا ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا بے شک وہ مفسدوں میں سے تھا
۵. اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں
۶. اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطر کرتے تھے
۷. اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو حکم بھیجا کہ اسے دودھ پلا پھر جب تجھے اس کا خوف ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر بے شک ہم اسے تیرے پاس واپس پہنچا دیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنانے والے ہیں
۸. پھر اسے فرعون کے گھر والوں نے اٹھا لیا تاکہ بالآخر وہ ان کا دشمن اور غم کا باعث بنے بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے
۹. اور فرعون کی عورت نے کہا یہ تو میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو شاید ہمارے کام آئے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں اور انہیں کچھ خبر نہ تھی
۱۰. اور صبح کو موسیٰ کی ماں کا دل بے قرار ہو گیا قریب تھی کہ بے قراری ظاہر کر دے اگر ہم اس کے دل کو صبر نہ دیتے تاکہ اسے ہمارے وعدے کا یقین رہے
۱۱. اور اس کی بہن سے کہا اس کے پیچھے چلی جا پھر اسے اجنبی ہو کر دیکھتی رہی اور انہیں خبر نہ ہوئی
۱۲. اور ہم نے پہلے سے اس پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا پھر بولی میں تمہیں ایسے گھر والے بتاؤں جو اس کی تمہارے لیے پرورش کریں اور وہ اس کے خیر خواہ ہوں
۱۳. پھر ہم نے اسے اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے
۱۴. اور جب اپنی جو انی کو پہنچا اور پورا توانا ہوا تو ہم نے اسے حکمت اور علم دیا اور ہم نیکوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
۱۵. اور شہر میں لوگوں کی بے خبری کے وقت داخل ہوا پھر وہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا یہ ایک اس کی جماعت کا تھا اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے تھا پھر اس نے جو اس کی جماعت کا تھا اپنے دشمن پر اس سے مدد چاہی تب موسیٰ نے اس پر مکا مارا پس اس کا کام تمام کر دیا کہا یہ تو شیطانی حرکت ہے بے شک وہ کھلا دشمن اور گمراہ کرنے والا ہے
۱۶. کہا اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا سو مجھے بخش دے پھر اسے بخش دیا بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے
۱۷. کہا اے میرے رب! جیسا تو نے مجھ پر فضل کیا ہے پھر میں گناہگاروں کا کبھی مددگار نہیں ہوں گا
۱۸. پھر شہر میں ڈرتا انتظار کرتا ہوا صبح کو گیا پھر وہی شخص جس نے کل اس سے مدد مانگی تھی اسے پکار رہا ہے موسیٰ نے اس سے کہا کہ بے شک تو صریح گمراہ ہے
۱۹. پھر جب ارادہ کیا کہ اس پر ہاتھ ڈالے جو ان دونوں کا دشمن تھا کہا اے موسیٰ! کیا تو چاہتا ہے کہ مجھے مار ڈالے جیسا تو نے کل ایک آدمی کو مار ڈالا ہے تو یہی چاہتا ہے کہ ملک میں زبردستی کرتا پھرے اور تو نہیں چاہتا کہ اصلاح کرنے والوں میں سے ہو
۲۰. اور شہر کے پرلے سرے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہا اے موسیٰ! دریا والے ترے متعلق مشورہ کرتے ہیں کہ تجھ کو مار ڈالیں سو نکل بے شک میں تیرا بھلا چاہنے والا ہوں
۲۱. پھر وہاں سے ڈرتا انتظار کرتا ہوا نکلا کہا اے میرے رب! مجھے ظالم قوم سے بچا لے
۲۲. اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہا امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتا دے گا
۲۳. اور جب مدین کے پانی پر پہنچا وہاں لوگوں کی ایک جماعت کو پانی پلاتے ہوئے پایا اور ان سے ورے دو عورتوں کو پایا جو اپنے جانور روکے ہوئے کھڑی تھیں کہا تمہارا کیا حال ہے بولیں جب تک چروا ہے نہیں ہٹ جاتے ہم نہیں پلاتیں اور ہمارا باپ بوڑھا بڑی عمر کا ہے
۲۴. پھر ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سایہ کی طرف ہٹ کر آیا کہ اے میرے رب تو میری طرف جو اچھی چیز اتارے میں اس کا محتاج ہوں
۲۵. پھر ان دونوں میں سے ایک اس کے پاس شرم سے چلتی ہوئی آئی کہا میرے باپ نے تمہیں بلایا ہے کہ تمہیں پلائی کی اجرت دے پھر جب اس کے پاس پہنچا اور اس کے تمام حال بیان کیا کہا خوف نہ کر تو اس بے انصاف قوم سے بچ آیا ہے
۲۶. ان دونوں میں سے ایک بولی اے باپ! اسے نوکر رکھ لے بے شک بہتر نوکر جسے تو رکھنا چاہے وہ ہے جو زور آور امانت دار ہو
۲۷. کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا تجھ سے نکاح کر دوں اس شرط پر کہ تو آٹھ برس تک میری نوکری کرے پھر اگر تو دس پورے کر دے تو تیری طرف سے احسان ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تجھے تکلیف میں ڈالوں اگر اللہ نے چاہا تو مجھے نیک بختوں سے پائے گا
۲۸. کہا میرے اور تیرے درمیان یہ وعدہ ہو چکا ان دونوں مدتوں میں سے جونسی پوری کر دوں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو اور اللہ ہمارے قول پر گواہ ہے
۲۹. پھر جب موسیٰ وہ مدت پوری کر چکا اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلا کوہِ طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی اپنے گھر والوں سے کہا ٹھیرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید تمہارے پاس وہاں کی کچھ خبر یا آگ کا انگارہ لے آؤں تاکہ تم سینکو
۳۰. پھر جب اس کے پاس پہنچا تو میدان کے داہنے کنارے سے برکت والی جگہ میں ایک درخت سے آواز آئی کہ اے موسیٰ! میں اللہ جہان کا رب ہوں
۳۱. اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دے پھر جب اسے دیکھا کہ سانپ کی طرح لہرا رہا ہے تو منہ پھیر کر الٹا بھاگا اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اے موسیٰ! سامنے آ اور ڈر نہیں بے شک تو امن والوں سے ہے
۳۲. اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال وہ بغیر کسی عیب کے چمکتا ہوا نکلے گا اور رفع خوف کے لیے اپنا بازو اپنی طرف ملا سو تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں کے لیے یہ دو سندیں ہیں بے شک وہ نافرمان لوگ ہیں
۳۳. کہا اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے پس میں ڈرتا ہوں کہ مجھے مار ڈالیں گے
۳۴. اور میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ رواں ہے اسے میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ میری تصدیق کرے کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے
۳۵. فرمایا ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی سے مضبوط کر دیں گے اور تمہیں غلبہ دیں گے پھر وہ تم تک پہنچ نہیں سکیں گے ہماری نشانیوں کے سبب سے تم اور تمہارے تابعدار غالب رہیں گے
۳۶. پھر جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو محض ایک بنایا ہوا جادو ہے اور ہم نے اسے اپنے پہلے باپ دادا سے سنا ہی نہیں ہے
۳۷. اور موسیٰ نے کہا میرا رب خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا گھر ہے بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے
۳۸. اور فرعون نے کہا اے سردارو! میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا اور کوئی معبود ہے پس اے ہامان! تو میرے لیے گارا پکوا پھر میرے لیے ایک بلند محل بنوا کہ میں موسیٰ کے خدا کو جھانکوں اور بے شک میں اسے جھوٹا سمجھتا ہوں
۳۹. اور اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین پر ناحق تکبر کیا اور خیال کیا کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے
۴۰. پھر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا پھر انہیں دریا میں پھینک دیا سو دیکھ لو ظالموں کا کیا انجام ہوا
۴۱. اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا وہ دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن انہیں مدد نہیں ملے گی
۴۲. اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور وہ قیامت کے دن بھی بدحالوں میں ہوں گے
۴۳. اور ہم نے موسیٰ کو پہلی امتوں کے ہلاک کرنے کے بعد کتاب دی تھی جو لوگوں کے لیے بینائی اور ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ سمجھیں
۴۴. اور تم غربی جانب نہیں تھے جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم بھیجا اور نہ اس واقعہ کو دیکھنے والے تھے
۴۵. لیکن ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں پھر ان پر مدت دراز گزاری اور تو مدین والوں میں نہیں رہتا تھا کہ انہیں ہماری آیتیں سناتا لیکن ہم رسول بھیجتے رہے
۴۶. اور تو طور کے کنارے پر نہ تھا جب ہم نے آواز دی لیکن تیرے رب کا یہ انعام ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
۴۷. اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان کے اپنے ہی اعمال کے سبب سے ان پر مصیبت نازل ہو جائے پھر کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہمارے پاس رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم تیرے حکموں کی تابعداری کرتے اور ایمان والوں میں ہوتے
۴۸. پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آ پہنچا تو کہنے لگے کیوں نہیں دیا گیا جیسا موسی کو دیا گیا تھا کیا انہوں نے اس چیز کا انکار نہیں کیا تھا جو موسیٰ کو اس سے پہلے دی گئی تھی کہنے لگے دونوں جادو گر آپس میں موافق ہیں اور کہا ہم کسی کو بھی نہیں مانتے
۴۹. کہہ دو پس اللہ کے ہاں سے کوئی ایسی کتاب لاؤ جو ان دونوں سے ہدایت میں بڑھ کر ہو کہ میں اس پر چلوں اگر تم سچے ہو
۵۰. پھر اگر تمہارا کہنا نہ مانیں تو جان لو کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کے تابع ہیں اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو اللہ کی ہدایت چھوڑ کر اپنی خواہشوں پر چلتا ہو بے شک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا
۵۱. اور البتہ ہم ان کے پاس ہدایت بھیجتے رہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
۵۲. جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں
۵۳. اور جب ان پر پڑھا جاتا ہے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے ہمارے رب کی طرف سے یہ حق ہے ہم تو اسے پہلے ہی مانتے تھے
۵۴. یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کی وجہ سے دگنا بدلہ ملے گا اور بھلائی سے برائی کو دور کرتے ہیں اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
۵۵. اور جب بے ہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لے ہمارے اعمال تمہارے لیے تمہارے اعمال تم پر سلام ہو ہم بے سمجھوں کو نہیں چاہتے
۵۶. بے شک تو ہدایت نہیں کر سکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے
۵۷. اور کہتے ہیں اگر ہم تیرے ساتھ ہدایت پر چلیں تو اپنے ملک سے اچک لیے جائیں کیا ہم نے انہیں حرم میں جگہ نہیں دی جو امن کا مقام ہے جہاں ہر قسم کے میووں کا رزق ہماری طرف سے پہنچایا جاتا ہے لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے
۵۸. اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنے سامان عیش پر نازاں تھے سو یہ ان کے گھر ہیں کہ ان کے بعد آباد نہیں ہوئے مگر بہت کم اور ہم ہی وارث ہوئے
۵۹. اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک ان کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں
۶۰. اور جو چیز تمہیں دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے جو چیز اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے کیا تم نہیں سمجھتے
۶۱. پھر کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو سو وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کے برابر ہے جسے ہم نے دنیا کی زندگی کا فائدہ دیا پھر وہ قیامت کے دن پکڑا ہوا آئے گا
۶۲. اور جس دن انہیں پکارے گا پھر کہے گا میرے شریک کہاں ہیں جن کا تم دعوی کرتے تھے
۶۳. جن پر الزام قائم ہو گا وہ کہیں گے اے رب ہمارے ! وہ یہی ہیں جنہیں ہم نے بہکایا تھا انہیں ہم نے گمراہ کیا تھا جیسا کہ ہم گمراہ تھے ہم تیرے رو برو بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے
۶۴. اور کہا جائے گا اپنے شریکوں کو پکارو پھر انہیں پکاریں گے تو وہ انہیں جو اب نہ دیں گے اور عذاب دیکھیں گے کاش یہ لوگ ہدایت پر ہوتے
۶۵. اور جس دن انہیں پکارے گا پھر کہے گا تم نے پیغام پہچانے والوں کو کیا جو اب دیا تھا
۶۶. پھر اس دن انہیں کوئی بات نہیں سوجھے گی پھر وہ آپس میں بھی نہیں پوچھ سکیں گے
۶۷. پھر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے سو امید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں سے ہو گا
۶۸. اور تیرا رب جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہے پسند کرے انہیں کوئی اختیار نہیں ہے اللہ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے
۶۹. اور تیرا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں
۷۰. اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور اسی کی حکومت ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے
۷۱. کہہ دو بھلا یہ تو بتاؤ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک رات ہی رہنے دے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے روشنی لائے کیا تم سنتے نہیں ہو
۷۲. کہہ دو بھلا یہ تو بتاؤ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک دن ہی رہنے دے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے رات لائے جس میں آرام پاؤ کیا تم دیکھتے نہیں ہو
۷۳. اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام پاؤ اور اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو
۷۴. اور جس دن انہیں پکارے گا پھر کہے گا وہ کہاں ہیں جنہیں تم میرا شریک سمجھتے تھے
۷۵. اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکال کر لائیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تب جان لیں گے کہ سچی بات اللہ ہی کی تھی اور جو جھوٹ بنایا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا
۷۶. بے شک قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا پھر ان پر اکڑنے لگا اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیے تھے کہ اس کی کنجیاں ایک طاقت ور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا اِترا مت بے شک اللہ اِترانے والوں کو پسند نہیں کرتا
۷۷. اور جو کچھ تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر حاصل کر اور اپنا حصہ دنیا میں سے نہ بھول اور بھلائی کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
۷۸. کہا یہ تو مجھے ایک ہنر سے ملا ہے جو میرے پاس ہے کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی امتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمیعت میں زیادہ تھیں ہلاک کر ڈالی ہیں اور گناہگاروں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا
۷۹. اپنی قوم کے سامنے اپنے ٹھاٹھ سے نکلا جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے اے کاش ہمارے لیے بھی ویسا ہوتا جیسا کہ قارون کو دیا گیا ہے بے شک وہ بڑے نصیب والا ہے
۸۰. اور علم والوں نے کہا تم پر افسوس ہے اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لایا اور نیک کام کیا مگر صبر کرنے والوں سوا نہیں ملا کرتا
۸۱. پھر ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا پھر اس کی ایسی کوئی جماعت نہ تھی جو اسے اللہ سے بچا لیتی اور نہ وہ خود بچ سکا
۸۲. اور وہ لوگ جو کل اس کے مرتبہ کی تمنا کرتے تھے آج صبح کو کہنے لگے کہ ہائے شامت! اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے اگر ہم پر اللہ کا احسان نہ ہوتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا ہائے ! کافر نجات نہیں پا سکتے
۸۳. یہ آخرت کا گھر ہم انہیں کو دیتے ہیں جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور نیک انجام تو پرہیز گاروں ہی کا ہے
۸۴. جو بھلائی لے کر آیا اسے اس سے بہتر ملے گا اور جو برائی لے کر آیا پس برائیاں کرنے والوں کو وہی سزا ملے گی جو کچھ وہ کرتے تھے
۸۵. جس نے تم پر قرآن فرض کیا وہ تمہیں لوٹنے کی جگہ پھیر لائے گا کہہ دو میرا رب خوب جانتا ہے کہ ہدایت کون لے کر آیا ہے اور کون صریح گمراہی میں پڑا ہوا ہے
۸۶. اور تمہیں امید نہ تھی کہ تم پر کتاب اتاری جائے گی مگر تمہارے رب کی مہربانی ہوئی پھر تم کافروں کی طرفداری نہ کرنا
۸۷. اور وہ تمہیں اللہ کی آیتوں سے بعد اس کے کہ تم پر نازل ہو چکی ہیں روک نہ دیں اور اپنے رب کی طرف بلا اور مشرکوں میں ہر گز شامل نہ ہو
۸۸. اور اللہ کے ساتھ اور کسی معبود کو نہ پکار اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے
 
Top