• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تصوف اور اس کی حقیقت

شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
تصوف کے نتائج
تصوف کے نتائج میں سے ایک اہم نتیجہ ترک جہاد ہے ۔حالانکہ اصلی بات یہ ہے جو کہ حسن البنائؒ نے فرمائی :
’’الجہاد فی الحیاۃ و الحیاۃ فی الجہاد‘‘
خود ساختہ درود وظائف میں مشغولیت کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ یہ لوگ جہاد سے بالکل ہی غافل ہو گئے۔کسی کوٹھڑی میں بیٹھ کر ضربیں لگانے کو ہی جہاد قرار دے لیا۔بلکہ اس کے لیے روایات بھی گھڑیں جن میں کفار سے لڑائی نفس سے جہاد کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ہمارے ملک میں تبلیغی جماعت کفار سے جہاد کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ان حضرات نے بہت سے حیلے ایجاد کیے ہوئے ہوئے ہیں۔کبھی کہتے ہیں جس کا کلمہ اور نمازہی درست نہیں اس کے جہاد کا کیا فائدہ؟کبھی کہتے ہیں صحابہ کے ایمان جیسا ایمان حاصل کرو پھر کفار سے جہاد کرو۔حالانکہ کلمہ اور نماز بھی میدان جنگ میں زیادہ درست ہوتے ہیں اور ایمان بھی وہاں زیادہ پختہ ہوتا ہے۔ غرض ان حضرات کی ان پالیسیوں کی وجہ سے تمام دنیا کے کفار ان سے خوش ہیں۔انہیں ہر ملک میں اپنا دین تصوف پھیلانے کی آزادی ہے کیونکہ کفار کو معلوم ہے کہ مسلمان دین تصوف میں الجھ جائیں تو لڑنے کے قابل نہیں رہتے۔تصوف سے اسلام کو جونقصان پہنچا اس کی تفصیل بہت طویل ہے۔
آج پاکستان کے اعتدال پسند حکمران بھی اس روش پر گامزن ہیں،مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو مانند کرنے اور اسلام کو کفر کے سامنے سرنگوں کرنے کے لیے صوفی ازم کے نام سے ملک بھر میں کانفرنسز منعقد کروا رہے ہیں تا کہ غیر ملکی آقاؤں کو خوش رکھتے ہوئے اپنی کرسی مضبوط کی جائے۔رہا اسلام تو اس سے رسمی تعلق ہی کافی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے تمام افراد اور گروہ سے محفوظ فرمائے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
مصادر ومراجع

٭ قرآن مجید
٭ اسلام میں بدعت وضلالت کے محرکات،ابو عدنان سہیل،ڈاکٹر،دار الداعی للنشر والتوزیع،ریاض، طبع اول ۱۴۲۱ھ
٭ اسلامی تصوف میں غیر اسلامی ظنظریات کی آمیزش،یوسف سلیم چشتی،پروفیسر،مرکزی انجمن خدام القرآن،لاہور
٭اصطلاحات صوفیہ
٭ تجدید تصوف سلوک،عبدالباری،مکتبہ اشرفیہ،اشرف المدارس،یوپی
٭ التصوف منشورہ ومصطلحاتہ،اسعد السحمرانی،ڈاکٹر،دارالنفائس،بیروت،طبع اول
٭ التعرف لمذہب اہل التصوف،
٭ الرسالہ القشیریہ،للقشیری،دارالکتب الحدیثیہ،قاہرہ،طبع
٭ الصوفیہ معتقدا ومسکلا،صابر تعیمہ،ڈاکٹر،مکتبہ دار عالم الکتب،ریاض،طبع اول ۱۹۸۵ء
٭ الطبقات الکبریٰ للشعرانی،مکتبہ التوفقیہ،قاہرہ
٭ اللمع ،ابی نصر السراج الطوسی،دارالکتب الحدیثیہ،مصر،۱۳۸۰ھ
٭ المدرسہ الشاذلیہ الحدیثیہ،عبدالکریم محمود،ڈاکٹر،دارالکتب الحدیثیہ،قاہرہ،طبع
٭ تاریخ تصوف اسلام،رئیس احمد جعفری،کتاب منزل،لاہور،طبع اول ۱۹۵۰ء
٭ تاریخ طبری،دار الکتب العلمیہ،بیروت،طبع اول۱۴۷۰ھ
٭ تجدید تصوف وسلوک،عبدالباری،کتب خانہ الفرقان،گوئن روڈ،لکھنوؤ،طبع اول
٭ تصوف اسلام،عبدالماجد دریا آبادی،مولانا،ادارۂ اسلامیات ،لاہور،طبع سوم
٭ تصوف کی پہچان،نقی احمد ندوی،دارالداعی للنشر والتوزیع،ریاض،طبع اول ۲۰۰۲ء
٭ تلبیس ابلیس،ابن جوزیؒ،دارالکتب العلمیہ،بیروت
٭ جامع الاصول فی الاولیائ،کمشخانکی
٭ جامع العلوم والحکم،ابن رجب جنبلی،مکتبہ دار ابن الجوزی،السعودیہ،طبع اول ۱۹۹۵ء
٭ حلیۃ الاولیائ،ابی نعیم،الاصفہانی،طبع بیروت،لبنان
٭ در ء تعارض العقل والنقل،ابن تیمیہؒ،طبع جامعہ امام محمد بن سعود،۱۴۰۱ھ
٭ سیر اعلام النبلائ،امام ذہبی،تحقیق شعیب الارناؤط
٭ شریعت وطریقت،عبدالرحمن کیلانی،مولانا،مکتبہ السلام ،لاہور،طبع چہارم ۲۰۰۰ء
٭ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ وآراؤ ہ الصوفیۃ،سعید القحطانی،ڈاکٹر،ریاض،طبع اول ۱۹۹۷ء
٭ صحیح بخاری،دارالسلام ،ریاض،طبع اول۱۹۹۷ء
٭ صحیح مسلم،بیت الافکار الدولیہ،بیروت،طبع اول
٭ طبقات الحنابلہ،طبع بیروت،لبنان
٭ علم تصوف،عباد الاختر خواجہ،ادارہ ثقافت اسلامیہ،لاہور،طبع ۱۹۵۱ء
٭ فتح القدیر،شوکانی،دار الوفا،منصورہ،مصر،طبع دوم ۱۹۹۷ء
٭ فتوحات مکیہ،ابن عربی،دار الصادر ،بیروت
٭ فصوص الحکم،ابن عربی،طبع حلبی
٭ قرآن اور تصوف،میر ولی الدین،ڈاکٹر،مکتبہ پروگریسو بکس،لاہور،طبع اول ۱۹۷۹ء
٭ لسان العرب،ابن منظور افریقی،موسسہ تاریخ العربی،بیروت
٭ ماہنامہ مجلہ البیان،لندن
٭ ماہنامہ محدث،لاہور
٭ مجلہ البحوث الاسلامیہ،دارالافتاء ،ریاض
٭ مجموع فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ،طبع ریاض،سعودی عرب
٭ مجموعۃ الرسائل والمسائل ،ابن تیمیہؒ
٭ مختار الصحاح ،امام رازیؒ،مکتبہ العصریہ،بیروت،طبع اول ۱۹۹۶ء
٭ مدارج السالکین،ابن قیمؒ،دارالکتاب العربی،بیروت،طبع دوم ۱۹۷۳ء
٭ مسند احمد،بیت الافکار الدولیہ،ریاض،طبع اول
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
جزاکم اللہ خیرا
 

qureshi

رکن
شمولیت
جنوری 08، 2012
پیغامات
233
ری ایکشن اسکور
392
پوائنٹ
88
تصوف کیا ہے ،ایک غیر صوفی کیلئے اس علم کے متعلق جاننا بہت مشکل ہے،اسلئے آج تک تصوف پر جو بھی تنقید کی گئی ہے،وہ تنقید برائے تنقید سے آگے بڑھ نہ سکی،کیونکہ اندھا کیا جانے رات اوردن کا فرق،بس یہ مکا لمہ بھی اتنی ہی کہچھ حثیت رکھتا ہے،ان بے چاروں کو اتنا بھی نہیں پتا کہ تبلیغی جماعت کا تصوف کیساتھ کوئی تعلق نہیں ،صرف انکے ہاتھ میں جو کتاب ہے وہ ایک صوفی لکھی ہوئی ہے ۔تصوف کی تاریح تو جاننا تو بڑے دور کی بات اگر ناظم خاص برصغیر کی تاریخ بھی جانتے ہوتے تو کبھی بھی اسطرح نہ لکھتے کہ تصوف جہاد سے روکتا ہے،باقی جو تصوف امریکہ میں یا مشرف سکھا رہا تھا صوفی کونسل بنی تھی اگر آپ کے نزدیک وہ تصوف تو ہم آپ سے اتفاق کرتے ہیں، مگر آپ کبھی تصوف کی حقیقت جاننے کی کوشش کریں یہ کتابوں سے نہیں بلکہ کسی ولی کامل کی صحبت سے نصیب ہوتا ہے،وہعے علماء اہلحدیث میں حضرت مولنا داود غزنوی رحمہ اللہ جماعت اہلحدیث کو ان الفاظ میں تصوف کی طرف رغبت دلاتے ہیں۔۔۔۔فرماتے ہیں
ارواح ثلاثہ’’ ہی میں لکھا ہے کہ سید احمد شہید رحمہ اللہ کی موجودگی میں شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ تقریر نہ کرتے تھے، خاموش بیٹھے رہتے کہ میرے شیخ رحمہ اللہ بیٹھے ہیں، ان کی موجودگی میں کیا کہوں؟ ببعض لوگوں نے حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کی کتاب ‘‘تقویۃ الایمان’’ ہی پڑھی ہے، کبھی صراط مستقیم بھی دیکھو، کبھی عبقات بھی پڑھو، وہ تو بہت لطیف آدمی تھے، وہ تجلیات سے آگاہ، وہ انوار سے آگاہ، وہ سلوک کے مقامات سے آگاہ، اللہ کی محبت اور معرفت کے تمام رموز سے واقف، ان کی شخصیت میں توحید وادب یکجا ہوگئے تھے
مرے خیال میں ناظم خاص صاحب نے کبھی صراط مستقیم اور عبقات کا نام بھی نہ سنا ہو گا ورن اس طرح تصوف پر تبصرے نہ کرتے کہ جو جی میں آیا لکھ دیا میں دور حاضرہ کہ عظیم صوفی مجاہد مولنا مسعود اظہر صاحب کا ایک مکالمہ آپکی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں کہ شاید
تیرے دل میں اتر جائے میری بات
للہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ہر طرح کے ظاہری اور باطنی فتنوں سے اپنی امان نصیب فرمائے. آج بہت عجیب موضوع ہے . تصوف اور جہاد. ان دونوں میں نہ تو کوئی ٹکراؤ ہے اور اور نہ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کا قائم مقام ہے. یعنی ایسا نہیں کہ تصوف میں آ گئے تو جہاد سے چھٹی. اور جہاد میں چلے گئے تو اب اصلاح نفس سے چھٹی. ان دونوں میں باہمی تضاد بھی نہیں کہ. جہاد، تصوف کا مخالف ہو. یا تصوف، جہاد کا. دونوں ضروری کام ہیں. اور دونوں کا میدان الگ الگ ہے. تزکیہ نفس اور تصحیح نیت ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے. خواہ وہ مجاہد ہو یا نہ ہو. اور جہاد اسلام کا مستقل اور محکم فریضہ ہے. کوئی تصوف کے کسی اعلی ترین مقام پر پہنچ کر بھی اس مقام کی وجہ سے جہاد سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا.ہاں یہ دونوں کام ایک دوسرے کے معاون ضرور ہیں. نفس کا تزکیہ ہو جائے اور وہ پاک صاف ہو جائے تو وہ جلد جہاد کی طرف لپکتا ہے. اور جہاد فی سبیل اللہ میں شرکت سے تزکیہ نفس کا اعلی مقام نصیب ہوتا ہے. کیونکہ جہاد ہی سب سے بڑا زہد ہے اور سب سے بڑی مشقت. جان کو قربانی کے لئے پیش کرنا. اور جنگ کے میدان میں اترنا کوئی آسان کام نہیں.ان دونوں کے درمیان بعض مطابقات اور موافقات بھی ہیں. مثلاً.
﴿۱﴾ دونوں کام مشکل ہیں. جہاد بھی اور تزکیہ نفس بھی. مگر دونوں بے حد ضروری ہیں
﴿۲﴾ دونوں میں کامیابی کے لئے ذکر اللہ کی کثرت کا حکم ہے. ذکر اللہ کی کثرت تزکیہ نفس کے لئے بھی ضروری ہے. اور جہاد میں کامیابی کے لئے بھی.
فاذکرو اللہ کثیر العلکم تفلحون
﴿۳﴾ دونوں کام مقام عشق سے تعلق رکھتے ہیں. اللہ تعالیٰ سے سچا عشق ہو تو تزکیہ کا اعلیٰ مقام نصیب ہوتا ہے. اور اللہ تعالیٰ سے سچی محبت اور عشق ہو تو جہاد میں اعلی کامیابی ملتی ہے.
﴿۴﴾ دونوں میں اپنی ’’ فنا‘‘ . کے ذریعے ’’ بقا ‘‘کا حصول ہے. نفس کی خواہشات کو فنا کیا جائے تو محبت الہی نصیب ہوتی ہے. اور اپنی جان کو فنا کیا جائے تو مقام صدیقیت اور شہادت نصیب ہوتا ہے. یعنی خود کو مٹانا. اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر. یہ ان دونوں کا حاصل ہے.
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روزہ اور نماز دو الگ الگ فرائض ہیں. روزے دار کو نماز معاف نہیں اور نمازی کو رمضان المبارک کے روزے معاف نہیں. اسی طرح نماز، روزے کا قائم مقام نہیں اور روزہ، نماز کا قائم مقام نہیں. اس طرح نماز اور روزے کا آپس میں کوئی تضاد بھی نہیں. نماز مستقل فریضہ ہے، اور روزہ مستقل فریضہ. ہاں دونوں کے درمیان. کئی مطابقات اورموافقات ہیں. تھوڑا سا غور کریں آپ کو خود نظر آ جائیں گے. اسی طرح یہ دونوں ایک دوسرے کے معاون بھی ہیں. نمازی کے لئے روزہ آسان ہوتا ہے. اور روزے دار کی نماز زیادہ جاندار ہوتی ہے. بس اسی طرح جہاد. اور تصوف کو لیں.
ایک میں تزکیہ نفس اور اصلاح نیت کا فریضہ ہے. اور دوسرے میں قتال فی سبیل اللہ کا محکم فریضہ ہے. تو پھر اس موضوع . یعنی ’’تصوف اور جہاد ‘‘ کا مطلب کیا ہے؟.جواب یہ ہے کہ. واقعی اس موضوع کا کوئی درست مطلب نہیں نکلتا. مگر ایک فتنہ آ گیا اور اس کی وجہ سے یہ موضوع تراشنا پرا. یہ فتنہ دراصل دشمنان اسلام نے مسلمانوں کے درمیان بھڑکانے کی بہت زوردار محنت کی ہے. فتنہ یہ ہے کہ . تصوف اور صوفی کا جہاد سے کوئی لینا دینا نہیں. بلکہ صوفیائ کرام کی تعلیمات سے جہاد کی نفی ہوتی ہے. اور صوفیائ کرام کے ہاں جنگ، لڑائی اور جہاد کا کوئی تصور نہیں. اور صوفی وہ ہوتا ہے جو ہرکفر اور ہر کافر کو سر پر بٹھائے.ا ور محبت کا ایسا راگ اٹھائے کہ ﴿نعوذ باللہ ﴾ مذاہب کا فرق ہی مٹ جائے. مسلمانوں میں اس فتنہ کی آبیاری کے لئے نقلی پیروں اور ملنگوں کو داخل کیا گیا. جھوٹی روایات کو بڑھا چڑھا کر پھیلایا گیا. تاریخ کو مسخ کیا گیا. اور کافر جاسوس بھیس بدل بدل کر مسلمانوں کے معاشرے میں چھوڑے گئے. مستشرقین کا ایک پورا گروہ اسی فتنہ کو مسلمانوں میں پھیلانے کے لئے صدیوں سے سرگرم رہا ہے. اور اس وقت بھی وہ بہت محنت سے اپنا کام کر رہے ہیں. ان ظالموں نے ’’ محبت ‘‘ کے نام کو بھی رسوا کیا. محبت کا پیغام، امن کا پیغام، وحدت کا پیغام. یہ ان کے خوشنما نعرے اور جال ہیں. جھوٹے واقعات ، جھوٹی کرامات اور غلط روایات اس فتنے کا اثاثہ ہیں. بس اس وجہ سے یہ موضوع تجویز کیا گیا. تصوف اور جہاد. بندہ نے الحمد للہ شعور کی آنکھیں تصوف کے ماحول میں کھولیں . اور پھر جہادکا میدان نصیب ہوا. الحمد للہ محاذ بھی دیکھا اور خانقاہ بھی. صوفیائ کرام بھی دیکھے اور مجاہدین بھی. جہادی کتب کو بھی پڑھا اور تصوف کی کتابوں کو بھی.اگرچہ دونوں میں ہی ناقص رہا، مگر مجھے جہاد اور تصوف میں کوئی باہمی تضاد نظر نہ آیا کہ. یہ دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں. اس لئے جب کوئی اپنا یا غیر. جہاد اور تصوف کو آپس میںٹکرانے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر بہت حیرت ہوتی ہے. بہت دکھ اور افسوس ہوتا ہے.
پاکستان میں جب صدر پرویز مشرف نے امریکہ کی صلیبی جنگ میں اپنے ملک اور فوج کو جھونکا تو . اس کے منصوبوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ’’ صوفی ازم‘‘ کو فروغ دے کر. مسلمانوں کو جہاد سے کاٹا جائے. امریکہ، انڈیا، اور مغرب نے. صوفی ازم کے فروغ کے لئے خزانوں کے منہ کھولے اور طرح طرح کے مفکرین، مجتہدین. پیر اور پروفیسر ایک دم منظر عام پر آ گئے. مسلمان تو پہلے ہی جہاد سے دور تھے، اب ان کو یہ بھی سمجھایا جانے لگا کہ . جہاد کی مخالفت ﴿نعوذ باللہ ﴾ عین اسلام اور عین صوفیت ہے. ان حالات میں الحمد للہ مسلمانوں کے درمیان تصوف اور جہاد کی باہمی مطابقت . اور تصوف اور جہاد کی حقیقت کا پرچار کرنے کی . ہماری جماعت اور ہمارے اخبار کو توفیق ملی. بے شک یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا . آپ القلم کے خصوصی شمارے دیکھ لیں. جماعت کی دعوت اور نشریات دیکھ لیںکہ . بین الاقوامی سرپرستی میں چلنے والے فتنے کا. الحمد للہ کس مضبوطی اور حکمت عملی سے مقابلہ کیا گیا. اسی سلسلے میں ارادہ تھا کہ . ایک مفصل کتاب ’’صوفیائ کرام اور جہاد ‘‘ منظر عام پر آ جائے. اور ایک دوسری کتاب ’’ جہاد اور تصوف ‘‘ کے عنوان سے شائع کی جائے.ان دونوں کتابوں کا خاکہ اور مواد بندہ کے ذہن میں ہے. مگر جماعتی مشغولیت، تحریری کام کاج. اور تحریری معاونین کا فقدان. یہ وہ ظاہری اسباب ہیں جنکی وجہ سے یہ کتابیں تاحال تیار نہ ہو سکیں. ویسے اصل تو تقدیر اور قسمت کی بات ہے. کیا معلوم یہ سعادت کسی اور کے نصیب میں ہو. موضوع کا تعین آدھی تصنیف ہوتا ہے. بندہ نے یہ آدھا کام تو بغیر کسی بخل کے سب کے سامنے پیش کر دیا ہے. حضرت سید احمد شہید (رح) پر القلم میں جو کچھ چھاپا گیا . وہ بھی اسی فتنے کی سرکوبی کا حصہ تھا. اور اب طلبہ کرام کے تقریری مقابلے کا موضوع بھی تصوف اور جہاد رکھا گیا. اس کی برکت سے بھی بہت سے اذہان اس طرف متوجہ ہوئے.اور اب المرابطون کا یہ خصوصی شمارہ بھی اسی موضوع پر پیش کیا جا رہا ہے. اس موضوع پر اہم چیزیں تو دو ہیں:
﴿۱﴾ تصوف کے ائمہ کی کتب میں سے جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب کے حوالے جمع کرنا اور انہیں امت میں عام کرنا.
آپ حیران ہوں گے کہ. شیخ عبد القادر جیلانی (رح) ہوں یا حضرت امام غزالی(رح). امام شاذلی (رح) ہوں . یا حضرت امام ہجویری(رح). ان سب کی کتب میں قتال فی سبیل اللہ کی والہانہ ترغیب ملتی ہے. مثال کی طور پر تصوف کے بے تاج بادشاہ حجۃ الاسلام امام غزالی (رح) کی یہ دو عبارات ملاحظہ فرمائیں.
بے شک منافقین نے موت کے خوف سے قتال فی سبیل اللہ کو ناپسند کیا مگر اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے زاہدوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں یوں قتال کیا جیسے وہ سیسہ پلائی دیوار ہوں. ﴿احیاء علوم الدین﴾
سب سے بڑا خوف سوء خاتمہ ﴿ یعنی برے انجام ﴾ کا ہے اور اس خوف اور خطرے سے بچنے کی سب سے محفوظ صورت شہادت کا خاتمہ ہے۔ ﴿ یعنی کسی مسلمان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہادت نصیب ہو جائے﴾ ﴿احیائ علوم الدین﴾
صوفیاء کے مشہور امام حضرت سہل بن عبد اللہ التستری(رح). تصوف میں کامیابی کی تین شرطیں بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
اصل ہذالامر الصدق والسخاء والشجاعۃ
یعنی اس ﴿تصوف کے﴾ کام کی بنیاد تین چیزیں ہیں. سچائی، سخاوت اور شجاعت ﴿احیاء علوم الدین﴾
ایک اور جگہ مرقوم ہے:
الاساس الاول للصوفی ھو تقویۃ الصلۃ باللہ، والشجاعۃ بالقتال للجھاد
یعنی صوفی کے لئے پہلی بنیاد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کے ذریعہ قوت اور قتال فی سبیل اللہ کے ذریعہ شجاعت حاصل کرے۔
یہاں ایک اور عبارت پیش کر رہا ہوں جسے پڑھ کر یقیناً آپ حیران ہوں گے. حضرت یحییٰ بن معاذ الرازی(رح) اصلی صوفیاء کرام کی علامات اور شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ. جہاد کے لئے سفر کرنا بھی ان کی لازمی شرائط میں سے ہے۔ ملاحظہ کیجیے یہ شعر:
ومن الدلائل ان تراہ مسافرا
نحو الجہاد وکل فعل فاضل
یعنی اصلی صوفیاء کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ آپ انہیں جہاد کے لئے سفر کرتا دیکھیں گے۔ ﴿ احیاء علوم الدین﴾
یہ ایک دلچسپ اور مفصل موضوع ہے. بندہ کے پاس حضرت ہجویری (رح) کی کتاب’’ کشف المحجوب‘‘ کے کئی نسخے موجود ہیں. اور میں نے اس مقام پر اشارہ لگا دیا ہے. جہاں حضرت ہجویری(رح) ﴿ جن کو لاہور والے داتا گنج بخش کہتے ہیں﴾ نے جہاد فی سبیل اللہ کی عظمت کو بیان فرمایا ہے. بات لمبی ہو گئی. طلبہ کرام بھول گئے ہوں گے ! پیچھے یہ عرض کیا تھا کہ تصوف اور جہاد کے موضوع پر اہم باتیں دو ہیں. ایک یہ کہ مشاہیر صوفیاء کرام کی کتب میں سے قتال فی سبیل اللہ کی فضیلت و عظمت کو بیان کیا جائے.بطور مثال چند عبارتیں پیش کر دیں۔ اب آتے ہیں دوسری اہم بات کی طرف.
﴿۲﴾ صوفیاء کرام میں سے جو حضرات ’’ ائمہ تصوف ‘‘ کا مقام رکھتے ہیں اور وہ میدان تصوف کے مشہور ترین اور مقبول ترین افراد ہیں . ان کی سوانح دیکھی جائے کہ انہوں نے خود جہاد فی سبیل اللہ میں کس قدر حصہ لیا۔ یہ بہت دلکش، ایمان افروز. اور دلچسپ موضوع ہے۔آپ پوچھیں گے وہ کیسے؟. جواب یہ ہے کہ میں ابھی ایسے دس حضرات کی ایک فہرست پیش کرتا ہوں. جن کے نام آپ کو تصوف کی ہر کتاب میں ملیں گے. اور یہ حضرات سلوک و احسان میں ’’ حجت ‘‘ کا مقام رکھتے ہیں.ا ور یہ حضرات خود قتال فی سبیل اللہ کے لئے نکلے اور ان میں سے کئی نے مقام شہادت حاصل کیا.
۱﴾ حضرت امام حسن بصری(رح)
۲﴾ حضرت مالک بن دینار(رح)
۳﴾ حضرت عتبۃ الغلام (رح)
۴﴾ حضرت عبد الواحد بن زید(رح)
۵﴾ حضرت ابراہیم بن ادھم(رح)
۶﴾ حضرت شقیق بلخی(رح)
۷﴾ حضرت حاتم اصم(رح)
۸﴾ حضرت علی بن بکّار(رح)
۹﴾ حضرت عبد اللہ بن مبارک(رح)
۰۱﴾ حضرت ابو العباس السماک(رح)
یہ صرف دس نام ہیں. جبکہ میرے سامنے ایک بہت بڑی فہرست موجود ہے۔ علامہ جوزی (رح) نے اپنی کتاب ’’ صفۃ الصفوۃ‘‘ میں ایک الگ فصل میں حضرات صوفیائ و زُہّاد کے قتال فی سبیل اللہ کو بیان فرمایا ہے۔مجھے تصوف کی کوئی ایسی مستند کتاب بتائیں جس میں. حضرت السری السقطی(رح) کا تذکرہ نہ ہو. یہ صاحب مقام بزرگ رومیوں کے خلاف جہاد میں نکلے۔ یہی حال سلطان العارفین. حضرت ابو یزید البسطامی(رح) کا ہے۔
پھر ایک دلچسپ بات سنیں. ان بڑے مشاہیر حضرات کے جہاد کے واقعات اتنے عجیب ہیں کہ. اگر ان کو تفصیل سے پڑھا جائے تو جہاد اکبر. اور اصغر کی بحث چھیڑنے کی کسی کو ہمت نہ ہو.ا ور نہ ہی کوئی . تصوف کو جہاد کا دشمن سمجھے.
اچھا ایک بات بتائیں. اہل تصوف کے ہاں’’ سید الطائفہ ‘‘ کا لقب کن بزرگوں کو دیا گیا؟. آپ جانتے ہیں کہ . یہ لقب حضرت جنید بغدادی(رح) کو ملا. اہل تصوف کے سردار. ابن الاثیر(رح) نے ان کو
’’عالم الدنیا فی زمانہ‘‘
قراردیا. یعنی اپنے زمانے میں دنیا کے سب سے بڑے عالم. حضرت جنید بغدادی(رح) خود قتال فی سبیل اللہ میں تشریف لے گئے. کس کس کا تذکرہ کیا جائے؟.کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں پہلی خانقاہ . حضرت عبد الواحد بن زید(رح) نے قائم فرمائی. یہ خیر القرون کے فرد ہیں.ا ور آپ ابھی مجاہدین صوفیاء کی فہرست میں ان کا اسم گرامی پڑھ چکے ہیں. تو اگر یہ کہا جائے کہ حضرت ابن زید(رح) کی خانقاہ سے تھانہ بھون کی خانقاہ امدادیہ تک. ہر جگہ جہاد و قتال کے اصل معنیٰ .ا ور اس پر عمل نظر آتا ہے تو . یہ کون لوگ ہیں جو تصوف کے نام پر جہاد کی مخالفت کرتے ہیں. یا اپنے کام کو جہاد فی سبیل اللہ سے اونچا قرار دیتے ہیں.یا جہاد فی سبیل اللہ کے معنی بدلتے ہیں. یقیناً یہ لوگ . پرویز مشرف کے صوفی ازم والے تو ہو سکتے ہیں. مگر اسلام کے ’’نظام تزکیہ‘‘ جسے تصوف کہا جاتا ہے. اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں بنتا.
یہ تو ہوئیںاس موضوع کی دو ضروری باتیں:
۱﴾ جہاد فی سبیل اللہ کے بارے میں عباراتِ صوفیائ کرام
۲﴾ مشاہیر صوفیاء کرام کی جہاد فی سبیل اللہ میں شرکت
ان دو کے علاوہ اور بھی چند باتیں اس موضوع سے تعلق رکھتی ہیں۔
۱﴾ تصوف کا معنی، مطلب اور مقصد. یہ بہت اہم موضوع ہے. اس میں یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ . طریقت کے نصاب. مدارس کے تعلیمی نصاب کی طرح ہوتے ہیں. ان کو نہ بدعت کہا جا سکتا ہے. اور نہ ان کو شرعاً لازم قرار دیا جاسکتا ہے.اور زمانے کے مطابق ان میں تبدیلی بھی ہوتی رہتی ہے.
﴿۲﴾ بیعت امارت، بیعت علی الجہاد.ا ور اصلاحی بیعت کی حقیقت کا بیان. اس میں کوئی شک نہیںکہ اصلاحی بیعت، بہت مفید سلسلہ ہے. مگر جہادی بیعت بھی بہت اہم ہے. اور قران و سنت کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ. جہادی بیعت. اصلاحی بیعت سے زیادہ اہم، زیادہ افضل، زیادہ موکد، اور زیادہ مضبوط ہے. جہلاء اس میں بہت غلطی کرتے ہیں.
﴿۳﴾ جہاد اور تصوف کے باہمی موافقات. یہ اہم بحث ہے. بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ. یہ اصلی جہاد اور اصلی تصوف کو جانچنے کا بہترین آلہ ہے.آپ کسی پروفیسر، پیر، یا نام نہاد مرشد کو دیکھیں جو. جہاد فی سبیل اللہ. یعنی قتال فی سبیل اللہ کا مخالف ہو. یا اس کے معنی میں تحریف کرتا ہو. یا خود کو جہاد سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بالاتر اور مستثنیٰ سمجھتا ہو تو آپ جان لیں کہ. یہ شخص اصلی اور حقیقی تصوف سے محروم ہے. اسی طرح آپ کسی مجاہد کو دیکھیں جو اصلاح نفس، تصحیح نیت . اور تزکیہ کا مخالف ہو تو سمجھ لیں کہ اس کے جہاد میں کوئی کھوٹ ہے. بہت سے لوگ نام، نمود، عصبیت، علاقیت اور مال کے لئے لڑتے ہیں. ایسے لوگ مجاہد ہرگز نہیں ہوتے.
بس یہ ہے ’’تصوف اور جہاد‘‘ کا خلاصہ اور اس موضوع کے مختلف پہلو. بندہ نے مختصر اشارات عرض کر دئیے ہیں. آپ ان اشارات کی مدد سے اس موضوع کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں. آگے بڑھا سکتے ہیں . اور اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو اس پر کام بھی کر سکتے ہیں.
اللھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
 

allahkabanda

مبتدی
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
174
ری ایکشن اسکور
568
پوائنٹ
0
تصوف کیا ہے ،ایک غیر صوفی کیلئے اس علم کے متعلق جاننا بہت مشکل ہے
اور یہی اگر آپ کے بارے میں کہ دیا جائے کی صوفی کے لیے قرآن و حدیث کے علم کا جاننا انتہائی مشکل ہے
اور اسکی عملی مثال اللہ کا دیدار والا تھریڈ ہے- قرآن اور اسکی نبوی تفسیر حدیث میں سن کر بھی آپ میں نہ مانوں بنے ہوئے ہیں
 

qureshi

رکن
شمولیت
جنوری 08، 2012
پیغامات
233
ری ایکشن اسکور
392
پوائنٹ
88
اور یہی اگر آپ کے بارے میں کہ دیا جائے کی صوفی کے لیے قرآن و حدیث کے علم کا جاننا انتہائی مشکل ہے
اور اسکی عملی مثال اللہ کا دیدار والا تھریڈ ہے- قرآن اور اسکی نبوی تفسیر حدیث میں سن کر بھی آپ میں نہ مانوں بنے ہوئے ہیں
یار اللہ کے دیدار والا تھریڈ کونسا ہے ؟ لنک دےدو،دوسرا آپ لوگ زیادتی سےکام لیتے ہیں صوفیاء میں محدثین اور مفسرین گزرے ہیں۔دور نہ جا و حضرت ابراھیم میر رحمہ اللہ کو جانتے ہو انکی تفسیرام القران پڑھ لو بلکل جہلاء کی طرح بات نہ کیا کرو صاحب علم ہونے کا ثبوت دو۔
 

allahkabanda

مبتدی
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
174
ری ایکشن اسکور
568
پوائنٹ
0

ندوی

رکن
شمولیت
نومبر 20، 2011
پیغامات
152
ری ایکشن اسکور
328
پوائنٹ
57
اور یہی اگر آپ کے بارے میں کہ دیا جائے کی صوفی کے لیے قرآن و حدیث کے علم کا جاننا انتہائی مشکل ہے
اور اسکی عملی مثال اللہ کا دیدار والا تھریڈ ہے- قرآن اور اسکی نبوی تفسیر حدیث میں سن کر بھی آپ میں نہ مانوں بنے ہوئے ہیں
لگتاہے کہ آپ نے معین صاحب کالنک دیاہواحافظ ابن حجر کااسی موضوع پر رسالہ نہیں دیکھا۔
 
Top