• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّ‌سُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرً‌ا ﴿٧﴾
اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسا رسول ہے؟ کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا (١) ہے، اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جاتا؟ کہ وہ بھی اس کے ساتھ ہو کر ڈرانے والا بن جاتا۔ (٢)
٧۔١ قرآن پر طعن کرنے کے بعد رسول پر طعن کیا جا رہا ہے اور یہ طعن رسول کی بشریت پر ہے۔ کیوں کہ ان کے خیال میں بشریت، عظمت رسالت کی متحمل نہیں۔ اس لئے انہوں نے کہا کہ یہ تو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اور ہمارے ہی جیسا بشر ہے۔ حالانکہ رسول کو تو بشر نہیں ہونا چاہیے۔
٧۔٢ مذکورہ اعتراض سے نیچے اتر کر کہا جا رہا ہے کہ چلو کچھ اور نہیں تو ایک فرشتہ ہی اس کے ساتھ ہو جو اس کا معاون اور مصدق ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا ۚ وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَ‌جُلًا مَّسْحُورً‌ا ﴿٨﴾
یا اس کے پاس کوئی خزانہ ہی ڈال دیا (١) جاتا یا اس کا کوئی باغ ہی ہوتا جس میں سے یہ کھاتا۔ (٢) اور ان ظالموں نے کہا کہ تم ایسے آدمی کے پیچھے ہو لیے ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہے۔ (٣)
٨۔١ تاکہ طلب رزق سے بے نیاز ہو۔
٨۔٢ تاکہ اس کی حیثیت تو ہم سے کچھ ممتاز ہو جاتی۔
٨۔٣ یعنی جس کی عقل و فہم سحر زدہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
انظُرْ‌ كَيْفَ ضَرَ‌بُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا ﴿٩﴾
خیال تو کیجئے! کہ یہ لوگ آپ کی نسبت کیسی کیسی باتیں بناتے ہیں۔ پس جس سے خود ہی بہک رہے ہیں اور کسی طرح راہ پر نہیں آسکتے۔ (١)
٩۔١ یعنی اے پیغمبر! آپ کی نسبت یہ اس قسم کی باتیں اور بہتان تراشی کرتے ہیں، کبھی ساحر کہتے ہیں، کبھی مسحور و مجنون اور کبھی کذاب و شاعر۔ حالانکہ یہ ساری باتیں باطل ہیں اور جن کے پاس ذرہ برابر بھی عقل و فہم ہے، وہ ان کا جھوٹا ہونا جانتے ہیں، پس یہ ایسی باتیں کر کے خود ہی راہ ہدایت سے دور ہو جاتے ہیں، انہیں راہ راست کس طرح نصیب ہو سکتی ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تَبَارَ‌كَ الَّذِي إِن شَاءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرً‌ا مِّن ذَٰلِكَ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ وَيَجْعَل لَّكَ قُصُورً‌ا ﴿١٠﴾
اللہ تعالیٰ تو ایسا بابرکت ہے کہ اگر چاہے تو آپ کو بہت سے ایسے باغات عنایت فرما دے جو ان کے کہے ہوئے باغ سے بہت ہی بہتر ہوں جس کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہوں اور آپ کو بہت سے (پختہ) محل بھی دے دے۔ (١)
١٠۔١ یعنی یہ آپ کے لیے جو مطالبے کرتے ہیں، اللہ کے لیے ان کا کر دینا کوئی مشکل نہیں ہے، وہ چاہے تو ان سے بہتر باغات اور محلات دنیا میں آپ کو عطا کر سکتا ہے جو کہ ان کے دماغوں میں ہیں۔ لیکن ان کے مطالبے تو تکذیب و عناد کے طور پر ہیں نہ کہ طلب ہدایت اور تلاش نجات کے لیے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلْ كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لِمَن كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرً‌ا ﴿١١﴾
بات یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں (١) اور قیامت کے جھٹلانے والوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
١١۔١ قیامت کا یہ جھٹلانا ہی تکذیب رسالت کا بھی باعث ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِذَا رَ‌أَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرً‌ا ﴿١٢﴾
جب وہ انہیں دور سے دیکھے گی تو یہ اس کا غصے سے بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے۔ (١)
١٢۔١ یعنی جہنم ان کافروں کو دور سے میدان محشر میں دیکھ کر ہی غصے سے کھول اٹھے گی اور ان کو اپنے دامن غضب میں لینے کے لئے چلائے گی اور جھنجھلائے گی، جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿إِذَا أُلْقُوا فِيهَا سَمِعُوا لَهَا شَهِيقًا وَهِيَ تَفُورُ * تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ﴾ (سورة الملك: ۷-۸) (جب جہنمی، جہنم میں ڈالے جائیں گے تو اس کا دھاڑنا سنیں گے اور وہ (جوش غضب سے) اچھلتی ہو گی، ایسے لگے گا کہ وہ غصے سے پھٹ پڑے گی)۔ جہنم کا دیکھنا اور چلانا، ایک حقیقت ہے، استعارہ نہیں۔ اللہ کے لیے اس کے اندر احساس و ادراک کی قوت پیدا کر دینا، مشکل نہیں ہے، وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ آخر قوت گویائی بھی تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرمائے گا اور وہ ﴿هَلْ مِنْ مَزِيدٍ﴾ کی صدا بلند کرے گی (سورۂ ق: ۳۰)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّ‌نِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورً‌ا ﴿١٣﴾
اور جب یہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں مشکیں کس کر پھینک دیئے جائیں گے تو وہاں اپنے لیے موت ہی موت پکاریں گے۔

لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورً‌ا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورً‌ا كَثِيرً‌ا ﴿١٤﴾
(ان سے کہا جائے گا) آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی اموات کو پکارو۔ (١)
١٤۔١ یعنی جہنمی جب جہنم کے عذاب سے تنگ آکر آرزو کریں گے کہ کاش انہیں موت آجائے، وہ فنا کے گھاٹ اتر جائیں، تو ان سے کہا جائے گا کہ اب ایک موت نہیں کئی موتوں کو پکارو۔ مطلب یہ ہے کہ اب تمہاری قسمت میں ہمیشہ کے لئے انواع و اقسام کے عذاب ہیں یعنی موتیں ہی موتیں ہیں، تم کہاں تک موت کا مطالبہ کرو گے!
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ أَذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ أَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۚ كَانَتْ لَهُمْ جَزَاءً وَمَصِيرً‌ا ﴿١٥﴾
آپ کہہ دیجئے کہ کیا یہ بہتر ہے (١) یا وہ ہمیشگی والی جنت جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے، جو ان کا بدلہ ہے اور ان کے لوٹنے کی اصلی جگہ ہے۔
١٥۔١ "یہ" اشارہ ہے جہنم کے مذکورہ عذابوں کی طرف، جن میں جہنمی جکڑ بند ہو کر مبتلا ہوں گے۔ کہ یہ بہتر ہے جو کفر و شرک کا بدلہ ہے یا وہ جنت، جس کا وعدہ متقین سے ان کے تقویٰ و اطاعت الٰہی پر کیا گیا ہے۔ یہ سوال جہنم میں کیا جائے گا لیکن اسے یہاں اس لیے نقل کیا گیا ہے کہ شاید جہنمیوں کے اس انجام سے عبرت پکڑ کر لوگ تقویٰ و اطاعت کا راستہ اختیار کر لیں اور اس انجام بد سے بچ جائیں، جس کا نقشہ یہاں کھینچا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ خَالِدِينَ ۚ كَانَ عَلَىٰ رَ‌بِّكَ وَعْدًا مَّسْئُولًا ﴿١٦﴾
وہ جو چاہیں گے ان کے لیے وہاں موجود ہو گا، ہمیشہ رہنے والے۔ یہ تو آپ کے رب کے ذمے وعدہ ہے جو قابل طلب ہے۔ (١)
١٦۔١ یعنی ایسا وعدہ، جو یقینا پورا ہو کر رہے گا، جیسے قرض کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے اپنے ذمے یہ وعدہ واجب کر لیا ہے جس کا اہل ایمان اس سے مطالبہ کر سکتے ہیں۔ یہ محض اس کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اہل ایمان کے لیے اس حسن جزا کو اپنے لیے ضروری قرار دے لیا ہے۔
 
Top