• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ‌ ﴿٥٤﴾
یقیناً ہمارا ڈر رکھنے والے جنتوں اور نہروں میں ہوں گے۔ (١)
٥٤۔١ یعنی مختلف اورمتنوع باغات میں ہوں گے۔ نَهَرٌ بطور جنس کے ہے جو جنت کی تمام نہروں کو شامل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ‌ ﴿٥٥﴾
راستی اور عزت کی بیٹھک میں (١) قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ (٢)
٥٥۔١ مَقْعَدِ صِدقٍ، عزت کی بیٹھک یا مجلس حق، جس میں گناہ کی بات ہو گی نہ لغویات کا ارتکاب۔ مراد جنت ہے۔
٥٥۔٢ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ، قدرت والا بادشاہ یعنی وہ ہر طرح کی قدرت سے بہرہ ور ہے جو چاہے کر سکتا ہے، کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ عِنْدَ (پاس) یہ کنایہ اس شرف منزلت اور عزت و احترام سے جو اہل ایمان کو اللہ کے ہاں حاصل ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الرحمن

(سورة الرحمن مدنی ہے اور اس میں اٹھہتر آیتیں اور تین رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

الرَّ‌حْمَـٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْ‌آنَ ﴿٢﴾
رحمٰن نے۔ قرآن سکھایا۔ (١)
٢۔١ کہتے ہیں کہ یہ اہل مکہ کے جواب میں ہے جو کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد (ﷺ) کو کوئی انسان سکھاتا ہے بعض کہتے ہیں کہ ان کے اس قول کے جواب میں ہے کہ رحمٰن کیا ہے؟ قرآن سکھانے کا مطلب ہے، اسے آسان کر دیا، یا اللہ نے اپنے پیغمبر کو سکھایا اور پیغمبر نے امت کو سکھایا۔ اس سورت میں اللہ نے اپنی بہت سی نعمتیں گنوائی ہیں۔ چونکہ تعلیم قرآن ان میں قدر و منزلت اور اہمیت و افادیت کے لحاظ سے سب سے نمایاں ہے، اس لیے پہلے اسی نعمت کا ذکر فرمایا ہے۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾
اسی نے انسان کو پیدا کیا۔ (١)
٣۔١ یعنی یہ بندر وغیرہ جانوروں سے ترقی کرتے کرتے انسان نہیں بن گئے ہیں۔ جیسا کہ ڈارون کا فلسفہ ارتقا ہے۔ بلکہ انسان کو اسی شکل و صورت میں اللہ نے پیدا فرمایا ہے۔ جو جانوروں سے الگ ایک مستقل مخلوق ہے۔ انسان کا لفظ بطور جنس کے ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾
اور اسے بولنا سکھایا۔ (١)
٤۔١ اس بیان سے مراد ہر شخص کی اپنی مادری بولی ہے جو بغیر سیکھے ازخود ہر شخص بول لیتا اور اس میں اپنے مافی الضمیر کا اظہار کر لیتا ہے، حتیٰ کہ وہ چھوٹا بچہ بھی بولتا ہے، جس کو کسی بات کا علم اور شعور نہیں ہوتا۔ یہ اس تعلیم الٰہی کا نتیجہ ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ‌ بِحُسْبَانٍ ﴿٥﴾
آفتاب اور مہتاب (مقررہ) حساب سے ہیں۔ (١)
٥۔١ یعنی اللہ کے ٹھہرائے ہوئے حساب سے اپنی اپنی منزلوں پر رواں دواں رہتے ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ‌ يَسْجُدَانِ ﴿٦﴾
اور ستارے اور درخت دونوں سجدہ کرتے ہیں۔ (١)
٦۔١ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ﴾ (الحج: ۱۸)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالسَّمَاءَ رَ‌فَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ﴿٧﴾
اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی۔ (١)
٧۔١ یعنی زمین میں انصاف رکھا، جس کا اس نے لوگوں کو حکم دیا، جیسے فرمایا: ﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾ (الحديد: ۲۵)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ ﴿٨﴾
تاکہ تولنے میں تجاوز نہ کرو۔ (١)
٨۔١ یعنی انصاف سے تجاوز نہ کرو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُ‌وا الْمِيزَانَ ﴿٩﴾
انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول میں کم نہ دو۔

وَالْأَرْ‌ضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ ﴿١٠﴾
اور اسی نے مخلوق کے لیے زمین بچھا دی۔

فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ ﴿١١﴾
جس میں میوے ہیں اور خوشے والے کھجور کے درخت ہیں۔ (١)
١١۔١ أَكْمَامٌ، كِمٌّ کی جمع ہے وِعَاءُ التَّمْرِ، کھجور پر چڑھا ہوا غلاف۔

وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّ‌يْحَانُ ﴿١٢﴾
اور بھس والا اناج ہے (١) اور خشبودار پھول ہیں۔
١٢۔١ حَبٌّ سے مراد ہر وہ خوراک ہے جو انسان اور جانور کھاتے ہیں خشک ہو کر اس کا پودا بھس بن جاتا ہے تو جانوروں کے کام آتا ہے۔
 
Top