• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ‌ ۚ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ ﴿٤١﴾
یہ کسی شاعر کا قول نہیں (۱) (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے۔
٤۱۔۱ جیسا کہ تم سمجھتے ہو اور کہتے ہو۔ اس لیے کہ یہ اصناف شعر سے ہے نہ اس کے مشابہ ہے، پھر یہ کسی شاعر کا کلام کس طرح ہو سکتا ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُ‌ونَ ﴿٤٢﴾
اور نہ کسی کاہن کا قول ہے، (۱) (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو۔ (۲)
٤۲۔۱ جیسا کہ بعض دفعہ تم یہ دعوی کرتے ہو، حالاں کہ کہانت بھی ایک شئے دیگر ہے۔
٤۲۔۲ قلت دونوں جگہ نفی کے معنی میں ہے، یعنی تم بالکل قرآن پر ایمان لاتے ہو نہ اس سے نصیحت ہی حاصل کرتے ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تَنزِيلٌ مِّن رَّ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٤٣﴾
(یہ تو) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ (۱)
٤۳۔۱ یعنی رسول کی زبان سے ادا ہونے والا یہ قول، رب العالمین کا اتارا ہوا کلام ہے۔ اسے تم کبھی شاعری اور کبھی کہانت کہہ کر اس کی تکذیب کرتے ہو؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿٤٤﴾
اور اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا۔ (١)
٤٤۔١ یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کر دیتا، یا اس میں کمی بیشی کر دیتا، تو ہم فوراً اس کا مؤاخذہ کرتے اور اسے ڈھیل نہ دیتے۔ جیسا کہ اگلی آیات میں فرمایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿٤٥﴾
تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے۔ (١)
٤٥۔١ یا دائیں ہاتھ کے ساتھ اس کی گرفت کرتے، اس لیے کہ دائیں ہاتھ سے گرفت زیادہ سخت ہوتی ہے اور اللہ کے تو دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔ (کما فی الحدیث)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿٤٦﴾
پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔ (١)
٤٦۔١ خیال رہے یہ سزا، خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں بیان کی گئی ہے جس سے مقصد آپ کی صداقت کا اظہار ہے۔ اس میں یہ اصول بیان نہیں کیا گیا ہے کہ جو بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے تو جھوٹے مدعی کو ہم فورا سزا سے دوچار کر دیں گے۔ لہذا اس سے کسی جھوٹے نبی کو اس لیے سچا باور نہیں کرایا جا سکتا کہ دنیا میں وہ مؤخذہ الہی سے بچا رہا۔ واقعات بھی شاہد ہیں کہ متعدد لوگوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کئے اور اللہ نے انہیں ڈھیل دی اور دنیاوی مواخذے سے وہ بالعموم محفوظ ہی رہے۔ اس لیے اگر اسے اصول مان لیا جائے تو پھر متعدد جھوٹے مدعیان نبوت کو "سچا نبی" ماننا پڑے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ ﴿٤٧﴾
پھر تم میں سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔ (١)
٤٧۔١ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول تھے، جن کو اللہ نے سزا نہیں دی، بلکہ دلائل و معجزات اور اپنی خاص تائید و نصرت سے انہیں نوازا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَ‌ةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿٤٨﴾
یقیناً یہ قرآن پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے۔ (۱)
٤۸۔۱ کیوں کہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ورنہ قرآن تو سارے ہی لوگوں کے لیے نصیحت لے کر آیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَ ﴿٤٩﴾
ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں۔

وَإِنَّهُ لَحَسْرَ‌ةٌ عَلَى الْكَافِرِ‌ينَ ﴿٥٠﴾
بیشک (یہ جھٹلانا) کافروں پر حسرت ہے۔ (١)
٥٠۔١ یعنی قیامت والے دن اس پر حسرت کریں گے، کہ کاش ہم نے قرآن کی تکذیب نہ کی ہوتی۔ یا یہ قرآن بجائے خود ان کے لیے حسرت کا باعث ہو گا، جب وہ اہل ایمان کو قرآن کا اجر ملتے ہوئے دیکھیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِينِ ﴿٥١﴾
اور بیشک (و شبہ) یہ یقینی حق ہے۔ (١)
٥١۔١ یعنی قرآن کا اللہ کی طرف سے ہونا بالکل یقینی ہے، اس میں قطعًا شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یا قیامت کی بابت جو خبر دی جا رہی ہے، وہ بالکل حق اور سچ ہے۔
 
Top