• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تَدْعُو مَنْ أَدْبَرَ‌ وَتَوَلَّىٰ ﴿١٧﴾
وہ ہر اس شخص کو پکارے گی جو پیچھے ہٹتا اور منہ موڑتا ہے۔

وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ ﴿١٨﴾
اور جمع کرکے سنبھال رکھتا ہے۔ (١)
١٨۔١ یعنی جو دنیا میں حق سے پیٹھ پھیرتا اور منہ موڑتا تھا اور مال جمع کرکے خزانوں میں سینت سینت کر رکھتا تھا، اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا تھا نہ اس میں سے زکوٰۃ نکالتا تھا۔ اللہ تعالیٰ جہنم کو قوت گویائی عطا فرمائے گا اور جہنم بزبان قال خود ایسے لوگوں کو پکارے گی،جن پر ان کے عملوں کی پاداش میں جہنم واجب ہو گی۔ بعض کہتے ہیں، پکارنے والے تو فرشتے ہی ہوں گے اسے منسوب جہنم کی طرف کر دیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ کوئی نہیں پکارے گا، یہ صرف تمثیل کے طور پر ایسا کہا گیا ہے۔ مطلب ہے کہ مذکورہ افراد کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا ﴿١٩﴾
بیشک انسان بڑے کچے دل والا بنایا گیا ہے۔ (١)
١٩۔١ سخت حریص اور بہت جزع فزع کرنے والے کو هَلُوع کہا جاتا ہے۔ جس کو ترجمے میں کچے دل والا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیوں کہ ایسا شخص ہی بخیل و حریص اور زیادہ جزع فزع کرنے والا ہوتا ہے، آگےاس کی صفت بیان کی گئی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ‌ جَزُوعًا ﴿٢٠﴾
جب اسے مصیبت پہنچتی ہے تو ہڑبڑا اٹھتا ہے۔

وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ‌ مَنُوعًا ﴿٢١﴾
اور جب راحت ملتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔

إِلَّا الْمُصَلِّينَ ﴿٢٢﴾
مگر وہ نمازی۔

الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ ﴿٢٣﴾
جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی کرنے والے ہیں۔ (۱)
۲۳۔۱ مراد ہیں مومن کامل اور اہل توحید، ان کے اندر مذکورہ اخلاقی کمزوریاں نہیں ہوتیں، بلکہ اس کے برعکس وہ صفات محمودہ کے پیکر ہوتے ہیں۔ ہمیشہ نماز پڑھنے کا مطلب ہے، وہ نماز میں کوتاہی نہیں کرتے، ہر نماز اپنے وقت پر نہایت پابندی اور التزام سے پڑھ لیتے ہیں۔ کوئی مشغولیت انہیں نماز سے نہیں روکتی اور دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نماز سے غافل نہیں کرتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ﴿٢٤﴾
اور جن کے مالوں میں مقررہ حصہ ہے۔ (١)
٢٤۔١ یعنی زکوٰۃ مفروضہ۔ بعض کے نزدیک یہ عام ہے، صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں اس میں شامل ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُ‌ومِ ﴿٢٥﴾
مانگنے والوں کا بھی اور سوال سے بچنے والوں کا بھی۔ (۱)
۲۵۔۱ محروم میں وہ شخص بھی داخل ہے جو رزق سے ہی محروم ہے، وہ بھی جو کسی آفت سماوی و ارضی کی زد میں آکر اپنی پونجی سے محروم ہو گیا اور وہ بھی جو ضرورت مند ہونے کے باوجود اپنی صفت تعفف کی وجہ سے لوگوں کی عطا اور صدقات سے محروم رہتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ ﴿٢٦﴾
اور جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں۔ (۱)
۲٦۔۱ یعنی وہ اس کا انکار کرتے ہیں نہ اس میں شک و شبہ کا اظہار۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَ‌بِّهِم مُّشْفِقُونَ ﴿٢٧﴾
اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں۔ (۱)
۲۷۔۱ یعنی اطاعت اور اعمال صالحہ کے باوجود، اللہ کی عظمت و جلالت کے پیش نظر اس کی گرفت سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں، اور یقین رکھتے ہیں کہ جب تک اللہ کی رحمت ہمیں اپنے دامن میں نہیں ڈھانک لے گی، ہمارے یہ اعمال نجات کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ جیسا کہ اس مفہوم کی حدیث پہلے گزر چکی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ عَذَابَ رَ‌بِّهِمْ غَيْرُ‌ مَأْمُونٍ ﴿٢٨﴾
بیشک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں۔ (۱)
۲۸۔۱ یہ سابقہ مضمون ہی کی تاکید ہے کہ اللہ کے عذاب سے کسی کو بھی بے خوف نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر وقت اس سے ڈرتے رہنا اور اس سے بچاؤ کی ممکنہ تدابیر اختیار کرتے رہنا چاہیے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُ‌وجِهِمْ حَافِظُونَ ﴿٢٩﴾
اور جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی (حرام سے) حفاظت کرتے ہیں۔

إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ‌ مَلُومِينَ ﴿٣٠﴾
ہاں ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جن کے وہ مالک ہیں انہیں کوئی ملامت نہیں۔ (١)
٣٠۔١ یعنی انسان کی جنسی تسکین کے لیے اللہ نے دو جائز ذرائع رکھے ہیں ایک بیوی اور دوسری ملک یمین (لونڈی)۔ آج کل ملک یمین کا مسئلہ تو اسلام کی بتلائی ہوئی تدابیر کی رو سے تقریبا ختم ہو گیا ہے، تاہم اسے قانونا اس لیے ختم نہیں کیا گیا ہے کہ آئندہ کبھی اس قسم کے حالات ہوں تو ملک یمین سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ بہرحال اہل ایمان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ جنسی خواہش کی تکمیل و تسکین کے لیے ناجائز ذریعہ اختیار نہیں کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَ‌اءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ﴿٣١﴾
اب جو کوئی اس کے علاوہ (راہ) ڈھونڈے گا تو ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہوں گے۔

وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَ‌اعُونَ ﴿٣٢﴾
اور جو اپنی امانتوں کا اور اپنے قول و قرار کا پاس رکھتے ہیں۔ (۱)
۳۲۔۱ یعنی ان کے پاس لوگوں کی جو امانتیں ہوتی ہیں، اس میں وہ خیانت نہیں کرتے اور لوگوں سے جو عہد کرتے ہیں، انہیں توڑتے نہیں، بلکہ ان کی پاسداری کرتے ہیں۔
 
Top