• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا عِلِّيُّونَ ﴿١٩﴾
تجھے کیا پتہ کہ علیین کیا ہے؟

كِتَابٌ مَّرْ‌قُومٌ ﴿٢٠﴾
(وہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہے۔

يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّ‌بُونَ ﴿٢١﴾
مقرب (فرشتے) اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

إِنَّ الْأَبْرَ‌ارَ‌ لَفِي نَعِيمٍ ﴿٢٢﴾
یقیناً نیک لوگ (بڑی) نعمتوں میں ہوں گے۔

عَلَى الْأَرَ‌ائِكِ يَنظُرُ‌ونَ ﴿٢٣﴾
مسہریوں میں بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے۔

تَعْرِ‌فُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَ‌ةَ النَّعِيمِ ﴿٢٤﴾
تو ان کے چہروں سے ہی نعمتوں کی تر و تازگی پہچان لے گا۔ (١)
٢٤-۱ جس طرح دنیا میں خوش حال لوگوں کے چہروں پر بالعموم تازگی اور شادابی ہوتی ہے۔ جو ان آسائشوں، سہولتوں اور دیناوی نعمتوں کی مظہر ہوتی ہے جو انہیں فراوانی سے حاصل ہوتی ہیں۔ اسی طرح اہل جنت پر اعزاز و تکریم اور نعمتوں کی جو ارزانی ہو گی، اس کے اثرات ان کے چہروں پر بھی ظاہر ہوں گے، وہ اپنے حسن و جمال اور رونق و بہجت سے پہچان لیے جائیں گے کہ یہ جنتی ہیں۔

يُسْقَوْنَ مِن رَّ‌حِيقٍ مَّخْتُومٍ ﴿٢٥﴾
یہ لوگ سر بمہر خالص شراب پلائے جائیں گے۔ (١)
٢٥-۱ رَحِيقٌ صاف، شفاف اور خالص شراب کو کہتے ہیں جس میں کسی چیز کی آمیزش نہ ہو۔ مَخْتُومٌ (سر بہ مہر) اس کے خالص پن کی مزید وضاحت کے لیے ہے، بعض کے نزدیک یہ مخلوط کے معنی میں ہے، یعنی شراب میں کستوری کی آمیزش ہو گی جس سے اس کا ذائقہ دوبالا اورخوشبو مزید خوش کن اور راحت افزا ہو جائے گی۔ بعض کہتے ہیں، یہ ختم سے ہے۔ یعنی اس کا آخری گھونٹ کستوری کا ہو گا۔ بعض ختام کے معنی خوشبو کرتے ہیں، ایسی شراب جس کی خوشبو کستوری کی طرح ہو گی۔ (ابن کثی) حدیث میں بھی یہی لفظ آیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ہے ”جس مومن نے کسی پیاسے مومن کوایک گھونٹ پانی پلایا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت والے دن الرَّحِيقُ الْمَخْتُومُ پلائے گا، جس نے کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلایا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے پھل کھلائے گا، جس نے کسی ننگے مومن کو لباس پہنایا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کا سبز لباس پہنائے گا“۔ (مسند احمد ۳ / ۱۳-۱۴)

خِتَامُهُ مِسْكٌ ۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ ﴿٢٦﴾
جس پر مشک کی مہر ہو گی، سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہیے۔ (١)
٢٦۔١ یعنی عمل کرنے والے کو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہئے جس کے صلے میں جنت اور اس کی یہ نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا ﴿لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ﴾ (الصافات: ۶۱)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمِزَاجُهُ مِن تَسْنِيمٍ ﴿٢٧﴾
اور اس کی آمیزش تسنیم ہو گی۔ (١)
٢٧۔١ تَسْنِيمٌ کے معنی، بلندی کے ہیں۔ اونٹ کی کوہان، جو اس کے جسم سے بلند ہوتی ہے، اسے سِنَامٌ کہتے ہیں۔ قبر کے اونچا کرنے کو بھی تَسْنِيمُ الْقُبُورِ کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں تسنیم شراب کی آمیزش ہو گی جو جنت کے بالائی علاقوں سے ایک چشمے کے ذریعے سے آئے گی۔ یہ جنت کی بہترین اور اعلیٰ شراب ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عَيْنًا يَشْرَ‌بُ بِهَا الْمُقَرَّ‌بُونَ ﴿٢٨﴾
(یعنی) وہ چشمہ جس کا پانی مقرب لوگ پیئں گے۔

إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَ‌مُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ ﴿٢٩﴾
گنہگار لوگ ایمان والوں کی ہنسی اڑیا کرتے تھے۔ (١)
٢٩۔١ یعنی انہیں حقیر جانتے ہوئے ان کا استہزاء اور مذاق اڑاتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا مَرُّ‌وا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ ﴿٣٠﴾
ان کے پاس سے گزرتے ہوئے آپس میں آنکھ کے اشارے کرتے تھے۔ (١)
٣٠-۱ غَمْزٌ کے معنی ہوتے ہیں، پلکوں اور ابرؤں سے اشارہ کرنا۔ یعنی ایک دوسرے کو اپنی پلکوں اور ابرؤں سے اشارہ کر کے ان کی تحقیرا ور ان کے مذہب پر طعن کرتے۔

وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ ﴿٣١﴾
اور جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے تو دل لگیاں کرتے تھے۔ (١)
٣١۔١ یعنی اہل ایمان کا ذکر کر کے خوش ہوتے اور دل لگیاں کرتے۔ دوسرا مطلب یہ کہ جب اپنے گھروں میں لو ٹتے تو وہاں خوشحالی اور فراغت ان کا استقبال کرتی اور جو چاہتے وہ انہیں مل جاتا۔ اس کے باوجود انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ اہل ایمان کی تحقیر کی اور ان پر حسد کرنے میں ہی مشغول رہے۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا رَ‌أَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ ﴿٣٢﴾
اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے یقیناً یہ لوگ گمراہ (بے راہ) ہیں۔ (١)
٣٢-۱ یعنی اہل توحید، اہل شرک کی نظر میں اور اہل ایمان اہل کفر کے نزدیک گمراہ ہوتے ہیں۔ یہی صورت حال آج بھی ہے۔ گمراہ اپنے کو اہل حق اور اہل حق کو گمراہ باور کراتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک سراسر باطل فرقہ اپنے سوا کسی کو مومن کہتا ہے اور نہ سمجھتا ہے۔ هَدَاهَا اللهُ تَعَالَى

وَمَا أُرْ‌سِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ ﴿٣٣﴾
یہ ان پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجے گئے۔ (١)
٣٣۔١ یعنی یہ کافر مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجے گئے ہیں کہ ہر وقت مسلمانوں کے اعمال و احوال ہی دیکھتے اور ان پر تبصر کرتے رہیں، یعنی جب یہ ان کے مکلف ہی نہیں ہیں تو پھر کیوں ایسا کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ‌ يَضْحَكُونَ ﴿٣٤﴾
پس آج ایمان والے ان کافروں پر ہنسیں گے۔ (١)
٣٤-۱ یعنی جس طرح دنیا میں کافر اہل ایمان پر ہنستے تھے، قیامت والے دن یہ کافر اللہ کی گرفت میں ہوں گے اور اہل ایمان ان پر ہنسیں گے۔ ان کو ہنسی اسی بات پر آئے گی کہ یہ گمراہ ہونے کے باوجود ہمیں گمراہ کہتے اور ہم پر ہنستے تھے۔ آج ان کو پتہ چل گیا کہ گمراہ کون تھا؟ اور کون اس قابل تھا کہ اس کا استہزا کیا جائے۔

عَلَى الْأَرَ‌ائِكِ يَنظُرُ‌ونَ ﴿٣٥﴾
تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے۔

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ‌ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ﴿٣٦﴾
کہ اب ان منکروں نے جیسا یہ کرتے تھے پورا پورا بدلہ پا لیا۔ (١)
٣٦۔١ ثُوِّبَ بمعنی أُثِيبَ، بدلہ دے دیئے گئے، یعنی کیا کافروں کو، جو کچھ وہ کرتے تھے، اس کا بدلہ دے دیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الانشقاق

(سورہ انشقاق مکی ہے اور اس میں پچیس آیتیں ہیں۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ ﴿١﴾
جب آسمان پھٹ جائے گا۔ (١)
١۔١ یعنی جب قیامت برپا ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَذِنَتْ لِرَ‌بِّهَا وَحُقَّتْ ﴿٢﴾
اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا (١) اسی کے لائق وہ ہے (۲)
٢۔١ یعنی اللہ اس کو پھٹنے کا جو حکم دے گا، اسے سنے گا اور اطاعت کرے گا۔
٢۔١ یعنی اس کے یہی لائق ہے کہ سنے اور اطاعت کرے، اس لیے کہ وہ سب پرغالب ہے اور سب اس کے ماتحت ہیں۔ اس کے حکم سے سرتابی کرنے کی کس کو مجال ہو سکتی ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا الْأَرْ‌ضُ مُدَّتْ ﴿٣﴾
اور جب زمین (کھینچ) کر پھیلا دی جائے گی۔ (١)
٣۔١ یعنی اس کے طول و عرض میں مزید وسعت کر دی جائے گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس پر جو پہاڑ وغیرہ ہیں، سب کو ریزہ ریزہ کر کے زمین کو ہموار کر کے بچھایا دیا جائے گا۔ اس میں میں کوئی اونچ نیچ نہیں رہے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ ﴿٤﴾
اور اس میں جو ہے اسے وہ اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی۔ (١)
٤۔١ یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہو جائے گی۔
 
Top