- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ ﴿١٩﴾
تجھے کیا پتہ کہ علیین کیا ہے؟
كِتَابٌ مَّرْقُومٌ ﴿٢٠﴾
(وہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہے۔
يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ ﴿٢١﴾
مقرب (فرشتے) اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ ﴿٢٢﴾
یقیناً نیک لوگ (بڑی) نعمتوں میں ہوں گے۔
عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ ﴿٢٣﴾
مسہریوں میں بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے۔
تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ ﴿٢٤﴾
تو ان کے چہروں سے ہی نعمتوں کی تر و تازگی پہچان لے گا۔ (١)
٢٤-۱ جس طرح دنیا میں خوش حال لوگوں کے چہروں پر بالعموم تازگی اور شادابی ہوتی ہے۔ جو ان آسائشوں، سہولتوں اور دیناوی نعمتوں کی مظہر ہوتی ہے جو انہیں فراوانی سے حاصل ہوتی ہیں۔ اسی طرح اہل جنت پر اعزاز و تکریم اور نعمتوں کی جو ارزانی ہو گی، اس کے اثرات ان کے چہروں پر بھی ظاہر ہوں گے، وہ اپنے حسن و جمال اور رونق و بہجت سے پہچان لیے جائیں گے کہ یہ جنتی ہیں۔
يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ ﴿٢٥﴾
یہ لوگ سر بمہر خالص شراب پلائے جائیں گے۔ (١)
٢٥-۱ رَحِيقٌ صاف، شفاف اور خالص شراب کو کہتے ہیں جس میں کسی چیز کی آمیزش نہ ہو۔ مَخْتُومٌ (سر بہ مہر) اس کے خالص پن کی مزید وضاحت کے لیے ہے، بعض کے نزدیک یہ مخلوط کے معنی میں ہے، یعنی شراب میں کستوری کی آمیزش ہو گی جس سے اس کا ذائقہ دوبالا اورخوشبو مزید خوش کن اور راحت افزا ہو جائے گی۔ بعض کہتے ہیں، یہ ختم سے ہے۔ یعنی اس کا آخری گھونٹ کستوری کا ہو گا۔ بعض ختام کے معنی خوشبو کرتے ہیں، ایسی شراب جس کی خوشبو کستوری کی طرح ہو گی۔ (ابن کثی) حدیث میں بھی یہی لفظ آیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ہے ”جس مومن نے کسی پیاسے مومن کوایک گھونٹ پانی پلایا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت والے دن الرَّحِيقُ الْمَخْتُومُ پلائے گا، جس نے کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلایا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے پھل کھلائے گا، جس نے کسی ننگے مومن کو لباس پہنایا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کا سبز لباس پہنائے گا“۔ (مسند احمد ۳ / ۱۳-۱۴)
خِتَامُهُ مِسْكٌ ۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ ﴿٢٦﴾
جس پر مشک کی مہر ہو گی، سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہیے۔ (١)
٢٦۔١ یعنی عمل کرنے والے کو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہئے جس کے صلے میں جنت اور اس کی یہ نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا ﴿لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ﴾ (الصافات: ۶۱)
تجھے کیا پتہ کہ علیین کیا ہے؟
كِتَابٌ مَّرْقُومٌ ﴿٢٠﴾
(وہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہے۔
يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ ﴿٢١﴾
مقرب (فرشتے) اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ ﴿٢٢﴾
یقیناً نیک لوگ (بڑی) نعمتوں میں ہوں گے۔
عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ ﴿٢٣﴾
مسہریوں میں بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے۔
تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ ﴿٢٤﴾
تو ان کے چہروں سے ہی نعمتوں کی تر و تازگی پہچان لے گا۔ (١)
٢٤-۱ جس طرح دنیا میں خوش حال لوگوں کے چہروں پر بالعموم تازگی اور شادابی ہوتی ہے۔ جو ان آسائشوں، سہولتوں اور دیناوی نعمتوں کی مظہر ہوتی ہے جو انہیں فراوانی سے حاصل ہوتی ہیں۔ اسی طرح اہل جنت پر اعزاز و تکریم اور نعمتوں کی جو ارزانی ہو گی، اس کے اثرات ان کے چہروں پر بھی ظاہر ہوں گے، وہ اپنے حسن و جمال اور رونق و بہجت سے پہچان لیے جائیں گے کہ یہ جنتی ہیں۔
يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ ﴿٢٥﴾
یہ لوگ سر بمہر خالص شراب پلائے جائیں گے۔ (١)
٢٥-۱ رَحِيقٌ صاف، شفاف اور خالص شراب کو کہتے ہیں جس میں کسی چیز کی آمیزش نہ ہو۔ مَخْتُومٌ (سر بہ مہر) اس کے خالص پن کی مزید وضاحت کے لیے ہے، بعض کے نزدیک یہ مخلوط کے معنی میں ہے، یعنی شراب میں کستوری کی آمیزش ہو گی جس سے اس کا ذائقہ دوبالا اورخوشبو مزید خوش کن اور راحت افزا ہو جائے گی۔ بعض کہتے ہیں، یہ ختم سے ہے۔ یعنی اس کا آخری گھونٹ کستوری کا ہو گا۔ بعض ختام کے معنی خوشبو کرتے ہیں، ایسی شراب جس کی خوشبو کستوری کی طرح ہو گی۔ (ابن کثی) حدیث میں بھی یہی لفظ آیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ہے ”جس مومن نے کسی پیاسے مومن کوایک گھونٹ پانی پلایا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت والے دن الرَّحِيقُ الْمَخْتُومُ پلائے گا، جس نے کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلایا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے پھل کھلائے گا، جس نے کسی ننگے مومن کو لباس پہنایا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کا سبز لباس پہنائے گا“۔ (مسند احمد ۳ / ۱۳-۱۴)
خِتَامُهُ مِسْكٌ ۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ ﴿٢٦﴾
جس پر مشک کی مہر ہو گی، سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہیے۔ (١)
٢٦۔١ یعنی عمل کرنے والے کو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہئے جس کے صلے میں جنت اور اس کی یہ نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا ﴿لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ﴾ (الصافات: ۶۱)