• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَذِنَتْ لِرَ‌بِّهَا وَحُقَّتْ ﴿٥﴾
اور اپنے رب پر کان لگائے گی (١) اور اسی لائق وہ ہے۔
٥-۱ یعنی القا اور تخلی کا جو حکم اسے دیا جائے گا، وہ اس کے مطابق عمل کرے گی ۔

يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ ﴿٦﴾
اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کر کے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔ (١)
٦-۱ یہاں انسان بطور جنس کے ہے جس میں مومن اور کافر دونوں شامل ہیں۔ کدح، سخت محنت کو کہتے ہیں، وہ محنت خیر کے کاموں کے لیے ہو یا شر کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جب مذکورہ چیزیں ظہور پذیر ہوں گی یعنی قیامت آجائے گی تو اے انسان تو نے جو بھی، اچھا یا برا عمل کیا ہو گا، وہ تو اپنے سامنے پا لے گا اور اسی کے مطابق تجھے اچھی یا بری جزا بھی ملے گی۔ آگے اس کی مزید تفصیل و وضاحت ہے۔

فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ﴿٧﴾
تو (اسوقت) جس شخص کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا۔

فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرً‌ا ﴿٨﴾
اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا۔ (١)
٨-۱ آسان حساب یہ ہے کہ مومن کا اعمال نامہ پیش ہو گا۔ اس کی غلطیاں بھی اس کے سامنے لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل و کرم سے انہیں معاف فرما دے گا۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”جس کا حساب لیا گیا وہ ہلاک ہو گیا“۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا، جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا گیا، اس کا حساب آسان ہو گا۔ (مطلب حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا یہ تھا کہ اس آیت کی رو سے حساب تو مومن کا بھی ہو گا لیکن وہ ہلاکت سے دوچار نہیں ہو گا، ایک سرسری سی پیشی ہو گی) مومن رب کے سامنے پیش کءے جائیں گے، جس کا مناقشہ ہوا یعنی یعنی پوچھ گچھ ہوئی وہ مارا گیا۔ (صحيح البخاری، تفسير سورة انشقاق) ایک اور روایت میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں۔ نبی ﷺ اپنی بعض نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے۔ اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا "اے اللہ میرا حساب آسان فرمانا" نماز سے فراغت کے بعد میں نے پوچھا، حسابا یسیرا ”آسان حساب“ کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ اس کا اعمال نامہ دیکھے گا اور پھر اسے معاف فرما دے گا۔۔۔ (مسند احمد ۶ / ۴۸)

وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُ‌ورً‌ا ﴿٩﴾
اور وہ اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی لوٹ آئے گا۔ (١)
٩۔١ یعنی جو اس کے گھر والوں میں سے جنتی ہوں گے۔ یا مراد وہ حورعین اور ولدان ہیں جو جنتیوں کو ملیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَ‌اءَ ظَهْرِ‌هِ ﴿١٠﴾
ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔

فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُورً‌ا ﴿١١﴾
تو وہ موت کو بلانے لگے گا۔ (١)
١١-۱ ثُبُورًا ہلاکت، خسارہ۔ یعنی وہ چیخے گا، پکارے گا، واویلا کرے گا کہ میں تو مارا گیا، ہلاک ہو گیا۔

وَيَصْلَىٰ سَعِيرً‌ا ﴿١٢﴾
اور بھڑکتی ہوئی جہنم میں داخل ہو گا۔

إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُ‌ورً‌ا ﴿١٣﴾
یہ شخص اپنے متعلقین میں (دنیا میں) خوش تھا۔ (١)
١٣۔١ یعنی دنیا میں اپنی خواہشات میں مگن اور اپنے گھر والوں کے درمیان بڑا خوش تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ‌ ﴿١٤﴾
اس کا خیال تھا کہ اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہ جائے گا۔ (١)
١٤-۱ یہ اس کے خوش ہونے کی علت ہے۔ یعنی آخرت پر اس کا عقیدہ ہی نہیں تھا ۔ حور کے معنی ہیں، لوٹنا۔ جس طرح نبی ﷺ کی دعا ہے [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْحَورِ بَعْدَ الْكَورِ] (صحيح مسلم، الحج، باب ما يقول إذا ركب إلى سفر الحج وغيره، ترمذی، ابن ماجہ) مسلم میں بعد الكون ہے۔ مطلب ہے، "اس بات سے میں پناہ مانگتا ہوں کہ ایمان کے بعد کفر، اطاعت کے بعد معصیت یا خیر کے بعد شر کی طرف لوٹوں"۔

بَلَىٰ إِنَّ رَ‌بَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرً‌ا ﴿١٥﴾
کیوں نہیں، (١) حالانکہ اس کا رب اسے بخوبی دیکھ رہا تھا۔ (۲)
١٥۔١ ایک ترجمہ اس کا یہ بھی ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ نہ لوٹے اور دوبارہ زندہ نہ ہو، یا بَلَىٰ، کیوں نہیں، یہ ضرور اپنے رب کی طرف لوٹے گا۔
١٥۔۲ یعنی اس سے اس کا کوئی عمل مخفی نہیں تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ ﴿١٦﴾
مجھے شفق کی قسم! (١) اور رات کی!
١٦۔١ شَفَقٌ، اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج غروب ہونے کے بعد آسمان پر ظاہر ہوتی ہے اور عشاء کا وقت شروع ہونے تک رہتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ ﴿١٧﴾
اور اس کی جمع کردہ (١) چیزوں کی قسم۔
١٧۔١ اندھیرا ہوتے ہی ہر چیز اپنے ماویٰ اور مسکن کی طرف جمع اور سمٹ آتی ہے یعنی رات کا اندھیرا جن چیزوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالْقَمَرِ‌ إِذَا اتَّسَقَ ﴿١٨﴾
اور چاند کی جب کہ وہ کامل ہو جاتا ہے۔ (١)
١٨-۱ إِذَا اتَّسَقَ کے معنی ہیں، جب وہ مکمل ہو جائے جیسے وہ تیرھویں کی رات سے سولھویں تاریخ کی رات تک رہتا ہے۔

لَتَرْ‌كَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ ﴿١٩﴾
یقیناً تم ایک حالت سے دوسری حالت میں پہنچو گے۔ (١)
١٩۔١ طَبَقٌ کے اصل معنی شدت کے ہیں۔ یہاں مراد وہ شدائد ہیں جو قیامت والے دن واقع ہوں گے۔ یعنی اس روز ایک سے بڑھ کر ایک حالت طاری ہو گی۔ (فتح الباري، تفسير سورة انشقاق) یہ جواب قسم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿٢٠﴾
انہیں کیا ہو گیا ہے کہ ایمان نہیں لاتے۔

وَإِذَا قُرِ‌ئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْ‌آنُ لَا يَسْجُدُونَ ۩ ﴿٢١﴾
اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔ (١)
٢١۔١ احادیث سے یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا سجدہ کرنا ثابت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا يُكَذِّبُونَ ﴿٢٢﴾
بلکہ جنہوں نے کفر کیا وہ جھٹلا رہے ہیں۔ (١)
٢٢۔١ یعنی ایمان لانے کی بجائے جھٹلاتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ ﴿٢٣﴾
اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں رکھتے ہیں۔ (١)
٢٣-۱ یعنی تکذیب، یا جو افعال وہ چھپ کر کرتے ہیں۔

فَبَشِّرْ‌هُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿٢٤﴾
انہیں المناک عذابوں کی خوشخبری سنا دو۔

إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ أَجْرٌ‌ غَيْرُ‌ مَمْنُونٍ ﴿٢٥﴾
ہاں ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو بے شمار اور نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة البروج

(سورہ بروج مکی ہے اور اس میں بائیس آیتیں ہیں۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُ‌وجِ ﴿١﴾
برجوں والے آسمان کی قسم! (١)
١۔١ بُرُوجٌ، بُرْجٌ محل کی جمع ہے۔ بُرْجٌ کے اصل معنی ہیں ظہور۔ یہ کواکب کی منزلیں ہیں جنہیں ان کے محل اور قصور کی حیثیت حاصل ہے۔ ظاہر اور نمایاں ہونے کی وجہ سے انہیں بروج کہا جاتا ہے۔ تفصیل کے لیےدیکھئے الفرقان: ۶۱ کا حاشیہ۔ بعض نے بروج سے مراد ستارے لیے ہیں۔ یعنی ستارے والے آسمان کی قسم۔ بعض کے نزدیک اس سے آسمان کے دروازے یا چاند کی منزلیں مراد ہیں۔ (فتح القدیر)
 
Top