- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ﴿٥﴾
اور اپنے رب پر کان لگائے گی (١) اور اسی لائق وہ ہے۔
٥-۱ یعنی القا اور تخلی کا جو حکم اسے دیا جائے گا، وہ اس کے مطابق عمل کرے گی ۔
يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ ﴿٦﴾
اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کر کے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔ (١)
٦-۱ یہاں انسان بطور جنس کے ہے جس میں مومن اور کافر دونوں شامل ہیں۔ کدح، سخت محنت کو کہتے ہیں، وہ محنت خیر کے کاموں کے لیے ہو یا شر کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جب مذکورہ چیزیں ظہور پذیر ہوں گی یعنی قیامت آجائے گی تو اے انسان تو نے جو بھی، اچھا یا برا عمل کیا ہو گا، وہ تو اپنے سامنے پا لے گا اور اسی کے مطابق تجھے اچھی یا بری جزا بھی ملے گی۔ آگے اس کی مزید تفصیل و وضاحت ہے۔
فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ﴿٧﴾
تو (اسوقت) جس شخص کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا۔
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ﴿٨﴾
اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا۔ (١)
٨-۱ آسان حساب یہ ہے کہ مومن کا اعمال نامہ پیش ہو گا۔ اس کی غلطیاں بھی اس کے سامنے لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل و کرم سے انہیں معاف فرما دے گا۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”جس کا حساب لیا گیا وہ ہلاک ہو گیا“۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا، جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا گیا، اس کا حساب آسان ہو گا۔ (مطلب حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا یہ تھا کہ اس آیت کی رو سے حساب تو مومن کا بھی ہو گا لیکن وہ ہلاکت سے دوچار نہیں ہو گا، ایک سرسری سی پیشی ہو گی) مومن رب کے سامنے پیش کءے جائیں گے، جس کا مناقشہ ہوا یعنی یعنی پوچھ گچھ ہوئی وہ مارا گیا۔ (صحيح البخاری، تفسير سورة انشقاق) ایک اور روایت میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں۔ نبی ﷺ اپنی بعض نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے۔ اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا "اے اللہ میرا حساب آسان فرمانا" نماز سے فراغت کے بعد میں نے پوچھا، حسابا یسیرا ”آسان حساب“ کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ اس کا اعمال نامہ دیکھے گا اور پھر اسے معاف فرما دے گا۔۔۔ (مسند احمد ۶ / ۴۸)
وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا ﴿٩﴾
اور وہ اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی لوٹ آئے گا۔ (١)
٩۔١ یعنی جو اس کے گھر والوں میں سے جنتی ہوں گے۔ یا مراد وہ حورعین اور ولدان ہیں جو جنتیوں کو ملیں گے۔
اور اپنے رب پر کان لگائے گی (١) اور اسی لائق وہ ہے۔
٥-۱ یعنی القا اور تخلی کا جو حکم اسے دیا جائے گا، وہ اس کے مطابق عمل کرے گی ۔
يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ ﴿٦﴾
اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کر کے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔ (١)
٦-۱ یہاں انسان بطور جنس کے ہے جس میں مومن اور کافر دونوں شامل ہیں۔ کدح، سخت محنت کو کہتے ہیں، وہ محنت خیر کے کاموں کے لیے ہو یا شر کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جب مذکورہ چیزیں ظہور پذیر ہوں گی یعنی قیامت آجائے گی تو اے انسان تو نے جو بھی، اچھا یا برا عمل کیا ہو گا، وہ تو اپنے سامنے پا لے گا اور اسی کے مطابق تجھے اچھی یا بری جزا بھی ملے گی۔ آگے اس کی مزید تفصیل و وضاحت ہے۔
فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ﴿٧﴾
تو (اسوقت) جس شخص کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا۔
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ﴿٨﴾
اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا۔ (١)
٨-۱ آسان حساب یہ ہے کہ مومن کا اعمال نامہ پیش ہو گا۔ اس کی غلطیاں بھی اس کے سامنے لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل و کرم سے انہیں معاف فرما دے گا۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”جس کا حساب لیا گیا وہ ہلاک ہو گیا“۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا، جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا گیا، اس کا حساب آسان ہو گا۔ (مطلب حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا یہ تھا کہ اس آیت کی رو سے حساب تو مومن کا بھی ہو گا لیکن وہ ہلاکت سے دوچار نہیں ہو گا، ایک سرسری سی پیشی ہو گی) مومن رب کے سامنے پیش کءے جائیں گے، جس کا مناقشہ ہوا یعنی یعنی پوچھ گچھ ہوئی وہ مارا گیا۔ (صحيح البخاری، تفسير سورة انشقاق) ایک اور روایت میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں۔ نبی ﷺ اپنی بعض نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے۔ اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا "اے اللہ میرا حساب آسان فرمانا" نماز سے فراغت کے بعد میں نے پوچھا، حسابا یسیرا ”آسان حساب“ کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ اس کا اعمال نامہ دیکھے گا اور پھر اسے معاف فرما دے گا۔۔۔ (مسند احمد ۶ / ۴۸)
وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا ﴿٩﴾
اور وہ اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی لوٹ آئے گا۔ (١)
٩۔١ یعنی جو اس کے گھر والوں میں سے جنتی ہوں گے۔ یا مراد وہ حورعین اور ولدان ہیں جو جنتیوں کو ملیں گے۔