- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ ﴿٧٧﴾
ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تو راتوں رات میرے بندوں کو لے چل، (١) اور ان کے لیے دریا میں خشک راستہ بنا لے، (٢) پھر نہ تجھے کسی کے آ پکڑنے کا خطرہ ہو گا نہ ڈر۔ (۳)
٧٧۔١ جب فرعون ایمان بھی نہیں لایا اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کرنے پر آمادہ نہیں ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ عليہ السلام کو یہ حکم دیا۔
٧٧۔۲ اس کی تفصیل سورۃ الشعرا میں آئے گی کہ موسیٰ عليہ السلام نے اللہ کے حکم سے سمندر میں لاٹھی ماری، جس سے سمندر میں گزرنے کے لئے خشک راستہ بن گیا۔
٧٧۔۳ خطرہ فرعون اور اس کے لشکر کا اور ڈر پانی میں ڈوبنے کا۔
ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تو راتوں رات میرے بندوں کو لے چل، (١) اور ان کے لیے دریا میں خشک راستہ بنا لے، (٢) پھر نہ تجھے کسی کے آ پکڑنے کا خطرہ ہو گا نہ ڈر۔ (۳)
٧٧۔١ جب فرعون ایمان بھی نہیں لایا اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کرنے پر آمادہ نہیں ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ عليہ السلام کو یہ حکم دیا۔
٧٧۔۲ اس کی تفصیل سورۃ الشعرا میں آئے گی کہ موسیٰ عليہ السلام نے اللہ کے حکم سے سمندر میں لاٹھی ماری، جس سے سمندر میں گزرنے کے لئے خشک راستہ بن گیا۔
٧٧۔۳ خطرہ فرعون اور اس کے لشکر کا اور ڈر پانی میں ڈوبنے کا۔