• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
خَالِدِينَ فِيهِ ۖ وَسَاءَ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِمْلًا ﴿١٠١﴾
جس میں ہمیشہ ہی رہے گا، (١) اور ان کے لئے قیامت کے دن (بڑا) برا بوجھ ہے۔
١٠١۔١ جس سے وہ بچ نہ سکے گا، نہ ہی بھاگ سکے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ‌ ۚ وَنَحْشُرُ‌ الْمُجْرِ‌مِينَ يَوْمَئِذٍ زُرْ‌قًا ﴿١٠٢﴾
جس دن صور (١) پھونکا جائے گا اور گناہ گاروں کو ہم اس دن (دہشت کی وجہ سے) نیلی پیلی آنکھوں کے ساتھ گھیر لائیں گے۔
١٠٢۔١ صُورٌ سے مراد وہ قَرْنٌ (نرسنگا) ہے، جس میں اسرافیل عليہ السلام اللہ کے حکم سے پھونک ماریں گے تو قیامت برپا ہو جائے گی (مسند احمد: ۲/۱۹۱)، ایک اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسرافیل عليہ السلام نے قرن کا لقمہ بنایا ہوا ہے، (یعنی اسے منہ سے لگائے کھڑا ہے) پیشانی جھکائی یا موڑی ہوئی ہے، رب کے حکم کے انتظار میں ہے کہ کب اسے حکم دیا جائے اور وہ اس میں پھونک مار دے“۔ (ترمذی، باب صفة القيامة، باب ما جاء في الصور) حضرت اسرافیل عليہ السلام کے پہلے نفخے سے سب پر موت طاری ہو جائے گی، اور دوسرے نفخے سے بحکم الٰہی سب زندہ اور میدان محشر میں جمع ہو جائیں گے۔ آیت میں یہی دوسرا نفخہ مراد ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَتَخَافَتُونَ بَيْنَهُمْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرً‌ا ﴿١٠٣﴾
وہ آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے (١) ہوں گے کہ ہم تو (دنیا میں) صرف دس دن ہی رہے۔
١٠٣۔١ شدت ہول اور دہشت کی وجہ سے ایک دوسرے سے چپکے چپکے باتیں کریں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِ‌يقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا ﴿١٠٤﴾
جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کی حقیقت سے ہم باخبر ہیں ان میں سب سے زیادہ اچھی راہ (١) والا کہہ رہا ہو گا کہ تم صرف ایک ہی دن دنیا میں رہے۔
١٠٤۔١ یعنی سب سے زیادہ عاقل اور سمجھدار۔ یعنی دنیا کی زندگی انہیں چند دن بلکہ گھڑی دو گھڑی کی محسوس ہو گی۔ جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ﴾ (الروم: ۵۵) ”جس دن قیامت برپا ہو گی کافر قسمیں کھا کر کہیں گے کہ وہ (دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے“ یہی مضمون اور بھی متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے۔ مثلا سورہ فاطر: ۳۷، سورۃ المؤمنون: ۱۱۲-۱۱۴، سورۃ النازعات وغیرہ۔ مطلب یہی ہے فانی زندگی کو باقی رہنے والی زندگی پر ترجیح نہ دی جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَ‌بِّي نَسْفًا ﴿١٠٥﴾
وہ آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، تو آپ کہہ دیں کہ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔

فَيَذَرُ‌هَا قَاعًا صَفْصَفًا ﴿١٠٦﴾
اور زمین کو بالکل ہموار صاف میدان کرکے چھوڑے گا۔

لَّا تَرَ‌ىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا ﴿١٠٧﴾
جس میں تو نہ کہیں موڑ توڑ دیکھے گا، نہ اونچ نیچ۔

يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ ۖ وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّ‌حْمَـٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا ﴿١٠٨﴾
جس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں (١) گے جس میں کوئی کجی نہ ہو گی (٢) اور اللہ رحمٰن کے سامنے تمام آوازیں پست ہو جائیں گی سوائے کھسر پھسر کے تجھے کچھ بھی سنائی نہ دے گا۔ (٣)
١٠٨۔١ یعنی جس دن اونچے نیچے پہاڑ، وادیاں، فلک بوس عمارتیں، سب صاف ہو جائیں گی، سمندر اور دریا خشک ہو جائیں گے، اور ساری زمین صاف چٹیل میدان ہو جائے گی۔ پھر ایک آواز آئیگی، جس کے پیچھے سارے لوگ لگ جائیں گے یعنی جس طرف وہ داعی بلائے گا، جائیں گے۔
١٠٨۔٢ یعنی اس داعی سے ادھر ادھر نہیں ہوں گے۔
١٠٨۔٣ یعنی مکمل سناٹا ہو گا سوائے قدموں کی آہٹ اور کھسر پھسر کے کچھ سنائی نہیں دے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّ‌حْمَـٰنُ وَرَ‌ضِيَ لَهُ قَوْلًا ﴿١٠٩﴾
اس دن سفارش کچھ کام نہ آئے گی مگر جسے رحمٰن حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے۔ (١)
١٠٩۔١ یعنی اس دن کسی کی سفارش کسی کو فائدہ نہیں پہنچائے گی، سوائے ان کے جن کو رحمٰن شفاعت کرنے کی اجازت دے گا، اور وہ بھی ہر کسی کی سفارش نہیں کریں گے بلکہ صرف ان کی سفارش کریں گے جن کی بابت سفارش کو اللہ پسند فرمائے گا اور یہ کون لوگ ہوں گے؟ صرف اہل توحید، جن کے حق میں اللہ تعالیٰ سفارش کرنے کی اجازت دے گا۔ یہ مضمون قرآن میں متعدد جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلا سورہ نجم: ۲۶، سورہ انبیاء: ۲۸، سورہ سباء: ۲۳، سورہ النباء: ۳۸ اور آیت الکرسی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا ﴿١١٠﴾
جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا۔ (۱)
۱۱۰۔۱ گزشتہ آیت میں شفاعت کے لیے جو اصول بیان فرمایا گیا ہے اس میں اس کی وجہ اور علت بیان کر دی گئی ہے کہ چونکہ اللہ کے سوا کسی کو بھی کسی کی بابت پورا علم نہیں ہے کہ کون کتنا بڑا مجرم ہے؟ اور وہ اس بات کا مستحق ہے بھی یا نہیں کہ اس کی سفارش کی جا سکے؟ اس لیے اس بات کا فیصلہ بھی اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا کہ کون کون لوگ انبیاء و صلحا کی سفارش کے مستحق ہیں؟ کیونکہ ہر شخص کے جرائم کی نوعیت و کیفیت کو اس کے سواء کوئی نہیں جانتا اور نہ جان ہی سکتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا ﴿١١١﴾
تمام چہرے اس زندہ اور قائم دائم اور مدبر، اللہ کے سامنے کمال عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے، یقیناً وہ برباد ہوا جس نے ظلم لاد لیا۔ (١)
١١١۔١ اس لیے کہ اس روز اللہ تعالیٰ مکمل انصاف فرمائے گا اور ہر صاحب حق کو اس کا حق دلائے گا۔ حتٰی کہ اگر ایک سینگ والی بکری نے بغیر سینگ والی بکری پر ظلم کیا ہو گا، تو اس کا بھی بدلہ دلایا جائے گا۔ (صحيح مسلم، كتاب البر، مسند أحمد، ج۲ ص۲۳۵)، اسی لیے نبی ﷺ نے اسی حدیث میں یہ بھی فرمایا [لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا]، ”ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دو ورنہ قیامت کو دینا پڑے گا“۔ دوسری حدیث میں فرمایا [إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ؛ فَإِنَّ الظُّلْمَ؛ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ] (صحيح مسلم، كتاب مذكور، باب تحريم الظلم)، ”ظلم سے بچو اس لیے کہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا باعث ہو گا“، سب سے نامراد وہ شخص ہو گا جس نے شرک کا بوجھ بھی لاد رکھا ہو گا، اس لیے کہ شرک ظلم عظیم بھی ہے اور ناقابل معافی بھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمًا ﴿١١٢﴾
اور جو نیک اعمال کرے اور ایمان والا بھی ہو تو نہ اسے بے انصافی کا کھٹکا ہو گا نہ حق تلفی کا۔ (١)
١١٢۔١ بے انصافی یہ ہے کہ اس پر دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی ڈال دیا جائے اور حق تلفی یہ ہے کہ نیکیوں کا اجر کم دیا جائے۔ یہ دونوں باتیں وہاں نہیں ہوں گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَاهُ قُرْ‌آنًا عَرَ‌بِيًّا وَصَرَّ‌فْنَا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرً‌ا ﴿١١٣﴾
اسی طرح ہم نے تجھ پر عربی میں قرآن نازل فرمایا ہے اور طرح طرح سے اس میں ڈر کا بیان سنایا ہے تاکہ لوگ پرہیزگار بن (١) جائیں یا ان کے دل میں سوچ سمجھ تو پیدا کرے۔ (٢)
١١٣۔١ یعنی گناہ، محرمات اور فواحش کے ارتکاب سے باز آ جائیں۔
١١٣۔٢ یعنی اطاعت اور قرب حاصل کرنے کا شوق یا پچھلی امتوں کے حالات و واقعات سے عبرت حاصل کرنے کا جذبہ ان کے اندر پیدا کر دے۔
 
Top