• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّـهِ بِغَيْرِ‌ عِلْمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطَانٍ مَّرِ‌يدٍ ﴿٣﴾
بعض لوگ اللہ کے بارے میں باتیں بناتے ہیں اور وہ بھی بے علمی کے ساتھ اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔ (١)
٣۔١ مثلًا یہ کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے، یا اس کی اولاد ہے وغیرہ وغیرہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَن تَوَلَّاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَىٰ عَذَابِ السَّعِيرِ‌ ﴿٤﴾
جس پر (قضائے الٰہی) لکھ دی گئی (١) ہے کہ جو کوئی اس کی رفاقت کرے گا وہ اسے گمراہ کر دے گا اور اسے آگ کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔
٤۔١ یعنی شیطان کی بابت تقدیر الٰہی میں یہ بات ثبت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَ‌يْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَ‌ابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ‌ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ ۚ وَنُقِرُّ‌ فِي الْأَرْ‌حَامِ مَا نَشَاءُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِ‌جُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ۖ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ وَمِنكُم مَّن يُرَ‌دُّ إِلَىٰ أَرْ‌ذَلِ الْعُمُرِ‌ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ وَتَرَ‌ى الْأَرْ‌ضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَ‌بَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ﴿٥﴾
لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور وہ بے نقشہ تھا۔ (١) یہ ہم تم پر ظاہر کر دیتے ہیں، (٢) اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں (٣) پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں لاتے ہیں تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وہ ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں (٤) اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دئیے جاتے ہیں کہ وہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے۔ (٥) تو دیکھتا ہے کہ زمین (بنجر اور) خشک ہے پھر جب ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے۔ (٦)
٥۔١ یعنی نطفے (قطرہ منی) سے چالیس روز بعد عَلَقَۃ گاڑھا خون اور عَلَقَۃ سے مُضْغَۃ گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے مُخَلَّقَۃ سے، وہ بچہ مراد ہے جس کی پیدائش واضح اور شکل و صورت نمایاں ہو جائے، ایسے بچے میں روح پھونک دی جاتی ہے اور تکمیل کے بعد اس کی ولادت ہو جاتی ہے اور غیر مخلقۃ، اس کے برعکس، جس کی شکل و صورت واضح نہ ہو، نہ اس میں روح پھونکی جائے اور قبل از وقت ہی وہ ساقط ہو جائے۔ صحیح حدیث میں بھی رحم مادر کی ان کیفیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلا ایک حدیث میں ہے کہ نطفہ چالیس دن کے بعد علقۃ (گاڑھا خون) بن جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد یہ مضغۃ (لوتھڑا یا گوشت کی بوٹی) کی شکل اختیار کر لیتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ آتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے یعنی چار مہینے کے بعد نفخ روح ہوتا ہے اور بچہ ایک واضح شکل میں ڈھل جاتا ہے (صحيح بخاری كتاب الأنبياء وكتاب القدر، مسلم كتاب القدر، باب كيفية الخلق الآدميٍ)
٥۔٢ یعنی اس طرح ہم اپنا کمال قدرت و تخلیق تمہارے لئے بیان کرتے ہیں۔
٥۔٣ یعنی جس کو ساقط کرنا نہیں ہوتا۔
٥۔٤ یعنی عمر اشد سے پہلے ہی۔ عمر اشد سے مراد بلوغت یا کمال عقل و کمال قوت وتمیز کی عمر، جو ۳۰ سے ۴۰ سال کے درمیان عمر ہے۔
٥۔٥ اس سے مراد بڑھاپے میں قوائے انسانی میں ضعف و کمزوری کے ساتھ عقل و حافظہ کا کمزور ہو جانا اور یاداشت اور عقل و فہم میں بچے کی طرح ہو جانا، جسے سورہ یٰسین میں ﴿وَمَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ﴾ (یس: ۶۸) اور سورہ تین میں ﴿ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ﴾(التین: ۵) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
٥۔٦ یہ احیائے موتی (مردوں کے زندہ کرنے) پر اللہ تعالیٰ کے قادر ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ پہلی دلیل، جو مذکورہ ہوئی، یہ تھی کہ جو ذات ایک حقیر قطرہ پانی سے اس طرح ایک انسانی پیکر تراش سکتا ہے اور ایک حسین وجود عطا کر سکتا ہے، علاوہ ازیں وہ اسے مختلف مراحل سے گزارتا ہوا بڑھاپے کے ایسے اسٹیج پر پہنچا سکتا ہے جہاں اس کے جسم سے لے کر اس کی ذہنی و دماغی صلاحیتیں تک، سب ضعف و انحطاط کا شکار ہو جائیں۔ کیا اس کے لئے اسے دوبارہ زندگی عطا کر دینا مشکل ہے؟ یقینا جو ذات انسان کو ان مراحل سے گزار سکتی ہے، وہی ذات مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے ایک نیا قالب اور نیا وجود بخش سکتی ہے دوسری دلیل یہ دی ہے کہ دیکھو زمین بنجر اور مردہ ہوتی ہے لیکن اسے بارش کے بعد یہ کس طرح زندہ اور شاداب اور انواع و اقسام کے غلے، میوہ جات اور رنگ برنگ کے پھولوں سے مالا مال ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت والے دن انسانوں کو بھی ان کی قبروں سے اٹھا کر کھڑا کرے گا۔ جس طرح حدیث میں ہے ایک صحابی رضی الله عنہ نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو جس طرح پیدا فرمائے گا اس کی کوئی نشانی مخلوقات میں سے بیان فرمائیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا گزر ایسی وادی سے ہوا ہے جو خشک اور بنجر ہو پھر دوبارہ اسے لہلہاتا ہوا دیکھا ہو؟ اس نے کہا ہاں آپ ﷺ نے فرمایا بس اسی طرح انسانوں کا جی اٹھنا ہو گا۔ (مسند احمد ج۴، ص۱۱ ابن ماجہ المقدمہ، حدیث نمبر ۱۸۰)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّـهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَأَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿٦﴾
یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہی مردوں کو جلاتا ہے اور وہ ہر ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَّا رَ‌يْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّـهَ يَبْعَثُ مَن فِي الْقُبُورِ‌ ﴿٧﴾
اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ قبر والوں کو دوبارہ زندہ فرمائے گا۔

وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّـهِ بِغَيْرِ‌ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ‌ ﴿٨﴾
بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑتے ہیں۔

ثَانِيَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ۖ لَهُ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ۖ وَنُذِيقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابَ الْحَرِ‌يقِ ﴿٩﴾
جو اپنی پہلو موڑنے والا بن کر (١) اس لئے کہ اللہ کی راہ سے بہکا دے، اسے دنیا میں رسوائی ہو گی اور قیامت کے دن بھی ہم اسے جہنم میں جلنے کا عذاب چکھائیں گے۔
٩۔١ ثَانِیَ، اسم فاعل ہے۔ موڑنے والا۔ عِطف کے معنی پہلو کے ہیں۔ یہ یُجَادِلُ سے حال ہے۔ اس میں اس شخص کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو بغیر کسی عقلی اور نقلی دلیل کے اللہ کے بارے میں جھگڑتا ہے کہ وہ تکبر اور اعراض کرتے ہوئے اپنی گردن موڑتے ہوئے پھرتا ہے جیسے دوسرے مقامات پر اس کیفیت کو ان الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔ ﴿وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا﴾ (لقمان: ۷) ﴿لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ﴾ (المنافقون: ۵) ﴿اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ﴾ (الاسراء: ۸۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدَاكَ وَأَنَّ اللَّـهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ﴿١٠﴾
یہ ان اعمال کی وجہ سے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھے تھے۔ یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّـهَ عَلَىٰ حَرْ‌فٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ‌ اطْمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ‌ الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَ‌انُ الْمُبِينُ ﴿١١﴾
بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ ایک کنارے پر (کھڑے) ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر کوئی نفع مل گیا تو دلچسپی لینے لگتے ہیں اور اگر کوئی آفت آگئی تو اسی وقت منہ پھیر لیتے ہیں، (١) انہوں نے دونوں جہان کا نقصان اٹھا لیا۔ واقعی یہ کھلا نقصان ہے۔
١١۔١ حَرف کے معنی ہیں کنارہ۔ ان کناروں پر کھڑا ہونے والا، غیر مستقر ہوتا ہے یعنی اسے قرار و ثبات نہیں ہوتا۔ اسی طرح جو شخص دین کے بارے میں شک و ریب اور تذبذب کا شکار رہتا ہے، اس کا حال بھی یہی ہے، اسے دین پر استقامت نصیب نہیں ہوتی کیونکہ اس کی نیت صرف دنیاوی مفادات کی رہتی ہے، ملتے رہیں تو ٹھیک ہے بصورت دیگر وہ پھر دین آبائی یعنی کفر و شرک کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو سچے مسلمان ہوتے اور ایمان و یقین سے سرشار ہوتے ہیں۔ وہ عسر و یسر کو دیکھے بغیر دین پر قائم رہتے ہیں، نعمتوں سے بہرہ ور ہوتے ہیں تو شکر ادا کرتے اور تکلیفوں سے دوچار ہوتے ہیں تو صبر کرتے ہیں۔ اس کی شان نزول میں ایک مذبذب شخص کا طریقہ بھی اسی طرح کا بیان کیا گیا۔ (صحیح بخاری، تفسیر سورة الحج) کہ ایک شخص مدینے آتا، اگر اس کے گھر بچے ہوتے، اسی طرح جانوروں میں برکت ہوتی، تو کہتا، یہ دین اچھا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کہتا، یہ دین برا ہے۔ بعض روایات میں یہ وصف نو مسلم اعرابیوں کا بیان کیا گیا ہے۔ (فتح الباری، باب مذکور)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَضُرُّ‌هُ وَمَا لَا يَنفَعُهُ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ ﴿١٢﴾
اللہ کے سوا انہیں پکارتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکیں نہ نفع۔ یہی تو دور دراز کی گمراہی ہے۔

يَدْعُو لَمَن ضَرُّ‌هُ أَقْرَ‌بُ مِن نَّفْعِهِ ۚ لَبِئْسَ الْمَوْلَىٰ وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُ‌ ﴿١٣﴾
اسے پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے، یقیناً برے والی ہیں اور برے ساتھی۔ (١)
١٣۔١ بعض مفسرین کے نزدیک یدعو، یقول کے معنی میں ہے۔ یعنی غیر اللہ کا پجاری قیامت والے دن کہے گا کہ جس کا نقصان، اس کے نفع کے قریب تر ہے، وہ والی اور ساتھی یقینا برا ہے۔ یعنی اپنے معبودوں کے بارے یہ کہے گا کہ وہاں اس کی امیدوں کے محل ڈھے جائیں گے اور یہ معبود، جن کی بابت اس کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے عذاب سے اسے بچائیں گے، اس کی شفاعت کریں گے، وہاں خود وہ معبود بھی، اس کے ساتھ ہی جہنم کا ایندھن بنے ہوں گے۔ مولیٰ کے معنی ولی اور مددگار کے اور عشیر کے معنی ہم نشین، ساتھی اور قرابت دار کے ہیں۔ مددگار اور ساتھی تو وہ ہوتا ہے جو مصیبت کے وقت کام آئے، لیکن یہ معبود خود گرفتار عذاب ہوں گے یہ کسی کے کیا کام آئیں گے؟ اس لئے انہیں برا والی اور برا ساتھی کہا گیا۔ ان کی عبادت ضرر ہی ضرر ہے، نفع کا تو اس میں کوئی حصہ ہی نہیں ہے، پھر یہ جو کہا گیا ہے کہ ان کا نقصان، ان کے نفع سے قریب تر ہے، تو یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا گیا: وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ (سبا: ۲۴) ”بے شک ہم (یعنی اللہ کے ماننے والے) یا تم (اس کا انکار کرنے والے) ہدایت پر ہیں، یا کھلی گمراہی میں“۔ ظاہر بات ہے کہ ہدایت پر وہی ہیں جو اللہ کو ماننے والے ہیں۔ لیکن اسے واضح الفاظ میں کہنے کی بجائے کنائے اور استفہام کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ جو سامع کے لئے زیادہ موثر اور بلیغ ہوتا ہے۔ یا اس کا تعلق دنیا سے ہے اور مطلب یہ ہو گا کہ غیر اللہ کو پکارنے سے فوری نقصان تو اس کا یہ ہوا کہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا، یہ اقرب نقصان ہے۔ اور آخرت میں تو اس کا نقصان محقق ہی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ اللَّـهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يُرِ‌يدُ ﴿١٤﴾
ایمان اور نیک اعمال والوں کو اللہ تعالیٰ لہریں لیتی ہوئی نہروں والی جنتوں میں لے جائے گا۔ اللہ جو ارادہ کرے اسے کرکے رہتا ہے۔

مَن كَانَ يَظُنُّ أَن لَّن يَنصُرَ‌هُ اللَّـهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنظُرْ‌ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهُ مَا يَغِيظُ ﴿١٥﴾
جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد دونوں جہان میں نہ کرے گا وہ اونچائی پر ایک رسہ باندھ کر (اپنے حلق میں پھندا ڈال کر اپنا گلا گھونٹ لے) پھر دیکھ لے کہ اس کی چالاکیوں سے وہ بات ہٹ جاتی ہے جو اسے تڑپا (١) رہی ہے؟
١٥۔١ اس کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ایسا شخص، جو یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ کرے، کیونکہ اس کے غلبہ و فتح سے اسے تکلیف ہوتی ہے، تو وہ اپنے گھر کی چھت پر رسی لٹکا کر اور اپنے گلے میں اس کا پھندا لے کر اپنا گلا گھونٹ لے، شاید یہ خود کشی اسے غیظ و غضب سے بچا لے جو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو دیکھ کر اپنے دل میں پاتا ہے۔ اس صورت میں سماء سے مراد گھر کی چھت ہو گی۔ دوسرے معنی ہیں کہ ایک رسہ لے کر آسمان پر چڑھ جائے اور آسمان سے جو وحی یا مدد آتی ہے، اس کا سلسلہ ختم کر دے، (اگر وہ کر سکتا ہے) اور دیکھے کہ کیا اس کے بعد اس کا کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا ہے؟ امام ابن کثیر نے پہلے مفہوم کو اور امام شوکانی نے دوسرے مفہوم کو زیادہ پسند کیا ہے اور سیاق سے یہی دوسرا مفہوم زیادہ قریب لگتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَاهُ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَأَنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يُرِ‌يدُ ﴿١٦﴾
ہم نے اسی طرح اس قرآن کو واضح آیتوں میں اتارا ہے۔ جسے اللہ چاہے ہدایت نصیب فرماتا ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَىٰ وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ﴿١٧﴾
بے شک ایمان اور یہودی اور صابی اور نصرانی اور مجوسی (١) اور مشرکین (٢) ان سب کے درمیان قیامت کے دن خود اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے گا، (٣) اللہ تعالیٰ ہر ہر چیز پر گواہ ہے۔ (٤)
١٧۔١ مجوسی سے مراد ایران کے آتش پرست ہیں جو دو خداؤں کے قائل ہیں، ایک ظلمت کا خالق ہے، دوسرا نور کا، جسے وہ اہرمن اور یزداں کہتے ہیں۔
١٧۔٢ ان میں مذکورہ گمراہ فرقوں کے علاوہ جتنے بھی اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والے ہیں، سب آگئے۔
١٧۔٣ ان میں سے حق پر کون ہے، باطل پر کون؟ یہ تو ان دلائل سے واضح ہو جاتا ہے جو اللہ اپنے قرآن میں نازل فرمائے ہیں اور اپنے آخری پیغمبر کو بھی اسی مقصد کے لئے بھیجا تھا، ﴿لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ﴾ (الفتح: ۲۸) یہاں فیصلے سے مراد وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ باطل پرستوں کو قیامت والے دن دے گا، اس سزا سے بھی واضح ہو جائے گا کہ دنیا میں حق پر کون تھا اور باطل پر کون کون؟
١٧۔٤ یہ فیصلہ محض حاکمانہ اختیارات کے زور پر نہیں ہو گا، بلکہ عدل و انصاف کے مطابق ہو گا، کیونکہ وہ باخبر ہستی ہے، اسے ہر چیز کا علم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ تَرَ‌ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْ‌ضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ‌ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ‌ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ‌ مِّنَ النَّاسِ ۖ وَكَثِيرٌ‌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۗ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِ‌مٍ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ ۩ ﴿١٨﴾
کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجدے میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور (١) اور بہت سے انسان بھی۔ (٢) ہاں بہت سے وہ بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ثابت ہو چکا ہے، (٣) جسے رب ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، (٤) اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
١٨۔١ بعض مفسرین نے اس سجدے سے ان تمام چیزوں کا احکام الٰہی کے تابع ہونا مراد لیا ہے، کسی میں مجال نہیں کہ وہ حکم الٰہی سے سرتابی کر سکے۔ ان کے نزدیک وہ سجدہء اطاعت و عبادت مراد نہیں جو صرف عققلا کے ساتھ خاص ہے۔ جب کہ بعض مفسرین نے اسے مجاز کے بجائے حقیقت پر محمول کیا ہے کہ ہر مخلوق اپنے اپنے انداز سے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے مثلا مَنْ فِي السَّمَواتِ سے مراد فرشتے ہیں۔ وَمَنْ فِي الأَرْضِ سے ہر قسم کے حیوانات، انسان، جنات، چوپائے اور پرندے اور دیگر اشیاء ہیں یہ سب اپنے اپنے انداز سے سجدہ اور تسبیح الٰہی کرتی ہیں ﴿وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِه﴾ (الاسراء: ۴۴) سورج، چاند اور ستاروں کا بطور خاص اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ مشرکین ان کی عبادت کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، تم ان کو سجدہ کرتے ہو، یہ تو اللہ کو سجدہ کرنے والے ہیں اور اس کے ماتحت ہیں اس لیے تم انہیں سجدہ مت کرو، اس ذات کو سجدہ کرو جو ان کا خالق ہے۔ (حم السجدہ: ۳۷) صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت ابو ذر رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے پوچھا، جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے کہا، اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا سورج جاتا ہے اور عرش کے نیچے جا کر سجدہ ریز ہو جاتا ہے پھر اسے (طلوع ہونے کا) حکم دیا جاتا ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ اسے کہا جائے گا، واپس لوٹ جا یعنی جہاں سے آیا ہے وہیں چلا جا۔ (صحيح بخاری، بدء الخلق، باب صفة الشمس والقمر بحسبان - مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان الزمن الذي لا يقبل فيه الإيمان) اسی طرح ایک صحابی کا واقعہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے خواب میں اپنے ساتھ درخت کو سجدہ کرتے دیکھا۔ (ترمذی، أبواب السفر، باب ما يقول في سجود القرآن تحفة الأحوذي، صفحہ ۴۰۲، ابن ماجہ ۱۰۵۳) اور پہاڑوں اور درختوں کے سجدے میں ان کے سایوں کا دائیں بائیں پھرنا یا جھکنا بھی شامل ہے، جس طرف اشارہ سورۃ الرعد ۱۵ اور النحل ۴۸-۴۹ میں بھی کیا گیا ہے۔
١٨۔٢ یہ سجدہء اطاعت و عبادت ہی ہے جس کو انسانوں کی ایک بڑی تعداد کرتی ہے اور اللہ کی رضا کی مستحق قرار پاتی ہے۔
١٨۔٣ یہ وہ ہیں جو سجدہء اطاعت سے انکار کر کے کفر اختیار کرتے ہیں، ورنہ تکوینی احکام یعنی سجدہء انقیاد میں تو انہیں بھی مجال انکار نہیں۔
١٨۔٤ کفر اختیار کرنے کا نتیجہ ذلت و رسوائی اور آخرت کا دائمی عذاب ہے، جس سے بچا کر کافروں کو عزت دینے والا کوئی نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَـٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَ‌بِّهِمْ ۖ فَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارٍ‌ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُ‌ءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ ﴿١٩﴾
یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں اختلاف کرنے (١) والے ہیں، پس کافروں کے لئے تو آگ کے کپڑے بیونت کر کاٹے جائیں گے، اور ان کے سروں کے اوپر سے سخت کھولتا ہوا پانی بہایا جائے گا۔
١٩۔١ هَذَانِ خَصْمَانِ، یہ دونوں تثنیہ کے صیغے ہیں۔ بعض نے اس سے مراد مذکورہ گمراہ فرقے اور اس کے مقابلے میں دوسرا فرقہ مسلمان کو لیا ہے۔ یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں، مسلمان تو وحدانیت اور اس کی قدرت علی البعث کے قائل ہیں، جب کہ دوسرے اللہ کے بارے میں مختلف گمراہیوں میں مبتلا ہیں۔ اس ضمن میں جنگ بدر میں لڑنے والے مسلمان اور کافر بھی آ جاتے ہیں، جس کے آغاز میں مسلمانوں میں ایک طرف حضرت حمزہ، حضرت علی اور حضرت عبیدۃ رضی الله عنہم تھے اور دوسری طرف ان کے مقابلے میں کافروں میں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ تھے (صحیح بخاری، تفسیر سورة الحج) امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ دونوں ہی مفہوم صحیح اور آیت کے مطابق ہیں۔
 
Top