• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا مِن رِّ‌زْقِ رَ‌بِّكُمْ وَاشْكُرُ‌وا لَهُ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَ‌بٌّ غَفُورٌ‌ ﴿١٥﴾
قوم سبا کے لیے اپنی بستیوں میں (قدرت الٰہی کی) نشانی تھی (١) ان کے دائیں بائیں دو باغ تھے (۲) (ہم نے ان کو حکم دیا تھا کہ) اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ (۳) اور اس کا شکر ادا کرو، (٤) یہ عمدہ شہر (۵) اور وہ بخشنے والا رب ہے۔ (٦)
۱۵۔۱ سَبَأ وہی قوم تھی، جس کی ملکہ سبا مشہور ہے جو حضرت سلیمان عليہ السلام کے زمانے میں مسلمان ہو گئی تھی۔ قوم ہی کے نام پر ملک کا نام بھی سبا تھا، آج کل یمن کے نام سے یہ علاقہ معروف ہے۔ یہ بڑا خوش حال ملک تھا، یہ ملک بری و بحری تجارت میں بھی ممتاز تھا اور زراعت و باغبانی میں بھی نمایاں۔ اور یہ دونوں ہی چیزیں کسی ملک اور قوم کی خوش حالی کا باعث ہوتی ہیں۔ اسی مال و دولت کی فراوانی کو یہاں قدرت الٰہی کی نشانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
۱۵۔۲ کہتے ہیں کہ شہر کے دونوں طرف پہاڑ تھے، جن سے چشموں اور نالوں کا پانی بہہ بہہ کر شہر میں آتا تھا، ان کے حکمرانوں نے پہاڑوں کے درمیان پشتے تعمیر کرا دیئے اور ان کے ساتھ باغات لگا دیئے گئے، جس سے پانی کا رخ بھی متعین ہو گیا اور باغوں کو بھی سیرابی کا ایک قدرتی ذریعہ میسر آ گیا۔ ان ہی باغات کو، دائیں بائیں دو باغوں، سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں، جَنَّتَيْنِ سے دو باغ نہیں، بلکہ دائیں بائیں کی دو جہتیں مراد ہیں اور مطلب باغوں کی کثرت ہے کہ جدھر نظر اٹھا کر دیکھیں، باغات، ہریالی اور شادابی ہی نظر آتی تھی۔ (فتح القدیر)
١٥۔۳ یہ ان کے پیغمبروں کے ذریعے سے کہلوایا گیا یا مطلب ان نعمتوں کا بیان ہے، جن سے ان کو نوازا گیا تھا۔
١٥۔٤ یعنی منعم و محسن کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے اجتناب۔
١٥۔۵ یعنی باغوں کی کثرت اور پھلوں کی فراوانی کی وجہ سے یہ شہر عمدہ ہے۔ کہتے ہیں کہ آب و ہوا کی عمدگی کی وجہ سے یہ شہر مکھی، مچھر اور اس قسم کے دیگر موذی جانوروں سے بھی پاک تھا، واللہ اعلم۔
١٥۔٦ یعنی اگر تم رب کا شکر کرتے رہو گے تو وہ تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ انسان توبہ کرتے رہیں تو پھر گناہ ہلاکت عام اور سلب انعام کا سبب نہیں بنتے، بلکہ اللہ تعالیٰ عفو و درگزر سے کام لیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَعْرَ‌ضُوا فَأَرْ‌سَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِ‌مِ وَبَدَّلْنَاهُم بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِّن سِدْرٍ‌ قَلِيلٍ ﴿١٦﴾
لیکن انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر زور کے سیلاب (کا پانی) بھیج دیا اور ہم ان کے (ہرے بھرے) باغوں کے بدلے دو (ایسے) باغ دیئے جو بدمزہ میووں والے اور (بکثرت) جھاؤ اور کچھ بیری کے درختوں والے تھے۔ (۱)
۱٦۔۱ یعنی انہوں نے پہاڑوں کے درمیان پشتے اور بند تعمیر کرکے پانی کی جو رکاوٹ کی تھی اور اسے زراعت و باغبانی کے کام میں لاتے تھے، ہم نے تند و تیز سیلاب کے ذریعے سے ان بندوں اور پشتوں کو توڑ ڈالا اور شاداب اور پھل دار باغوں کو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں صرف قدرتی جھاڑ جھنکاڑ ہوتے ہیں، جن میں اول تو کوئی پھل لگتا ہی نہیں اور کسی میں لگتا بھی ہے تو سخت کڑوا، کسیلا اور بدمزہ جنہیں کوئی کھا ہی نہیں سکتا۔ البتہ کچھ بیری کے درخت تھے جن میں بھی کانٹے زیادہ اور بیر کم تھے۔ عَرِمٌ، عَرِمَةٌ کی جمع ہے، پشتہ یا بند۔ یعنی ایسا زور کا پانی بھیجا جس نے اس بند میں شگاف ڈال دیا اور پانی شہر میں بھی آگیا، جس سے ان کے مکانات ڈوب گئے اور باغوں کو بھی اجاڑ کر ویران کر دیا۔ یہ بند سد مارب کے نام سے مشہور ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِمَا كَفَرُ‌وا ۖ وَهَلْ نُجَازِي إِلَّا الْكَفُورَ‌ ﴿١٧﴾
ہم نے ان کی ناشکری کا بدلہ انہیں دیا۔ ہم (ایسی) سخت سزا بڑے بڑے ناشکروں کو ہی دیتے ہیں۔

وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَ‌ى الَّتِي بَارَ‌كْنَا فِيهَا قُرً‌ى ظَاهِرَ‌ةً وَقَدَّرْ‌نَا فِيهَا السَّيْرَ‌ ۖ سِيرُ‌وا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ ﴿١٨﴾
ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی چند بستیاں اور (آباد) رکھی تھیں جو برسر راہ ظاہر تھیں، (۱) اور ان میں چلنے کی منزلیں مقرر تھیں (۲) ان میں راتوں اور دنوں کو بھی بہ امن و امان چلتے پھرتے رہو۔(۳)
۱۸۔۱ برکت والی بستیوں سے مراد شام کی بستیاں ہیں۔ یعنی ہم نے ملک سبا (یمن) اور شام کے درمیان لب سڑک بستیاں آباد کی ہوئی تھیں، بعض نے ظَاهِرَةً کے معنی مُتَوَاصِلَةً، ایک دوسرے سے پیوست اور مسلسل کے کئے ہیں۔ مفسرین نے ان بستیوں کی تعداد چار ہزار سات سو بتلائی ہے۔ یہ ان کی تجارتی شاہراہ تھی جو مسلسل آباد تھی، جس کی وجہ سے ایک تو ان کے کھانے پینے اور آرام کرنے کے لیے زاد راہ ساتھ لینے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ دوسرے، ویرانی کی وجہ سے لوٹ مار اور قتل و غارت کا جو اندیشہ ہوتا ہے، وہ نہیں ہوتا تھا۔
١٨۔۲ یعنی ایک آبادی سے دوسری آبادی کا فاصلہ متعین اور معلوم تھا، اور اس کے حساب سے وہ بہ آسانی اپنا سفر طے کر لیتے تھے۔ مثلاً صبح سفر کا آغاز کرتے تو دوپہر تک کسی آبادی اور قریے تک پہنچ جاتے، وہاں کھا پی کر قیلولہ کرتے اور پھر سرگرم سفر ہو جاتے تو رات کو کسی آبادی میں جا پہنچتے۔
۱۸۔۳ یہ ہر قسم کے خطرے سے محفوظ اور زاد راہ کی مشقت سے بے نیاز ہونے کا بیان ہے کہ رات اور دن کی جس گھڑی میں تم سفر کرنا چاہو، کرو، نہ جان و مال کا کوئی اندیشہ نہ راستے کے لیے سامان سفر ساتھ لینے کی ضرورت۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَقَالُوا رَ‌بَّنَا بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِ‌نَا وَظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ‌ شَكُورٍ‌ ﴿١٩﴾
لیکن انہوں نے پھر کہا اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر دور دراز کر دے (۱) چونکہ خود انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنا برا کیا اس لیے ہم نے انہیں (گذشتہ) فسانوں کی صورت میں کر دیا (۲) اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے اڑا دیئے، (۳) بلاشبہ ہر ایک صبر و شکر کرنے والے کے لیے اس (ماجرے) میں بہت سی عبرتیں ہیں۔
۱۹۔۱ یعنی جس طرح لوگ سفر کی صعوبتوں، خطرات اور موسم کی شدتوں کا تذکرہ کرتے ہیں، ہمارے سفر بھی اسی طرح دور دور کر دے، مسلسل آبادیوں کے بجائے درمیان میں سنسان و ویران جنگلات اور صحراوں سے ہمیں گزرنا پڑے، گرمیوں میں دھوپ کی شدت اور سردیوں میں یخ بستہ ہوائیں ہمیں پریشان کریں اور راستے میں بھوک اور پیاس کی سختیوں سے بچنے کے لیے ہمیں زاد راہ کا بھی انتظام کرنا پڑے۔ ان کی یہ دعا اسی طرح کی ہے، جیسے بنی اسرائیل نے من و سلویٰ اور دیگر سہولتوں کے مقابلے میں دالوں اور سبزیوں وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا۔ یا پھر زبان حال سے ان کی یہ دعا تھی۔
١٩۔۲ یعنی انہیں اس طرح ناپید کیا کہ ان کی ہلاکت کا قصہ زبان زد خلائق ہو گیا۔ اور مجلسوں اور محفلوں کا موضوع گفتگو بن گیا۔
١٩۔۳ یعنی انہیں متفرق اور منتشر کر دیا، چنانچہ سبا میں آباد مشہور قبیلے مختلف جگہوں پر جا آباد ہوئے، کوئی یثرب و مکہ آیا، کوئی شام کے علاقے میں چلا گیا کوئی کہیں اور کوئی کہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِ‌يقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٢٠﴾
اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچا کر دکھایا یہ لوگ سب کے سب اس کے تابعدار بن گئے سوائے مومنوں کی ایک جماعت کے۔

وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِالْآخِرَ‌ةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِي شَكٍّ ۗ وَرَ‌بُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ ﴿٢١﴾
شیطان کا ان پر کوئی زور (اور دباؤ) نہ تھا مگر اس لیے کہ ہم ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ظاہر کر دیں ان لوگوں میں سے جو اس سے شک میں ہیں۔ اور آپ کا رب (ہر) ہر چیز پر نگہبان ہے۔

قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْ‌ضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْ‌كٍ وَمَا لَهُ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍ‌ ﴿٢٢﴾
کہہ دیجئے! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکار لو (۱) نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذرہ کا اختیار ہے (۲) نہ ان کا ان میں کوئی حصہ (۳) نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ (٤)
۲۲۔۱ یعنی معبود ہونے کا۔ یہاں زَعَمْتُمْ کے دو مفعول محذوف ہیں۔ زَعَمْتُمُوهُمْ آلِهَةً، یعنی جن جن کو تم معبود گمان کرتے ہو۔
٢٢۔۲ یعنی انہیں نہ خیر پر کوئی اختیار ہے نہ شر پر کسی کو فائدہ پہنچانے کی قدرت ہے، نہ نقصان سے بچانے کی۔ آسمان و زمین کا ذکر عموم کے لیے ہے، کیونکہ تمام خارجی موجودات کے لیے یہی ظرف ہیں۔
٢٢۔۳ نہ پیدائش میں، نہ ملکیت میں اور نہ تصرف میں۔
٢٢۔٤ جو کسی معاملے میں بھی اللہ کی مدد کرتا ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی بلا شرکت غیرے تمام اختیارات کا مالک ہے اور کسی کے تعاون کے بغیر ہی سارے کام کرتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ ۚ حَتَّىٰ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَ‌بُّكُمْ ۖ قَالُوا الْحَقَّ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ‌ ﴿٢٣﴾
شفاعت (شفارش) بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی بجز ان کے جن کے لیے اجازت ہو جائے (١) یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا (۲) اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔
٢٣۔١ (جن کے لیے اجازت ہو جائے) کا مطلب ہے انبیاء اور ملائکہ وغیرہ یعنی یہی سفارش کر سکیں گے، کوئی اور نہیں۔ اس لیے کہ کسی اور کی سفارش فائدے مند ہی ہو گی، نہ انہیں اجازت ہی ہو گی۔ دوسرا مطلب ہے، مستحقین شفاعت۔ یعنی انبیاء علیہم السلام و ملائکہ اور صالحین صرف ان ہی کے حق میں سفارش کر سکیں گے جو مستحقین شفاعت ہوں گے کیوں کہ اللہ کی طرف سے ان ہی کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت ہو گی، کسی اور کے لٰے نہیں۔ (فتح القدیر) مطلب یہ ہوا کہ انبیاء علیہم السلام، ملائکہ اور صالحین کے علاوہ وہاں کوئی سفارش نہیں کر سکے گا اور یہ حضرات بھی سفارش اہل ایمان گناہ گاروں کے لیے ہی کر سکیں گے، کافر و مشرک اور اللہ کے باغیوں کے لیے نہیں۔ قرآن کریم نے دوسرے مقام پر ان دونوں نکتوں کی وضاحت فرما دی ہے۔ ﴿مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلا بِإِذْنِهِ﴾ (البقرة: ۲۵۵) اور ﴿وَلا يَشْفَعُونَ إِلا لِمَنِ ارْتَضَى﴾ (الأنبياء: ۲۸)
٢٣۔۲ اس کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ ابن جریر اور ابن کثیر نے حدیث کے روشنی میں اس کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی امر کی بابت کلام (وحی) فرماتا ہے تو آسمان پر موجود فرشتے ہیبت اور خوف سے کانپ اٹھتے ہیں اور ان پر بے ہوشی کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ ہوش آنے پر وہ پوچھتے ہیں تو عرش بردار فرشتے دوسرے فرشتوں کو اور وہ اپنے سے نیچے والے فرشتوں کو بتلاتے ہیں اور اس طرح خبر پہلے آسمان کے فرشتوں تک پہنچ جاتی ہے۔ (ابن کثیر) فزع میں سلب ماخذ ہے یعنی جب گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ مَن يَرْ‌زُقُكُم مِّنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۖ قُلِ اللَّـهُ ۖ وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢٤﴾
پوچھئے کہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی کون پہنچاتا ہے؟ (خود) جواب دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ۔ (سنو) ہم یا تم۔ یا تو یقیناً ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں ہیں؟ (١)
٢٤۔١ ظاہر بات ہے گمراہی پر وہی ہو گا جو ایسی چیزوں کو معبود سمجھتا ہے جن کا آسمان و زمین سے روزی پہنچانے میں کوئی حصہ نہیں ہے، نہ وہ بارش برسا سکتے ہیں۔ اس لیے حق پر یقینا اہل توحید ہی ہیں، نہ کہ دونوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُل لَّا تُسْأَلُونَ عَمَّا أَجْرَ‌مْنَا وَلَا نُسْأَلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ ﴿٢٥﴾
کہہ دیجئے! کہ ہمارے کیے ہوئے گناہوں کی بابت تم سے کوئی سوال نہ کیا جائے گا نہ تمہارے اعمال کی باز پرس ہم سے کی جائے گی۔

قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَ‌بُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ ﴿٢٦﴾
انہیں خبر دے دیجئے کہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کر کے پھر ہم میں سچے فیصلے کر دے گا۔ (١) وہ فیصلے چکانے والا اور دانا ہے۔
٢٦۔١ یعنی اس کے مطابق جزا دے گا۔ نیکوں کو جنت میں اور بدوں کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ أَرُ‌ونِيَ الَّذِينَ أَلْحَقْتُم بِهِ شُرَ‌كَاءَ ۖ كَلَّا ۚ بَلْ هُوَ اللَّـهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿٢٧﴾
کہہ دیجئے! کہ اچھا مجھے بھی تو انہیں دکھا دو جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہرا کر اس کے ساتھ ملا رہے ہو، ایسا ہرگز نہیں، (١) بلکہ وہی اللہ ہے غالب باحکمت۔
٢٧۔١ یعنی اس کا کوئی نظیر ہے نہ ہم سر، بلکہ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر کام اور قول میں حکمت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَرْ‌سَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرً‌ا وَنَذِيرً‌ا وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٢٨﴾
ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے۔ (١)
٢٨۔١ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک تو نبی کریم ﷺ کی رسالت عامہ کا بیان فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کو پوری نسل انسانیت کا ہادی اور رہنما بنا کر بھیجا گیا ہے۔ دوسرا، یہ بیان فرمایا کہ اکثر لوگ آپ ﷺ کی خواہش اور کوشش کے باوجود ایمان سے محروم رہیں گے۔ ان دونوں باتوں کی وضاحت اور بھی دوسرے مقامات پر فرمائی ہے۔ مثلاً آپ ﷺ کی رسالت کے ضمن میں فرمایا، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا﴾ (الأعراف: ۱۵۸) ﴿تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا﴾ (سورة الفرقان: ۱) ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ۱۔ مہینے کی مسافت پر دشمن کے دل میں میری دھاک بٹھانے سے میری مدد فرمائی گئی ہے۔ ۲۔ تمام روئے زمین میرے لیے مسجد اور پاک ہے، جہاں بھی نماز کا وقت آجائے، میری امت وہاں نماز ادا کر دے۔ ۳۔ مال غنیمت میرے لیے حلال کر دیا گیا، جو مجھ سے قبل کسی کے لیے حلال نہیں تھا۔ ۴۔ مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے۔ ۵۔ پہلے نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا، مجھے کائنات کے تمام انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (صحيح بخاری، كتاب التيمم، صحيح مسلم، كتاب المساجد) ایک اور حدیث میں فرمایا: بُعِثْتُ إِلَى الأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ (صحيح مسلم، كتاب المساجد) احمر اسود سے مراد بعض نے جن و انس اور بعض نے عرب و عجم لیے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں، دونوں ہی معنی صحیح ہیں۔ اسی طرح اکثریت کی بے علمی اور گمراہی کی وضاحت فرمائی۔ ﴿وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ (سورة يوسف: ۱۰۳) ”آپ ﷺ کی خواہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے“ ﴿وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾ (سورة الأنعام: ۱۱۶) ”اگر آپ اہل زمین کی اکثریت کے پیچھے چلیں گے تو وہ آپ کو گمراہ کر دیں گے“ جس کا مطلب یہی ہوا کہ اکثریت گمراہوں کی ہے۔
 
Top